Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 60

60- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم النَّاسَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ، حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، وَرَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يُعْرِضُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمَّا قُمْتُمْ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ.

حضرت محمد بن زیاد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ انہوں نے فرمایا رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوۓ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے۔ ‘‘ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال ؟ حتی کہ اس نے تین بار سوال کیا اور رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم اس سے منہ پھیرتے رہے پھر فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو واجب ہو جاتا ہے‘ اور اگر واجب ہو جاتا توتُم اُس کو ادا نہ کر سکتے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں (یعنی جب تک بیان نہ کروں مجھ سے سوال نہ کرو) بے شک تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ا ہوۓ کہ وہ اپنے انبیاء کرام سے سوال کرتے پھر ان سے اختلاف کرتے (یعنی عمل نہ کرتے ) پس میں تمہیں جس بات کا حکم دوں جس قدر ممکن ہو اس پر عمل کرو اور میں جس بات سے تمہیں روک دوں اس سے بچو۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← خَطَبَ رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← النَّضْرُ

Hadith 60

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 61

61- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}، قَالَ: زَعَمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ، مَا تَقْطَعُهَا.

ارشادِخداوندی ہے:’’وظل ممدود‘‘اور پھیلاہوا سایہ۔حضرت قتادہ فرماتے ہیں: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: بےشک جنت میں ایک درخت ہے‘ ایک سوار اس کے سائے میں سوسال چلے گا لیکن طے نہیں ادا کر سکے گا۔

زَعَمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ← قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Hadith 61

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 62

62- قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَؤُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}.

حضرت معمر فرماتے ہیں مجھے حضرت محمد بن زیاد نے خبر دی‘ انہوں نے حضرت ابو ہریره رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا‘ انہوں نے حضور علیہ السلام سے روایت کیا ہے پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اور اگر چاہو تو پڑھو: وظل ’’ممدود‘‘۔

أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَؤُوا إِنْ شِئْتُمْ: {وَظِلٍّ مَمْدُودٍ}. ← النَّبِيِّ ثُمَّ ← أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُهُ ← مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّهُ

Hadith 62

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 63

63- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً، فَإِنْ رَدَّهَا فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ. ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لاَ سَمْرَاءَ، يَقُولُ: لَيْسَ بُرّ.

حضرت محمد بن زیاد فرماتے ہیں انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا‘ وہ فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسے جانور کو خریدا جس کا دودھ تھنوں میں روکا گیا تھا (تا کہ خریدار کو دھوکا دیا جائے) تو اگر وہ (خریدار) اس (جانور) کو واپس کرنا چاہے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجوریں بھی ہے۔ اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: گندم نہ ہو۔ سمراء کا لفظ استعمال کیا (یعنی گندم)۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Hadith 63

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 64

64- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.

حضرت محمد بن زیاد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: جانور کا زخم معاف ہے۔ کنویں( میں گر کر مر جانے ) کو معاف کر دیا گیا اور کسی کان میں گر کر مر گیا تو اس کا تاوان بھی نہیں ہے نیز مدفون خزانے میں پانچواں حصہ ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Hadith 64

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 65

65- أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، أَكَلَ، وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ: كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ.

حضرت محمد بن زیاد فرماتے ہیں‘ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے پاس جب گھر کے باہر سے کھانا آتا تو آپ (اس کے بارے )میں پوچھتے تھے اگر کہا جاتا کہ ہد یہ ہے تو آپ تناول فرماتے اور اگر کہا جا تا کہ صدقہ ہے تو آپ فرماتے : تم کھاؤ اور آپ خود تناول نہ فرماتے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ

Hadith 65

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 66

66- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: [أ] (1) مَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، وَالإِمَامُ سَاجِدٌ قَبْلَ الإِمَامِ، أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ، أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ _حاشية__________ (1) "همزة، ليس في المخطوطة، زدته من مصادر التخريج".

حضرت محمد بن زیاد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے میں آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے نہیں ڈرتا جب وہ امام سے پہلےسجدے سے سر اٹھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر کی طرح یا اس کی صورت کو گدھے کی صورت کی طرح کر دے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Hadith 66

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 67

67- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً، إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ: يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ.

ایک اور سند کے ساتھ بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں البتہ اس میں (یجعل الله راسه کی جگہ ) يحول الله راسه (اللہ تعالیٰ اس کے سر کو بدل دے) کے الفاظ ہیں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Hadith 67

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 68

68- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ فِي أُمَّتِهِ، مُسْتَجَابٌ لَهُ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَدَّخِرَ دَعْوَتِي، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت محمد بن زیاد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ہر نبی کیلئے ان کی امت کے بارے میں ایک (خاص) مقبول دعا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے مؤخر کروں ۔“

لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ فِي أُمَّتِهِ، مُسْتَجَابٌ لَهُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Hadith 68

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 69

69- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.

ایک اور سند کے ساتھ بھی اس کی مثل مروی ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Hadith 69

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 70

70- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَعْمِلُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا رَأَى رَجُلاً يَجُرُّ إِزَارَهُ أَنْ يَضْرِبَ بِرِجْلِهِ الأَرْضَ، [ثُمَّ] (1) يَقُولُ: قَدْ جَاءَ الأَمْرُ، ثُمَّ يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا.

حضرت محمد بن زیادفرماتے ہیں مروان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ طیبہ کا حاکم بنایا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی شخص کو دیکھتے کہ وہ اپنی ازار کو گھسیٹتا ہے یا اپنے پاؤں کو زمین پر (زور سے) مارتا ہے تو فرماتے حکم آ گیا پھر فرماتے حضرت ابوالقاسم (صلى الله علیہ وسلم) نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا جو تکبر کے طور پر اپنی ازار ( تہبند ) کو گھسیٹتا چلے‘‘

أَبُو الْقَاسِمِ: لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا. ← قَدْ جَاءَ الأَمْرُ، ثُمَّ ← فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا رَأَى رَجُلاً يَجُرُّ إِزَارَهُ أَنْ يَضْرِبَ بِرِجْلِهِ الأَرْضَ، ← كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَعْمِلُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Hadith 70

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 71

71- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَعْمِلُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً. _حاشية__________ (1) ما بين الحاجزين من الحلية، أضفته لما يقتضيه السياق.

حضرت محمد بن زیاد فرماتے ہیں مروان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ طیبہ پر حاکم مقررکیا تھا ۔ اس کے بعد حسب ِحدیث ِسابق ہے۔

كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَعْمِلُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Hadith 71

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter