Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 335

335- أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ ذَلِكَ، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُخْلِصًا يَصْدُقُ لِسَانُهُ قَلْبَهُ، وَقَلْبُهُ لِسَانَهُ.

حضرت معاویہ بن مُعتِب الھُزلی سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ شفاعت کے بارے میں آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا تو آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کی جان ہے ان لوگوں کا لگا تار جنت کے دروازے پر آنے کاغم میرے نزدیک اس سےزیادہ اہم ہے اور میری شفاعت ان لوگوں کیلئے ہے جو اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں ان کی زبان کی تصدیق کرے اور دل زبان کی ( تصدیق کرے)۔

سألت رسول الله ماذا رد إليك ربك في الشفاعة ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ، أَنَّهُ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← هاشم بن القاسم

Hadith 335

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 336

336- أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنِّي لَأَرَى أُمَمًا تُقَادُ بِالسَّلاَسِلِ مِنَ النَّارِ إِلَى الْجَنَّةِ.

حضرت ابراہیم بن سعید‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ میں کچھ جماعتوں کو دیکھتا ہوں جو بیڑیوں کے ساتھ جہنم سے جنت کی طرف لے جائے جارہے ہیں ۔‘‘

إِنِّي لَأَرَى أُمَمًا تُقَادُ بِالسَّلاَسِلِ مِنَ النَّارِ إِلَى الْجَنَّةِ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ، ← عتبة بن أبي حكيم ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ

Hadith 336

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 337

337- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَيْسَرَةَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي قَوْلِهِ: {خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} قَالَ: نَجِيءُ بِهِمْ فِي السَّلاَسِلِ فَنُدْخِلُهُمُ الإِسْلاَمَ.

حضرت ابو حازم‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ انہوں نے ارشادِ خداوندی كنتم خير امة اخرجت للناس. (تم سب سے بہتر امت ہو جو لوگوں( کی بھلائی)کیلئے پیدا کی گئی) کی تفسیر میں فرمایا ان لوگوں کو زنجیروں میں لایا جائے گا پس وہ اسلام میں داخل ہوں گے۔

نَجِيءُ بِهِمْ فِي السَّلاَسِلِ فَنُدْخِلُهُمُ الإِسْلاَمَ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي قَوْلِهِ: {خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} ← أَبِي حَازِمٍ ← مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيِّ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Hadith 337

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 338

338- أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلْقَمَةَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لَيْسَ دُونَهَا سِتْرٌ وَلاَ حِجَابٌ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَى رَبِّهَا.

بنو ہاشم کے مولی ٰ(آزاد کردہ غلام ) ابوعلقمہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ تسبیح(سبحان اللہ پڑھنا ) میزان کا نصف ہےاور اللہ اکبر پڑھنا آسمانوں اور زمین کو ( ثواب سے ) بھر دیتا ہے اور لا الہ الا اللہ کے در میان کوئی آڑ نہیں اور نہ کوئی پردہ ہے حتیٰ کہ یہ (کلمات ) اپنے رب کے ہاں پہنچ جاتےہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو عَلْقَمَةَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ،

Hadith 338

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 339

339- أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثنا مُوسَى بْنُ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: شَرُّ مَا فِي الرَّجُلِ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ.

حضرت مروان ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’آدمی میں سب سے بُری چیز بزدل بنانے والی کنجوسی اور خواہشات کاپجاری بنانے والی بزدلی ہے۔

«شَرُّ مَا فِي الرَّجُلِ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← الْمُقْرِئُ

Hadith 339

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 340

340- أَخْبَرَنَا الْمُلاَئِيُّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

الملائی نے اسی سند کے ساتھ اس کی مثل بیان کیا ۔

Hadith 340

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 341

341- أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ سَلاَمَانَ بْنِ عَامِرٍ الشَّعْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الأَصْبَحِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: اتُّهِمَ الأَمِينُ وَأُمِّنَ غَيْرُ الأَمِينِ، فَصُدِّقَ الْكَاذِبُ، وَكُذِّبَ الصَّادِقُ، وَأَشْرَفَ عَلَيْكُمُ الشَّرْفُ الْجَوْرُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا شَرْفُ الْجَوْرِ؟ قَالَ: فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ.

حضرت ابوعثمان الاصبحی‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: (قیامت کے قریب ) امانت دار پر تہمت لگائی جائے گی اور بد دیانت کے پاس امانت رکھی جائے گی۔ جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی جب کہ سچ کو جھٹلایا جائےگا اور تم پر اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے نازل ہوں گے۔ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے پوچھنے پر بتایا کہ ’’شرف الخور‘‘ کا معنی اندھیری رات کے ا ن ٹکڑوں جیسے فتنے ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ الْأَصْبَحِيِّ ← سَلاَمَانَ بْنِ عَامِرٍ الشَّعْبَانِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← الْمُقْرِئُ

Hadith 341

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 342

342- أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثنا مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ حَاجًّا فَأَوْصَانِي سُلَيْمُ بْنُ عَتَرَ، وَكَانَ قَاضِيًا لِأَهْلِ مِصْرَ فِي وَلاَيَةِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَمَنْ بَعْدَهُ، إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ السَّلاَمُ، وَقَالَ: إِنِّي اسْتَغْفَرْتُ الْغَدَاةَ لِأَبِيهِ وَلِأُمِّهِ، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ فَأَبْلَغْتُهُ، فَقَالَ: وَأَنَا اسْتَغْفَرْتُ الْغَدَاةَ لَهُ وَلِأَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ تَرَكْتَ [أُمَّ خَنُّورٍ؟ تُرِيدُ مِصْرَ، فَدَنَوْتُ مِنْ رِفَاعِيَّتِهَا وَحَالِهَا] (1)، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهَا مِنْ أَوَّلِ الأَرْضِينَ خَرَابًا، ثُمَّ عَلَى إِثْرِهَا أَرْمِينِيَّةُ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم؟ قَالَ: أَوْ مِنْ كَعْبٍ ذُو (2) الْكِتَابَيْنِ. _حاشية__________ (1) هذه العبارة من قوله "أم خنور" إلى "فدنوت" لم تتضح لي معناها، وأثبت ما استظهرته. (2) هكذا جاء بالرفع، فيكون على تقدير "وهو" والله أعلم.

حضرت موسیٰ بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں حج کیلئے گیا توسلیمان بن عمر جو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت میں اور اس کے بعد بھی مصر کےقاضی تھے‘نے میرے ذریعے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ میں صبح کے وقت ان کے ماں باپ کیلئے طلب مغفرت کرتا ہوں ۔ فرماتے ہیں : میں نے مدینہ طیبہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی تو ان کو یہ پیغام پہنچایا انہوں نے فرمایا: میں بھی ان کیلئے اور ان کے گھر والوں کیلئے بخشش طلب کرتا ہوں ۔ پھر پوچھا تم نے ام حور یعنی مصر کو کیسا چھوڑا ہے؟ تم نے اس کے قطعات زمین اور حال سے کنارہ کشی کی۔ انہوں نےفرمایا: ز مین میں سب سے پہلی بر بادی یہاں (مصر میں) ہو گی پھر اس کے بعد ارمینیا میں ہو گی ۔ فرماتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کیا آپ نے یہ بات رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے سنی ہے؟ فرمایا: یا دو کتابوں والے حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ہے ۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← الْمُقْرِئُ

Hadith 342

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 343

343- أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثنا الأَفْرِيقِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؛ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيَمَسُّ أَهْلُ الْجَنَّةِ النِّسَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ، بِذَكَرٍ لاَ يَمَلُّ، وَفَرْجٍ لاَ يُجْفَا، وَشَهْوَةٍ لاَ تَنْقَطِعُ.

حضرت عمارہ بن راشد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ان سے پوچھا گیا کہ کیا جنت والے عورتوں کو ہاتھ لگائیں گے؟ فرمایا: ہاں ایسی (مردانہ) شرمگاہ کے ساتھ جو تھکے گی نہیں۔ایسی (زنانہ) شرمگاہ کے ساتھ جو گھسے گی نہیں اور اسی شہوت جو ختم نہیں ہو گی۔

نَعَمْ، بِذَكَرٍ لاَ يَمَلُّ، وَفَرْجٍ لاَ يُجْفَا، وَشَهْوَةٍ لاَ تَنْقَطِعُ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيَمَسُّ أَهْلُ الْجَنَّةِ النِّسَاءَ؟ ← عُمَارَةَ بْنِ رَاشِدٍ، ← الأَفْرِيقِيِّ ← عِيسَى؛

Hadith 343

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 344

344- أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثنا الأَفْرِيقِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ رَاشِدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: أَيَمَسُّ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَزْوَاجَهُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ بِذَكَرٍ لاَ يَمَلُّ، وَفَرْجٍ لاَ يُجْفَا، وَشَهْوَةٍ لاَ يَنْقَطِعُ.

حضرت عمار ہ بن راشد بن مسلم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کرتے ہیں کہ حضور صلى الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کیا اہلِ جنت اپنی عورتوں کو چھوئیں گے؟فرمایا:ہاں ایسی(مردانہ)شرمگاہ کے ساتھ جو تھکے گی نہیں‘ایسی (زنانہ)شرمگاہ کے ساتھ جو گھسے گی نہیں(یعنی پرانی نہیں ہو گی)اور ایسی شہوت کے ساتھ جو ختم نہیں ہو گی۔

نَعَمْ بِذَكَرٍ لاَ يَمَلُّ، وَفَرْجٍ لاَ يُجْفَا، وَشَهْوَةٍ لاَ يَنْقَطِعُ. ← سُئِلَ رَسُولُ اللهِ أَيَمَسُّ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَزْوَاجَهُمْ؟ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُمَارَةُ بْنُ رَاشِدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← الأَفْرِيقِيِّ ← الْمُقْرِئُ

Hadith 344

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 345

345- أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثنا الأَفْرِيقِيُّ، حَدَّثنا عُمَارَةُ بْنُ رَاشِدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: شَرُّ أُمَّتِي الَّذِينَ غُذُّوا فِي النِّعَمِ وَنَبَتَتْ عَلَيْهِمْ أَجْسَامُهُمْ.

حضرت عمارہ بن راشدبن مسلم‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا:’’ میری امت کے برے لوگ وہ ہیں جن کو نعمتوں کی فراوانی حاصل ہوئی اور ان سے ان کے جسموں کی پرورش ہوئی ۔

شَرُّ أُمَّتِي الَّذِينَ غُذُّوا فِي النِّعَمِ وَنَبَتَتْ عَلَيْهِمْ أَجْسَامُهُمْ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُمَارَةُ بْنُ رَاشِدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← الأَفْرِيقِيِّ ← الْمُقْرِئُ

Hadith 345

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 346

346- أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى السَّكُونِيُّ، عَنِ الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلاَ تَنْفِضْ (1) يَدَيْهِ فَإِنَّهَا مَرَاوِحُ الشَّيْطَانِ. _حاشية__________ (1) في المطبوع هكذا: "تنفض" والصواب أن تكون "ينفض".

حضرت بختری اپنے والد سے‘وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا:’’ جب تم میں سے کوئی ایک وضو کرے تو اپنے ہاتھوں کو نہ جھاڑے‘ یہ شیطانی پنکھے ہیں۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْبَخْتَرِيُّ ← أَبُو يَحْيَى السَّكُونِيُّ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ

Hadith 346

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter