المعجم الكبير (قطعة من مسانيد من اسمه عبد الله) · کتاب ‹ يُوسُفُ بن عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ، عَنْ أَبِيهِ · حديث 145
145 - حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بن أَبِي مُخَلَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بن الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بن صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بن عُمَيْرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بن يُوسُفَ بن عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى الْحَجَّاجِ بن يُوسُفَ، فَأَنْكَرَهُ الْبَوَّابُونَ، فَلَمْ يَأْذَنُوا لَهُ، فَجَاءَ عَنْبَسَةُ بن سَعِيدٍ، فَاسْتَأْذَنَ لَهُ الْحَجَّاجُ، فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ، فَسَلَّمَ، وَأَمَرَ رَجُلَيْنِ مِمَّا يَلِي السَّرِيرَ أَنْ يُوَسِّعَا لَهُ، فَأَوْسَعَا لَهُ، فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ: لِلَّهِ أَبُوكَ، أَتَعْلَمُ حَدِيثًا حَدَّثَهُ أَبُوكَ عَبْدَ الْمَلِكِ بن مَرْوَانَ، عَنْ جَدِّكَ عَبْدِ اللَّهِ بن سَلامٍ؟ قَالَ: وَأَيُّ حَدِيثٍ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَرُبَّ حَدِيثٍ، قَالَ: حَدِيثُ الْمِصْرِيِّينَ حِينَ حَصَرُوا عُثْمَانَ، قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ ذَاكَ الْحَدِيثَ: أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بن سَلامٍ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَوَسَّعُوا لَهُ حَتَّى دَخَلَ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَعَلَيْكَ السَّلامُ، مَا جَاءَ بِكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بن سَلامٍ؟ قَالَ: جِئْتُ لأَثْبُتَ حَتَّى@ أَسْتَشْهِدَ، أَوْ يَفْتَحُ اللَّهُ لَكَ، وَلا أَرَى هَؤُلاءِ الْقَوْمَ إِلا قَاتِلِيكَ، فَإِنْ يَقْتُلُوكَ فَذَاكَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُمْ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَسْأَلُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ لَمَّا خَرَجْتَ إِلَيْهِمْ خَيْرًا يَسُوقُهُ اللَّهُ بِكَ، أَوْ شَرًّا يَدْفَعُهُ اللَّهُ بِكَ، فَسَمِعَ وَأَطَاعَ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ اجْتمَعُوا، وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ بِبَعْضِ مَا يُسَرُّونَ بِهِ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَحَمَدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا وَنَذِيرًا، يُبَشِّرُ بِالْجَنَّةِ مَنْ أَطَاعَهُ، وَيُنْذِرُ النَّارَ مَنْ عَصَاهُ، وَأَظْهَرَ مَنِ اتَّبَعَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ، ثُمَّ اخْتَارَ لَهُ الْمَسَاكِنَ، فَاخْتَارَ لَهُ الْمَدِينَةَ، فَجَعَلَهَا دَارَ الْهِجْرَةِ، وَجَعَلَهَا دَارَ الإِيمَانِ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَتِ الْمَلائِكَةُ حَافِّينَ بِهَذِهِ الْمَدِينَةِ مُنْذُ قَدِمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَازَالَ سَيْفُ اللَّهِ مَغْمُودًا عَنْكُمْ مُنْذُ قَدِمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَوْمِ. ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ فَمَنِ اهْتَدَى، فَإِنَّمَا يَهْتَدِي بِهُدَى اللَّهِ، وَمَنْ ضَلَّ، فَإِنَّمَا يَضِلُ بَعْدَ الْبَيَانِ وَالْحُجَّةِ، وَأَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ نَبِيٌّ فِيمَا مَضَى، إِلا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مُقَاتُلٍ، كُلُّهُمُ يُقْتَلُ بِهِ، وَلا قُتِلَ خَلِيفَةٌ قَطُّ، إِلا قُتِلَ بِهِ خَمْسَةٌ وَثَلاثُونَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ، كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ، فَلا تَعْجَلُوا عَلَى هَذَا الشَّيْخِ بِقَتْلٍ، فَوَاللَّهِ لا يَقْتُلُهُ مِنْكُمْ رَجُلٌ إِلا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَدُهُ مَقْطُوعَةٌ مَشْلُولَةٌ، اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ لِوَالِدٍ عَلَى وَلَدٍ حَقٌّ، إِلا وَهَذَا الشَّيْخُ عَلَيْكُمْ مِثْلُهُ. قَالَ: فَقَامُوا، فَقَالُوا: كَذَبَتِ الْيَهُودُ، كَذَبَتِ الْيَهُودُ. قَالَ: كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ، وَأَنْتُمْ آثِمِينَ، مَا أَنَا بِيَهُودِيٍّ، إِنِّي لأَحَدُ الْمُسْلِمِينَ، يَعْلَمُ اللَّهُ بِذَلِكَ @ وَرَسُولُهُ، وَالْمُؤْمِنُونَ، وَقَدْ أُنْزِلَ فِيَّ الْقُرْآنُ، فَتَلا هَذِهِ الآيَةَ: ?قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِندَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ?[الرعد آية 43]، وَأَنْزَلَ اللَّهُ الآيَةَ الأُخْرَى: ?قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بني إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ?[الأحقاف آية 10]، قَالَ: فَقَامُوا، فَدَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ، فَذَبَحُوهُ كَمَا تُذْبَحُ الْحُلانُ". قَالَ شُعَيْبٌ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ بن عُمَيْرٍ: مَا الْحُلانُ؟ قَالَ: الْحَمَلُ. قَالَ: وَقَدْ قَالَ عُثْمَانُ قَبْلَ ذَلِكَ لِكَثِيرِ بن الصَّلْتِ: يَا كَثِيرُ، أَنَا وَاللَّهِ مَقْتُولٌ غَدًا، قَالَ: بَلْ يُعْلِي اللَّهُ كَعْبَكَ، وَيَكْبِتُ عَدُوَّكَ، قَالَ: ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: عَمَّ تَقُولُ ذَاكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ لِي:"يَا عُثْمَانُ، أَنْتَ عِنْدَنَا غَدًا، وَأَنْتَ مَقْتُولٌ غَدًا". فَأَنَا وَاللَّهِ مَقْتُولٌ، قَالَ: فَقُتِلَ. قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بن سَلامٍ إِلَى الْقَوْمِ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا، وَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَلَى رِجْلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ مِصْرَ، يَا قَتَلَةَ عُثْمَانَ، قَتَلْتُمْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا وَاللَّهِ لا يَزَالُ عَهْدٌ مَنْكُوثٌ، وَدَمٌ مَسْفُوحٌ، وَمَالٌ مَقْسُومٌ لا يَنْقَسِمُ.
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں :حضرت محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام حجاج بن یوسف کے پاس آئے اور اندر جانے کی اجازت مانگی تو چوکیداروں نے اندر جانے سے روک دیا اور اجازت نہ دی ۔پھر حضرت عنبہ بن سعید آئے تو انہوں نے حجاج سے ان کیلئے اجازت تو اس نے اجازت دے دی ۔وہ اندر آئے اور سلام کیا ۔ججاج نے تخت کے پاس بیٹھے ہوئے دو آدمیوں سے کہا کہ ان کے لیئے جگہ بناؤ تو انہوں نے ان کیلئے جگہ بنادی اور آپ بیٹھ گئے ۔پھر حجاج بن یوسف نے ان سے کہا :اللہ آپ کے باپ کو بخشے کیا تم آپ اس حدیث سے واقف ہیں جو آپ کے والد نے عبدالملک بن مروان کو آپ کے دادا عبداللہ بن سلام سے روایت کرکے سنائی تھی ؟انہوں نے کہا :اللہ آپ پر رحم کرے کونسی حدیث کی بات کررہے ہیں،ویسے تو بہت سے احادیث ہیں ؟اس نے کہا :مصریوں والی حدیث جب وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے ۔محمد بن یوسف نے کہا :ہاں میں اس حدیث کو جان گیا ہوں وہ اس طرح ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب ان کا محاصرہ ہوا تھا ۔لوگوں نے آپ کے گزرنے کی جگہ بنائی اور آپ اندر چلے گئے اور کہا :اے امیر المومنین ! آپ پر سلام ہو ۔انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا :اے عبداللہ بن سلام کیسے آنا ہوا ؟کہا میں آیا ہوں تاکہ مضبوطی پیدا کر سکوں حتیٰ کہ شہادت حاصل ہو جائے یا اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کوئی راہ کھول دے ۔اور میں اس قوم کو نہیں دیکھتا مگر یہ آپ کو قتل کریں گے اور اگر انہوں نے آپ کو شہید کردیا تو آپ کیلئے بہتر ہے اور ان کے لیے برا ہے ۔حضرت عثمان نے فرمایا :میرا جو حق آپ پر ہے میں اس کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ جب آپ باہر نکلیں تو انہیں ایسا پیغام دیں کہ کوئی خیر ہے توا للہ آپ کے ذریعے اسے چلا دے اور شر ہے توآپ کے ذریعے اسے دور فرما دے ۔انہوں نے سنا اور اطاعت کی اور لوگوں کے پاس باہر آئے ۔لوگوں نے جب انہیں دیکھا تو جمع ہونے لگے اور انہوں نے خیال کیا کہ شاید کوئی ایسی بات لائے ہیں جو لوگوں کو خوش کردے گی ۔چناچہ آپ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوگئے ،اللہ کی حمد و ثنا ء کی پھر فرمایا :اما بعد !بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر مبعوث فرمایا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جنت کی بشارت سناتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے اور اسے جہنم سے ڈراتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نا فرمانی کرے ۔اور اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والوں کو تمام دینوں پر غلبہ دیا خواہ مشرکوں کو برا لگے ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھکانے منتخب کیے تو مدینہ منورہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا ۔اور مدینہ کو ہجرت گاہ بنایا اور دار لایمان بنایا ۔اللہ کی قسم ! جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے ہیں فرشتے اس پر پروں سے سایہ کیے ہوئے ہیں ۔اور جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں تب سے آج تک تلوار کو تم سے ہٹا دیا گیا ۔اس کے بعد فرمایا :بے شک اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ۔پس جو ہدایت یافتہ ہوا وہ اللہ کی ہدایت سے ہوا اور جو گمراہ ہوا تو بے شک وہ وضاحت اور ہجت کے آجانے کے بعد گمراہ ہوا ۔اور بے شک گزشتہ امتوں میں جب کسی نبی کو قتل کیا گیا تواس کے بعد ستر ہزار کو قتل کیا گیا ۔اس لیئے تم لوگ اس شیخ کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو۔اللہ کی قسم ! تم میں سے جو اسے قتل کرنے میں جلدی نہ کرو۔اللہ کی قسم !تم میں سے جو قتل کرے گا وہ قیامت کےدن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے ہاتھ کٹے ہوئے اور شل ہو ں گے۔جان لو کہ جتنا کسی باپ کا اولاد پر حق ہوتا ہے اتنا ہی اس شیخ (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ )کا حق تم پر ہے۔یہ سن کر لوگ اٹھ گئے اور کہا :یہودیوں نے جھوٹ بولا ،یہودیوں نے جھوٹ کہا ۔آپ نے فرمایا :اللہ کی قسم ! تم لوگ جھوٹے ہو گنہگا ر ہو میں یہودی نہیں ہوں بلکہ مسلمان ہوں اور اس بات کو اللہ ، اس کا رسول اورمومنین جانتے ہیں ،اور میرے بارے میں قرآن نازل کیا گیا ہے ۔پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :قل کفی باللہ شہیدا۔۔۔۔۔۔۔اور اللہ نے ایک اور آیت بھی نازل فرمائی ہے :"قل رائتم ان کان من عنداللہ ۔۔۔۔۔۔ لوگوں نے سنا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور اندر جا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ایسے ذبح کیا جیسے بکری کے بچے کو ذبح کیا جاتا ہے ۔شعیب راوی کہتے ہیں میں نے عبدالملک بن عمیر سے پوچھا کہ "حلان "کا کیا معنی ہے ؟اس نے جواب دیا :بکری کا حمل ۔راوی کہتے ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ سے قبل حضرت کثیر بن صلت سے فرمایا تھا اللہ کی قسم کل میں شہید ہو جاؤں گا ۔انہوں نے کہا بلکہ اللہ آپ کے درجات بلند کرے گا اور آپ کے دشمن کو رسوا کرے گا۔پھر آپ نے تین مرتبہ یہی بات دہرائی تو کثیر بن صلت نے بھی جواب دیا پھر کہا :اے امیر المومنین آپ کس طرح ایسی بات کر رہے ہیں ؟فرمایا :میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ کو دیکھا ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا :اے عثمان ! کل تم ہمارے پاس ہو گے اور تجھے کل قتل کر دیا جائے گا،لہذا اللہ کی قسم میں کل قتل کر دیا جاؤں گا۔چناچہ اگلے دن انہیں قل کر دیا گیا ۔پھرحضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے ان کے پاس مسجد میں تشریف لائے اور پیروں کے بل کھڑے ہو کر فرمایا :اے اہل مصر ! اے عثمان کے قاتلو ! تم نے امیر المومنین کو قتل کر دیا ۔سنو اللہ کی قسم ! اب ہمیشہ وعدوں پر نکتہ چینی ہو گی ،خون بہے گا اور مال تقسیم ہونگے اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہو گا۔
عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ ← حميد بن أبي مخلد الواسطي
Al Muajam Al Kabir Tibrani (Qata Min Masaneed Min Asma Abdullah) · Book › Chapter · Hadith 145
