Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 173

173- أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، نَحْوَهُ.

ایک اور سند سے بھی ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ

Hadith 173

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 174

174- قُلْتُ لأَبِيَ أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم لِبِلاَلٍ عِنْدَ صَلاَةِ الْفَجْرِ: يَا بِلاَلُ، حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فِي الإِسْلاَمِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: مَا عَمَلٌ عَمِلْتُهُ أَرْجَى عِنْدِي، إِلاَّ إِنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ، أَوْ نَهَارٍ إِلاَّ صَلَّيْتُ لِرَبِّي مَا قُدِّرَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ. فَأَقَرَّ بِهِ أَبُو أُسَامَةَ، وَقَالَ: نَعَمْ.

(مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں) میں نے حضرت ابواسامہ سے پوچھا کیا آپ سےابوحیان نے بواسطہ ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کی کہ انہوں نے فرمایا:رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے نماز فجر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اے بلال! مجھے بتاؤ کہ تمہیں اسلام کی خاطر کئے گئے اعمال میں سے کس کی امید زیادہ ہے؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے سامنے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔انہوں نے عرض کیا: مجھے کسی عمل کی زیادہ امید نہیں البتہ یہ کہ میں نے رات یا دن کی جس گھڑی میں وضو کیا جس قدر الله تعالیٰ نے میرے لئے مقدر کیا میں نے نماز پڑھی۔ ابواسامہ نے اس بات کا اقرار کیا اور کہا: ہاں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ: أَحَدَّثَكُمْ أَبُو حَيَّانَ،

Hadith 174

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 175

175- أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم كَفَافًا.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے یوں دعا مانگی:اللهم اجعل رزق آل محمد كفافاً.اے اللہ! محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کی آل کا رزق پورا پورا عطا فرما۔

«اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ كَفَافًا» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ

Hadith 175

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 176

176- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا، فَذَلِكَ حِينَ {لاَ يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا}.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جب یہ صورت حال ہو گی تو زمین پر جو کوئی بھی ہے‘ ایمان لے آئے گا۔ اور یہ وقت وہ ہوگا جس کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے۔لاينفع نفسا ایمانها لم تكن امنت من قبل او كسبت فی ايمانهاخيرا۔” (اس وقت ) کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا یا اس نے اپنے ایمان کے ذریعے نیکی نہیں کمائی ۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Hadith 176

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 177

177- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى صُورَةِ أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لاَ يَبُولُونَ وَلاَ يَتَغَوَّطُونَ وَلاَ يَتْفُلُونَ وَلاَ يَمْتَخِطُونَ، أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمُ الأَلُوَّةُ، وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ، وَأَخَلاَقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سُتُّونَ ذِرَاعًا.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میری امت کی پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی وہ چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے پھر ان کے بعد والے اس ستارے کی طرح ہوں گے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہے۔ نہ ان کو پیشاب کی ضرورت ہو گی نہ قضائے حاجت کی ۔ نہ تھوکیں گے اور نہ ناک سے رینٹھ نکالیں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی۔ ان کا پسینہ کستوری ہو گی اور ان کی انگیٹھیوں میں اگر (اگر بتی ) کی لکڑی ( جلتی) ہو گی ان کی بیویاں حُوریں ہوں گی اور ان کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے اور اپنے باپ آدم علیہ السلام کی صورت پر ساٹھ (شرعی ) گز ہوں گے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Hadith 177

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 178

178- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: الْهِرُّ سَبُعٌ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا ”بلی درندہ ہے۔“

الْهِرُّ سَبُعٌ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عيسى بن المسيب ← وَكِيعٌ،

Hadith 178

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 179

179- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَالْمُلاَئِيُّ، قَالاَ، حَدَّثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَكْرَهُ الشَّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ.

حضرت ابوزرعہ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں ”رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم شکال گھوڑےکو نا پسند کرتے تھے ۔‘‘

كَانَ رَسُولُ اللهِ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← سلم بن عبد الرحمن ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، وَالْمُلَائِيُّ،

Hadith 179

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 180

180- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكْتَنَّوْا بِكُنْيَتِي. قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَكْرَهُ الإِشْكَالَ مِنَ الْخَيْلِ. قَالَ شُعْبَةُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ: هَذَا لَيْسَ بِالصُّهْبَانِيِّ، وَكِلاَهُمَا مِنَ النَّخَعِ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ انہوں نے رسولِ اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا: ” میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔‘‘وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم شکال گھوڑے کو نا پسند فرماتے تھے۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں یہ عبداللہ بن یزیدصھبانی نہیں ہیں اور دونوں ( یزید بن عبداللہ )نخع (مقام) سےہیں۔

شُعْبَةُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ: هَذَا لَيْسَ بِالصُّهْبَانِيِّ، وَكِلاَهُمَا مِنَ النَّخَعِ. ← وَكَانَ رَسُولُ اللهِ يَكْرَهُ الإِشْكَالَ مِنَ الْخَيْلِ. ← سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكْتَنَّوْا بِكُنْيَتِي. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا زُرْعَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Hadith 180

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 181

181- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثنا شَرِيكٌ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلاَ يُكَنِّي بِكُنْيَتِي، وَمَنِ اكْتَنَى بِكُنْيَتِي فَلاَ يَتَسَمَّ بِاسْمِي.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ جو شخص میرے نام پر نام رکھے وہ میری کنیت پر کنیت نہ رکھے اور جو میری کنیت پر کنیت رکھے وہ میرے نام پر نام نہ رکھے۔

مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلاَ يُكَنِّي بِكُنْيَتِي، وَمَنِ اكْتَنَى بِكُنْيَتِي فَلاَ يَتَسَمَّ بِاسْمِي. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ، ← شَرِيکٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Hadith 181

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 182

182- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِي، إِيمَانَا بِي وَتَصْدِيقًا بِرَسُولِي، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ إِنْ رَجَعْتُهُ أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا مِنْ عَبْدٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللهِ كَلْمًا، إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ، وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلاَفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَكِنْ لاَ أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلُهُمْ، وَلاَ يَجِدُونَ سَعَةً، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ، فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیلئے نکلے اس حال میں کہ وہ مجھ پرایمان رکھتا ہو اور میرے رسولوں کی تصدیق کرتا ہو تو میں اس کے جنت میں جانے کی ضمانت دیتا ہوں یا اس کو اجر اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں گا۔“آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلى الله علیہ وسلم ) کی جان ہے جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخم لگتا ہےوہ قیامت کے دن یوں آئے گا کہ اس کا رنگ خون کا رنگ اور اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں اس بات کو مسلمانوں پر باعثِ مشقت نہ سمجھتا تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جانے والے کسی بھی لشکر سےپیچھے نہ رہتا لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ میں ان (سب) کو سوار کراؤں اور نہ خود وہ گنجائش پاتے ہیں اور ان کا مجھ سے پیچھے رہ جانا ان کیلئےباعثِ مشقت ہے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے میں چاہتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑوں اور شہید کیا جاؤں پھر لڑوں اور شہید کیا جاؤں‘ پھر لڑوں اور شہید کیا جاؤں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Hadith 182

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 183

183- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا، وَتَجِدُونَ خَيْرَ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ كَرَاهِيَةً، وَتَجِدُونَ شَرَّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ تم لوگوں کو (معدنیات کی) کانوں کی طرح پاؤ گے پس ان میں سے جوجاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب کہ دین کی سمجھ اختیار کریں( اسلام قبول کریں اور دین کے ساتھ وابستہ رہیں )اس معاملے میں تم سب سے بہتر لوگوں کو ان ( کفار ) سے سخت نفرت کرنے والا پاؤ گے اور سب سےبُرا اس شخص کو پاؤ گے جو دو چہروں والا ہے (یعنی منافق ہے ) جو اس کے پاس اور چہرے سے اور اُس کے پاس اور چہرے کے ساتھ آتا ہے ۔“

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ، ← جَرِيرٌ

Hadith 183

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 184

184- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَضَعْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَصْعَةً مِنْ ثَرِيدٍ، فَنَاوَلَ الذِّرَاعَ، وَكَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَنَهَشَ نَهْشَةً، فَقَالَ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّ أَصْحَابَهُ لاَ يَسْأَلُوهُ، قَالَ: أَلاَ تَقُولُونَ كَيْفَهْ؟ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَهْ؟ قَالَ: يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيُنْفِذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُوا الشَّمْسُ مِنْ رُؤُوسِهِمْ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِمْ حَرْقًا، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ دُنُوُّهَا مِنْهُمْ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ مِنَ الضَّجَرِ وَالْجَزَعِ مِمَّا هُمْ فِيهِ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ آدَمُ: إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ كَانَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَعَصَيْتُهُ، وَأَطَعْتُ الشَّيْطَانَ، نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ، فَعَصَيْتُهُ فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، فَانْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ أَنْتَ نَبِيُّ اللهِ، وَأَوَّلُ رُسُلِ اللهِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ نُوحٌ: إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنَّهُ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ، فَدَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي فَأُهْلِكُوا، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولونَ: يَا إِبْرَاهِيمُ أَنْتَ خَلِيلُ اللهِ، قَدْ سَمِعَ بِخُلَّتِكُمَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ وَأَهْلُ الأَرْضِ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟. فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَذَكَرَ الْكَوَاكِبَ، قَوْلَهُ: إِنَّهُ رَبِّي، وَقَوْلَهُ لآلِهَتِهِمْ: هَذَا كَبِيرُهُمْ، وَقَوْلَهُ: إِنِّي سَقِيمٌ، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِّ، انْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ حَتَّى يَأْتُوا مُوسَى، فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى أَنْتَ نَبَيُّ اللهِ، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالاَتِهِ، وَكَلَّمَكَ تَكْلِيمَا، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَقَالَ مُوسَى: إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِنِّي قَتَلْتُ نَفْسَا لَمْ أُؤْمَرْ بِهَا، فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِّ، انْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ حَتَّى يَأْتُوا عِيسَى، فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى أَنْتَ نَبِيُّ اللهِ وَكَلِمَتُهُ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلاَ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ عِيسَى: إِنَّ رَبِّي غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، قَالَ عُمَارَةُ: وَلاَ أَعْلَمُ ذَكَرَ ذَنْبًا، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِّ، انْطَلِقُوا إِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ فَيَأْتُونَ فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، قَالَ: فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي فَيُقِيمُنِي رَبُّ الْعَالَمِينَ مَقَامًا لَمْ يَقُمْهُ أَحَدٌ قَبْلِي، فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ: اشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ: فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: أَدْخِلْ مَنْ لاَ حِسَابَ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِكَ الْبَابَ الأَيْمَنَ وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِي الأَبْوَابِ الأُخَرِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا بَيْنَ الْبَابِ إِلَى الْبَابِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ أَوْ مَكَّةَ وَبُصْرَى. قَالَ: لاَ أَدْرِي أَيَّهُمَا قَالَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم کے سامنے ثرید رکھا گیا ۔ آپ نے ( بکری کا) بازو پکڑا ۔ اور رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کو بکری کا یہ حصہ زیادہ پسند تھا۔ آپ نے اس کو دانتوں سے اچھی طرح نو چا اور فرمایا: میں قیامت کے دن (تمام) اولادِ آدم کا سردار ہوں گا۔ جب آپ نے دیکھا کہ آپ کے صحابہ آپ سے سوال نہیں کر رہے تو فرمایا: کیا تم نہیں پوچھتے یہ کیسے ہو گا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کیسے ہو گا؟ آپ نے فرمایا لوگ تمام جہانوں کے رب کے سامنے کھڑے ہوں گے‘ بلانے والا ان کو سنائے گا اور نگاہ ان کو دیکھے گی اور سورج ان کے سروں کے قریب ہو گا ان پر اس کی گرمی سخت ہو گی اور ان پر اس کا قریب ہونا باعث مشقت ہو گا۔فرمایا: وہ اس مشقت کی وجہ سے جس میں مبتلا ہوں گے‘ روتے پیٹتے حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے آدم! آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں اللہ تعالیٰ نےآپ کو اپنے دست ِقدرت سے پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ اپنے رب کے ہاں ہماری سفارش کیجئے! آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس تکلیف میں ہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے: آج میرے رب نے وہ غضب فرمایا کہ اس سے پہلے ایسا غضب نہیں فرمایا اور نہ اس کے بعد اس کی مثل غضب فرماۓ گا اس نے مجھے ایک بات کا حکم دیا تھا تو میں نے ( بظاہر) اس کی حکم عدولی کی اور ( بظاہر ) شیطان کے پیچھے چلا۔اس ر نے مجھے درخت کے قریب جانے سے منع کیا تو میں نے حکم عدولی کی تو مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جہنم میں ڈال دے ۔تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ مجھے اپنی فکر ہے مجھے اپنی فکر ہے۔ پس وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے نوح! آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور اللہ تعالیٰ کے سب سے پہلے رسول ہیں‘ اپنے رب کے ہاں ہماری سفارش کیجئے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس پریشانی میں ہیں؟حضرت نوح علیہ السلام فرمائیں گےبے شک میرے رب نے آج وہ غضب فرمایا جس کی مثل اس سے پہلے غضب نہیں فرمایا اور اس کےبعد بھی ہرگز ایسا غضب نہیں فرمائے گا اور میرے پاس ایک (خصوصی) دعا تھی جو میں نےاپنی قوم کے خلاف کی اور وہ ہلاک ہو گئے اور مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے آگ میں ڈال دے۔تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ ! مجھے اپنے نفس کی فکر ہے‘ مجھے اپنے نفس کی فکر ہے۔ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا پس وہ چلیں گے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اورکہیں گے اے ابراہیم ! آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں تمام آسمانوں والے اور تمام زمین والے آپ کےخلیل ہونے کے بارے میں سُن چکے ہیں۔ اپنے رب کے ہاں ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس قدر پریشانی میں ہیں؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے آج میرے رب نے وہ غضب فرمایا جس کی مثل اس سے پہلے نہیں فرمایا اور اس کے بعد بھی ایسا غضب ہر گز نہیں فرمائے گا اور انہوں نے ستاروں کا ذکر کیا کہ یہ میرارب ہے؟ اور ان کے معبودوں کے بارے میں کہ یہ ان سب سے بڑا ہے؟ نیز فرمایا: میں بیمار ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے آگ میں ڈالے تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ۔ مجھے اپنی فکر ہے‘ مجھے اپنی فکر ہے۔(رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:) وہ چلیں گے حتی ٰکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اورکہیں گے اے موسیٰ ! آپ اللہ کے نبی ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغامات (رسالت)کے ساتھ چن لیا اور آپ سے (بلاواسطہ ) گفتگو کی ۔ اپنے رب کے ہاں ہماری سفارش کیجئےکیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس پریشانی میں مبتلا ہیں؟ سےپہلےکبھی نہیں فرمایا اور اس کے بعد بھی ہرگز ایسا غضب نہیں فرمائے گا۔ میں نے ایک نفس کوقتل کیا جب کہ مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالی ٰمجھے آگ میں ڈال د ے۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ۔ مجھے اپنی ذات کی فکر ہے‘ مجھے اپنی ذات کی فکر ہے۔نبی کریم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ وہاں سے چل کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اورکہیں گے اے عیسیٰ ! آپ اللہ کے نبی‘ اس کے کلمہ اور اس کی روح ہیں اپنے رب کے ہاں ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس قدر تکلیف میں ہیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے میرے رب نے آج وہ غضب فرمایا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں فرمایا اور نہ اس کے بعد کبھی ایسا غضب فرمائے گا۔حضرت عمار راوی فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے کسی لغزش کا ذکر کیا ہو۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے آگ میں ڈال دے‘ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ مجھے اپنی جان کی فکر ہے‘ مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ چل کر میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد! آپ اللہ تعالیٰ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ اللہ تعالی ٰنے آپ کے سبب آپ کے اگلوں اورپچھلوں کے گناہ بخش دیئے آپ اپنے رب کے ہاں ہماری شفاعت کر یں۔آپ صلى الله علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں چل کر عرش کے نیچے آؤں گا اور اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ مجھے ایسے مقام پر کھڑا کرے گا کہ مجھ سے پہلے کسی کو کھڑا نہیں کیا۔ اللہ تعالی فرمائے گا: اے محمد! شفاعت کیجئے ! قبول کی جائے گی اور مانگیں عطا کیا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب! میری امت کو بخش دے‘میری امت کو بخش دے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے فرمائے گا اپنی امت میں سے بے حساب لوگوں کو دائیں دروازے سے داخل کر دیں اور دوسرے دروازوں میں وہ دوسروں کے ساتھ شریک ہوں گے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کی جان ہے۔ ایک دروازے سے دوسرےدروازے تک مکہ مکرمہ اور خیبر کے درمیان تک یا مکہ اور بُصری کے درمیان تک کا فاصلہ ہو گا۔راوی فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات فرمائی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Hadith 184

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter