Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 218

218- أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثنا فُضَيْلٌ، وَهُوَ ابْنُ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: ثَلاَثٌ إِذَا خَرَجُوا لَمْ يَنْفَعْ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا: الدَّجَّالُ، وَالدَّابَّةُ، وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا.

حضرت ابوحازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب تین باتیں ظاہر ہوں گی تو جو لوگ اس وقت تک ایمان نہ لائے ہوں گے ان کو ان کا ایمان کوئی فائدہ نہیں دے گا یا انہوں نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی کمائی نہ ہو گی (یعنی نیک عمل نہیں کیا ہو گا)۔ (وہ تین باتیں یہ ہیں:)۱۔دجال ۲۔دابّہ(جانور)۳۔سورج کامغرب سےطلوع ہونا

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُضَيْلٌ، وَهُوَ ابْنُ غَزْوَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Hadith 218

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 219

219- أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثنا أَبُو مُنَيْنٍ، وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: فَتَطَاوَلَ لَهَا النَّاسُ، فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيٌّ؟ فَقِيلَ: إِنَّهُ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَدَعَاهُ، فَبَزَقَ فِي كَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَمْضِيَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ.

حضرت ابو حازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’آج میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ تعالی ٰاور اس کے رسول (صلى الله علیہ وسلم )سے محبت کرتا ہے۔فرماتے ہیں صحابہ کرام گردنیں اٹھا اٹھا کر اس (جھنڈے) کی طرف دیکھنے لگے توآپ نے پوچھا: ”علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے آپ نے ان کو بلایا اور اپنی ہتھیلی میں لعاب مبارک ڈال کر اس (آنکھ) پر لگایا پھر جانے کاحکم دیا تو اللہ تعالیٰ نے اسی دن آپ کو فتح عطا فرمائی۔

فَتَطَاوَلَ لَهَا النَّاسُ، ← لأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مُنَيْنٍ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Hadith 219

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 220

220- قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَمَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم أَهْلَهُ ثَلاَثًا، مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو (مسلسل) تین دن پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھلائی۔

أَبُو هُرَيْرَةَ وَمَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللهِ أَهْلَهُ ثَلاَثًا، مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ.

Hadith 220

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 221

221- أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثنا يَزِيدُ، وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: يَا أَيُّهَا النَّاسُ احْشُدُوا، يَقُولُ اجْتَمِعُوا، قَالَ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَقَرَأَ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} حَتَّى خَتَمَهَا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا، مَا هَذَا إِلاَّ بِخَبَرٍ مِنَ السَّمَاءِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ قُلْتُ لَكُمْ سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، فَإِنَّ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.

حضرت ابو حازم سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! جمع ہو جاؤ۔‘‘فرماتے ہیں پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تم پر قرآن کا تہائی حصہ پڑھتا ہوں پھر آپ نےقل هو الله احد (سورۃ اخلاص)پڑھی اسے مکمل پڑھا اور اس پر اضافہ نہ کیا۔ بعض حضرات نے کہا: رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا میں تم پر تہائی قرآن پڑھوں گا تو آپ نے اس پر اضافہ نہیں کیا ۔ یہ کوئی آسمانی خبر ہے؟ پھر حضور صلى الله علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تم پر قرآن کا ایک تہائی پڑھوں گا تو بے شک قل هو الله احد (سورةاخلاص) قرآن مجید کے تہائی کے برابر ہے (ثواب کے اعتبار سے فضيلت مراد ہے)۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو حَازِمٍ ← يَزِيدُ، وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ الْيَشْكُرِيُّ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← المخزومي

Hadith 221

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 222

222- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنِ الْفُرَاتِ الْقزَّازِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، إِذَا مَاتَ نَبِيٌّ قَامَ نَبِيٌّ مَكَانَهُ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، قَالُوا: فَمَا يَكُونُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: خُلَفَاءُ وَيَكْثُرُوَا، فَأَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ.

حضرت ابو حازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ” بنی اسرائیل میں سیاست انبیاء کرام علیہم السلام کرتے تھے۔ جب ایک نبی کا انتقال ہوتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ آ جاتا اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ کون ہوگا؟۔ آپ نے فرمایا: خلفاء ہوں گے اور وہ بکثرت ہوں گے پس تم ان کا حق ادا کرنا اور اپنے حق ان کیلئے اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الفرات القزاز ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Hadith 222

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 223

223- أَخْبَرَنَا الْمُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثنا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثنا فُرَاتٌ الْقزَّازُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، أَنَّهُ قَالَ: لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، قَالُوا: فَمَا يَكُونُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: يَكُونُ خُلَفَاءُ، بَعْضُهُمْ عَلَى أَثَرِ بَعْضٍ، فَمَنِ اسْتَقَامَ مِنْهُمْ فَفُوا لَهُمْ بَيْعَتَهُمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَقِمْ فَأَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ.

حضرت ابو حازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر کون ہوگا؟فرمایا: ’’ خلفاء ہوں گے ۔ (ان میں سے) بعض (دوسرے) بعض کے نقش ِقدم پر چلیں گے ۔ پس جو ان میں سےصحیح راستے پر چلیں ان کی بیعت پوری کرنا اور جو راہِ راست پرنہ چلیں ان کے حقوق ادا کرنا اور اپنے حق کے بارے میں اپنے رب سے سوال کرنا۔‘‘

فَمَا يَكُونُ ← لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، ← اِسْرَائِیْلُ ← المصعب بن المقدام

Hadith 223

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 224

224- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا سَيَّارٌ وَهُوَ أَبُو الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

حضرت ابو حازم‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ جس نے حج کیا اور بے حیائی کی بات نہ کی اور نافرمانی بھی نہ کی تو وہ اس طرح واپس آیا جس طرح اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا۔‘‘

مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا حَازِمٍ، ← سَيَّارٌ وَهُوَ أَبُو الْحَكَمِ، ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Hadith 224

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 225

225- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرِثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلاًّ فَإِلَيْنَا.

حضرت ابو حازم ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ’’جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کیلئے ہے اور جس نے (بےسہارا) اولا د چھوڑی تو وہ ہمارے زمہ ہے۔

مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا حَازِمٍ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Hadith 225

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 226

226- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؛ أَنَّهُ نَهَى عَنِ التَّلَقِّي، وَالنَّجَشِ، وَالتَّصْرِيَةِ، وَأَنْ لاَ تَسَأَلَ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا، وَأَنْ لاَ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ.

حضرت ابو حازم ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم نے تاجروں سے آگے جا کر ملنےدھوکہ دہی اور تینوں میں دودھ روکنے سے منع فرمایا اور یہ کہ کوئی عورت اپنی (مسلمان)بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے اور کوئی شخص اپنے بھائی کی قیمت پرقیمت نہ لگائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ نَهَى ← أَبَا حَازِمٍ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Hadith 226

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَلْمَانَ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 227

227- أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، قَالَ: زَعَمَ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، وَهُوَ أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَيْسَ عَلَى هَذِهِ الأُمَّةِ عَذَابٌ، إِنَّمَا عَذَابُهَا بِأَيْدِيهِمْ، فَقِيلَ: وَكَيْفَ يَكُونَ عَذَابُهَا بِأَيْدِيهِمْ؟، فَقَالَ: أَلَيْسَ صَفِّينُ كَانَ عَذَابًا؟ أَلَيْسَ النَّهْرَوَانُ كَانَ عَذَابًا؟ أَلَيْسَ الْجَمَلُ كَانَ عَذَابًا؟ قُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ: مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ سَعْدٍ؟ قَالَ: يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ.

حضرت ابوحازم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ‘وہ فرماتے ہیں ’’اس امت پر عذاب نہیں آئے گا ان کا عذاب خود ان کے اپنے ہاتھوں سے ہوگا۔‘‘عرض کیا گیا: (یا رسول اللہ!) اپنے ہاتھوں سے عذاب کیسے ہوگا؟ فرمایا: کیا جنگِ صفین عذاب نہ تھا؟کیا جنگِ نہروان عذاب نہ تھا؟ کیا جنگِ جمل عذاب نہ تھا؟ (آپس میں لڑ نا مراد ہے)۔(مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں) میں نے ابوداؤد (راوی) سے پوچھا یہ روایت سعد(بن طارق) سے کس نے روایت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایایحیٰی بن ابی زائدہ نے۔

أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ

Hadith 227

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter