Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 530

530- أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ، حَدَّثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمَقْبُرِيِّ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: إِنَّكُمْ لاَ تَسَعُونَ النَّاسَ بِأَمُوَالِكُمْ، فَلْيَسَعْهُمْ مِنْكُمْ بَسْطُ وَجْهٍ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے‘ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنے مالوں کے ذریعے لوگوں سے حسن سلوک کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں تم ان کے ساتھ کشادہ روئی اور اچھے اخلاق کے ذریعے حسن سلوک کرو ۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ الْمَقْبُرِيِّ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَبَّادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْمُؤَمَّلُ

Hadith 530

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 531

531- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو السَّكْسَكِيِّ، عَنْ شَيْخٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يوْمًا الْهِنْدَ، فَقَالَ: لَيَغْزُوَنَّ جَيْشٌ لَكُمُ الْهِنْدَ، فَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَأْتُوا بِمُلُوكِ السِّنْدِ مُغَلْغَلِينِ فِي السَّلاَسِلِ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ، فَيَنْصَرِفُونَ حِينَ يَنْصَرِفُونَ، فَيَجِدُونَ الْمَسِيحَ ابنَ مَرْيَمَ بِالشَّامِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَإِنْ أَنَا أَدْرَكْتُ تِلكَ الْغَزْوَةَ، بِعْتُ كُلَّ طَارِدٍ وَتَالِدٍ لِي، وَغَزَوتُهَا، فَإِذَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْنَا، انْصَرَفْنَا، فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرِّرُ يَقْدَمُ الشَّامَ، فَيَلْقَى الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَلأَحْرِصَنَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ، فَأُخْبِرَهُ أَنِّي صَحِبْتُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم ضَاحِكًا، وَقَالَ: إِنَّ جَنَّةَ الآخِرَةِ لَيْسَتْ كَجَنَّةِ الأُولَى، يُلْقَى عَلَيْهِ مَهَابَةٌ مِثْلَ مَهَابَةِ الْمَوْتِ، يَمْسَحُ وَجْهَ الرِّجَالِ، وَيُبَشِّرُهُمْ بِدَرَجَاتِ الْجَنَّةِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے‘ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے ایک دن ہند کا ذکر ادا کرتے ہوئے فرمایا: ’’تمہارا ایک لشکر ہند میں جہاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ان لوگوں پر فتح عطا فرمائے گا حتی کہ سندھ کے بادشاہ اس طرح آئیں گے کہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے پس اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بخش دے گا اور جب وہ واپس جائیں گے تو حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کو شام میں پائیں گے ۔‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں نے اس جہاد کو پایا تو میں اپنا موروثی اور خود کمایا ہوا (تمام مال) فروخت کر کے جہاد میں شامل ہوں گا اور جب اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر فتح عطا کی فرمائے گا تو ہم واپس لوٹیں گے پس میں آزاد شده ابو ہریرہ شام میں آ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کروں گا۔ میں اس بات کی حرص رکھوں گا کہ ان کے قریب ہو کر ان کو بتاؤں کہ یا رسول اللہ! میں نے آپ کی صحبت اختیار کی ہے۔ ان فرماتے ہیں : رسول اکرم (یہ بات سن کر) مسکرائے اور فرمایا: ان کے پاس دوسری مرتبہ جانا پہلی مرتبہ جانے کی طرح نہیں ہے ان کو موت کی ہیبت کی طرح ہیبت دی جائے گی جو لوگوں کے چہروں کو چھوئے گی اور ان کو جنت کے درجات کی خبر دے گی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شَيْخٌ ← صَفْوَانَ بْنِ عَمْرِو السَّكْسَكِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی

Hadith 531

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 532

532- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثنا مُوسَى بْنُ الأَعْيَنِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ، وَحَنَا جَبْهَتَهُ، يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ أَنْ يَنْفُخَ فَيَنْفُخَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا

حضرت ابو صالح‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں کس طرح خوش عیش رہوں جب کہ سینگ (اٹھانے) والے (حضرت اسرافیل علیہ السلام ) نے سینگ منہ میں رکھ کر کان لگائے ہوئے اور پیشانی جھکائی ہوئی ہے‘ وہ اس انتظار میں ہے کہ کب پھونکنے کی اجازت دی جائے پس وہ پھونکے ۔‘‘ ا صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یوں کہو: ’’حسبنا اللہ ونعم الوکیل‘ علی اللہ توکلنا‘‘۔’’اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے وہ بہترین کارساز ہے‘ ہم نے الله ہی پر بھروسہ کیا۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُوسَى بْنُ الأَعْيَنِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی

Hadith 532

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 533

533- قَالَ: وَقَالَ أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: كَيْفَ أَنْعَمُ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

ایک اور سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَقَالَ أَبُو الأَحْوَصِ،

Hadith 533

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 534

534- أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، مِثْلَهُ.

ایک اور سند کے ساتھ رسول اکرم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کی مثل مروی ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← مُطَرِّفٍ ← سُفْيَانَ،

Hadith 534

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 535

535- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثنا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ قَالَ: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللهِ كَانَتْ لَهُ دَوَاءً، مِنْ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ دَاءً، أَيْسَرُهَا الْهَمُّ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جو شخص لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھے تو یہ ننانوے بیماریوں کی دوا ہے‘ سب سے ہلکی بیماری پریشانی ہے۔

مَنْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Hadith 535

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 536

536- حَدَّثنا الْمُلاَئِيُّ، حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ،-قَالَ يَحْيَى: أَحْسَبُهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا وَهُمْ مِنْ فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ} قَالَ: هِيَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، {وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئِةِ فَكُبَّتْ وَجُوهُهُمْ فِي النَّارِ} وَهِيَ الشِّرْكُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے‘ یحییٰ (راوی) فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ آپ نے فرمایا:من جاء بالحسنۃ قلہ خیر منھا وھم من فزع یومئذ اٰمنون” جو شخص نیکی کرے اس کے لئے اس سے بہتر جزا ہے اور وہ لوگ اس دن (قیامت کو ) گھبراہٹ سے بے خوف ہوں گے۔‘‘ اس سے لا الٰہ الا اللہ مراد ہے۔اور ومن جاء بالسیئۃ فکبت وجوھھم فی النار”اور جو شخص برائی کا مرتکب ہو گا تو ان لوگوں کو چہروں کے بل جہنم میں ڈالا جائے گا۔‘‘ اس سے مراد شرک ہے۔

{مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا وَهُمْ مِنْ فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ} ← النَّبِيِّ ← أَبُو هُرَيْرَةَ،-قَالَ يَحْيَى: أَحْسَبُهُ، ← أَبَا زُرْعَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← الْمُلَائِيُّ

Hadith 536

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 537

537- أَخْبَرَنَا يُونُسَ بْنُ بُكَيْرٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ فِي الصَّلاَةِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ، وَمَنْ أَشَارَ فِي صَلاَتِهَ إِشَارَةً تُفْهِمُ، فَلْيُعِدْ لَهَا الصَّلاَةَ. آخِرُ أَحَادِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

حضرت ابو غطفان‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور ہاتھ پر ہاتھ مارنا عورتوں کے لئے ہے اور جو نماز میں ایسا اشارہ کرے جو سمجھا جاتا ہے تو دوبارہ نماز پڑھے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي غَطَفَانَ ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ

Hadith 537

chevron_left Previous
1…11121314
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter