Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَمِصْرَ، مِنْهُمْ: يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 320

320- أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأَرْضِ، وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ سَيُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يُقْتَصُّ لِبَعْضِهَا مِنْ بَعْضٍ، حَتَّى يُقْتَصَّ لِلْجَمَّاءِ مِنْ ذَاتِ الْقَرْنِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ: {يَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا}، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَاقْرَؤُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ، مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ، ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ}.

حضرت یزید بن اصم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں’’ زمین پر چلنے والا ہر جانور اور پروں سے اڑنے والا ہر پرندہ قیامت کے دن اٹھایا جائے گا پھر ان میں سے بعض سے بعض کا بدلہ لیا جائے گا حتی کہ سینگوں والی بکریوں سے بغیر سینگوں ں کے بکری کا بدلہ لیا جائے گا۔ اس وقت کافر کہے گا کاش ! میں مٹی ہو جا تا۔‘‘اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے اگر تم چاہو تو یہ آیت کریمہ پڑھو: ’’وما من دابۃ فی الارض والا طائر یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم ما فرطنا فی الکتٰب من شیءٍ ثم الٰی وبھم یحشرون‘‘’’زمین میں چلنے والے جانور اور اپنے پروں سے اڑنے والے پرندے تمہاری مثل جماعتیں ہیں ہم نے کتاب میں کوئی چیز اٹھا نہیں رکھی پھر وہ اپنے رب کی طرف اٹھائےجائیں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ

Hadith 320

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَمِصْرَ، مِنْهُمْ: يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 321

321- أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، نِصْفُهُ لَهُ وَنِصْفُهُ لِي، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}، قَالَ الرَّبُّ: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، قَالَ الرَّبُّ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: {مَالِكَ يَوْمِ الدَّينِ}، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ}، قَالَ: هَذِهِ لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ}، قَالَ: هَذِهِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ. هَكَذَا قَالَ الْفَضْلُ، أَوْ نَحْوُهُ.

حضرت جعفر بن برقان‘حضرت حبیب بن ابی مرزوق سے‘ وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا اور میرے بندے کیلئے وہ ہے جو اس نے مانگا ۔ نصف اس کیلئے ہے اور نصف میرے لئے ہے۔‘‘ جب بندہ الحمد لله رب العالمین کہتا ہے تو رب فرماتا ہے میرے بندہ نے میری حمد کی ہے جب وہ الرحمن الرحیم کہتا ہے تو رب فرماتا ہے میرے بندے نے میری ثناء کی ہے۔ جب وہ ملک یوم الدینکہتا ہے تو رب فرماتا ہے میرے بندے نےمیری بزرگی بیان کی ۔ جب وہ ایاك نعبد و ایاك نستعين کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یہ میرے بندے کیلئے اور میرے بندے کیلئے وہ ہے جس کا اس نے سوال کیا اور جب اهدنا الصراط المستقيم کہتا ہے تو اللہ تعالی ٰفرماتا ہے یہ میرے بندے کیلئے ہے اور میرے بندے کیلئے وہ کچھ ہے جس کا اس نے سوال کیا ہے۔فضل بن موسی ٰنے اسی طرح یا اس کی مثل فرمایا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی

Hadith 321

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَمِصْرَ، مِنْهُمْ: يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 322

322- أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ عَتِيقٍ، رَجُلٌ مِنْ مَلِيكَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: أَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا. قَالَ ابْنُ عَتِيقٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِيَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ مِثْلَ ذَلِكَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم.

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:’’ تم میں سے کسی ایک کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا شعروں کے ساتھ بھرنے سے بہتر ہے۔‘‘ ابن عتیق (راوی) نے کہا کہ میں نے یہ بات حضرت یزید بن اصم سے ذکر کی تو انہوں نےفرمایا میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتےہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنِ عَتِيقٍ، رَجُلٌ مِنْ مَلِيكَةَ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Hadith 322

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter