Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 185

185- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم بِلَحْمٍ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَنَاوَلُوهُ الذِّرَاعَ وَكَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَيْهِ فَنَهَشَ نَهْشَةً، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عُمَارَةَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، فِي ذِكْرِ عِيسَى: وَلَمْ يَذْكُرْ ذَنْبًا، وَقَالَ: مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ كَمَا بَيْنَ بُصْرَى وَمَكَّةَ، أَوْ مَكَّةَ وَهَجَرَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا: رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور آپ کے پاس کچھ صحابہ کرام بھی موجود تھے۔ انہوں نے آپ کو اس کا بازو پیش کیا اور آپ کو بکری (کے گوشت) میں سے یہ حصہ زیادہ پسند تھا۔ آپ نے اس کو اچھی طرح( دانتوں کے ساتھ ) نوچا اس کے بعد حضرت عمارہ کی ( سابق) روایت کی طرح ہے اور اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں کسی لغزش کا ذکر نہیں کیا اور یہ بھی فرمایا کہ دروازے کے دو کواڑوں کے درمیان بُصٰری اور مکہ کے درمیان یا(فرمایا) مکہ مکرمہ اور مقام ھجر کے درمیان جتنا فاصلہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبِي حَيَّانَ، ← جَرِيرٌ

Hadith 185

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 186

186- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ تَشِمُ، قَالَ: أُنْشِدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم؟ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَا سَمِعْتُهُ قَالَ: فَمَا سَمِعْتَهُ؟ فَقُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لاَ تَشِمْنَ وَلاَ تَسْتَوْشِمْنَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ‘وہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو جسم کو گودتی تھی انہوں نے فرمایا: میں تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کیا تم میں سے کسی ایک نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے (اس کے بارے میں) سنا ہے؟حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں کھڑا ہو گیا اور کہا: اے امیر المومنین !’’ میں نے سنا ہے ‘‘۔ انہوں نے پوچھا کیا سنا ہے؟ میں نے عرض کیا : میں نے سنا ‘آپ نے فرمایا کہ ہر گز نہ گودو او رنہ گودواؤ۔

لَا تَشِمْنَ وَلَا تَسْتَوْشِمْنَ ← فَقُلْتُ: ← فَمَا ← أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ← أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أُنْشِدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ ← أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ تَشِمُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Hadith 186

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 187

187- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثنا أَبُو حَيَّانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم خَطِيبًا، فَذَكَرَ الْغُلُولَ، فَعَظَّمَ أَمْرَهُ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ بَلَّغْتُكَ، لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لاَ أُلْفِيَنَّ أحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ: أَغِثْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولُ: لاَ أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمانے لگے۔ آپ نے خیانت کا ذکر کر کے اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا۔فرمایا: اے لوگو! میں تم میں سے کسی ایک کو قیامت کے دن ہرگز اس طرح نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ بلبلا رہا ہو اور وہ کہے: یا رسول اللہ ! میری مدد کیجئے اور میں کہوں: میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ میں نے تمہیں (دین) پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی ایک کو ہرگز یوں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری منمنا رہی ہو اور وہ کہے یا رسول اللہ! میری مدد کیجئے اور میں کہوں: اللہ تعالیٰ کی طرف سے میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہیں (دین) پہنچا دیا تھا۔ قیامت کے دن میں تم میں سے کسی ایک کو ہر گز یوں نہ پاؤں کہ وہ یوں آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو اور وہ کہے:یارسول اللہ! میری مددکیجئے اور میں کہوں کہ میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہارے پاس (دین) پہنچا دیا اور میں تم میں سے کسی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ کیا قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر کوئی نفس چیخ رہا ہو‘ وہ کہے :یارسول الله!میری مددکیجیے تو میں کہوں میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہارے پاس (اللہ تعالیٰ کا دین) پہنچا دیا۔میں تم میں سے کسی ایک کو کیوں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے‘ اس کی گردن پر زمین کے ٹکڑے ہوں اور وہ ان کے نیچے جھول رہا ہو وہ کہے یا رسول اللہ! میری مدد کیجئے تو میں کہوں میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تمہیں (پیغام ِخداوندی ) پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی ایک کو یوں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر روپیہ پیسہ ہو وہ کہے یا رسول اللہ! میری مددکیجیے تو میں کہوں میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی چیز کامالک نہیں ہوں میں نے تمہیں (دین) پہنچا دیا۔

الْغُلُولَ، فَعَظَّمَ أَمْرَهُ، ← قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ خَطِيبًا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أبو حيان يحيى بن سعيد التيمي ← جَرِيرٌ

Hadith 187

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 188

188- أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثنا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فِينَا خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ جَرِيرٍ إِلَى آخِرِهِ سَوَاءً.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں رسولِ اکرم صلى الله علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد خیانت کا ذکر فرمایا‘ اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا اور اس کے معاملے کو بہت بڑا (جرم) قرار دیا۔ پھر فرمایا: اے لوگو! میں تم میں سے کسی ایک کو ہر گز نہ پاؤں..... اس کے بعد گزشتہ حدیث کی مثل بیان فرمایا۔

مِثْلَ حَدِيثِ جَرِيرٍ إِلَى آخِرِهِ سَوَاءً. ← يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ، ← الغلول فعظمه وعظم أمره ثم ← قَامَ رَسُولُ اللهِ فِينَا خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Hadith 188

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 189

189- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهَا رُغَاءٌ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَى آخِرِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَهُ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میں تم سے کسی ایک کو ہرگز اس طرح نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ بلبلا رہا ہو۔ اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح ذکر کیا اس سے پہلے کے کلمات مذکور نہیں۔

مِثْلَهُ إِلَى آخِرِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَهُ. ← لاَ أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهَا رُغَاءٌ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Hadith 189

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 190

190- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ، وَحَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ وَرَاءَهُ الْيَهُودِيُّ: يَا مُسْلِمُ هَذَا وَرَائِي يَهُودِيٌّ فَاقْتُلُوهُ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ تم یہودیوں سے لڑو گے یہاں تک کہ وہ پتھر جس کے پیچھے یہودی (چھپا ہوا) ہو گا‘ کہے گا اے مسلمان ! یہ میرے پیچھے یہودی ہے اس کوقتل کرو۔

الْحَجَرُ وَرَاءَهُ الْيَهُودِيُّ: يَا مُسْلِمُ هَذَا وَرَائِي يَهُودِيٌّ فَاقْتُلُوهُ. ← لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ، وَحَتَّى ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Hadith 190

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 191

191- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً يَدْعُو بِهَا فَيُسْتَجَابُ لَهُ، فَيُؤْتَاهَا، وَإِنِّي خَبَّأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ہر نبی کی ایک خاص مقبول دعا ہوتی ہے‘ وہ نبی یہ دعا مانگتا ہے تو اس کو قبول کیا جاتا ہے اور عطا کیا جاتا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے محفوظ کر رکھا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Hadith 191

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 192

192- أَخْبَرَنَا الْمُلاَئِيُّ، حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا وَهُمْ مِنْ فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ}، قَالَ: هِيَ: لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، {وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وَجُوهُهُمْ فِي النَّارِ} وَهِيَ: الشِّرْكُ.

حضرت ابوزرعہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا‘وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے آیت کریمہ پڑھی: ’’من جاء بالحسنۃ قلہ خیر منھا وھم من فزع یومئذ اٰمنون‘‘’’جو شخص نیک کام کرے اس کیلئے اس سے بہتر (اجر) ہے اور وہ لوگ اس دن کے خوف سے امن میں ہوں گے‘‘ اس (نیکی) سے مراد لا اله الا الله (محمد رسول الله) پڑھنا ہے اور ارشاد خداوند ہے: ومن جاء بالسيئة فكبت و جوههم في النار”اور جو لوگ گناہ کے مرتکب ہوں ان کے چہروں کو آگ میں روند ڈالا جائے گا۔‘‘اس (گناہ) سے مراد’’ شرک‘‘ ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا زُرْعَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← الْمُلَائِيُّ

Hadith 192

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 193

193- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا بیماری کا متعدی ہونا‘ پرندوں سے فال نکالنا‘ الو کا گھر کی چھت پر بیٹھنا اورصفر کوئی چیز نہیں۔

لَا عَدْوَی وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی

Hadith 193

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter