مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 166
166- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَلِقَائِهِ، وَتُؤُمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ: لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ: مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ رَبَّتَهَا، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ رُؤُوسَ النَّاسِ، فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} الآيَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: رُدُّوهُ، الْتَمِسُوهُ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ.
حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم ایک دن صحابہ کرام میں موجود تھے کہ ایک شخص پیدل چلتا ہوا آیا اور اس نے کہا ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ‘ اس کے فرشتوں‘ اس کے رسولوں اور اسکی ملاقات اورآخرت میں اُٹھنے پر ایمان رکھو۔اس نے عرض کیا:یارسول اللہ!اسلام کیاہے؟آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہراؤفرض نمازقائم کرو،فرض زکوۃادا کرو‘ماہ رمضان کے روزےرکھو۔ اس نے عرض کیا :اے محمد ! احسان (اخلاص ) کیا ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھتا ہے۔اس نے کہا اے محمد ! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا: جس سے پو چھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا اور عنقریب میں تمہیں اس کی شرائط (علامات ) کے بارے میں بتاؤں گا۔ جب عورت اپنے آقا کو جنم دے اور تم ننگے پاؤں والوں کو لوگوں کے سردار دیکھو۔یہ ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔ ارشاد خداوندی ہے: ان الله عنده علم الساعة و ينزل الغيث ( آخر تک) پھر وہ شخص چلا گیا تو رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس بلا‘ؤ صحابہ کرام نے اسے تلاش کیا لیکن نہ پایا۔ آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے‘ یہ لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔
يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِيمَانُ؟ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 166
