Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 430

430- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ، فَيَفِيضَ حَتَّى يَهْتَمَّ رَبُّ الْمَالِ أَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ صَدَقَتُهُ وَيَعْرِضُهَا، فَيَقُولُ الَّذِي عُرِضَ عَلَيْهِ: لاَ أَرَبَ لِي فِيهَا.

حضرت اعرج‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”قیامت قائم نہ ہو گی حتیٰ کہ مال زیادہ ہو جائے اور بہت بڑھ جائے حتیٰ کہ مال کا مالک ارادہ کرے گا کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے گا اور وہ اسے پیش کرے گا لیکن جس پر پیش کرے گا وہ کہے گا مجھے اس میں کوئی غرض نہیں۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 430

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 431

431- أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ [بْنِ] (1) الأَصَمِّ، حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ {جَنَّةً عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ}، فَأَينَ النَّارُ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ هَذَا اللَّيْلَ الَّذِي قَدْ كَانَ أَلْبَسَ عَلَيْكَ كُلَّ شَيْءٍ، أَيْنَ جُعِلَ؟ فَقَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ (2)، قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ. _حاشية__________ (1) قوله "بن" سقط من المطبوع، وأثبتناه، انظر "التاريخ الكبير" 5/127. (2) في المطبوع: "والله أعلم"، وأثبتناه، بحذف "الواو".

حضرت یزید بن اصم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے محمد ! بتائیے جب جنت کی چوڑائی میں تمام آسمان اور زمین سماۓ ہوۓ ہیں تو جہنم کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ رات جو تم پر ہر چیز کو مشتبہ کر دیتی ہے اس کو کہاں رکھا گیا ہے؟اس نے کہا :اللہ بہتر جانتا ہے۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے۔

اللَّهُ أَعْلَمُ ← أَرَأَيْتَ هَذَا اللَّيْلَ الَّذِي قَدْ كَانَ أَلْبَسَ عَلَيْكَ كُلَّ شَيْءٍ، أَيْنَ جُعِلَ؟ ← يَا مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ {جَنَّةً عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ}، فَأَينَ النَّارُ؟ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← المخزومي

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 431

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 432

432- أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم ؛ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْمُزَايَدَةِ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ: الْمِيرَاثِ، وَالشَّرِكَةِ، وَبَيْعِ الْغَنَائِمِ.

حضرت عطاء خراسانی‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلى الله علیہ وسلم نے تین چیزوں میراث‘ شرکت اور غنیمتوں کی بیع کے علاوہ میں مقابلہ کرکے غالب آنے سے منع فرمایا۔

الْمُزَايَدَةِ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ: الْمِيرَاثِ، وَالشَّرِكَةِ، وَبَيْعِ الْغَنَائِمِ. ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ نَهَى ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← مَنْ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 432

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 433

433- أَخْبَرَنَا كُلْثُومُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سِدْرَةَ، حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ.

حضرت عطاء بن ابی مسلم خراسانی‘حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ جس شخص کیلئے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔‘‘

مَنْ یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْخُرَاسَانِيُّ، ← كُلْثُومُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سِدْرَةَ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 433

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 434

434- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَهُوَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ، وَلَمْ يَزَلِ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّى الْيَوْمَ.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ” جو شخص جنت میں داخل ہو گا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہو گا (قدِ آدم مراد ہے ) اور مخلوق ( کا قد ) مسلسل چھوٹا ہوتا رہا حتیٰ کہ آج والی صورت پیدا ہوگئی۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 434

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 435

435- وَبِهَذَا الإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ فِيهَا أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ.

اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ” قیامت سے پہلے بہت سے فتنے ہوں گے جس طرح اندھیری رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک شخص صبح کے وقت مسلمان ہو گا تو شام کو کافر ہو جائے گا یا ( شام کے وقت مسلمان ہو گا ) صبح کافر ہو جاۓ گا۔ اس وقت کئی لوگ دنیا کے تھوڑے سامان کیلئے اپنا دین بیچ دیں گے۔“

رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 435

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 436

436- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ حَلَفَ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا يَمِينٌ صَبْرَانِ فَجْرٌ.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے‘ فرماتے ہیں:’’جوشخص قرآن مجید کی کسی سورۃ کے ساتھ قسم اٹھائے اگر وہ قسم توڑ دے تو اس پر ہر آیت کے بدلے یمینِ صبر ہو گی (یعنی قسم کا کفارہ ہوگا)۔

مَنْ حَلَفَ بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلَيْهِ بِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا يَمِينٌ صَبْرَانِ فَجْرٌ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 436

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 437

437- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي بِرِسَالَةٍ، فَضِقْتُ بِهَا ذَرْعًا، وَعَلِمْتُ أَنَّ النَّاسَ مُكَذِّبِيَّ، فَأَوْعَدَنِي أَنْ أُبَلِّغَهَا، أَوْ يُعَذِّبَنِي.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے رسالت کے ساتھ بھیجا تو اس کے ساتھ میرا دل تنگ ہو گیا اور مجھے معلوم ہو گیا کہ بے شک لوگ مجھے جھٹلائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ڈرایا کہ میں اس رسالت کو پہنچاؤں ورنہ وہ مجھے عذاب دے گا۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 437

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 438

438- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: أَرَأَيْتُمُ الزَّانِيَ، وَالسَّارِقَ، وَشَارِبَ الْخَمْرِ، مَا تَرَوْنَ فِيهِمْ؟ فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: الإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ، وَقَتْلُ الْمُسْلِمِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے ‘آپ نے فرمایا: ”بتاؤ زانی‘ چور اور شراب نوش کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ تعالی ٰاور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا:’’ یہ بے حیائی کے کام ہیں اور ان میں سزا ہے۔“پھر فرمایا’’ کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں؟‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا: الله اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی ٰکے ساتھ شریک ٹھہرانا‘ماں باپ کی نافرمانی کرنا‘ جھوٹی بات کہنا‘ مسلمان کو (ناحق )قتل کرنا اور پاکدامن عورت پر(زنا کا) الزام لگانا۔‘‘

الإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ، وَقَتْلُ الْمُسْلِمِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ. ← اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ ← هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ، ثُمَّ ← أَرَأَيْتُمُ الزَّانِيَ، وَالسَّارِقَ، وَشَارِبَ الْخَمْرِ، مَا تَرَوْنَ فِيهِمْ؟ فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 438

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 439

439- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: أَتَدْرُونَ مَا النَّمِيمَةُ؟ فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: نَقْلُ حَدِيثِ النَّاسِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ، لِيُفْسِدَ بَيْنَهُمْ.

اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے صحابہ کرام سے پوچھا جانتے ہوچُغلی کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: ایک کی بات دوسرے تک پہنچانا تا کہ ان کے درمیان فساد پیدا ہو۔

«نَقْلُ حَدِيثِ النَّاسِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ لِيُفْسِدَ بَيْنَهُمْ» ← لَهُمْ: أَتَدْرُونَ مَا النَّمِيمَةُ؟ فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 439

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 440

440- وَقَالَ: لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلاَ يَمْلأُ نَفْسَ بَنِي آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ، وَيَعْفُوا اللَّهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ.

آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر انسان کے پاس مال کی دووادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی طلب کرتا ہے اور اور انسانی نفس کو صرف مٹی پُر کر سکتی ہے اوراللہ تعالیٰ جسے چاہے معاف کرتا ہے۔

مَنْ يَشَاءُ.

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 440

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 441

441- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّمَا هُمَا النَّجْدَانِ: نَجْدُ الْخَيْرِ، وَنَجْدُ الشَّرِّ، فَلاَ يَكُنْ نَجْدُ الشَّرِّ أَحَبَّ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ نَجْدِ الْخَيْرِ.

اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا ۔’’بے شک وہ دونجد (راستہ دکھانے والی قوت) ہیں۔ ایک خیر کا نجد اور دوسرا شرکا نجد۔ پس تم میں سے کسی ایک کےہاں شرکا نجد‘ خیر کے نجد سے زیادہ محبوب نہ ہو۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 441

chevron_left Previous
1…777879…233
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter