Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 482

482- أَخْبَرَنَا كُلْثُومٌ، حَدَّثنا عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَوَجَدْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا وَسُكَّانِهَا الْمَسَاكِينَ.

حضرت عطاء‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو زیادہ جنتیوں اور وہاں ٹھہرنے والوں کو مساکین پایا۔

«دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَوَجَدْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا وَسُكَّانِهَا الْمَسَاكِينَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← كُلْثُومٍ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 482

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 483

483- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم أَنَّهُ سُئِلَ: أَيُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.

اسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے ‘آپ سے پوچھا گیا کہ کونسا اسلام افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں(اس کا اسلام افضل ہے)۔‘‘

«مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» ← رَسُولِ اللهِ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ؟ ← وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 483

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 484

484- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَصَلاَةٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ، لَيْسَ الْكَعْبَةَ.

اسی سند کے ساتھ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے البتہ مدینہ طیبہ کی مسجد ( مسجد نبوی) میں نماز کعبہ شریف کے علاوہ دیگر مساجد کے مقابلے میں ایک ہزار درجہ افضل ہے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 484

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 485

485- وَبِهَذَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلاَنِ، فَعَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ بِأُمِّهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَدَعَا الرَّجُلَ، فَقَالَ: أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ؟ فَأَعَادَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أسْتَغْفِرِ اللَّهَ لِمَا قُلْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: ارْفَعْ رَأْسَكَ فَانْظُرْ إِلَى الْمَلإِ، فَنَظَرَ إِلَى مَنْ حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَقَالَ: مَا أَنْتَ بِأَفْضَلَ مِنْ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ مِنْهُمْ، إِلاَّ مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلٌ فِي الدِّينِ.

اسی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے‘ فرماتے ہیں: دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو گالی دی اور ان میں سے ایک نے دوسرے کو اس کی ماں کے حوالے سے عاردلائی ۔ یہ بات رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے اس شخص کو بلا کر پوچھا کیا تم نےاسے اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی ہے۔آپ نے کئی بار یہ سوال کیا تو اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے جو کچھ کہا ہے اس پر یا اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتا ہوں۔ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر اٹھا کر اس جماعت کو دیکھو! اس نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے گرد صحابہ کرام کو دیکھا۔ آپ نے فرمایا: تم ان میں سے کسی سرخ اور سیاہ سے افضل نہیں ہو البتہ جس کو دین میں فضیلت حاصل ہو (وہ افضل ہے)۔

الرَجُلِ ← «أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ» فَأَعَادَ ذَلِكَ مِرَارًا، ← اسْتَبَّ رَجُلَانِ، فَعَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ بِأُمِّهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ فَدَعَا الرَّجُلَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 485

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 486

486- وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: كُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ يَسْمَعُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، يُقْرَأُ فِيهِ، وَقَالَ: التَّأَنِّي مِنَ اللهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ.

اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: ’’ہرمسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے (یعنی قابل ِاحترام ہے )اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں سورۂ بقرہ کی قرأت کی جائے ۔‘‘اور آپ نے فرمایا: ”صبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی جانب سےہے۔‘‘

وَبِهَذَا

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 486

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 487

487- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ.

حضرت سعید بن مسیّب یا حضرت ابوسلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنھم)‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”جب تم (ماه رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور جب اس (چاند) کو دیکھو تو روزہ چھوڑ دو (یعنی عید کرو)پس اگر وہ تم پر چھپ جائے (بادل وغیرہ ہوں) تو تیسں کی گنتی پوری کرو۔‘‘

إذا رأيتم الهلال فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا فان غم عليكم فعدوا ثلاثين ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سعيد بن المسيب أو أبي سلمة ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 487

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 488

488- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، مِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: صَوْمُكُمْ يَوْمَ تَصُومُونَ، وَفِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ.

حضرت ابو المنکد ر‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ تمہارا روز ہ اس دن ہے جب تم روزہ رکھو اور تمہارا افطار (عید) اس دن ہے جب تم روزہ رکھنا چھوڑ دو۔

«صَوْمُكُمْ يَوْمَ تَصُومُونَ وَفِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ» ← النَّبِيِّ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 488

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 489

489- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الأَعْرَابِيُّ، عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: مَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَعُودُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ.

حضرت خلاس بن عمرو ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ جوشخص عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اُس کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے‘ جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کرتا ہے پھر اپنی قے کی طرف رجوع کر کے اس کو کھا لیتا ہے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيُّ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 489

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 490

490- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا عَوْفٌ، عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنِ اشْتَرَى لِقْحَةً مُصَرَّاةً، أَوْ شَاةً مُصَرَّاةً فَحَلَبَهَا، فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ، إِنْ شَاءَ أَخَذَهَا، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَمَعَهَا إِنَاءٌ مِنْ طَعَامٍ. قَالَ عَوْفٌ: وَذَلِكَ إِذَا نَقَصَ مِنْ لَبَنِهَا.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : ” جو شخص ایسی دودھ دینے والی اونٹنی یا بکری خریدے جس کے تھنوں میں دودھ روکا گیا ہو تو اس کو دو باتوں میں سے ایک میں اختیار ہے اگر چاہے تو اس کو رکھ لے اور اگر چاہے تو اس کو واپس کر دے اور اس کے ساتھ ایک برتن (صاع) کھجوریں بھی دے اور یہ اس صورت میں ہے جب اس کا دودھ کم ہو جائے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، وَمُحَمَّدٍ، ← عَوْفٌ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 490

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 491

491- وَقَالَ الْحَسَنُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، مِثْلَهُ.

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ بھی حضور صلى الله علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں ۔

الْحَسَنِ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 491

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 492

492- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا عَوْفٌ، عَنْ خِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ، وَحَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ، خُنْسَ الأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ.

حضرت خلاس بن عمرو‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ” قیامت قائم نہیں ہو گی حتٰی کہ تم ایسی قوم سے لڑائی کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور حتٰی کہ تم چوڑے منہ اور چپٹی ناک والوں سے لڑو گویا ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھال کی طرح ہیں ۔“

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَوْفٌ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 492

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 493

493- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا عَوْفٌ، عَنْ خِلاَسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: بَيْنَمَا شَابٌّ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ، مُخْتَالاَ فَخُورًا، ابْتَلَعَتْهُ الأَرْضُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ.

حضرت خلاس‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں ایک نوجوان تھا جو ایک قیمتی جوڑے میں تکبر اور غرور کے ساتھ چلتا تھا تو اس کو زمین نے نگل لیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلاجائے گا۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسٍ، ← عَوْفٌ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 493

chevron_left Previous
1…91011…14
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter