Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 85

85- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: لَوْ أَنَّ الأَنْصَارَ سَلَكُوا وَادِيًا، أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ، وَلَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَءًا مِنَ الأَنْصَارِ. ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا ظَلَمَ، لَقَدْ آوَوْهُ وَنَصَرُوهُ.

حضرت محمد (بن زیاد ) فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر انصاری کسی وادی میں یا (فرمایا) گھاٹی میں چلیں اور لوگ دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار والی وادی میں چلوں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا۔‘‘اس کے بعد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ نے(یہ فرما کر) کوئی زیادتی نہیں کی انہوں (انصار) نے آپ کو ٹھکانہ دیا اور آپ کی مدد کی (یعنی اس قول سے مہاجرین پر زیادتی نہیں ہوتی‘ انصار کی مدد کا صلہ بیان کیا گیا ہے)۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 85

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 86

86- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: مِثْلَهُ سَوَاءً.

ایک اور سند کے ساتھ اس کی مثل مروی ہے۔

رَسُولَ اللَّهِ مِثْلَهُ سَوَاءً ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 86

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 87

87- أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

حضرت شبابہ نے اپنی سند کے ساتھ اس کی مثل روایت کیا ۔

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 87

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 88

88- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ جَعَلَ يَفْتِكَ بِي الْبَارِحَةَ، لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلاَتِي، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ، فَذَعَتُّهُ وَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ فَأَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، قَالَ: فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: {رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي}، قَالَ: فَرَدَّهُ اللَّهُ خَاسِئًا.

حضرت محمد فرماتے ہیں‘ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جنوں میں سے ایک عِفْرِیْت(خبیث جن) نے گذشتہ رات مجھے نماز میں دھوکہ دینے کی کوشش کی تاکہ وہ میری نماز توڑ دے پس اللہ تعالیٰ نے اسے میرے قابو میں دے دیا تو میں نے اس کو دفع کر دیا میں نے چاہا کہ میں اس کو پکڑ کر مسجد کے ستونوں میں سے کسی ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں حتٰی کہ تم سب اس کو دیکھتے۔‘‘رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پس مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمانؑ کاقول یاد آ گیا۔‘‘(ان کا قول اس ارشاد ِخداوندی کے ذریے نقل کیا گیا ہے۔)’’رب اغفرلی وھب لی ملکا لاینبغی لاحد من بعدی‘‘اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کیلئےمناسب نہ ہو‘‘پس اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل و رسوا کر کے واپس کر دیا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 88

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 89

89- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالاَ: حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، مِثْلَهُ، وَقَالَ بَدَلَ يَفْتِكَ كَلِمَةً نَحْوَهَا.

حضرت محمد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں البتہ انہوں نے لفظ فتک کی جگہ کوئی اور کلمہ کہا ہے۔

رَسُولِ اللهِ مِثْلَهُ، وَقَالَ بَدَلَ يَفْتِكَ كَلِمَةً نَحْوَهَا. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 89

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 90

90- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لاَ يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا، إِلاَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ.

حضرت محمد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں بے شک تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے نبیوں سے بکثرت سوال کرتے اور( پھر ) ان کی مخالفت کرتے پس میں تمہیں جس بات کا حکم دوں وہ کرو جس قدرتم سے ممکن ہو اور جب میں تمہیں کسی بات سے روکوں تو اس کو چھوڑ دو ۔‘‘

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 90

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 91

91- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ.

حضرت محمد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے چھوڑے رکھو جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں بے شک تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے نبیوں سے بکثرت سوال کرتے اور( پھر ) ان کی مخالفت کرتے پس میں تمہیں جس بات کا حکم دوں وہ کرو جس قدرتم سے ممکن ہو اور جب میں تمہیں کسی بات سے روکوں تو اس کو چھوڑ دو ۔‘‘

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 91

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 92

92- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا مُحَمَّدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ بِطَعَامِهِ، قَدْ كَفَاهُ عِلاَجَهُ وَحَرَّهُ، أَوْ عِلاَجَهُ وَدُخَانَهُ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً، أَوْ أُكْلَتَيْنِ، أَوْ لُقْمَةً، أَوْ لُقْمَتَيْنِ.

حضرت محمد فرماتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے پاس کھانا لے کر آئے اور تحقیق اس نے اس کے پکانے کی مشقت اور گرمی برداشت کی یا فر مایا اس کا دھواں برداشت کیا تو اگر وہ اس کو ساتھ بٹھا کر نہ کھلائے تو اسے چاہئے کہ اُسے ایک یا دو لقمے ہی دے دے۔‘‘

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 92

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم · حديث 93

93- أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: زَعَمَ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدي مِنْهُ دِينَارٌ، لَيْسَ شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ.

حضرت حماد بن سلمہ فرماتے ہیں حضرت محمد بن زیاد کا خیال ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:’’مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے احد (پہاڑ) سونے کا ہو اور مجھ پر تیسرا دن اس طرح آئے کہ میرے پاس اس سے ایک دینار ہو البتہ وہ چیز جس کو میں نے قرض (کی ادائیگی) کیلئے رکھا ہو۔‘‘

أَبَا هُرَيْرَةَ ← زَعَمَ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّهُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 93

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، وَبَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 94

94- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، قَالَ: فَلاَ أَدْرِي أَذَكَرَ ثَالِثًا، أَمْ لاَ، قَالَ: ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُسَمَّونَ السَّمَّانَةَ، يَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ.

حضرت عبداللہ بن شقیق‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر وہ لوگ جوان سے ملے ہوئے ہیں پھر وہ جو ان سے ملے ہوئے ہیں۔‘‘فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ تیسری بار کا ذکر کیا یا نہیں پھر فرمایا : ’’پھر کچھ لوگ آئیں گے جو موٹاپے کو پسند کریں گے وہ گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی ۔“

ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُسَمَّونَ السَّمَّانَةَ، يَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ. ← فَلاَ أَدْرِي أَذَكَرَ ثَالِثًا، أَمْ لاَ، ← خَيْرُکُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 94

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، وَبَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 95

95- أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ (1)، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ. _حاشية__________ (1) تحرف في المطبوع إلى: "قيسرة" وأثبتناه، انظر "التاريخ الكبير" 2/142.

حضرت عبداللہ بن شقیق‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں: ’’رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم عذابِ جہنم‘ عذاب ِقبر اور مسیح دجال سے پناہ مانگتے تھے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 95

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، وَبَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 96

96- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثنا بِشْرُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ كَثِيرٍ الأَسِيدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَحْسَبُهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم عَنِ الْحَرِيرِ أَشَدَّ النَّهْيِ. فَقَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ: إِنَّ هَذَا عَلَيْكَ حَرِيرٌ، قَالَ: فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، لَيْسَ هَذَا حَرِيرٌ، فَقَالَ: إِنَّ سَدَاهُ حَرِيرٌ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ: مَا شَعَرْتُ.

حضرت عبداللہ بن شقیق ‘حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں : ’’رسول کریم صلى الله علیہ وسلم نے ریشم ( پہننے) سے بہت سخت منع فرمایا۔‘‘ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن شقیق سے کہا کہ آپ نے بھی ریشم پہنا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ ریشم نہیں ہے اس نے کہا: اس کا با نا ریشم کا ہے ۔حضرت عبداللہ بن شقیق نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہو سکا۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ: مَا شَعَرْتُ. ← إِنَّ سَدَاهُ حَرِيرٌ، ← سُبْحَانَ اللهِ، لَيْسَ هَذَا حَرِيرٌ، ← رَجُلٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ: إِنَّ هَذَا عَلَيْكَ حَرِيرٌ، ← الْحَرِيرِ أَشَدَّ النَّهْيِ. ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَحْسِبُهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ كَثِيرٍ الأَسِيدِيُّ، ← النَّضْرُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 96

chevron_left Previous
1…789…91
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter