مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 529
529- أَخْبَرَنَا غِيَاثُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ الْهُرْمُزِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قِيلَ لأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ فِي الْجَنَّةِ مِنْ سَمَاعٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، شَجَرَةٌ أَصْلُهَا مِنْ ذَهَبٍ، وَأَغْصَانُهَا الْفِضَّةُ، وَثَمَرُهَا الْيَاقُوتُ وَالزَّبَرْجَدُ، يَبْعَثُ لَهَا رِيحًا فَتَحُكُّ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَمَا سُمِعَ شَيْءٌ قَطُّ أَحْسَنُ مِنْهُ.
حضرت مجاہد سے مروی ہے فرماتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا: کیا جنت میں بازار سننے کی صلاحیت ہو گی؟ آپ نے فرمایا:ہاں! ایک درخت ہے جس کی جڑیں سونے کی ، اس کی شاخیں چاندی کی، اس کا پھل یا قوت اور زبر جدکا ہو گا۔ اس کی طرف ہوا بھیجی جائے گی تو اس درخت کا بعض حصہ دوسرے بعض سے ٹکرائے گا تو اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی گئی ہو گی ۔
مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ الْهُرْمُزِيِّ، ← غياث بن بشير
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 529
