مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 481
481- أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: عَجَبًا لِتَرْكِ النَّاسِ هَذَا الإِهْلاَلَ وَلِتَكْبِيرِهِمْ، مَا بِي إِلاَّ أَنْ يَكُونَ التَّكْبِيرَةُ حَسَنًا، وَلَكِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي الإِنْسَانَ مِنْ قِبَلِ الإِثْمِ، فَإِذَا عُصِمَ مِنْهُ، جَاءَهُ مِنْ نَحْوِ الْبِرِّ، لِيَدَعَ سُنَّةً وَلِيَبْتَدِعَ بِدْعَةً.
حضرت عطاء فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فرماتے تھے: مجھے لوگوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس چاند کو دیکھ کر تکبیر کہنا (اللہ اکبر کہنا )چھوڑ دیا اور میرے نزدیک تکبیر کہنا اچھا ہے لیکن شیطان انسان کے پاس گناہ کی جانب سے آتا ہے پس جب وہ شخص اس سے محفوظ رہتا ہے تو وہ نیکی کے راستے سے آتا ہے تا کہ وہ سنت کو چھوڑ کر بدعت اختیار کرے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 481
