Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 301

301- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعْدَانَ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْمُدِلَّةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: الصَّائِمُ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُهُ.

حضرت ابوالمدلہ ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’عادل حکمران کی دعا رد نہیں ہوتی۔

الصَّائِمُ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُهُ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِی الْمُدِلَّۃِ ← أَبِي مُجَاهِدٍ، ← سَعْدَانُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 301

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 302

302- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ.

حضرت ابو المدلہ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی۔‘‘

«أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زِيَادٍ، ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 302

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 303

303- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُول: حَقُّ الضِّيَافَةِ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلاَ يَحِلُّ لِلضَّيْفِ أَنْ يُقِيمَ بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يُؤْذِيَ صَاحِبَ الْمَنْزِلِ.

حضرت زیاد‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’مجھے حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے لڑوں حتی ٰکہ وہ ’’لا الہ الا اللہ (محمد رسول اللہ)‘‘پڑھیں۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زِيَادٍ، ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 303

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 304

304- وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْعُو اللَّهَ بِشَيْءٍ إِلاَّ اسْتَجَابَ لَهُ، إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَهَ، وَإِمَّا أَنْ يُكَفِّرَ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ بِمِثْلِ مَا دَعَا، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، أَوْ يَسْتَعْجِلْ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَسْتَعْجِلُ؟ قَالَ: يَقُولُ: دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي، أَوْ مَا أَغْنَيْتُ شَيْئًا.

حضرت زیاد‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: مہمان نوازی کا حق تین دن ہے اس سے زائد صدقہ ہے اور مہمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اس کے بعد ٹھہرارہے یہاں تک کہ گھر والے کو تکلیف میں مبتلا کرے اور میں نے آپ سےسنا‘ آپ نے فرمایا: جو شخص جو بھی دعا مانگتا ہے اس کی دعاقبول ہوتی ہے یا تو اسے وہ (مانگی ہوئی چیز ) فوراً مل جاتی ہے یاجس قدر دعا مانگی ہے اس کی مثل گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں جب تک گناه یا قطع رحم کی دعا نہ کرے یا جلدی نہ کرے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! جلدی کس طرح کرے گا؟ فرمایا : وہ یوں کہے اے میرےرب ! میں نے دعا مانگی پس تو نے قبول نہ کی یا مجھے کچھ فائدہ نہ ہوا۔

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 304

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 305

305- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي كِبَاشٍ، قَالَ: جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا بِالْمَدِينَةِ، فَكَسَدَتْ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَقُولُ: نِعْمَتِ الأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ، قَالَ: فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ.

حضرت ابو رکباش فرماتے ہیں: میں مدینہ طیبہ میں بکریاں لایا جو ایک سال سے کم عمر کی تھیں اور وہ میرے لئے نقصان کا باعث ہو گئیں۔ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس حاضر ہوااور یہ بات بتائی آپ نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلى الله علیہ وسلم سے سنا‘ آپ فرماتے تھے : بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بہترین قربانی ہے پس لوگوں نے وہ بکریاں چھین لیں۔

فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ. ← نِعْمَتِ الأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا بِالْمَدِينَةِ، فَكَسَدَتْ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ← أبي كباش ← كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 305

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 306

306- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثنا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثنا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدْ قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَإِسْرَافِي مَا لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُكَ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ.

حضرت ابو الربیع‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی تھی: ’’اللّٰھم اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت زما اعلنت واسرافی مالا یعلمہ غیرک انت المقدم والموخر الا الہ الا انت‘‘ ’’یااللہ! میرے لئے میری گذشتہ اور آئندہ لغزشیں معاف کر دے ‘میری باطنی و ظاہری لغزشیں نیز میری وہ زیادتی جس کو تیرے سوا کوئی نہیں جانتا‘ معاف کر دے تیرے سوا کوئی معبودنہیں۔‘‘

كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ أَنْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الرَّبِيعِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 306

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، وَأَبِي السُّدِّيِّ، وَكَعْبِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَبِي مُدِلَّةَ، وَغَيْرِهِمْ. · حديث 307

307- أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلِ، حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثنا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ نَأْتِلٌ أَخُو أَهْلِ الشَّامِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَقُولُ: أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلاَثَةٌ: رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأَتَى اللَّهُ بِهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ لَهُ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، فَقَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنْ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ثُمَّ أُمِرَ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ إِلَى النَّارِ، وَأَتَى اللَّهُ بِرَجُلٍ قَدْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ، وَقَدْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ لَهُ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ فَقَالَ: تَعَلَّمْتُ الْقُرْآنَ وَعَلَّمْتُهُ فِيكَ، وَقَرَأْتُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ لِيُقَالَ: فُلاَنٌ عَالِمٌ، وَفُلاَنٌ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ثُمَّ أُمِرَ فَيُسْحَبُ بِهِ عَلَى وَجْهِهِ إِلَى النَّارِ، وَأَتَى بِرَجُلٍ قَدْ أَعْطَاهُ اللَّهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فِيهَا فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ فَقَالَ: مَا تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلاَّ أَنْفَقْتُ فِيْهَا، فَقَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: هُوَ جَوَادٌ (1)، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَيُسْحَبُ بِهِ عَلَى وَجْهِهِ إِلَى النَّارِ. _حاشية__________ (1) جاء في الأصل: "أجود" وما أثبته من مصادر التخريج.

حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں جب لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جدا ہوئے تو اہل شام کے بھائی ناتل (بن قیس بن زید شامی) نے کہا ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: قیامت کے دن تین آدمیوں کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک شخص جو شہید ہوا اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ پہچان لے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا تو نے اس سلسلے میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں تیرے راستے میں لڑتے لڑتے شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا ہے تو اس لئے لڑاتھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور یہ بات کہی گئی پھر اللہ تعالیٰ حکم دے گا تو اس کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک اور شخص کو لایا جائے گا جس نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور اس نے قرآن مجید کی قرأت کی اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گاتو وہ پہچان لے گا الله تعالیٰ پوچھے گا تو نے اس میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں نے قرآن مجید سیکھا اور تیرے لئے دوسروں کو سکھایا نیز قرآن مجید کی قرأت کی ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تونے جھوٹ کہا ہے تو نے اس لئے علم حاصل کیا تا کہ کہا جائے کہ فلاں عالم ہے اور فلاں قاری ہے اور یہ بات کہی گئی ۔ پھر اللہ تعالیٰ حکم دے گا تو اس کو اوندھے منہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ایک اور شخص کو لایا جائے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہرقسم کے مال سے عطا کیا اللہ تعالیٰ اس سلسلے میں اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ پہچان لے گا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا تو نےاس میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا یا اللہ! تجھے جس راستے میں خرچ کرنا پسند ہے میں نے اس میں خرچ کیا اور کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ لوگ کہیں یہ سخی ہے اور یہ بات کہی گئی پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے اوندھا کر کے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 307

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَمِصْرَ، مِنْهُمْ: يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 308

308- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حِزَمَ الْحَطَبِ، ثُمَّ نُحَرِّقَ عَلَى أَقْوَامٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ.

حضرت یزیدبن اصم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ میں نے ارادہ کیا کہ نماز کا حکم دوں پس اس کیلئے اقامت کی جائے پھر اپنے کچھ نوجوانوں کو حکم دوں کہ وہ لکڑیوں کے گٹھے جمع کریں پھر ان لوگوں کو جلادوں جو نماز (با جماعت) میں حاضر نہیں ہوتے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 308

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَمِصْرَ، مِنْهُمْ: يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 309

309- أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي، فَيَجْمَعُوا حِزَمَ الْحَطَبِ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى أَقْوَامٍ بُيُوتَهُمْ، يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ، ثُمَّ لاَ يَأْتُوهَا. قَالَ: فَقِيلَ لِيَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ: إِلَى جُمُعَةٍ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ذَكَرَ جُمُعَةً، وَلاَ غَيْرَهَا.

حضرت یزید بن اصم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ’’میں نے ارادہ کیا کہ میں اپنے نوجوانوں کو حکم دوں پس وہ لکڑیوں کے گٹھے جمع کر یں پھر میں نماز قائم کرنے کا حکم دوں اور وہ کھڑی ہو جائے اس کے بعد میں ان لوگوں پر ان کے گھروں کو جلا دوں جو اذان سن کر( مسجد میں) نہیں آتے۔راوی فرماتے ہیں حضرت یزید بن اصم سے پوچھا گیا جمعہ کی طرف آنا مراد ہے؟ فرمایا: کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جمعہ یا کسی دوسرے دن کا ذکر نہیں سنا۔

لَقَدْ هَمَمْتُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 309

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَمِصْرَ، مِنْهُمْ: يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 310

310- أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَالْمُلاَئِيُّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ يَزِيدَ.

ایک اور سند کے ساتھ اس کی مثل ذکر کیا گیا لیکن اس میں یزید بن اصم کا قول مذکور نہیں۔

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 310

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَمِصْرَ، مِنْهُمْ: يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 311

311- أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلاَةِ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فِي بَيْتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلاَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَجِبْ.

حضرت یزید بن اصم ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں: ایک نابینا آدمی رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا مجھے نماز کیلئے لے جانے والا کوئی نہیں ہے اس نے اس بات کی اجازت چاہی کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے۔ پس آپ نے اسے اجازت دے دی جب وہ واپس ہوا تو آپ نے اسے بلا کر پوچھا کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ نے فرمایا پھر تم نماز(با جماعت) کیلئے حاضر ہوا کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 311

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَمِصْرَ، مِنْهُمْ: يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم. · حديث 312

312- أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَصَمِّ، قَالَ: حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: تَقْطَعُ الصَّلاَةَ الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ، وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ.

حضرت یزید بن اصم‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا عورت‘ کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں اور کُجاوے کے پچھلے حصہ جیسا(سُترہ) نماز کو بچا لیتا ہے۔

تَقْطَعُ الصَّلاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← المخزومي

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 312

chevron_left Previous
1…252627…91
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter