Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 25

25- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدَّثَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ، فَقَالُوا: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم زَيْنَبَ.

حضرت ابو رافع حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں: حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا نام برَّہ ( نیکوکار ) تھا تو لوگوں نے کہا: یہ اپنی پاکیزگی بتاتی ہیں ۔ پس نبی اکر صلى الله علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔

«كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ، فَقَالُوا: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ زَيْنَبَ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا رَافِعٍ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 25

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 26

26- أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدَّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ، أَوْ مَيْمُونَةَ بَرَّةً، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم زَيْنَبَ، أَوْ مَيْمُونَةَ.

حضرت ابو رافع‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں حضرت زینب یا حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنھاکا نام برَّہ تھا تو رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے ان کا نام زینب یا میمونہ رکھ دیا۔

كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ، أَوْ مَيْمُونَةَ بَرَّةً، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللهِ زَيْنَبَ، أَوْ مَيْمُونَةَ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا رَافِعٍ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 26

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 27

27- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؛ أَنَّ رَجُلاً كَانَ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، وَكَانَ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكٌ، فَقَالَ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ: أَزُورُ أَخًا لِي فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى، فَقَالَ لَهُ: فَهَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا؟ فَقَالَ: لاَ، وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُهُ لِلَّهِ، فَقَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكَ ؛ بِأَنِّي قَدْ أَحْبَبْتُكَ بِمَا أَحْبَبْتَهُ فِيَّ.

حضرت ابورافع‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے کسی (مسلمان) بھائی کی ملاقات کیلئے دوسری بستی میں جاتا تھا۔ راستے میں اُسے ایک فرشتہ ملا اس نے پوچھا : کدھر کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: دوسری بستی میں ایک بھائی سے ملاقات یں کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نے پوچھا کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جس کا بدلہ دینا چاہتا ہے؟اس نے کہا : نہیں بلکہ میں اس سے (محض) اللہ تعالیٰ کیلئے محبت کرتا ہوں۔ اس (فرشتے) نے کہا: میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا نمائندہ بن کر آیا ہوں ( کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) میں تجھ سے محبت کرتا ہوں کیونکہ تو اس شخص سے میری وجہ سے محبت کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 27

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 28

28- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قَالَ: فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَكَيْفَ اسْتَطْعَمْتَنِي وَلَمْ أُطْعِمْكَ، وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلاَنًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ، أَمَا عَلِمْتَ إِنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي. يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي، فَقَالَ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلاَنًا اسْتَسْقَاكَ فَلَمْ تَسْقِهِ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ كُنْتَ سَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي. يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، فَقَالَ: يَا رَبِّ وَكَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلاَنًا مَرِضَ، فَلَوْ كُنْتَ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي، أَوْ وَجَدْتَنِي عِنْدَهُ.

حضرت ابو رافع‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن) پوچھے گا:اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہ دیا ۔فرمایا: وہ کہے گا:اے میرے رب ! کس طرح تو نے مجھ سے کھانا مانگا اور میں نے تجھے نہ دیا حالانکہ تو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے اسے کھانا نہ کھلایا ۔ کیا تجھے معلوم نہیں اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس (کے ثواب) کو میرے پاس پاتا ۔اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی طلب کیا تو تُو نے مجھے پانی نہ پلایا ۔ وہ کہے گا اے میرے رب!میں تجھے کیسے پانی پلاتا ؟ تُوتو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی طلب کیا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو پلاتا تو اس (کے ثواب ) کو میرے پاس پاتا۔ (پھر ) فرمائے گا اے ابن آدم ! میں بیمار ہوا تو تُونے میری عیادت نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں کس طرح تیری بیمار پرسی کرتا‘تُو تمام جہانوں کا رب ہے؟اللہ تعالی ٰفرمائے گا: کیاتجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا۔ پس اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو اس (کے ثواب ) کو میرے پاس پاتا یا فرمایا اس کے پاس پاتا۔

اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 28

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 29

29- أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم ؛ مِثْلَهُ، وَقَالَ: لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ.

حضرت ابورافع‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں اور فرمایا اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے (میری رضا کو) اس کے پاس پاتا۔

رَسُولِ اللهِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 29

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 30

30- أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: الْعَيْنَانُ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلاَنِ تَزْنِيَانِ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ، أَوْ يُكَذِّبُهُ.

حضرت ابورافع‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: آنکھیں زنا کرتی ہیں، پاؤں زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ ان کی تصدیق کرتی ہے

الْعَيْنَانُ تَزْنِيَانِ، وَالرِّجْلاَنِ تَزْنِيَانِ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ، أَوْ يُكَذِّبُهُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 30

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 31

31- أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ بَدَلَ الرِّجْلَيْنِ: الْيَدَيْنِ.

حضرت حماد بن مسلم اسی سند کے ساتھ اس کی مثل روایت کرتے ہیں البتہ انہوں نے پاؤں کی بجائے ہاتھوں کا ذکر کیا۔

بَدَلَ الرِّجْلَيْنِ: الْيَدَيْنِ. ← حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، ← الْمُؤَمَّلُ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 31

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 32

32- أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي (1) النَّاسَ عَلَى الطَّرِيقِ، فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا، فَغُفِرَ لَهُ بِهَا، وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ. _حاشية__________ (1) تحرف في المطبوع إلى: "يؤذي".

حضرت ابورافع‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں‘ آپ فرماتے ہیں راستے میں ایک درخت لوگوں کو تکلیف پہنچاتا تھا تو ایک شخص نے اسے کاٹ کر دورکر دیا تو اس (عمل )کی وجہ سے اس کو بخش دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 32

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 33

33- أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لاَ يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَةٍ مَا دَامَ فِي مُصَلاَّهُ يَنْتَظِرُ الصَّلاَةَ، تَقُولُ الْمَلاَئِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ (1)، مَا لَمْ يَنْصَرِفْ، أَوْ يُحْدِثْ حَدَثَ سُوءٍ. فَقِيلَ: وَمَا الْحَدَثُ السُّوءُ؟ فَقَالَ: أَنْ يَضْرِطَ، أَوْ يَفْسُوَ.

حضرت ابورافع، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی جائے نماز پر نماز کا انتظار کرتا ہے‘ وہ مسلسل نماز میں شمار ہوتا ہے اور فرشتے کہتے ہیں یا اللہ! اس کو بخش د ے‘ اس پر رحم فرما۔ (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) جب تک وہاں سے پھر نہ جائے یا کوئی بُری بات پیدا نہ ہو۔ پوچھا گیا بُری بات سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کی ہوا خارج ہو آواز کے ساتھ یا اس کے بغیر۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 33

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 34

34- أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، مِثْلَهُ سَوَاءً. _حاشية__________ (1) في المطبوع: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ارْحَمْه" وأثبتناه عن "مسند أحمد" 15/220، و"صحيح مسلم" 2/129، و"سنن أبي داود" 1/128، إذ أخرجوه من طريق حماد بن سلمة، على الصواب.

ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ واسطہ سے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے اس کی مثل مروی ہے۔

النَّبِيِّ مِثْلَهُ سَوَاءً. _حاشية__________ في المطبوع: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ارْحَمْه" وأثبتناه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 34

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 35

35- أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؛ أَنَّ جَارِيَةً كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ، أَوْ رَجُلٌ، فَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَسَأَلَ عَنْهُ، قَالُوا: قَدْ مَاتَ، قَالَ: أَلاَ آذَنْتُمُونِي بِهِ، قَالُوا: إِنَّهُ (1)، قَالَ: فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ. _حاشية__________ (1) بيانه كما في رواية "صحيح البخاري" 2/112(1337): فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، قِصَّتُهُ، قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ.

حضرت ابورافع‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک لونڈی یا ایک مرد مسجد کی صفائی کرتا تھا‘ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے اسے نہ دیکھا تو اس کے بارے میں پوچھا۔ صحابہ کرام نے بتایا کہ اس کا انتقال ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا:تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ کی؟ انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح اس طرح تھا (یاتھی) یعنی اس کے معاملے کو معمولی قرار دیا۔ آپ نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ پس آپ اس کی قبر پر گئے اور نماز پڑھی (یا دعا فرمائی)۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 35

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلٍّ، وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 36

36- أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ حَمَّادٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لاَ يَبْأَسُ، لاَ تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلاَ يَفْنَى شَبَابُهُ، وَفِي الْجَنَّةِ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ، وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ.

حضرت ابورافع‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ حضرت حماد فرماتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے فرمایا کہ وہ حضور علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا جوشخص جنت میں داخل ہو گا وہ عیش کرے گا اور مفلس و حاجت مند نہ ہو گا۔ اس کے کپڑے پُرانے نہیں ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہ ہو گی اور جنت میں وہ کچھ ہو گا جسے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ۔

حَمَّادٌ أَحْسَبُهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 36

chevron_left Previous
1234…91
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter