Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 483

عن ابن عباس رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعث معاذا إلى اليمن فذكر الحديث وفيه: «‏‏‏‏إن الله قد افترض عليهم صدقة في اموالهم تؤخذ من اغنيائهم فترد في فقرائهم» . متفق عليه واللفظ للبخاري.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ فرمایا، پھر ساری حدیث بیان کی جس میں ہے ”اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر زکوٰۃ فرض کی گئی ہے، جو ان کے مالداروں سے وصول کی جائے اور انہیں کے محتاجوں اور غریبوں میں تقسیم کر دی جائے۔“ (بخاری)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 483

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 484

وعن انس ان ابا بكر الصديق رضي الله عنه كتب له: هذه فريضة الصدقة التي فرضها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على المسلمين والتي امر الله بها رسوله: «‏‏‏‏في كل اربع وعشرين من الإبل فما دونها الغنم: في كل خمس شاة فإذا بلغت خمسا وعشرين إلى خمس وثلاثين فيها بنت مخاض اثنى فإن لم تكن فابن لبون ذكر فإذا بلغت ستا وثلاثين إلى خمس واربعين ففيها بنت لبون انثى فإذا بلغت ستا واربعين إلى ستين ففيها حقة طروق الجمل فإذا بلغت واحدة وستين إلى خمس وسبعين ففيها جذعة فإذا بلغت ستا وسبعين إلى تسعين ففيها بنتا لبون فإذا بلغت إحدى وتسعين إلى عشرين ومائة ففيها حقتان طروقتا الجمل فإذا زادت على عشرين ومائة ففي كل اربعين بنت لبون وفي كل خمسين حقة ومن لم يكن معه إلا اربع من الإبل فليس فيها صدقة إلا ان يشاء ربها. وفي صدقة الغنم في سائمتها إذع كانت اربعين إلى عشرين ومائة شاة شاة فإذا زادت على عشرين ومائة إلى مائتين ففيها شاتان فإذا زادت على مائتين إلى ثلاثمائة ففيها ثلاث شياه فإذا زادت على ثلاثمائة ففي كل مائة شاة. فإذا كانت سائمة الرجل ناقصة من اربعين شاة شاة واحدة فليس فيها صدقة إلا ان يشاء ربها ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة وما كان من خلطين فإنهما تتراجعان بينهما بالسوية ولا يخرج في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس إلا ان يشاء المصدق وفي الرقة: في مائتي درهم ربع العشر فإن لم تكن إلا تسعين ومائة فليس فيها صدقة إلا ان يشاء ربها ومن بلغت عنده من الإبل صدقة الجذعة،‏‏‏‏ وليست عنده جذعة وعنده حقة فإنها تقبل منه ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده الحقة وعنده الجذعة فإنها تقبل منه الجذعة ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين» .‏‏‏‏ رواه البخاري.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو فریضہ زکٰوۃ کے سلسلہ میں یہ تحریر لکھ کر دی تھی۔ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمایا تھا اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا کہ اونٹوں کی چوبیس یا اس سے کم تعداد پر بکریاں ہیں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری، جب تعداد پچیس سے بڑھ کر پینتیس ہو جائے تو اس تعداد پر ایک سالہ اونٹنی۔ اگر میسر نہ ہو تو پھر دو سالہ نر بچہ اور جب چھتیس سے تعداد بڑھ کر پینتالیس تک پہنچ جائے تو ان میں دو سالہ اونٹنی اور جب چھیالیس سے بڑھ کر ساٹھ تک تعداد پہنچ جائے تو ان میں تین سالہ جوان اونٹ جفتی کے قابل اونٹنی اور جب اکسٹھ سے بڑھ کر پچھتر تک پہنچ جائے تو ان میں چار سالہ اونٹ اور جب چھہتر سے تعداد بڑھ کر نوے ہو جائے تو ان میں دو ‘ دو سالہ دو اونٹنیاں اور پھر اکانوے سے بڑھ کر تعداد ایک سو بیس تک پہنچ جائے تو ان میں تین ‘ تین سالہ دو جوان اونٹنیاں۔ جو اونٹ کی جفتی کے قابل ہوں۔ اور جب تعداد ایک سو بیس سے زائد ہو جائے تو پھر ہر چالیس اونٹوں پر ایک دو سالہ اونٹنی اور ہر پچاس پر تین سالہ اور جس کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو اس تعداد پر کوئی زکٰوۃ نہیں الایہ کہ ان کا مالک چاہے اور بکریوں کی زکٰوۃ کہ جو باہر چرنے جاتی ہوں ‘ چالیس سے لے کر ایک سو بیس کی تعداد پر صرف ایک بکری زکٰوۃ میں وصول کی جائے گی۔ جب یہ تعداد ایک سو بیس سے بڑھ کر دو سو تک پہنچ جائے گی تو دو بکریاں زکٰوۃ میں وصول کی جائیں گی۔ پھر جب دو سو سے بڑھ کر تین سو تک پہنچ جائے گی تو تین بکریاں وصول کی جائیں گی۔ جب تعداد تین سو سے بڑھ جائے گی تو ہر سو بکری پر ایک بکری زکٰوۃ وصول کی جائے گی ‘ اگر کسی کی باہر جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم تعداد میں ہوں تو مالک پر کوئی زکٰوۃ نہیں الایہ کہ مالک چاہے۔ زکٰوۃ کے ڈر سے نہ تو الگ الگ چرنے والیوں کو اکٹھا کیا جائے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو الگ الگ۔ اور جو جانور دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہوں وہ مساوی طور پر زکٰوۃ کا حصہ نکالیں۔ زکٰوۃ کی مد میں بوڑھا اور نہ یک چشم جانور اور نہ سانڈ لیا جائے الایہ کہ زکٰوۃ دینے والا خود چاہے۔ اور چاندی کے سکوں کا نصاب دو سو درہم ہے اس میں سے چالیسواں حصہ زکٰوۃ ہے۔ اگر کسی کے پاس دو سو درہم سے ایک درہم بھی کم ہے تو اس پر زکٰوۃ واجب نہیں الایہ کہ اس کا مالک خود دینا چاہے۔ اور جس کے اونٹوں کی زکٰوۃ میں چار سالہ اونٹ واجب الوصول ہو اور اس کے پاس اس عمر کا اونٹ نہ ہو اور اس کے پاس تین سالہ ہو جوان اونٹنی تو اس سے دو بکریاں اور تین سالہ جفتی کے لائق جوان اونٹنی وصول کی جائے بشرطیکہ بکریاں بآسانی دستیاب ہو سکیں یا بیس درہم دینا ہوں گے اور جس کی زکٰوۃ میں تین سالہ جوان اونٹنی آتی ہو اور اس کے پاس چار سالہ اونٹ ہو تو اس سے وہی چار سالہ اونٹ ہی وصول کر لیا جائے گا مگر زکٰوۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے گا (بخاری)

له: هذه فريضة الصدقة التي فرضها رسول الله صلى الله عليه ← أَنَسٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ

Hadith 484

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 485

وعن معاذ بن جبل رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعثه إلى اليمن،‏‏‏‏ فامره ان ياخذ من كل ثلاثين بقرة تبيعا او تبيعة،‏‏‏‏ ومن كل اربعين مسنة،‏‏‏‏ ومن كل حالم دينارا،‏‏‏‏ او عدله معافريا. رواه الخمسة واللفظ لاحمد وحسنه الترمذي واشار إلى اختلاف في وصله،‏‏‏‏ وصححه ابن حبان والحاكم.

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کی طرف (عامل مقرر کر کے) بھیجا۔ ان کو حکم دیا کہ وہ تیس گائیوں پر ایک سالہ مادہ گائے یا نر بچھڑا وصول کریں اور ہر چالیس کی تعداد پر ایک دو سالہ بچھڑا لیا جائے اور ہر نوجوان سے ایک دینار یا معافری کپڑا لیا جائے۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور اس کے موصول ہونے کے بارے میں اختلاف کا اشارہ کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم دونوں نے اسے صحیح کہا ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ

Hadith 485

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 486

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏تؤخذ صدقات المسلمين على مياههم» .‏‏‏‏ رواه احمد. ولابي داود: «‏‏‏‏ولا تؤخذ صدقاتهم إلا في دورهم» .

سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے پانی پلانے کی جگہوں پر وصول کی جائے گی۔“ احمد، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ مسلمانوں کے صدقات ان کے گھروں ہی پر حاصل کیے جائیں گے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وعن عمرو بن شعيب

Hadith 486

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 487

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ليس على المسلم في عبده ولا في فرسه صدقة» .‏‏‏‏ رواه البخاري. ولمسلم: «‏‏‏‏ليس في العبد صدقة إلا صدقة الفطر» .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ ہے اور نہ اس کے گھوڑے میں۔“ (بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ”غلام میں زکوٰۃ نہیں مگر صدقہ فطر ہے۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 487

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 488

وعن بهز بن حكيم عن ابيه عن جده رضي الله عنهم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏في كل سائمة إبل في اربعين بنت لبون لا تفرق إبل عن حسابها من اعطاها مؤتجرا بها فله اجرها ومن منعها فإنا آخذوها وشطر ماله عزمة من عزمات ربنا لا يحل لآل محمد منها شيء» .‏‏‏‏ رواه احمد وابو داود والنسائي وصححه الحاكم وعلق الشافعي القول به على ثبوته.

سیدنا بہز بن حکیم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” چرنے والے تمام اونٹوں میں چالیس پر ایک، دو سالہ اونٹنی ہے اور اونٹوں کو ان کے حساب سے جدا نہ کیا جائے گا اور جو شخص حصول ثواب کی نیت سے زکٰوۃ ادا کرے گا اس کو اس کا ثواب بھی ملے گا اور جس نے زکٰوۃ روک لی تو ہم زکٰوۃ زبردستی وصول کریں گے اور اس کا کچھ مال بھی، ہمارے پروردگار کے فرائض میں سے ایک لازمی حصہ ہے، ان میں سے کوئی چیز بھی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حلال نہیں ہے۔ “ اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور شافعی نے اس کے ثابت ہونے پر اپنے قول کو معلق رکھا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← وعن بهز بن حكيم

Hadith 488

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 489

وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا كانت لك مائتا درهم وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم وليس عليك شيء حتى يكون لك عشرون دينارا وحال عليها الحول ففيها نصف دينار فما زاد فبحساب ذلك وليس في مال زكاة حتى يحول عليه الحول» .‏‏‏‏ رواه ابو داود،‏‏‏‏ وهو حسن،‏‏‏‏ وقد اختلف في رفعه.وللترمذي عن ابن عمر رضي الله عنهما: من استفاد مالا فلا زكاة عليه حتى يحول عليه الحول. والراجح وقفه.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تیرے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر پورا سال گذر جائے تو ان میں پانچ درہم زکوٰۃ ہے۔ جب تک تیرے پاس بیس دینار نہ ہوں اور ان پر پورا سال گزر نہ جائے، اس وقت تک تجھ پر کوئی چیز نہیں۔ جب بیس دینار ہوں تو ان میں نصف دینار زکوٰۃ ہے۔ جو اس سے زیادہ ہو گا تو اسی حساب سے زکوٰۃ ہو گی۔ کسی بھی مال پر اس وقت تک زکوٰۃ نہیں جب تک اس پر پورا سال نہ گزر جائے۔“ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور یہ حسن ہے۔ اس کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے۔ اور ترمذی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جو مالی سال کے دوران حاصل ہو اس پر بھی سال گزرنے سے پہلے کوئی زکوٰۃ نہیں اور راجح یہی ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔

عَلِيٍّ،

Hadith 489

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 490

وعن علي رضي الله عنه قال: ليس في البقر العوامل صدقة. رواه ابو داود والدارقطني،‏‏‏‏ والراجح وقفه ايضا.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کام کرنے والے بیلوں پر زکٰوۃ واجب نہیں۔ اسے ابوداؤد اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ راجح یہی ہے کہ یہ بھی موقوف ہے۔

ليس في البقر العوامل صدقة. رواه ابو داود والدارقطني،‏‏‏‏ والراجح وقفه ايضا. ← وعن علي

Hadith 490

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 491

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده عبد الله بن عمرو رضي الله عنهم ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من ولي يتيما له مال فليتجر له ولا يتركه حتى تاكله الصدقة» . رواه الترمذي والدارقطني وإسناده ضعيف وله شاهد مرسل عند الشافعي.

سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کسی یتیم کا متولی بنے اسے چاہیئے کہ مال یتیم کو تجارت میں لگائے، اسے یوں ہی بیکار پڑا نہ رہنے دے کہ زکوٰۃ ہی اسے کھا جائے۔“ اسے ترمذی اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ اس کی سند ضعیف ہے، البتہ امام شافعی کے پاس ایک مرسل روایت اس کی شاہد ہے۔

جده عبد الله بن عمرو ← أَبِيهِ ← وعن عمرو بن شعيب

Hadith 491

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 492

وعن عبد الله بن ابي اوفى رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا اتاه قوم بصدقتهم قال: «‏‏‏‏اللهم صل عليهم» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب لوگ زکوٰۃ لے کر حاضر ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے یوں دعا فرماتے «اللهم صل عليهم» ”یا اللہ! ان پر رحم و کرم فرما۔“ (بخاری و مسلم)

«‏‏‏‏اللهم صل عليهم» متفق عليه. ← كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا اتاه قوم بصدقتهم ← وعن عبد الله بن ابي اوفى

Hadith 492

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 493

وعن علي رضي الله عنه: ان العباس رضي الله عنه سال النبي صلى الله عليه وآله وسلم في تعجيل صدقته قبل ان تحل فرخص له في ذلك. رواه الترمذي والحاكم.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آیا زکوٰۃ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ادا ہو سکتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔ (ترمذی، مستدرک حاکم)

Hadith 493

بلوغ المرام · كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 494

وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏ليس فيما دون خمس اواق من الورق صدقة وليس فيما دون خمس ذود من الإبل صدقة وليس فيما دون خمسة اوسق من الثمر صدقة» .‏‏‏‏ رواه مسلم. وله من حديث ابي سعيد: «‏‏‏‏ليس فيما دون خمسة اوساق من تمر ولا حب صدقة» .‏‏‏‏ واصل حديث ابي سعيد متفق عليه.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ اسی طرح اونٹوں کی تعداد پانچ سے کم ہو تو ان پر بھی زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم کھجوروں پر بھی زکوٰۃ نہیں۔“ (مسلم) اور مسلم میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانچ وسق سے کم کھجوروں یا غلہ پر زکوٰۃ نہیں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کی اصل بخاری و مسلم میں ہے۔

رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Hadith 494

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter