Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند اسحاق بن راوایہ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah

by أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم الحنظلي المروزي المعروف بـ ابن راهويه

2,786 Hadith127 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 157

157- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم بِتَمْرِ عَجْوَةٍ (1)، فَجَعَلْنَا نَأْكُلُ السِّنِينَ مِنَ الْجُوعِ، وَجَعَلَ أَصْحَابُنَا إِذَا قَرَنَ أَحَدُهُمْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: إِنِّي قَرَنْتُ فَاقْرِنُوا. _حاشية__________ (1) هنا كلمة غير واضحة، وهكذا شكلها (مكـ.. بنا) لعلها "مكث بنا" والله أعلم.

حضرت شعبی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں: ” میں اصحابِ صفہ کے درمیان تھا تو حضور صلى الله علیہ وسلم نے ہماری طرف عجوہ کھجوریں بھیجیں جو ہمارے درمیان (سامنے) اُنڈیل دی گئیں ۔ ہم بھوک کی وجہ سے دو دو ملا کر کھانے لگے جب ہمارے ساتھیوں میں سے کوئی ایک‘ دو کھجوریں ملاتا تو اپنے ساتھی سے کہتا میں نےملائی ہیں تم بھی ملاؤ۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 157

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 158

158- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ لِقَاءَ اللهِ أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: لَئِنْ كَانَ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم حَقًّا لَقَدْ هَلَكْنَا، فَقَالَتْ: إِنَّ الْهَالِكَ لَمَنْ يَهْلِكُ فِي قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم، فَقَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ لِقَاءَ اللهِ أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، فَقَالَتْ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ، هَلْ تَدْرِي مَتَى يَكُونَ ذَاكَ؟ ذَاكَ إِذَا طَمَحَ الْبَصَرُ، وَحُشْرِجَتِ الصَّدُورُ، وَانْشَجَبَتِ الأَصَابِعُ، وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ، فَحِينَئِذٍ، مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ لِقَاءَ اللهِ أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ.

حضرت شریح بن ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو نا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملا قات کو نا پسند کرتا ہے۔“حضرت شریح بن ہانی فرماتے ہیں: میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جو کچھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اگرسچ ہے تو ہم ہلاک ہوگئے ۔ انہوں نے فرمایا: بے شک وہ ہلاک ہوا جو رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم کے قول سے ہلاک ہوا بتاؤ وہ کیا بات ہے؟حضرت شریح فرماتے ہیں: میں نے کہا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملا قات کو پسندکرتا ہے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات کوناپسند کرتا ہے۔‘‘ ام المومنین نے فرمایا: میں نے بھی یہ بات سنی ہے تم جانتے ہو یہ بات کب ہو گی؟ یہ اس وقت ہوگا جب نگاہ اوپر کو اٹھ جائے گی۔ سینے سےگھنگھرو بولنے لگے گا۔ انگلیاں سکڑنے لگیں گی اور جلد پر بال کھڑے ہو جائیں گے پس اس وقت (موت کے وقت ) جوشخص اللہ تعالیٰ کی ملا قات کو پسند کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی ملا قات کو پسند کرے گا اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سےملاقات کو نا پسند کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو نا پسند کرے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 158

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 159

159- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلاَ يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلاَ تَنَاجَشُوا، وَلاَ تَسَأَلُ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا [لِتَكْتَفِئَ] (1) مَا فِي صَحْفَتِهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا، وَلاَ تَصُرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ [اشْتَرَى] (2) مُصَرَّاةً فَهُوَ بِآخِرِ النَّظَرَيْنِ، فَمَنْ رَدَّهَا رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، [وَالرَّهْنُ] ... (3) مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ. _حاشية__________ (1) ما بين الحاجزين كان مطموسا في الأصل، أثبته من مصادر التخريج، وجاء أيضا "لتفرغ". (2) مطموس في الأصل بقدر كلمة، أثبت ما بين المعكوفتين من "مسند الإمام أحمد". (3) بقدر كلمة مطموس، لم يتبين لي قراءتها، وأثبت ما استظهرته من مصادر التخريج.

حضرت ابراہیم‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں:’’شہری‘‘ دیہاتی کیلئے نہ بیچے اور کوئی شخص اپنے بھائی سے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگائے اور نہ ہی اپنے بھائی کے پیغام ِنکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے اور نہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی دو۔ کوئی عورت اپنی (مسلمان) بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے میں ہے اسے بطورِ ظلم حاصل کرے۔ بے شک اس کیلئے وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے لکھ دیا ہے۔ اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ نہ روکو۔ جوشخص رُکے ہوئے دودھ والا جانور خریدے اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے (یعنی واپس کر دے یا اسی صورت میں قبول کر لے) جو اس کو واپس کرے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ واپس کرے اور اس جانور پر سواری بھی کی جاسکتی ہے اور اس کا دودھ بھی دوہا جا سکتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 159

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ رِجَالِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 160

160- أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثنا زَكَرِيَا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ.

حضرت شعبی‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:” (رہن رکھے ہوئے جانور کے ) نفقہ کے بدلے سواری کی جاسکتی ہے اورتھنوں کا دودھ پیا جا سکتا ہے جب وہ جانور رہن رکھا ہوا ہو اور جو سواری کرے اور دودھ پیسے اس پر اُس ( جانور ) کا نفقہ ہے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 160

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 161

161- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاَةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، مَا هُوَ؟ قَالَ: أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالْبَرَدِ وَالثَّلْجِ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم جب نماز کیلئے تکبیر کہتے تو قرأت سے پہلے کچھ دیرٹھہرتے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘ بتایئے ! تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی کس مقصد کیلئے ہے؟فرمایا : میں یہ دعا مانگتاہوں: ’’اللّٰھم باعدبینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب اللّٰھم تقنی من الخطا یا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس اللھم اغسلنی من خطا یای بالماء والثّلج والبرد‘‘’’یا اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جس قدر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔ یا اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح رہا کر دے جس طرح سفیدکپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ یا اللہ مجھے میری خطاؤں سے پانی‘ برف اور بادلوں کے ساتھ دہو ڈال۔‘‘

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاَةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً، قَبْلَ أَنْ يَقْرَأَ، فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 161

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 162

162- أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم عِنْدَ التَّكْبِيرِ سَكْتَةً. قُلْتُ لِسُفْيَانَ: عِنْدَ تَكْبِيرِ فَاتِحَةِ الصَّلاَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ.

حضرت عُماره بن قعقاع ‘حضرت ابوذرعہ سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول ِاکرم صلى الله علیہ وسلم تکبیر کے وقت سکتہ کرتے تھے۔حضرت عمرو بن محمد (راوی) فرماتے ہیں میں نے ابوسفیان (راوی) سے پوچھا آغازِ نماز کی تکبیر کے وقت؟ فرمایا: ہاں۔

نَعَمْ ← سَكَتَ رَسُولُ اللهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ سَكْتَةً. قُلْتُ لِسُفْيَانَ: عِنْدَ تَكْبِيرِ فَاتِحَةِ الصَّلاَةِ؟ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 162

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 163

163- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ دَارًا ابْتُنِيَ لِسَعِيدٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوْ لِمَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ، فَتَوَضَّأَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ حَتَّى بَلَغَ إِبْطَيْهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى بَلَغَ رُكْبَتَيْهِ، فَقُلْتُ لأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّهُ مُنْتَهَى الطُّهُورِ، قَالَ: فَرَأَى مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً.

حضرت ابوزرعہ سے مروی ہے‘ فرماتے ہیں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ ایک حویلی میں داخل ہوا جو مدینہ طیبہ میں حضرت سعیدیا مردان کیلئے بنائی جا رہی تھی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وضو کیا انہوں نے ہاتھ بغلوں تک دھوئے اور پاؤں کو گھٹنوں تک دھویا۔میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ طہارت کا انتہائی مقام ہے۔فرماتے ہیں: انہوں نے حویلی میں ایک مصور دیکھا جو تصویر بنا رہا تھا تو فرمایا: رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میرے پیدا کرنے کی طرح بنانے کی کوشش کرے پس چاہئے کہ وہ ایک ذرہ پیدا کریں اور چاہئے کہ ایک دانا پیداکریں۔

أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 163

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 164

164- أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم الْخَلاَءَ، فَأَتَيْتُهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ، فَاسْتَنْجَى بِهِ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَيْهِ بِالأَرْضِ، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ أتَيْتُهُ بِتَوْرٍ آخَرَ فَتَوَضَّأَ بِهِ.

حضرت ابوزرعہ بن عمرو بن جریر‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہوئے تو میں پانی کا ایک بڑا برتن لے کر حاضر ہوا آپ نے اس کے ساتھ استنجا فرمایا پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر رگڑ کر اُن کو دھویا پھر میں ایک اور برتن لایا توآپ نے وضو فرمایا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ← شَرِيکٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 164

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 165

165- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، حَدَّثنا أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ، قَالاَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ، فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ، فَلاَ يَعْرِفُهُ وَلاَ يَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ جَعَلْنَا لَكَ مَجْلِسَا فَتَجْلِسَ فِيهِ حَتَّى يَعْرِفَكَ الْغَرِيبُ، فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ، فَكُنَّا نَجْلِسُ بِجَانِبَيْهِ، فَكُنَّا جُلُوسًا وَرَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَجِيءُ فِي مَجْلِسِهِ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهَا، وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا، وَأَنْقَى النَّاسِ ثَوْبًا، كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يُصِبْهَا دَنَسٌ، حَتَّى سَلَّمَ مِنْ عِنْدِ طَرَفِ السِّمَاطِ، فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ، ثُمَّ قَالَ: أَدْنُو؟ فَمَا زَالَ يَقُولُ: أَدْنُو؟ وَيَقُولُ مُحَمَّدٌ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: ادْنُهْ، حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ: تَعْبُدُ اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: صَدَقْتَ،. قَالَ: فَأَنْكَرْنَا مِنْهُ قَوْلَهُ صَدَقْتَ، [فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ بِاللهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالْكِتَابِ وَبِالنَّبِيِّينَ، وَبِالْقَدَرِ كُلِّهِ] (1)، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ، فَقَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: فَنَكَسَ وَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ عَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ عَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ [فَحَلَفَ بِهِ بِاللهِ] (2)، أَوْ قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ، مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ لَهَا عَلاَمَاتٌ تُعْرَفُ بِهَا، إِذَا رَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ وَالْعُرَاةَ مُلُوكَ الأَرْضِ، وَإِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ رَبَّهَا، فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ}، ثُمَّ تَلاَ إِلَى: {عَلِيمٌ خَبِيرٌ}، ثُمَّ سَطَعَ غُبَارٌ مِنَ السَّمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ، مَا أَنَا بِأَعْلَمَ بِهِ مِنْ رَجُلٍ مِنْكُمْ، وَإِنَّهُ لَجِبْرِيلُ جَاءَكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ، فِي صُورَةِ دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہما (دونوں) سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک اجنبی آیا۔ وہ آپ کو پہچانتا نہیں تھا اور اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ آپ کہاں تشریف فرما ہیں ۔ تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر ہم آپ کے بیٹھنے کیلئے (مخصوص) جگہ بنا لیں (تو اچھا ہے) آپ وہاں تشریف رکھیں گے تو اپنی آپ کوپہچان لے گا تو ہم نے گارے سے ایک اونچی جگہ بنائی اور ہم آپ کے گرد بیٹھتے تھے۔(ایک دن) ہم بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم اپنی جگہ گھٹنوں کو کھڑا کر کے ان کے گرد ہاتھوں سے گھیرا بنا کر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص جو بہت خوبصورت تھا اس سے سب سے اچھی خوشبو آ رہی تھی ۔ اس کے کپڑے سب لوگوں (کے کپڑوں) سے زیادہ صاف تھے ۔ گویا اس کے کپڑوں کو میل نہیں پہنچی حتیٰ کہ اس نے صحابہ کرام کی صف کے ایک کنارے سے سلام کیا۔ اس نے کہا:’’السلام عليك يا محمد‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں آپ نے سلام کا جواب دیا پھر اس نے کہا: میں قریب ہو جاؤں؟ وہ مسلسل کہتا رہا میں قریب ہو جاؤں اور حضور علیہ السلام فرماتے قریب ہو جاؤ حتیٰ کہ اس نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھا اور کہا کہ اے محمد! اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شر یک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور زکوٰة دو، ماه ِرمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ شریف کاحج کرو۔ اس نے پوچھا جب میں ایسا کروں تو میں مسلمان ہوں گا؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔(حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں)ہمیں اس کا یہ کہنا کہ آپ نےسچ کہا‘ عجیب لگا۔ اس نے کہا: اے محمد! مجھے ایمان کے بارے میں بتایئے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ، فرشتوں، کتابوں، نبیوں اور ہر تقدیر پر ایمان لانا ہے (دل سے تصدیق کرنا ہے) اس نے کہا: اے محمد! مجھے احسان (اخلاص) کے بارے میں بتائیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت (اس طرح) کرو کہ گویا اسے دیکھ رہے ہو پس اگر تم اس کو نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد ! مجھے قیامت کے بارے میں بتایئے؟ راوی فرماتے ہیں آپ نے سر مبارک جھکا دیا اور اسے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر اس نے سوال کیا تو آپ نے جواب نہ دیا پھر سوال کیا تو آپ نے جواب نہ دیا۔ پھر آپ نے اپنا سرِ انور اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی یا فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے جس سے پوچھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا البتہ اس کی کچھ علامات ہیں جن کے ذریعے اس کی پہچان ہو گی جب تم جانوروں کو چرانے والے لوگوں کو دیکھو کہ عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں اور جب تم ننگے پاؤں اورننگے جسم والوں کو زمین کے بادشاہ دیکھو اور جب عورت (لونڈی) اپنےمالک کو جنم دے(تو یہ قیامت کی علامات ہیں ) یہ ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کو (ذاتی طور) پر صرف اللہ جانتا ہے۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام وماتدری نفس ماذا تکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر‘‘’’بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ (عورتوں کے ) رحموں میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ جاننے والا‘ خبر رکھنے والا ہے۔‘‘’’ پھر آسمان میں ایک غبار بلند ہوئی‘ اور پھیلی تو رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد(صلى الله علیہ وسلم ) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اس بارے میں تم میں ا ن سے کسی ایک سے زیادہ علم نہیں رکھتا ۔ یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے جو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صورت میں تمہیں سکھانے آئے تھے ۔‘‘

أبي هُرَيرة، وأبي ذر ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبُو فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيُّ، ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 165

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 166

166- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَلِقَائِهِ، وَتُؤُمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا الإِسْلاَمُ؟ قَالَ: لاَ تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَمَتَى السَّاعَةُ؟ فَقَالَ: مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْمَرْأَةُ رَبَّتَهَا، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ رُؤُوسَ النَّاسِ، فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ اللَّهُ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ} الآيَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: رُدُّوهُ، الْتَمِسُوهُ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَالَ: ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم ایک دن صحابہ کرام میں موجود تھے کہ ایک شخص پیدل چلتا ہوا آیا اور اس نے کہا ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ‘ اس کے فرشتوں‘ اس کے رسولوں اور اسکی ملاقات اورآخرت میں اُٹھنے پر ایمان رکھو۔اس نے عرض کیا:یارسول اللہ!اسلام کیاہے؟آپ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہراؤفرض نمازقائم کرو،فرض زکوۃادا کرو‘ماہ رمضان کے روزےرکھو۔ اس نے عرض کیا :اے محمد ! احسان (اخلاص ) کیا ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھتا ہے۔اس نے کہا اے محمد ! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا: جس سے پو چھا گیا وہ پوچھنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا اور عنقریب میں تمہیں اس کی شرائط (علامات ) کے بارے میں بتاؤں گا۔ جب عورت اپنے آقا کو جنم دے اور تم ننگے پاؤں والوں کو لوگوں کے سردار دیکھو۔یہ ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔ ارشاد خداوندی ہے: ان الله عنده علم الساعة و ينزل الغيث ( آخر تک) پھر وہ شخص چلا گیا تو رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس بلا‘ؤ صحابہ کرام نے اسے تلاش کیا لیکن نہ پایا۔ آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے‘ یہ لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔

يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِيمَانُ؟ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ يَمْشِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 166

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 167

167- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم يَوْمًا لأَصْحَابِهِ: سَلُونِي، فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ حَتَّى وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَيُؤْمِنُ بِالْبَعْثِ وَبِالْقَدَرِ كُلِّهِ، وَيَقُولُ فِي كُلِّ مَسْأَلَةٍ: صَدَقْتَ، وَقَالَ: إِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكُمَ مُلُوكَ الأَرْضِ، وَرَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، وَقَالَ فِيهِ: أَنْ تَخْشَى اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: هَذَا جِبْرِيلُ. قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: أَرَادَ أَنْ تَعْلَمُوا أَنْ تَسْأَلُوهُ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: ”مجھ سے پوچھو۔“انہوں نے آپ سے پوچھنے میں خوف محسوس کیا ہے۔پس ایک شخص آیا اور اس نے اپنے ہاتھوں کو آپ کے گھٹنوں پر رکھا اور کہا اےمحمد! مجھے ایمان کے بارے میں بتایئے؟ اس کے بعد پہلی حدیث کی مثل ذکر کیا‘ اس میں یہ اضافہ ہے کہ تم آخرت پر اور تمام تقدیر پر ایمان لاؤ اور وہ ہر سوال کے جواب پر کہتا : آپ نےسچ فرمایا ہے۔اورآپ نے فرمایا:’’ جب تم ننگے پاؤں اور ننگے جسم والوں نیز گونگے اور بہرے لوگوں کوزمین کے بادشاہ دیکھو اور جانوروں کو چرانے والوں کو عمارتوں پر فخر کرتے ہوئے دیکھو گے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘اور حدیث میں فرمایا’’جبرائیل علیہ السلام تھے۔‘‘حضرت ابوزرعہ فرماتے ہیں: انہوں نے ارادہ کیا کہ تمہیں رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم سے سوال کرنے کاطریقہ سکھائیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 167

مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ - مَا يُرْوَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم: · حديث 168

168- أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلى الله عَلَيهِ وسَلم قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ فِي ذَلِكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي، فَاكْلَفُوا مِنَ الأعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ.

حضرت ابوزرعہ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ رسول اکرم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو۔“ (تین بار فرمایا)صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ نےفرمایا: تم اس سلسلے میں میری مثل نہیں ہو۔بے شک میں رات (اس طرح) گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے پس تم اسی طرح عمل کرو جس قدر طاقت رکھتےہو۔

إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ، ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ

Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 168

chevron_left Previous
1…131415…91
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter
1. Book
    120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter