بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1034
عن ابي هريرة وزيد بن خالد الجهني رضي الله عنهما ان رجلا من الاعراب اتى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال: يا رسول الله انشدك الله إلا قضيت لي بكتاب الله فقال الآخر وهو افقه منه: نعم فاقض بيننا بكتاب الله واذن لي فقال: «قل» قال: إن ابني كان عسيفا على هذا فزنى بامراته وإني اخبرت ان على ابني الرجم فافتديت منه بمائة شاة ووليدة فسالت اهل العلم فاخبروني انما على ابني: جلد مائة وتغريب عام وان على امراة هذا الرجم، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله: الوليدة والغنم رد عليك وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، واغد يا انيس إلى امراة هذا؛ فإن اعترفت فارجمها» . متفق عليه وهذا اللفظ لمسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ آپ کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ فرمائیں اور دوسرا جو اس کے مقابل میں زیادہ سمجھدار اور دانا تھا، نے بھی کہا کہ ہمارے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بیان کرو۔ “ وہ بولا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدوری پر کام کرتا تھا اس کی اہلیہ سے زنا کا مرتکب ہو گیا اور مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہے تو میں نے اس کے فدیے میں (بدلے میں) ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر اس کی جان چھڑائی۔ اس کے بعد میں نے اہل علم حضرات سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس عورت کو سزائے رجم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ کے عین مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ لونڈی اور بکریاں تمہیں واپس لوٹائی جائیں گی اور تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور سال بھر کی جلا وطنی ہے۔ اے انیس! تم اس آدمی کی اہلیہ کے پاس جاؤ (اور اس سے پوچھو) اگر وہ اس کا اعتراف کر لے تو اسے سنگسار کر دو۔ “ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔
Hadith 1034
