Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 925

وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا طلاق إلا بعد نكاح ولا عتق إلا بعد ملك» .‏‏‏‏ رواه ابو يعلى وصححه الحاكم وهو معلول واخرج ابن ماجه عن المسور بن مخرمة مثله وإسناده حسن لكنه معلول ايضا

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں طلاق، مگر نکاح کے بعد اور اسی طرح آزادی نہیں مگر ملکیت کے بعد۔“ اسے ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے حالانکہ یہ معلول ہے اور ابن ماجہ نے سیدنا مسور بن مخرمہ کے واسطہ سے اسی جیسی ایک حدیث روایت کی ہے کہ جس کی اسناد تو اچھی ہیں لیکن وہ بھی معلول ہے۔

جَابِرٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 925

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 926

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا نذر لابن آدم فيما لا يملك ولا عتق له فيما لا يملك ولا طلاق له فيما لا يملك» .اخرجه ابو داود والترمذي وصححه ونقل عن البخاري انه اصح ما ورد فيه.

سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس نذر کی کوئی حیثیت نہیں جس کا انسان مالک نہیں اور نہ ایسے غلام کا آزاد کرنا کوئی حیثیت رکھتا ہے جس کا انسان مالک ہی نہیں اور نہ طلاق واقع ہو گی جو اس کے دینے والے کے اختیار میں نہ ہو۔“ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو کچھ وارد ہے، یہ اس میں صحیح ترین ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وعن عمرو بن شعيب

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 926

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 927

وعن عائشة رضي الله تعالى عنها عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ وعن الصغير حتى يكبر وعن المجنون حتى يعقل او يفيق» . رواه احمد والاربعة إلا الترمذي وصححه الحاكم.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سونے والا جب تک بیدار نہ ہو، بچہ جب تک بالغ نہ ہو، دیوانہ جب تک صحیح العقل نہ ہو۔“ بروایت امام احمد اور ابوداؤد، ابن ماجہ و نسائی۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

الصغير حتى يكبر ← النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ. ← ثَلَاثَةٍ ← رُفِعَ الْقَلَمُ ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 927

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 928

عن عمران بن حصين رضي الله عنه: انه سئل عن الرجل يطلق ثم يراجع ولا يشهد؟ فقال:" اشهد على طلاقها وعلى رجعتها". رواه ابو داود هكذا موقوفا وسنده صحيح واخرجه البيهقي بلفظ: ان عمران بن حصين سئل عمن راجع امراته ولم يشهد فقال:" في غير سنة فليشهد الآن" وزاد الطبراني في رواية:"ويستغفر الله".

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو طلاق دیتا ہے پھر رجوع کر لیتا ہے اور اس پر گواہ نہیں بناتا۔ انہوں نے جواب دیا ”کہ عورت کو طلاق دیتے اور اس سے رجوع کرتے وقت گواہ مقرر کر۔“ اسے ابوداؤد نے اسی طرح موقوف روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے امام بیہقی نے اس روایت کو ان الفاظ سے ذکر کیا ہے ”عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی سے رجوع کرے مگر گواہ نہ بنائے؟“ تو انہوں نے فرمایا ”غیر مسنون ہے اور اسے چاہیئے کہ اب گواہ بنا لے۔“ طبرانی نے ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ ”اسے اللہ سے معافی بھی مانگنی چاہیئے۔“

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 928

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 929

وعن ابن عمر رضي الله عنهما انه لما طلق امراته قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم لعمر: «‏‏‏‏مره فليراجعها» . متفق عليه.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”اسے کہو اپنی اہلیہ سے رجوع کر لے۔“ (بخاری و مسلم)

ابن عمر انه لما طلق امراته

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 929

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 930

عن عائشة رضي الله عنها قالت: آلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من نسائه وحرم فجعل الحرام حلالا وجعل لليمين كفارة. رواه الترمذي ورواته ثقات.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایلاء کیا اور (ان کے پاس جانا) حرام کر دیا۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال کو حرام کیا اس لئے قسم کا کفارہ مقرر فرمایا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 930

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 931

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: إذا مضت اربعة اشهر وقف المولي حتى يطلق ولا يقع عليه الطلاق حتى يطلق. اخرجه البخاري.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو ایلاء کرنے والے کو (حاکم وقت کے پاس) لا کھڑا کیا جائے اور اس وقت تک اسے چھوڑا نہ جائے جب تک وہ (عدالت کے روبرو) طلاق نہ دے اور طلاق دیئے بغیر اس پر طلاق واقع نہ ہو گی۔ (بخاری)

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 931

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 932

وعن سليمان بن يسار رضي الله عنه قال: ادركت بضعة عشر رجلا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كلهم يقفون المولي. رواه الشافعي.

سیدنا سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس سے زائد صحابہ کو پایا ہے کہ وہ ایلاء کرنے والے کو کھڑا کر کے پوچھتے تھے۔ اسے شافعی نے روایت کیا ہے۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 932

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 933

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كان إيلاء الجاهلية السنة والسنتين فوقت الله اربعة اشهر فإن كان اقل من اربعة اشهر فليس بإيلاء. اخرجه البيهقي.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جاہلیت کا ایلاء سال دو سال تک ہوتا تھا۔ اللہ عزوجل نے اس کی مدت چار ماہ مقرر فرما دی۔ اب اگر چار ماہ سے کم مدت ہو تو وہ ایلاء شمار نہیں ہو گا۔ (بیہقی)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 933

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 934

وعنه رضي الله عنه ان رجلا ظاهر من امراته ثم وقع عليها فاتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: إني وقعت عليها قبل ان اكفر؟؟ قال: «‏‏‏‏فلا تقربها حتى تفعل ما امرك الله به» .‏‏‏‏ رواه الاربعة وصححه الترمذي ورجح النسائي إرساله ورواه البزار من وجه آخر عن ابن عباس وزاد فيه: «‏‏‏‏كفر ولا تعد» .‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور پھر اس سے جماع کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے کفارہ کی ادائیگی سے پہلے ہی اپنی بیوی سے مباشرت کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اب اس وقت تک اس کے پاس نہ جا جب تک اللہ کا ارشاد نہ پورا کر لو۔“ اسے چاروں نے روایت کیا اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور نسائی نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے اور بزار نے ایک اور سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ”کفارہ ادا کر اور پھر اس کا اعادہ نہ کر۔“

ابن عباس وزاد فيه: «‏‏‏‏كفر ولا تعد» ← رجح النسائي إرساله ورواه البزار من وجه آخر ← «‏‏‏‏فلا تقربها حتى تفعل ما امرك الله به» رواه الاربعة وصححه الترمذي

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 934

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 935

وعن سلمة بن صخر رضي الله عنه قال: دخل رمضان فخفت ان اصيب امراتي فظاهرت منها فانكشف لي شيء عليها ليلة فوقعت عليه فقال لي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏حرر رقبة» ‏‏‏‏ فقلت: ما املك إلا رقبتي قال: «‏‏‏‏فصم شهرين متتابعين» ‏‏‏‏ قلت: وهل اصبت الذي اصبت إلا من الصيام؟ قال: «‏‏‏‏اطعم فرقا من تمر ستين مسكينا» .‏‏‏‏ اخرجه احمد والاربعة إلا النسائي وصححه ابن خزيمة وابن الجارود.

سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک شروع ہوا۔ مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ میں اپنی بیوی سے مباشرت کر بیٹھوں گا۔ اس اندیشہ کے پیش نظر میں نے بیوی سے ظہار کر لیا۔ ایک چاندنی رات میں اس کے بدن کی کوئی چیز میرے سامنے کھل گئی تو میں اس سے مجامعت کر بیٹھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کہ ”ایک گردن (غلام) آزاد کر۔“ میں نے عرض کیا میں تو اپنی گردن کے سوا دوسری کسی گردن کا مالک نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو پھر پے در پے دو ماہ کے روزے رکھ۔“ میں نے عرض کیا اس مصیبت میں روزے ہی کی وجہ سے تو مبتلا ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا تو پھر کھجوروں کا ایک ٹوکرا ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ اسے احمد اور چاروں نے ماسوا نسائی کے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن جارود نے اسے صحیح کہا ہے۔

دخل رمضان فخفت ← سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 935

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 936

عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال: سال فلان فقال: يا رسول الله ارايت ان لو وجد احدنا امراته على فاحشة كيف يصنع؟ إن تكلم تكلم بامر عظيم وإن سكت سكت على مثل ذلك؟ فلم يجبه فلما كان بعد ذلك اتاه فقال: إن الذي سالتك عنه قد ابتليت به فانزل الله الآيات في سورة النور فتلاهن عليه ووعظه وذكره واخبره ان عذاب الدنيا اهون من عذاب الآخرة قال: لا والذي بعثك بالحق ما كذبت عليها ثم دعاها فوعظها كذلك قالت: لا والذي بعثك بالحق إنه لكاذب فبدا بالرجل فشهد اربع شهادات بالله ثم ثنى بالمراة ثم فرق بينهما. رواه مسلم.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فلاں صاحب نے سوال کیا اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر ہم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کو فاحشہ فعل میں مبتلا پائے تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ اسے دوسروں سے بیان کرتا ہے تو یہ نہایت قبیح فعل ہے اور اگر خاموش رہتا ہے تو یہ بھی نہایت قبیح فعل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ پھر بعد میں جب وہ آیا تو اس نے کہا کہ تحقیق جو کچھ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہے، میں خود ہی اس میں مبتلا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیات نازل فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیات اس کے سامنے پڑھیں اور اسے نصیحت فرمائی اور اللہ کی سزا یاد کرائی اور فرمایا کہ ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ وہ بولا نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں نے اس پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اسے بھی اسی طرح نصیحت فرمائی۔ وہ بھی بولی نہیں اس خدا کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے یقیناً وہ مرد جھوٹا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد سے آغاز فرمایا۔ اس مرد نے چار قسمیں کھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے بھی قسمیں لیں اور دونوں کے درمیان تفریق فرما دی۔ (مسلم)

سال فلان فقال: ← ابن عمر رضي الله تعالى عنهما

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 936

chevron_left Previous
1…919293…114
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter