Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 346

346- أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى السَّكُونِيُّ، عَنِ الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلاَ تَنْفِضْ (1) يَدَيْهِ فَإِنَّهَا مَرَاوِحُ الشَّيْطَانِ. _حاشية__________ (1) في المطبوع هكذا: "تنفض" والصواب أن تكون "ينفض".

حضرت بختری اپنے والد سے‘وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا:’’ جب تم میں سے کوئی ایک وضو کرے تو اپنے ہاتھوں کو نہ جھاڑے‘ یہ شیطانی پنکھے ہیں۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْبَخْتَرِيُّ ← أَبُو يَحْيَى السَّكُونِيُّ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 346

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 347

347- قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بِنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم أَنَّهُ قَالَ: امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ فَإِنَّهُ حَقٌّ؟ فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ.

(مصنف رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں) میں نے حضرت ابو اسامہ سے پوچھا کیا عبدالرحمٰن بن یزیدبن جابر‘ حضرت مکحول سے‘ وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’ موزوں اور دو پٹہ پرمسح کرو‘یہ حق ہے؟‘‘تو ابو اسامہ نے اس کا اقرار کیا اور فرمایا: ہاں۔

امْسَحُوا عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ فَإِنَّهُ حَقٌّ؟ فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ. ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مَكْحُولٌ ← قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بِنِ جَابِرٍ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 347

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 348

348- أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لَمَّا رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَرَاحِلَتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَدْ أَرْجَفَتْ إِذْ مَرَّ أَعْرَابِيٌّ بِجِمَالٍ سِمَانٍ وَهُوَ يَرْتَجِزُ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ كَانَ نَشَاطُ هَذَا وَقُوَّتُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: إِنْ كَانَ نَشَاطُهُ وَقُوَّتُهُ رَدًّا عَلَى أَبَوَيْهِ لِيُعِفَّهُمَا وَيَكُفَّهُمَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ رَدًّا عَلَى أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ تَفَاخُرًا وَتَكَاثُرًا فَهُوَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ.

حضرت ہارون بن راشد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ حضرت ابوہریره رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لائے اور آپ کی سواری آپ کے آگے تھی۔ جب ایک اعرابی موٹے اونٹوں کے ساتھ گزرا اور وہ رجز(اشعار) پڑھ رہا تھا۔ ایک شخص نے کہا اگر اس کی یہ خوشی اور قوت اللہ تعالی ٰکے راستے ان میں ہوتی (تو اچھا تھا) اور اگر یہ اس کے گھر والوں اور اولاد کے خلاف ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کی یہ خوشی اور قوت اس کے ماں باپ کے خلاف ہے کہ ان کی پاکدامنی بیان کرے اور ان کو کفایت کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور اگر گھر والوں اور اولاد کے رد میں ہے تو بھی اللہ تعالی ٰکے راستے میں ہے اور اگر فخر کے طور پر اور کثرت کےحصول کیلئے ہے تو وہ شیطان کے راستے میں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَارُونَ بْنِ رَاشِدٍ، ← سليمان بن كيسان ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← الْمُقْرِئُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 348

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 349

349- أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ.

حضرت موسی ٰبن وردان فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے‘ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: انسان اپنے دوست کے طریقے پر ہوتا ہے تو تم میں کسی ایک کو (سب کو) دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی لگا رہا ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 349

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 350

350- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلاَلًا اسْتِعْفَافًا عَنِ الْمَسْأَلَةِ وَسَعْيًا عَلَى أَهْلِهِ وَتَعَطُّفًا عَلَى جَارِهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجْهُهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَمَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلاَلًا مُفَاخِرًا مُكَاثِرًا مُرَائِيًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ.

حضرت مکحول‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’جو شخص دنیا میں حلال طریقے سے تلاش کرے تا کہ لوگوں سے سوال کرنے سے بچے ‘ گھر والوں ( کی ضرورتوں ) کیلئے کوشش کرے نیز پڑوسیوں پر شفقت و مہربانی کرے ‘وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ چودہو یں رات کے چاند کی طرح ہو گا اور جو شخص رزق حلال تکبر، زیادہ مال حاصل کرنے اور( لوگوں کو ) دکھانے کیلئے حاصل کرے وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا۔

«مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا حَلَالًا اسْتِعْفَافًا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مَكْحُولٌ ← الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 350

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 351

351- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الأَعْوَرِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنَ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم وَمَا زَالَتْ صَلاَتَهُ حَتَّى مَاتَ.

حضرت ابوعون الاعور فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ ہر بار اٹھتے وقت اور دو سجدوں کے درمیان تکبیر کہتے تھے۔ پھر فرماتے ہیں میں تم سب سے زیادہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ نماز پڑھتا ہوں اور وصال تک آپ کا یہی طریقہ رہا۔

إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلاَةً بِرَسُولِ اللهِ وَمَا زَالَتْ صَلاَتَهُ حَتَّى مَاتَ. ← صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنَ، ثُمَّ ← أَبِي عَوْنٍ الأَعْوَرِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 351

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 352

352- أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الأَعْوَرِ، وَكَانَ مِنْ جُلَسَاءِ أَبِي عَمْرٍو سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: مَا تَكَلَّمَ الْمُؤْمِنُ كَلِمَةً حَسَنَةً إِلاَّ وَدُونَهَا أَلْيَنُ مِنْهَا تَجْرِي مَجْرَاهَا.

حضرت ابوعون الاعور جو حضرت ابن عمر اور سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہم نشین تھے‘ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں:مومن جب کوئی اچھی بات کرتا ہے اور اس کے علاوہ نرم بات ہوتی ہے تووہ اس کے قائم مقام ہو جاتی ہے۔

مَا تَكَلَّمَ الْمُؤْمِنُ كَلِمَةً حَسَنَةً إِلاَّ وَدُونَهَا أَلْيَنُ مِنْهَا تَجْرِي مَجْرَاهَا. ← أَبِي عَوْنٍ الأَعْوَرِ، وَكَانَ مِنْ جُلَسَاءِ أَبِي عَمْرٍو سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 352

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 353

353- أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ ؛ فِي الرَّجُلِ يُسْبَقُ بِبَعْضِ الصَّلاَةِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: تَقْضِيهِ عَلَى مَنَازِلِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: كَالدَّيْنِ، فَقَالَ: إِنَّ الْكَلِمَةَ قَدْ تَكُونُ مِثْلَ الْكَلِمَةِ وَهِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا.

حضرت ابن عون‘ حضرت محمد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس سے بعض نمازیں نکل جاتی تھیں کہ وہ اسے اس کے مقامات پر قضا کرے گا ایک شخص نے پوچھا: فرض کی طرح؟ فرمایا:ایک کلمہ بعض اوقات دوسرے کلمہ جیسا ہوتا ہےحالانکہ یہ اُس سے اچھا ہوتا ہے۔

رَجُلٌ: كَالدَّيْنِ، ← مُحَمَّدٌ: تَقْضِيهِ عَلَى مَنَازِلِهِ، ← مُحَمَّدٍ فِي الرَّجُلِ يُسْبَقُ بِبَعْضِ الصَّلاَةِ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 353

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ زِيَادَاتُ الْكُوفِيِّينَ، وَالْبَصْرِيِّينَ، وَغَيْرِهِمْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 354

354- أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثنا فُضَيْلٌ، وَهُوَ ابْنُ غَزْوَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَزْنًا بِوَزْنٍ، فَمَا زَادَ فَهُوَ رِبًا، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، فَمَا زَادَ فَهُوَ رِبًا، وَلاَ تُبَاعُ ثَمْرَةٌ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا.

ابن ابی نعم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’چاندی ‘چاندی کے بدلے برابر‘ برابر اور وزن کے بدلے وزن ( برابر) ہو۔ پس جو زیادہ ہو گا وہ سُود ہو گا۔ سونا ‘سونے کے بدلے برابر‘ برابر اور وزن کے بدلے وزن ہوپس جو زائد ہو گا وہ سُود ہو گا اور جب تک پھل کی صلاحیت ظاہر نہ ہو اس کا سودا نہ کیاجائے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← فُضَيْلٌ، وَهُوَ ابْنُ غَزْوَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 354

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ زِيَادَاتُ الْكُوفِيِّينَ، وَالْبَصْرِيِّينَ، وَغَيْرِهِمْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 355

355- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثنا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: وَجَبَتْ، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ شَرًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: وَجَبَتْ، فَعَجِبَ بَعْضُ الْقَوْمِ مِنْهُ، وَقَالَ: مَا وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: أَنْتُمْ شُهَدَاءُ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ.

حضرت عامر بن سعد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا تو اچھے الفاظ میں اس کی تعریف کی گئی ۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی پھر ایک اور آدمی کا انتقال ہوا تو اس کو برے الفاظ سے یاد کیا گیا۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ۔ حاضرین میں سے کچھ لوگوں کو اس پر تعجب ہوا اور انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا چیز واجب ہوگئی ؟ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک دوسرے پر گواہ ہو۔

مَا وَجَبَتْ ← رَسُولُ اللهِ وَجَبَتْ، فَعَجِبَ بَعْضُ الْقَوْمِ مِنْهُ، ← رَسُولُ اللهِ وَجَبَتْ، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ شَرًّا، ← تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ خَيْرًا، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← إبراهيم بن عامر بن مسعود ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 355

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ زِيَادَاتُ الْكُوفِيِّينَ، وَالْبَصْرِيِّينَ، وَغَيْرِهِمْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 356

356- (1) أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ (2)، عَنْ صَالِحٍ الأُمْلُوكِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ رَجُلاَنِ مِنْ خِيرَتِهِ الأَقْرَبِينَ، فَيَقُولاَنِ: اللَّهُمَّ لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَيْرًا، إِلاَّ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِملاَئِكَتِهِ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي بِشَهَادَتِهِمَا وَتَجَاوزْتُ لَهُ عَمَّا لاَ يَعْلَمَانِ. __________ (1) وقع هنا خطأ في الترقيم، (سقط الرقم "358"). (2) "الضَّحَّاك بن حُمرَة"، بضم المهملة، وبالراء، انظر: "المؤتَلِف والمختَلِف" للدارقطني 2/595، و"الإكمال" لابن ماكولا 2/501، و"توضيح المُشْتَبِه" 3/308، و"تبصير المُنتَبه" 1/457، و"تقريب التهذيب" (2966).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:جو شخص مر جائے اور اس کے قریبی پڑوسی اس کے بارے میں گواہی دیتے ہوئے کہیں یااللہ! ہم تو صرف بھلائی کا علم رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان دو آدمیوں کی گواہی پر اپنے بندے کو بخش دیا اور جو کچھ یہ اس کےبارے میں نہیں جانتے اس سے درگزر کیا۔‘‘

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← صَالِحٍ الأُمْلُوكِيِّ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 356

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ زِيَادَاتُ الْكُوفِيِّينَ، وَالْبَصْرِيِّينَ، وَغَيْرِهِمْ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 357

357- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ الْحَدَّانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ فَأَقْعَى وَاسْتَنْفَرَ وَقَالَ: عَمِدْتُ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ أَخَذْتَهُ فَانْتَزَعْتَهُ مِنِّي، فَقَالَ الرَّجُلُ: بِاللهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ الذِّئْبُ: أَوْ أَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ رَجُلٌ بَيْنَ النَّخْلاَتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فَأَخْبَرَهُ فَأَسْلَمَ فَصَدَّقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهَا أَمَارَةٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ، ثُمَّ يَرْجِعَ فَيُحَدِّثَهُ نَعْلاَهُ وَسَوْطُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ.

حضرت شہر بن حوشب‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک بھیڑ یا بکریوں کے ریوڑ کی طرف آیا اور ان میں سے ایک بکری لے گیا۔ چرواہے نے اسے ڈھونڈ کر اس سے بکری لے لی ۔ بھیڑ یا ایک ٹیلے پر چڑھ کر کتے کی طرح بیٹھ گیا اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا میں نے رزق کا ارادہ کیا جومجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا تھا میں نے اسے لے لیا تو تُو نے مجھ سے چھین لیا۔ اس شخص نے کہا اللہ کی قسم! میں نے آج کی طرح بھیڑیئے کو گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟بھیڑیے نے کہا: اس سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک شخص دو پتھریلی جگہوں کےدرمیان کھجوروں کے باغات میں ہے اور جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ تمہارے بعد ہونے والا ہے اس کی خبر دیتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں وہ شخص (چرواہا) یہودی تھا‘ وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا‘ آپ کو سارا واقعہ سنایا اور اسلام قبول کر لیا۔ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی اور فرمایا یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور قریب ہے کہ ایک شخص گھر سے باہر جائے پھر واپس آئے تو اس کا جوتا اور کوڑا (چابک ) اسے بتا دے کہ اس کے بعد اس کے گھر والوں نےکیا عمل کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← الأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ الْحَدَّانِيُّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 357

chevron_left Previous
1…707172…233
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter