Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 291

291- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، مَوْلَى جَعْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: إِنَّ فُلاَنَةَ تُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، وَتَصُومُ النَّهَارَ، وَتُؤْذِي جِيرَانَهَا، سَلِيطَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: هِيَ فِي النَّارِ، وَقِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلاَنَةَ تُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَصَدَّقُ بِالأَثْوَارِ مِنَ الأَقِطِ، لَيْسَ لَهَا شَيْءٌ غَيْرُهِ، وَلاَ تُؤْذِي أَحَدًا، فَقَالَ: هِيَ فِي الْجَنَّةِ.

حضرت ابویحییٰ (حضرت جعدہ کے غلام ) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا‘ فرماتے تھے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ فلاں عورت رات کو نماز پڑھتی اور دن کو روزہ رکھتی ہے لیکن اپنے پڑوسیوں کو زبان درازی کے ذریعے اذیت پہنچاتی ہے۔ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں جائے گی اور آپ سے عرض کیا گیا کہ فلاں عورت فرض نماز پڑھتی ہے اور ماہ رمضان کے روزے رکھتی ہے اور پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے‘ اس کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں لیکن وہ کسی کو اذیت نہیں پہنچاتی ۔ آپ نےفرمایا: وہ جنت میں جائے گی۔

قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 291

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 292

292- قُلتُ لأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمُ الأَعْمَشُ، حَدَّثنا أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فُلاَنَةُ تُصَلِّي بِاللَّيْلِ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ كَمَا حَدَّثنا جَرِيرٌ، فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ.

حضرت ابویحییٰ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا‘ فرماتے ہیں رسول اکرم کی خدمت میں عرض کیا گیا یا رسول الله! فلاں عورت رات کے وقت نماز پڑھتی ہے۔ (مصنف فرماتے ہیں) میں نے حضرت ابو اسامہ کے سامنے یہ حدیث پڑھی جس طرح ہم سے جریر نے بیان کی تھی تو ابو اسامہ نے اسےصحیح قرار دیا اور فرمایا: ہاں!(اسی طرح ہے)۔

قِيلَ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، ← قُلتُ لأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمُ الأَعْمَشُ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 292

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 293

293- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثنا مَعْمَرٌ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: إِذَا صَلَّى (1) أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَتَخَطَّ خَطًّا، ثُمَّ لاَ يَمُرُّ مَا بَيْنَ يَدَيْهِ. _حاشية__________ (1) جا في الأصل: "إذا صلا أحدكم فليصلي" والتصويب من مقتضى القواعد ومصادر التخريج.

حضرت ابن عمرو بن حُریث اپنے باپ سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ادا کرتے ہیں یعنی نبی کریم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک نماز پڑھے تو کسی چیز کے سامنے پڑ ھے جو (گزرنے والوں کے لئے) پرده (آڑ) بنے اگر کوئی چیز نہ پائے تو لکیرکھینچ لے پھر جو بھی اس کے سامنے سے گزرے گا اس کو کوئی ضرر نہ ہوگا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ ← أَبِيهِ ← أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ؛ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 293

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 294

294- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَرْفَعُهُ، قَالَ: إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ.

حضرت سُدّی اپنے والد سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:’’ بے شک وہ (میت) ان (لوگوں) کے جوتوں کی آواز سنتا ہے جب وہ اس سے پیٹھ پھیر کر جاتے ہیں۔

إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ ← أَبِيهِ ← السُّدِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 294

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 295

295- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّ صَلاَتَكُمْ عَلَيَّ زَكَاةٌ لَكُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، قَالَ: فَسُئِلَ عَنِ الْوَسِيلَةِ، أَوْ أَخْبَرَهُمْ بِهَا، قَالَ: هِيَ أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ، وَلاَ يَبْلُغُهَا أَحَدٌ إِلاَّ رَجُلٌ وَاحِدٌ، أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ.

حضرت کعب ‘حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: ”مجھ پر درود بھیجو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لئے زکوة ہے اور اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ کا سوال کرو ۔‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے وسیلہ کے بارے میں پوچھا گیا یا آپ نے خود صحابہ کرام کو بتایا کہ وہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے اور اس تک صرف ایک شخص پہنچے گا‘ مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← کَعْبٍ ← ليث بن أبي سليم ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 295

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 296

296- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ: {وَلاَ الضَّالِّينَ} فَوَافَقَ آمِينُ أَهْلِ الأَرْضِ بِآمِينِ الْمَلاَئِكَةِ أَهْلِ السَّمَاءِ، غَفَرَ اللَّهُ لِلْعَبْدِ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَثَلُ مَنْ لاَ يَقُولُ آمِينَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ غَزَا مَعَ قَوْمٍ فَأَقْرَعُوا، فَخَرَجَتْ سِهَامُهُمْ فَلَمْ يَخْرُجْ سَهْمُهُ، فَقَالَ: مَا لِيَ لاَ يَخْرُجُ سَهْمِي؟ فَقِيلَ: إِنَّكَ لَمْ تَقُلْ آمِينَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَكَانَ الإِمَامُ إِذَا قَالَ: {وَلاَ الضَّالِّينَ} جُهِرَ بِآمِينَ.

حضرت کعب ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ جب امام ولا الضالين کہے تو وہ ( مقتدی) آمین کہے پس جب زمین والوں کاآمین کہنا فرشتوں یعنی آسمان والوں کی آمین کے موافق ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کے گذشتہ گناہ معاف کر دیتا ہے اور جو شخص آمین نہیں کہتا اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے ساتھ مل کر جہاد کرے پس وہ قرعہ اندازی کریں اور اس کے حصے سے پہلے ان کاحصہ نکل آئے اور وہ کہے کیا وجہ ہے میرا حصہ نہیں نکلا ؟ تو کہا جائے گا تو نے آمین نہیں کہی۔‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب امام ولا الضالين کہے تو وہ (مقتدی) بلند آواز سے آمین کہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← کَعْبٍ ← ليث بن أبي سليم ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 296

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 297

297- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَدْعُو يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ، فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ، أَوْ قَالَ: الْعَلاَمَةُ.

حضرت کعب‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم یوں دعا کرتے تھے: ’’اللّٰھم انی اعوذبک من الجوع فانّہ بئس الضجیع واعوذبک من الخیانۃ فانھا بئست البطانۃ ‘‘ (یافرمایا)العلامۃ۔’’ یا اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں یہ بُرا ساتھی ہے اور میں خیانت سے تیری پناه چاہتا ہوں یہ بُرا راز دار ہے یا فرمایا بُری علامت ہے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← کَعْبٍ ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 297

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 298

298- أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثنا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي الْمُجَاهِدِ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُدِلَّةِ (1)، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا بِنَاءُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَمِلاَطُهَا الْمِسْكُ، وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ، وَحَصْبَتُهَا اللُّؤْلُؤُ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ لاَ يَبْأَسُ، وَلاَ يَخْرَقُ ثِيَابُهُ، وَلاَ يَبْلَى شَبَابُهُ. وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: ثَلاَثٌ لاَ يُرَدُّ لَهُمْ دَعْوَةٌ: الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَإِمَامٌ عَادِلٌ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ، وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَاوَاتِ، فَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ بَعْدَ حِينٍ. _حاشية__________ (1) جاء في الأصل هكذا: "أبي الحدام" وإنما هو أبو مدلة، كما في عنوان الترجمة عند المؤلف، وفي جميع مصادر التخريج.

حضرت ابوالمدلہ ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! جنت کس چیز سے بنائی گئی ہے؟ فرمایا: ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہے اور اس پر کستوری کا لیپ کیا گیا ہے (یعنی اس کا گارا کستوری ہے) ‘اس کی مٹی زعفران اور اس کی کنکریاں موتی ہیں جو اس میں داخل ہو گا وہ ناز ونعمت میں ہوگا‘ مایوس نہیں ہوگا‘ اس کے کپڑپھٹیں گے نہ میلے ہوں گے۔

قُلْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِی الْمُدِلَّۃِ ← سَعْدٍ أَبِي الْمُجَاهِدِ الطَّائِيِّ، ← سَعْدَانَ الْجُهَنِيِّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 298

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 299

299- أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثنا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُدَلَّهِ (1)، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَنَا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ كَأَنَّ قُلُوبَنَا فِي الآخِرَةِ، وَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ فَلَقِينَا الأَهْلَ وَالْوَلَدَ ذَهَبَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: لَوْ كُنْتُمْ إِذَا خَرَجْتُمْ مِنْ عِنْدِي تَكُونُونَ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي، لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ بِأَكُفِّهَا، وَلَزَارَتْكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَغْفِرَ لَهُمْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِمَّا خُلِقَ الْخَلْقُ؟ فَقَالَ: مِنَ الْمَاءِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْجَنَّةِ، مَا بِنَائُهَا، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عِيسَى إِلَى آخِرِهِ، سَوَاءً، وَقَالَ: الْمِسْكُ الإِذْخِرُ، وَحَصْبَائُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ، وَقَالَ: وَالإِمَامُ الْمُقْسِطُ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُهُ. _حاشية__________ (1) جاء في الأصل: هكذا "أبي المدار" والصواب ما أثبته، من مصادر الترحمة والتخريج.

رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین (قسم کے) لوگ وہ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی : ۱۔روزه دار جب روزہ افطار کرتا ہے۔۲۔انصاف کرنے والا حکمران۔۳۔مظلوم کی دعا۔اللہ تعالیٰ اس دعا کو بادلوں سے اوپر اٹھاتا ہے اور اس کیلئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مجھے میری عزت کی قسم ! میں تمہاری مددضرور کروں گااگرچہ ایک عرصہ کے بعد ہو۔

قُلْنَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِی الْمُدِلَّۃِ ← أَبِي مُجَاهِدٍ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 299

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 300

300- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: الإِمَامُ الْعَادِلُ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُهُ.

حضرت ابو المدلہّ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہمارےدل آخرت میں ہوتے ہیں اور جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اپنے گھر والوں اور اولاد سے ملتے ہیں تو یہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:اگر تم مجھ سے جدا ہونے کے بعد اسی حالت میں ہو جس طرح میرے پاس ہوتے ہوتوفرشتے اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ تم سے مصافحہ کریں اور تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کریں اور اگر تم سے گناہ سرزد نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کے مرتکب ہوں گے پس ان کو بخش دیا جائے گا۔(حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے بتایئے کہ مخلوق کس سے پیدا کی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا: پانی سے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے جنت کے بارے میں بتایئے کہ وہ کس سے بنائی گئی ہے؟ اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عیسیٰ بن یونس کی حدیث (نمبر۳۰۰ ) کی طرح آخر تک بیان کیا اور فرمایا:مسک سے مراد اذفر (ایک بوٹی کا نام ہے) اس میں موتی اوریاقوت ہوں گے اور فرمایا: انصاف کرنے والےحکمران کی دعوت ردنہیں کی جاتی۔

«الْإِمَامُ الْعَادِلُ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي مُدِلَّةَ. ← أَبِي مُجَاهِدٍ، ← سَعْدَانَ الْجُهَنِيِّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 300

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 301

301- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدَانَ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْمُدِلَّةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: الصَّائِمُ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُهُ.

حضرت ابوالمدلہ ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’عادل حکمران کی دعا رد نہیں ہوتی۔

الصَّائِمُ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُهُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِی الْمُدِلَّۃِ ← أَبِي مُجَاهِدٍ، ← سَعْدَانُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 301

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 302

302- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ.

حضرت ابو المدلہ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی۔‘‘

«أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زِيَادٍ، ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 302

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter