Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 166

166- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَلِقَائِهِ، وَتُؤُمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ: لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ: مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ رَبَّتَهَا، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ رُؤُوسَ النَّاسِ، فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} الآيَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: رُدُّوهُ، الْتَمِسُوهُ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم ایک دن صحابہ کرام میں موجود تھے کہ ایک شخص پیدل چلتا ہوا آیا اور اس نے کہا ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ‘ اس کے فرشتوں‘ اس کے رسولوں اور اسکی ملاقات اورآخرت میں اُٹھنے پر ایمان رکھو۔اس نے عرض کیا:یارسول اللہ!اسلام کیاہے؟آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہراؤفرض نمازقائم کرو،فرض زکوۃادا کرو‘ماہ رمضان کے روزےرکھو۔ اس نے عرض کیا :اے محمد ! احسان (اخلاص ) کیا ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھتا ہے۔اس نے کہا اے محمد ! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا: جس سے پو چھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا اور عنقریب میں تمہیں اس کی شرائط (علامات ) کے بارے میں بتاؤں گا۔ جب عورت اپنے آقا کو جنم دے اور تم ننگے پاؤں والوں کو لوگوں کے سردار دیکھو۔یہ ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔ ارشاد خداوندی ہے: ان الله عنده علم الساعة و ينزل الغيث ( آخر تک) پھر وہ شخص چلا گیا تو رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس بلا‘ؤ صحابہ کرام نے اسے تلاش کیا لیکن نہ پایا۔ آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے‘ یہ لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔

يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِيمَانُ؟ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 166

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 167

167- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَوْمًا لأَصْحَابِهِ: سَلُونِي، فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ وَبِالْقَدَرِ كُلِّهِ، وَيَقُولُ فِي كُلِّ مَسْأَلَةٍ: صَدَقْتَ، وَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكُمَ مُلُوكَ الأَرْضِ، وَرَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، وَقَالَ فِيهِ: أَنْ تَخْشَى اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: هَذَا جِبْرِيلُ. قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: أَرَادَ أَنْ تَعْلَمُوا أَنْ تَسْأَلُوهُ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: ”مجھ سے پوچھو۔“انہوں نے آپ سے پوچھنے میں خوف محسوس کیا ہے۔پس ایک شخص آیا اور اس نے اپنے ہاتھوں کو آپ کے گھٹنوں پر رکھا اور کہا اےمحمد! مجھے ایمان کے بارے میں بتایئے؟ اس کے بعد پہلی حدیث کی مثل ذکر کیا‘ اس میں یہ اضافہ ہے کہ تم آخرت پر اور تمام تقدیر پر ایمان لاؤ اور وہ ہر سوال کے جواب پر کہتا : آپ نےسچ فرمایا ہے۔اورآپ نے فرمایا:’’ جب تم ننگے پاؤں اور ننگے جسم والوں نیز گونگے اور بہرے لوگوں کوزمین کے بادشاہ دیکھو اور جانوروں کو چرانے والوں کو عمارتوں پر فخر کرتے ہوئے دیکھو گے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘اور حدیث میں فرمایا’’جبرائیل علیہ السلام تھے۔‘‘حضرت ابوزرعہ فرماتے ہیں: انہوں نے ارادہ کیا کہ تمہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے سوال کرنے کاطریقہ سکھائیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 167

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 168

168- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ فِي ذَلِكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الأعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو۔“ (تین بار فرمایا)صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ نےفرمایا: تم اس سلسلے میں میری مثل نہیں ہو۔بے شک میں رات (اس طرح) گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے پس تم اسی طرح عمل کرو جس قدر طاقت رکھتےہو۔

إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 168

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 169

169- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثَنِي الطَّلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ (ح) وَأخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَشْتَكِي، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخَافُ عَلَيْهِ، وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلاَثَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحَظَارَةٍ شَدِيدَةٍ مِنَ النَّارِ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک عورت اپنے بچے کو لے کر رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی‘ وہ بچہ بیمار تھا۔ اس نےعرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس کا ڈر ہے اور میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں؟رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جہنم اور اپنے درمیان سخت رکاوٹ کھڑی کی ہے۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا إِلَى النَّبِيِّ يَشْتَكِي، فَقَالَتْ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← وَأخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← الطَّلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 169

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 170

170- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَتَصَدَّقُ؟ قَالَ: وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَأْمُلُ الْعَيْشَ وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلاَ تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ عِنْدَ نَحْرِكَ، قُلتُ: مَالِي لِفُلاَنٍ وَفُلاَنٍ، وَهُوَ لَهُمْ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں صدقہ کس طرح کروں؟ آپ نے فرمایا (اس وقت صدقہ کرجب)تم تندرست ہو‘ حرص رکھتے ہو‘ زندگی کی امید اور فقر کا خوف رکھتے ہو اور انتظارنہ کروحتیٰ کہ جب سانس تمہارے سینے تک پہنچ جائے تو تم کہو ! میرا مال فلاں فلاں کیلئے ہےحالانکہ اب تو وہ ان کے لئے ہی ہے۔

رَجُلٌ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 170

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 171

171- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فِيهِمْ، قَالَ: هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ، فَكَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سَبْيَةٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَجَاءَتْ صَدَقَاتُ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے جب سے رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے بنو تمیم (قبیلے) کے بارے میں تین باتیں سنی ہیں مجھے یہ لوگ سب سے زیادہ پسند ہیں۔ آپ نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ لوگ میری امت میں سے دجال پر سب سے زیادہ سخت ہوں گے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ان میں سے ایک قیدی عورت تھی۔ آپ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہےاور بنوتمیم کی طرف سے صدقہ آیا تو آپ نے فرمایا: یہ ہماری قوم کا صدقہ ہے۔

هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا. ← رَسُولُ اللهِ أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَجَاءَتْ صَدَقَاتُ بَنِي تَمِيمٍ، ← هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ، فَكَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ سَبْيَةٌ مِنْهُمْ، ← لاَ أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلاَثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ فِيهِمْ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 171

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 172

172- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ فَقَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أَبُوكَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ایک شخص رسولِ اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اس نے پوچھا: میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں‘ پو چھا: پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں‘پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں ‘پوچھا: پھر کون؟ فرمایا تمہارا باپ۔

"أبوك" ← ثُمَّ مَنْ ← ثُمَّ أُمُّکَ ← ثُمَّ مَنْ ← ثُمَّ أُمُّکَ ← ثُمَّ مَنْ ← مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ فَقَالَ: أُمُّكَ، ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 172

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 173

173- أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، نَحْوَهُ.

ایک اور سند سے بھی ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 173

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 174

174- قُلْتُ لأَبِيَ أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم لِبِلاَلٍ عِنْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ: يَا بِلاَلُ، حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فِي الإِسْلاَمِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: مَا عَمَلٌ عَمِلْتُهُ أَرْجَى عِنْدِي، إِلاَّ إِنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ، أَوْ نَهَارٍ إِلاَّ صَلَّيْتُ لِرَبِّي مَا قُدِّرَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ. فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ.

(مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں) میں نے حضرت ابواسامہ سے پوچھا کیا آپ سےابوحیان نے بواسطہ ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کی کہ انہوں نے فرمایا:رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے نماز فجر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اے بلال! مجھے بتاؤ کہ تمہیں اسلام کی خاطر کئے گئے اعمال میں سے کس کی امید زیادہ ہے؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے سامنے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔انہوں نے عرض کیا: مجھے کسی عمل کی زیادہ امید نہیں البتہ یہ کہ میں نے رات یا دن کی جس گھڑی میں وضو کیا جس قدر الله تعالیٰ نے میرے لئے مقدر کیا میں نے نماز پڑھی۔ ابواسامہ نے اس بات کا اقرار کیا اور کہا: ہاں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ أَبُو حَيَّانَ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 174

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 175

175- أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم كَفَافًا.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے یوں دعا مانگی:اللهم اجعل رزق آل محمد كفافاً.اے اللہ! محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کی آل کا رزق پورا پورا عطا فرما۔

«اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ كَفَافًا» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 175

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 176

176- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا، فَذَلِكَ حِينَ {لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا}.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جب یہ صورت حال ہو گی تو زمین پر جو کوئی بھی ہے‘ ایمان لے آئے گا۔ اور یہ وقت وہ ہوگا جس کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔لاينفع نفسا ایمانها لم تكن امنت من قبل او كسبت فی ايمانهاخيرا۔” (اس وقت ) کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا یا اس نے اپنے ایمان کے ذریعے نیکی نہیں کمائی ۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 176

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 177

177- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى صُورَةِ أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لاَ يَبُولُونَ وَلاَ يَتَغَوَّطُونَ وَلاَ يَتْفُلُونَ وَلاَ يَمْتَخِطُونَ، أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ، وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ، وَأَخَلاَقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سُتُّونَ ذِرَاعًا.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میری امت کی پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی وہ چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے پھر ان کے بعد والے اس ستارے کی طرح ہوں گے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہے۔ نہ ان کو پیشاب کی ضرورت ہو گی نہ قضائے حاجت کی ۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک سے رینٹھ نکالیں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کا پسینہ کستوری ہو گی اور ان کی انگیٹھیوں میں اگر (اگر بتی ) کی لکڑی ( جلتی) ہو گی ان کی بیویاں حُوریں ہوں گی اور ان کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے اور اپنے باپ آدم علیہ السلام کی صورت پر ساٹھ (شرعی ) گز ہوں گے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 177

chevron_left Previous
1…555657…233
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter