Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 913

وعن عبد الله بن زمعة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يجلد احدكم امراته جلد العبد» .‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی بھی اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے۔“ (بخاری)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 913

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 914

عن ابن عباس رضي الله عنهما: ان امراة ثابت بن قيس اتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقالت: يا رسول الله ثابت بن قيس ما اعيب عليه في خلق ولا دين ولكني اكره الكفر في الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اتردين عليه حديقته؟» ‏‏‏‏ فقالت: نعم،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «اقبل الحديقة وطلقها تطليقة» رواه البخاري وفي رواية له:" وامره بطلاقها". ولابي داود والترمذي وحسنه: ان امراة ثابت بن قيس اختلعت منه فجعل النبي صلى الله عليه وآله وسلم عدتها حيضة. وفي رواية عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده عند ابن ماجه: ان ثابت بن قيس كان دميما وان امراته قالت: لولا مخافة الله إذا دخل علي لبصقت في وجهه. ولاحمد من حديث سهل بن ابي حثمة: وكان ذلك اول خلع في الإسلام.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ٍ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ! میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے اخلاق اور دین میں کوئی عیب نہیں لگاتی۔ لیکن اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی؟“ وہ بولی ہاں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(اے ثابت)! اپنا باغ لے لو اور اسے طلاق دے دو۔“ (بخاری) ابوداؤد اور ترمذی میں ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے خلع کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیلئے عدت خلع ایک حیض مقرر فرمائی اور ابن ماجہ میں عمرو بن شعیب نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت بیان کی ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بدصورت کالے رنگ کا آدمی تھا اور اس کی بیوی نے کہا اگر مجھے خدا کا خوف و ڈر نہ ہوتا تو جس وقت وہ میرے پاس آیا تھا میں اس کے منہ پر تھوک دیتی۔ اور مسند احمد میں سہل بن ابی حثمہ سے مروی ہے کہ اسلام میں یہ پہلا خلع تھا۔

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 914

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 915

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ابغض الحلال إلى الله الطلاق» ‏‏‏‏ رواه ابو داود وابن ماجه وصححه الحاكم ورجح ابو حاتم إرساله.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بری چیز طلاق ہے۔“ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 915

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 916

وعن ابن عمر انه طلق امراته وهي حائض في عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فسال عمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن ذلك؟ فقال: «‏‏‏‏مره فليراجعها ثم ليتركها حتى تطهر ثم تحيض ثم تطهر ثم إن شاء امسك بعد وإن شاء طلق قبل ان يمس فتلك العدة التي امر الله عز وجل ان تطلق لها النساء» . متفق عليه،‏‏‏‏ وفي رواية لمسلم: «‏‏‏‏مره فليراجعها ثم ليطلقها طاهرا او حاملا» .‏‏‏‏ وفي اخرى للبخاري:" وحسبت تطليقة". وفي رواية لمسلم قال ابن عمر: اما انت طلقتها واحدة او اثنتين فإن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم امرني ان اراجعها ثم امسكها حتى تحيض حيضة اخرى ثم امهلها حتى تطهر ثم اطلقها قبل ان امسها واما انت طلقتها ثلاثا فقد عصيت ربك فيما امرك به من طلاق امراتك. وفي رواية اخرى قال عبد الله بن عمر: فردها علي ولم يرها شيئا وقال: «‏‏‏‏إذا طهرت فليطلق او ليمسك» .‏‏‏‏

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں طلاق دے دی جبکہ وہ حالت حیض میں تھی۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اسے کہو کہ رجوع کر لے اور اسے اس وقت تک روک لے کہ طہر شروع ہو جائے۔ پھر ایام آئیں پھر طہر شروع ہو پھر اگر چاہے تو اس کے بعد روک لے اور اگر چاہے تو طلاق دے۔ صحبت و مجامعت کرنے سے پہلے۔ پس یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اسے کہو ”کہ اس سے رجوع کر لے پھر اسے چاہیئے کہ طلاق ایسی حالت میں دے کہ وہ پاک ہو یا حاملہ ہو۔“ اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”یہ ایک طلاق شمار ہو گی۔“ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر تو نے عورت کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم ارشاد فرمایا کہ اس سے رجوع کر لوں۔ پھر اسے دوسرے حیض تک اپنے پاس رکھوں اور پھر اسے طہر تک مہلت دوں تب میں اسے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دوں اور اگر تو نے اسے تین طلاقیں دے ڈالیں تو، تو نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملے میں اپنے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ عورت کو مجھے واپس کر دیا گیا اور اس طلاق کو کچھ بھی نہ سمجھا گیا اور فرمایا گیا کہ جب عورت ایام سے پاک ہو جائے تو (ابن عمر رضی اللہ عنہما) طلاق دے یا روک لے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 916

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 917

وعن ابن عباس رضى الله عنهما قال: كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وابي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في امر كانت لهم فيه اناة فلو امضيناه عليهم فامضاه عليهم. رواه مسلم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور دور خلافت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقیں، ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسے معاملے میں جلدی کی جس میں ان کے لیے سہولت دی گئی تھی، پس چاہیئے کہ ہم اس کو نافذ کر دیں۔ لہذا آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو ان پر جاری کر دیا۔ (مسلم)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 917

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 918

وعن محمود بن لبيد رضي الله عنه قال: اخبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن رجل طلق امراته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال: «‏‏‏‏ايلعب بكتاب الله وانا بين اظهركم» ‏‏‏‏ حتى قام رجل فقال: يا رسول الله الا اقتله؟ رواه النسائي ورواته موثقون.

سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دے ڈالی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ”کیا اللہ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔“ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی ”یا رسول اللہ! کیا میں اسے قتل نہ کر ڈالوں؟“ نسائی اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

«‏‏‏‏ايلعب بكتاب الله وانا بين اظهركم» حتى قام رجل فقال: ← رجل طلق امراته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم ← اخبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← وعن محمود بن لبيد

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 918

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 919

وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: طلق ابو ركانة ام ركانة فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏راجع امراتك» ‏‏‏‏ فقال: إني طلقتها ثلاثا؟ قال: «‏‏‏‏قد علمت راجعها» رواه ابو داود وفي لفظ لاحمد: طلق ابو ركانة امراته في مجلس واحد ثلاثا فحزن عليها فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏فإنها واحدة» ‏‏‏‏ وفي سندهما ابن إسحاق وفيه مقال وقد روى ابو داود من وجه آخر احسن منه: ان ابا ركانة طلق امراته سهيمة البتة فقال: والله ما اردت بها إلا واحدة،‏‏‏‏ فردها إليه النبي صلى الله عليه وآله وسلم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابورکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”ام رکانہ سے رجوع کر لو۔“ ابورکانہ رضی اللہ عنہ بولے میں نے اسے تین طلاق دے دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو۔“ (ابوداؤد) اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں۔ پھر اس پر پشیمان ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورکانہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”وہ تینوں طلاقیں ایک ہی ہیں۔“ ان دونوں روایتوں میں ابن اسحٰق ہے جس کے متعلق کلام ہے اور ابوداؤد نے ایک دوسرے طریق سے اسے روایت کیا ہے جو اس سے بہتر ہے وہ یہ کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سھیمہ کو بالکل طلاق دے دی (یعنی تینوں طلاقیں) اور پھر کہا کہ بخدا میں نے ایک طلاق کی نیت کی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام رکانہ رضی اللہ عنہا کو واپس لوٹا دیا۔

ابن عباس رضي الله تعالى عنهما

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 919

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 920

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة» .‏‏‏‏ رواه الاربعة إلا النسائي وصححه الحاكم وفي رواية لابن عدي من وجه آخر ضعيف: «‏‏‏‏الطلاق والنكاح والعتاق» .‏‏‏‏وللحارث بن ابي اسامة من حديث عبادة بن الصامت رفعه: «‏‏‏‏لا يجوز اللعب في ثلاث: الطلاق والنكاح والعتاق فمن قالهن فقد وجبن» .‏‏‏‏ وسنده ضعيف.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین امور ایسے ہیں کہ ان کی سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور ان کا مذاق بھی سنجیدگی ہے۔ نکاح، طلاق اور رجوع کرنا۔“ اسے چاروں نے روایت کیا ہے بجز نسائی کے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ابن عدی کی ایک دوسری ضعیف روایت میں ہے ”طلاق، آزادی اور نکاح۔“ اور حارث بن ابی اسامہ کی روایت جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوع مروی ہے، میں ہے ”تین چیزوں میں مذاق کرنا جائز نہیں طلاق، نکاح اور آزادی۔ جو آدمی ان امور کو مذاق سے بھی کہے گا تو وہ واجب ہو جائیں گے۔“ اس کی سند ضعیف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 920

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 921

وعن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إن الله تعالى تجاوز عن امتي ما حدثت به انفسها ما لم تعمل او تكلم» . متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل کے وسوسہ (پر گرفت و مؤاخذہ) سے درگزر فرما دیا ہے۔ اور یہ اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک کوئی زبان سے نہ کہے اور عمل نہ کرے۔“ (بخاری و مسلم)

به انفسها ما لم تعمل او تكلم» متفق عليه. ← امتي ما ← «‏‏‏‏إن الله تعالى تجاوز ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← وعن ابي هريرة

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 921

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 922

وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إن الله وضع عن امتي الخطا والنسيان وما استكرهوا عليه» ‏‏‏‏ رواه ابن ماجه والحاكم وقال ابو حاتم: لا يثبت.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس پر اسے مجبور کیا گیا ہو معاف فرما دیا ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔

ابو حاتم: لا يثبت. ← امتي الخطا والنسيان وما استكرهوا عليه» رواه ابن ماجه والحاكم ← إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← ابن عباس رضي الله تعالى عنهما

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 922

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 923

وعن ابن عباس قال: إذا حرم الرجل امراته ليس بشيء وقال: لقد كان لكم في رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم اسوة حسنة. رواه البخاري. ولمسلم: عن ابن عباس: إذا حرم الرجل امراته فهو يمين يكفرها.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کو حرام قرار دے تو یہ کوئی چیز نہیں اور فرمایا تمہارے لئے یقیناَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (بخاری) اور مسلم میں ہے کہ جب مرد نے اپنی بیوی کو حرام قرار دے لیا تو وہ قسم شمار ہو گی۔ اس کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 923

بلوغ المرام · كتاب النكاح ‹ باب · حديث 924

وعن عائشة رضي الله تعالى عنها ان ابنة الجون لما ادخلت على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ودنا منها قالت: اعوذ بالله منك فقال لها: «‏‏‏‏لقد عذت بعظيم الحقي باهلك» . رواه البخاري.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جون کی بیٹی جب نکاح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت گاہ میں داخل کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب ہوئے تو اس نے کہا میں آپ سے اللہ کی پناہ پکڑتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تو نے بڑی عظیم الشان ذات کی پناہ طلب کی ہے۔ تو اپنے گھر والوں کے ساتھ جا مل۔“ (بخاری)

لها: «‏‏‏‏لقد عذت بعظيم الحقي باهلك» رواه البخاري. ← أعوذُ بالله منك،

Bulugh Al Maram · The Book of Marriage › Chapter · Hadith 924

chevron_left Previous
1…909192…114
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter