مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 291
291- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، مَوْلَى جَعْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: إِنَّ فُلاَنَةَ تُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَتَصُومُ النَّهَارَ، وَتُؤْذِي جِيرَانَهَا، سَلِيطَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: هِيَ فِي النَّارِ، وَقِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلاَنَةَ تُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَصَدَّقُ بِالأَثْوَارِ مِنَ الأَقِطِ، لَيْسَ لَهَا شَيْءٌ غَيْرُهِ، وَلاَ تُؤْذِي أَحَدًا، فَقَالَ: هِيَ فِي الْجَنَّةِ.
حضرت ابویحییٰ (حضرت جعدہ کے غلام ) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا‘ فرماتے تھے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ فلاں عورت رات کو نماز پڑھتی اور دن کو روزہ رکھتی ہے لیکن اپنے پڑوسیوں کو زبان درازی کے ذریعے اذیت پہنچاتی ہے۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائے گی اور آپ سے عرض کیا گیا کہ فلاں عورت فرض نماز پڑھتی ہے اور ماہ رمضان کے روزے رکھتی ہے اور پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے‘ اس کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں لیکن وہ کسی کو اذیت نہیں پہنچاتی ۔ آپ نےفرمایا: وہ جنت میں جائے گی۔
قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 291
