Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 303

303- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُول: حَقُّ الضِّيَافَةِ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلاَ يَحِلُّ لِلضَّيْفِ أَنْ يُقِيمَ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يُؤْذِيَ صَاحِبَ الْمَنْزِلِ.

حضرت زیاد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’مجھے حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے لڑوں حتی ٰکہ وہ ’’لا الہ الا اللہ (محمد رسول اللہ)‘‘پڑھیں۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زِيَادٍ، ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 303

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 304

304- وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْعُو اللَّهَ بِشَيْءٍ إِلاَّ اسْتَجَابَ لَهُ، إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَهَ، وَإِمَّا أَنْ يُكَفِّرَ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ بِمِثْلِ مَا دَعَا، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، أَوْ يَسْتَعْجِلْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ: يَقُولُ: دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي، أَوْ مَا أَغْنَيْتُ شَيْئًا.

حضرت زیاد‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: مہمان نوازی کا حق تین دن ہے اس سے زائد صدقہ ہے اور مہمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اس کے بعد ٹھہرارہے یہاں تک کہ گھر والے کو تکلیف میں مبتلا کرے اور میں نے آپ سےسنا‘ آپ نے فرمایا: جو شخص جو بھی دعا مانگتا ہے اس کی دعاقبول ہوتی ہے یا تو اسے وہ (مانگی ہوئی چیز ) فوراً مل جاتی ہے یاجس قدر دعا مانگی ہے اس کی مثل گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں جب تک گناه یا قطع رحم کی دعا نہ کرے یا جلدی نہ کرے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! جلدی کس طرح کرے گا؟ فرمایا : وہ یوں کہے اے میرےرب ! میں نے دعا مانگی پس تو نے قبول نہ کی یا مجھے کچھ فائدہ نہ ہوا۔

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 304

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 305

305- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي كِبَاشٍ، قَالَ: جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا بِالْمَدِينَةِ، فَكَسَدَتْ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَقُولُ: نِعْمَتِ الأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ، قَالَ: فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ.

حضرت ابو رکباش فرماتے ہیں: میں مدینہ طیبہ میں بکریاں لایا جو ایک سال سے کم عمر کی تھیں اور وہ میرے لئے نقصان کا باعث ہو گئیں۔ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس حاضر ہوااور یہ بات بتائی آپ نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے سنا‘ آپ فرماتے تھے : بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بہترین قربانی ہے پس لوگوں نے وہ بکریاں چھین لیں۔

فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ. ← نِعْمَتِ الأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا بِالْمَدِينَةِ، فَكَسَدَتْ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ← أبي كباش ← كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 305

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 306

306- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثنا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثنا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدْ قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِي مَا لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُكَ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ.

حضرت ابو الربیع‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی تھی: ’’اللّٰھم اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت زما اعلنت واسرافی مالا یعلمہ غیرک انت المقدم والموخر الا الہ الا انت‘‘ ’’یااللہ! میرے لئے میری گذشتہ اور آئندہ لغزشیں معاف کر دے ‘میری باطنی و ظاہری لغزشیں نیز میری وہ زیادتی جس کو تیرے سوا کوئی نہیں جانتا‘ معاف کر دے تیرے سوا کوئی معبودنہیں۔‘‘

كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ أَنْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الرَّبِيعِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 306

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 307

307- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلِ، حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثنا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ نَأْتِلٌ أَخُو أَهْلِ الشَّامِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَقُولُ: أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلاَثَةٌ: رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأَتَى اللَّهُ بِهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ لَهُ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، فَقَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنْ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ثُمَّ أُمِرَ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ إِلَى النَّارِ، وَأَتَى اللَّهُ بِرَجُلٍ قَدْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ، وَقَدْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ لَهُ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ فَقَالَ: تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ وَعَلَّمْتُهُ فِيكَ، وَقَرَأْتُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ لِيُقَالَ: فُلاَنٌ عَالِمٌ، وَفُلاَنٌ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ثُمَّ أُمِرَ فَيُسْحَبُ بِهِ عَلَى وَجْهِهِ إِلَى النَّارِ، وَأَتَى بِرَجُلٍ قَدْ أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فِيهَا فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ فَقَالَ: مَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلاَّ أَنْفَقْتُ فِيْهَا، فَقَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: هُوَ جَوَادٌ (1)، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَيُسْحَبُ بِهِ عَلَى وَجْهِهِ إِلَى النَّارِ. _حاشية__________ (1) جاء في الأصل: "أجود" وما أثبته من مصادر التخريج.

حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں جب لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جدا ہوئے تو اہل شام کے بھائی ناتل (بن قیس بن زید شامی) نے کہا ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: قیامت کے دن تین آدمیوں کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک شخص جو شہید ہوا اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ پہچان لے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا تو نے اس سلسلے میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں تیرے راستے میں لڑتے لڑتے شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا ہے تو اس لئے لڑاتھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور یہ بات کہی گئی پھر اللہ تعالیٰ حکم دے گا تو اس کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک اور شخص کو لایا جائے گا جس نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور اس نے قرآن مجید کی قرأت کی اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گاتو وہ پہچان لے گا الله تعالیٰ پوچھے گا تو نے اس میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں نے قرآن مجید سیکھا اور تیرے لئے دوسروں کو سکھایا نیز قرآن مجید کی قرأت کی ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تونے جھوٹ کہا ہے تو نے اس لئے علم حاصل کیا تا کہ کہا جائے کہ فلاں عالم ہے اور فلاں قاری ہے اور یہ بات کہی گئی ۔ پھر اللہ تعالیٰ حکم دے گا تو اس کو اوندھے منہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ایک اور شخص کو لایا جائے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہرقسم کے مال سے عطا کیا اللہ تعالیٰ اس سلسلے میں اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ پہچان لے گا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا تو نےاس میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا یا اللہ! تجھے جس راستے میں خرچ کرنا پسند ہے میں نے اس میں خرچ کیا اور کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ لوگ کہیں یہ سخی ہے اور یہ بات کہی گئی پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے اوندھا کر کے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 307

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter