مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 60
60- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم النَّاسَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ، حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، وَرَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يُعْرِضُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمَّا قُمْتُمْ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ.
حضرت محمد بن زیاد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوۓ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ ‘‘ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال ؟ حتی کہ اس نے تین بار سوال کیا اور رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم اس سے منہ پھیرتے رہے پھر فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو واجب ہو جاتا ہے‘ اور اگر واجب ہو جاتا توتُم اُس کو ادا نہ کر سکتے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں (یعنی جب تک بیان نہ کروں مجھ سے سوال نہ کرو) بے شک تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ا ہوۓ کہ وہ اپنے انبیاء کرام سے سوال کرتے پھر ان سے اختلاف کرتے (یعنی عمل نہ کرتے ) پس میں تمہیں جس بات کا حکم دوں جس قدر ممکن ہو اس پر عمل کرو اور میں جس بات سے تمہیں روک دوں اس سے بچو۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← خَطَبَ رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← النَّضْرُ
Hadith 60
