Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 993

عن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يحل دم امرىء مسلم يشهد ان لا إله إلا الله واني رسول الله إلا بإحدى ثلاث: الثيب الزاني والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے جو شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں مگر تین شخص اس سے مستثنیٰ ہیں۔ شادی شدہ زانی اور جان کے بدلہ میں جان اور اپنے دین کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے والا۔“ (بخاری و مسلم)

ابن مسعود رضي الله تعالى عنه

Hadith 993

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 994

وعن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يحل قتل مسلم إلا بإحدى ثلاث خصال: زان محصن فيرجم ورجل يقتل مسلما متعمدا فيقتل ورجل يخرج من الإسلام فيحارب الله ورسوله فيقتل او يصلب او ينفى من الارض» ‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي وصححه الحاكم.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان آدمی کا قتل حلال نہیں بجز تین صورتوں میں سے کسی ایک کے۔ شادی شدہ زانی، پس اسے سنگسار کیا جائے اور وہ آدمی جو دیدہ دانستہ کسی مسلمان بھائی کو قتل کرے پس اسے قتل کیا جائے گا اور ایک وہ آدمی جو دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے اور اللہ اور اس کے رسول سے (لڑائی) شروع کر دے۔ پس اسے قتل کیا جائے گا یا سولی دی جائے گی یا اسے جلا وطن کیا جائے گا۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← عَائِشَةَ

Hadith 994

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 995

وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے روز لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جن مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا وہ خون کے مقدمات ہوں گے۔“ (بخاری و مسلم)

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ

Hadith 995

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 996

وعن سمرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من قتل عبده قتلناه ومن جدع عبده جدعناه» ‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة وحسنه الترمذي وهو من رواية الحسن البصري عن سمرة وقد اختلف في سماعه منه وفي رواية ابي داود والنسائي بزيادة: «‏‏‏‏ومن خصى عبده خصيناه» ‏‏‏‏ وصحح الحاكم هذه الزيادة.

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس مالک نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے اور جس نے اس کا ناک، کان کاٹا ہم اس کا ناک، کان کاٹ دیں گے۔“ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ یہ سمرہ سے حسن بصری کی روایت ہے اور سمرہ سے حسن بصری کے سماع میں اختلاف ہے اور ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ ”جس مالک نے اپنے غلام کو خصی کیا ہم اسے خصی کر دیں گے۔“ اس اضافہ کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

سمرة رضي الله تعالى عنه

Hadith 996

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 997

وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏لا يقاد الوالد بالولد» ‏‏‏‏ رواه احمد والترمذي وابن ماجه وصححه ابن الجارود والبيهقي وقال الترمذي: إنه مضطرب.

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔“ اسے احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن جارود اور بیہقی نے صحیح قرار دیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اضطراب ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،

Hadith 997

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 998

وعن ابي جحيفة قال: قلت لعلي: هل عندكم شيء من الوحي غير القرآن؟ قال: لا والذي فلق الحبة وبرا النسمة إلا فهما يعطيه الله تعالى رجلا في القرآن وما في هذه الصحيفة قلت: وما في هذه الصحيفة؟ قال: العقل وفكاك الاسير وان لا يقتل مسلم بكافر" رواه البخاري واخرجه احمد وابو داود والنسائي من وجه آخر عن علي رضي الله تعالى عنه وقال فيه:" المؤمنون تتكافا دماؤهم ويسعى بذمتهم ادناهم وهم يد على من سواهم ولا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده" وصححه الحاكم.

سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، کیا آپ لوگوں کے پاس قرآن کے علاوہ وحی کے ذریعہ نازل شدہ کوئی اور چیز بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں! اس ذات کی قسم! جس نے دانہ و غلہ اگایا اور جان کو پیدا فرمایا سوائے اس فہم کے جسے اللہ تعالیٰ کسی انسان کو قرآن کے بارے میں عطا فرماتا ہے اور جو کچھ اس صحیفہ میں تحریر ہے (میرے پاس کچھ نہیں) میں نے سوال کیا کہ اس صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ دیت کے احکام، قیدی کو آزاد کرنے کا حکم اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (بخاری) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو احمد، ابوداؤد اور نسائی نے ایک دوسری سند سے بیان کیا ہے اور اس میں ہے کہ ”سب مومنوں کے خون برابر ہیں اور ان میں سے ادنی آدمی کی ذمہ داری کی حیثیت بڑے آدمی کے برابر ہے اور اپنے سوا وہ غیر مسلموں کے مقابلہ میں سب ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں اور کوئی مومن کسی کافر کے عوض قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی معاہد (ذمی) کو اس کے زمانہ عہد میں قتل کیا جا سکتا ہے۔“ اس روایت کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

أَبِي جُحَيْفَةَ

Hadith 998

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 999

وعن انس بن مالك رضي الله تعالى عنه: ان جارية وجد راسها قد رض بين حجرين فسالوها: من صنع بك هذا؟ فلان فلان؟ حتى ذكروا يهوديا فاومات براسها فاخذ اليهودي فاقر فامر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ان يرض راسه بين حجرين. متفق عليه واللفظ لمسلم.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس سے دریافت کیا کہ تمہارے ساتھ ایسا کس نے کیا ہے؟ پھر خود ہی کہا کہ فلاں نے، فلاں نے، اس طرح نام لیتے ہوئے ایک یہودی کے نام پر پہنچے تو اس نے سر کے اشارہ سے کہا۔ ہاں! یہودی گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے اس جرم کا اقرار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا جائے۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم میں ہیں۔

Hadith 999

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1000

وعن عمران بن حصين رضي الله عنه: ان غلاما لاناس فقراء قطع اذن غلام لاناس اغنياء فاتوا النبي صلى الله عليه وآله وسلم فلم يجعل لهم شيئا". رواه احمد والثلاثة بإسناد صحيح

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فقراء لوگوں کے ایک غلام نے امراء لوگوں کے غلام کا کان کاٹ لیا تو یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے کوئی چیز مقرر نہ فرمائی۔ اسے احمد اور تینوں نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

Hadith 1000

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1001

وعن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضي الله عنهما ان رجلا طعن رجلا بقرن في ركبته فجاء إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: اقدني فقال: «حتى تبرا» ‏‏‏‏ ثم جاء إليه فقال: اقدني،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاقاده،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم جاء إليه فقال: يا رسول الله عرجت فقال: «قد نهيتك فعصيتني فابعدك الله وبطل عرجك» ‏‏‏‏ ثم نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ان يقتص من جرح حتى يبرا صاحبه. رواه احمد والدارقطني واعل بالإرسال.

سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں سینگ چبھو دیا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا مجھے اس سے قصاص لے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” زخم مندمل ہونے کے بعد آنا۔“ وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا مجھے قصاص دلوائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلوایا اس کے بعد پھر آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول! میں لنگڑا ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں نے تجھے منع کیا تھا لیکن تو نے میری بات نہ مانی۔ اللہ تعالیٰ نے تجھے دور کر دیا اور تیرے لنگڑے پن کو باطل کر دیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” زخموں کا قصاص اس وقت تک لینا ممنوع ہے کہ جب تک زخمی آدمی صحت مند و تندرست نہ ہو جائے۔“ اس روایت کو احمد اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول کہا ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ

Hadith 1001

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1002

وعن ابي هريرة قال: اقتتلت امراتان من هذيل فرمت إحداهما الاخرى بحجر فقتلتها وما في بطنها. فاختصموا إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقضى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ان دية جنينها غرة عبد او وليدة وقضى بدية المراة على عاقلتها وورثها ولدها ومن معهم فقال حمل بن النابغة الهذلي: يا رسول الله كيف يغرم من لا شرب ولا اكل ولا نطق ولا استهل؟ فمثل ذلك يطل فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إنما هذا من إخوان الكهان» من اجل سجعه الذي سجع. متفق عليه. واخرجه ابو داود والنسائي من حديث ابن عباس: ان عمر سال من شهد قضاء رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الجنين؟ قال: فقام حمل بن النابغة فقال: كنت بين يدي امراتين فضربت إحداهما الاخرى". فذكره مختصرا وصححه ابن حبان والحاكم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں اور ایک نے دوسری پر پتھر دے مارا۔ اس پتھر سے وہ عورت اور اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا تو اس کے وارث مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا ” جنین کے بدلے ایک لونڈی یا غلام ہے اور عورت کے بدلے قاتل کے وارثوں پر دیت عائد فرما دی اور اس کے خون بہا کا وارث اس کی اولاد کو بنایا اور ان وارثوں کو بھی جو ان کے ساتھ تھے۔“ حمل بن نابغہ ھذلی نے کہا ” اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم ایسے بچے کا بدلہ کیسے دیں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ بولا اور نہ چیخا۔ اس طرح کا حکم تو قابل اعتبار نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس نے تو کاہنوں کی سی قافیہ بندی کی ہے۔“ (بخاری و مسلم) ابوداؤد اور نسائی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کون شخص جنین کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے موقع پر حاضر تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حمل بن نابغہ کھڑا ہوا اور بیان کیا کہ میں اس وقت ان دو عورتوں کے درمیان تھا، جب ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا تھا۔ پھر مختصر حدیث کا ذکر کیا۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 1002

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1003

وعن انس ان الربيع بنت النضر عمته كسرت ثنية جارية فطلبوا إليها العفو فابوا فعرضوا الارش فابوا فاتوا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فابوا إلا القصاص فامر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالقصاص،‏‏‏‏ فقال انس بن النضر: يا رسول الله اتكسر ثنية الربيع؟ لا والذي بعثك بالحق لا تكسر ثنيتها فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يا انس كتاب الله القصاص» ‏‏‏‏ فرضي القوم فعفوا فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن من عباد الله من لو اقسم على الله لابره» . متفق عليه واللفظ للبخاري.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک انصاری لڑکی کے دانت توڑ دئیے۔ ربیع کے رشتہ داروں نے اس سے معافی طلب کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے دیت دینے کی پیش کش کی۔ اسے بھی انہوں نے رد کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں آئے اور قصاص کا مطالبہ کیا اور قصاص کے سوا کسی بھی چیز کو لینے سے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ فرما دیا۔ یہ سن کر سیدنا انس بن نضر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، اس ذات اقدس کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے انس! اللہ کا نوشتہ تو قصاص ہی ہے۔ اتنے میں وہ لوگ اس پر رضامند ہو گئے اور پھر معافی دے دی۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔

أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ:

Hadith 1003

بلوغ المرام · كتاب الجنايات ‹ باب · حديث 1004

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من قتل في عميا او رميا بحجر او سوط او عصا فعقله عقل الخطا ومن قتل عمدا فهو قود ومن حال دونه فعليه لعنة الله» ‏‏‏‏ اخرجه ابو داود والنسائي وابن ماجه بإسناد قوي.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص اندھا دھند لڑائی میں قتل ہو جائے یا پتھر پھینکنے سے قتل ہو جائے یا کوڑے اور لاٹھی سے مر جائے تو اس کی دیت، خطا کی دیت ہو گی۔ جو شخص عمداً قتل کیا جائے گا تو اس کا قصاص ہے اور جو شخص قصاص لینے میں حائل ہوا تو ایسے شخص پر اللہ کی لعنت ہے۔“ اس حدیث کو ابوداؤد اور نسائی نے قوی سند سے روایت کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 1004

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter