مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 335
335- أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ ذَلِكَ، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مُخْلِصًا يَصْدُقُ لِسَانُهُ قَلْبَهُ، وَقَلْبُهُ لِسَانَهُ.
حضرت معاویہ بن مُعتِب الھُزلی سے مروی ہے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے میں نے رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے پوچھا کہ شفاعت کے بارے میں آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا تو آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کی جان ہے ان لوگوں کا لگا تار جنت کے دروازے پر آنے کاغم میرے نزدیک اس سےزیادہ اہم ہے اور میری شفاعت ان لوگوں کیلئے ہے جو اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالی ٰکے سوا کوئی معبود نہیں ان کی زبان کی تصدیق کرے اور دل زبان کی ( تصدیق کرے)۔
سألت رسول الله ماذا رد إليك ربك في الشفاعة ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ، أَنَّهُ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← هاشم بن القاسم
Hadith 335
