Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 386

386- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ اللَّهَ الْحَكَمُ الْمُتَحَكِّمُ الْعَفِيفُ الْمُتَعَفِّفُ، وَيَكْرَهُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ الْبَذِيءَ السَّائِلَ الْمُلْحِفَ.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ” بے شک اللہ تعالیٰ دانا اور دانائی اختیار کرنے والے اور پاکدامن نیز پاکدامنی اختیار کرنے والے کو پسند کرتا ہے اور بے حیا ‘بے حیائی اختیار کرنے والے‘ بد اخلاق اور چمٹ کر مانگنے والے کو نا پسند کرتا ہے۔‘‘

إِنَّ اللَّهَ الْحَكَمُ الْمُتَحَكِّمُ الْعَفِيفُ الْمُتَعَفِّفُ، وَيَكْرَهُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ الْبَذِيءَ السَّائِلَ الْمُلْحِفَ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Hadith 386

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 387

387- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْمَكْتُوبَةَ فَلَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا وَتَكْبِيرَهَا وَالتَّضَرُّعَ فِيهَا كَانَ كَمَثَلِ التَّاجِرِ لاَ يَشِفُّ لَهُ حَتَّى بَقِيَ رَأْسُ الْمَالِ.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی ایک فرض نماز پڑھے اور اس کے رکوع و سجود اور تکبیر نیز اس کے خضوع وخشوع کو پورانہ کرے وہ اس تاجر کی طرح ہے جسے اس وقت تک نفع حاصل نہیں ہوتا جب تک اصل مال پوری طرح خرچ نہ کرے (مطلب یہ کہ نماز ٹھہر ٹھہر کر پڑھی جاۓ)۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Hadith 387

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 388

388- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ شَرَّ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلاَتِهِ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلاَتِهِ؟ قَالَ: لاَ يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلاَ سُجُودَهَا.

اسی سند کے ساتھ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ” بے شک لوگوں میں سے سب سے برا چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے۔‘‘عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! وہ نماز میں کیسے چوری کرتا ہے؟ فرمایا: ”وہ اس کےسجدے اور رکوع کو پورا نہیں کرتا ۔‘‘

إِنَّ شَرَّ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلاَتِهِ قِيلَ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Hadith 388

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 389

389- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: إِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلاَةِ إِقَامَةُ الصَّفِّ.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ” نماز کے حسن میں سے ایک بات صف کو سیدھا کرنا ہے۔ ‘‘

إِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Hadith 389

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 390

390- وَبِهَذَا الإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَيَكْرَهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ هَدَاهُ اللَّهُ لِلإِسْلاَمِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يَغْرَقَ فِي النَّارِ.

اسی سند کے ساتھ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں پائی جائیں وہ ان کے ذریعے ایمان کی مٹھاس پاتا ہے:۱۔ اللہ اور اس کا رسول اسے ان دونوں کے سوا تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔۲۔کسی شخص سے محبت کرے تو صرف اللہ تعالیٰ کیلئے کرے۔۳۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت حاصل ہونے کے بعد اسے کفر کی طرف جانا اس طرح ناپسند ہو جس طرح آگ میں ڈالا جانا نا پسند ہوتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ

Hadith 390

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 391

391- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ مِنَ الْكِبْرِ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ.

اسی سند کے ساتھ مروی ہے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: تکبر میں سے حق کے مقابلے میں اکڑنا اور لوگوں کو حقیر جانتا ہے۔

إِنَّ مِنَ الْكِبْرِ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Hadith 391

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 392

392- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِلَى ذِكْرِ اللهِ فَانْتَهُوا.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ذکر پر تمہاراخاتمہ ہو۔

اللَّهُ فَانْتَهُوا» ← إِلَيَّ- ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Hadith 392

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 393

393- وَبِهَذَا الإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا عَلَى نَفْسِهِ أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا:’’جس شخص نے کوئی بدعت جاری کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ تعالیٰ‘ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے‘ اس کی فرض عبادت قبول نہ ہو گی‘ نہ نفل نماز۔‘‘

مَنْ أَحْدَثَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ

Hadith 393

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 394

394- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلاَئِيُّ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ يَزِيدَ الشَّامِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: مَنْ أَحْدَثَ فِي الإِسْلاَمِ حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا الْحَدَثُ؟ قَالَ: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، أَوِ امْتَثَلَ مُثْلَةً بِغَيْرِ قَوَدٍ، أَوِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً بِغَيْرِ سُنَّةٍ .قَالَ: وَالْعَدْلُ الْفِدْيَةُ، وَالصَّرْفُ التَّوْبَةُ.

حضرت امیہ بن یزید الشامی فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسلام میں کوئی بدعت جاری کی اس پر اللہ تعالیٰ‘ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔قیامت کے دن اس کی فرض عبادت قبول ہو گی نہ نفل ۔‘‘عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم ! حدث ( نیا کام یا بدعت ) کیا ہے؟ فرمایا: ’’جوشخص کسی قصاص کے بغیر کسی نفس کو قتل کرے یا کسی قصاص کے بغیر شکل بگاڑے یا کسی سنت کے خلاف بدعت جاری کرے۔‘‘ راوی فرماتے ہیں:’’عدل‘‘ سے فدیہ اور’’صرف‘ ‘سے تو بہ مراد ہے ( یعنی ایسے لوگوں کی توبہ اور فدیہ قبول نہ ہوگا)۔

أُمَيَّةَ بْنِ يَزِيدَ الشَّامِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← جَرِيرٌ

Hadith 394

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 395

395- أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَنَسٍ، يَرْفَعُهُ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَجَبَ التَّوْبَةَ عَنْ صَاحِبِ كُلِّ بِدْعَةٍ.

حضرت حمید بن علاء‘ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں یعنی حضور صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیشک اللہ تعالی ٰبدعتی سے تو بہ کو حجاب میں رکھتا ہے (یعنی اس کی توبہ قبول نہیں کرتا)۔

صَاحِبِ كُلِّ بِدْعَةٍ. ← إِنَّ اللَّهَ حَجَبَ التَّوْبَةَ ← أَنَسٍ يَرْفَعُهُ ← حُمَيْدِ بْنِ الْعَلَاءِ، ← مُحَمَّدٌ الْقُشَيْرِيُّ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ

Hadith 395

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 396

396- أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي الْمُتَوَكِّلُ بْنُ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ قَضَى لِأَخِيهِ الْمُؤْمِنِ حَاجَةً كَانَ كَمَنْ خَدَمَ اللَّهَ تَعَالَى عُمُرَهُ.

حضرت حمید بن علاء‘ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ جو شخص کسی مومن کی حاجت کو پورا کرے گویا اس نے عمر بھر اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کی۔‘‘

مَنْ قَضَى لِأَخِيهِ الْمُؤْمِنِ حَاجَةً كَانَ كَمَنْ خَدَمَ اللَّهَ تَعَالَى عُمُرَهُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ الْعَلَاءِ، ← الْمُتَوَكِّلُ بْنُ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ الْقُشَيْرِيُّ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ

Hadith 396

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 397

397- أَخْبَرَنَا كُلْثُومٌ، حَدَّثنا عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ.

حضرت عطاء ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے ۔‘‘

سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ کُفْرٌ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← كُلْثُومٍ،

Hadith 397

chevron_left Previous
1234…14
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter