Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1034

عن ابي هريرة وزيد بن خالد الجهني رضي الله عنهما ان رجلا من الاعراب اتى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال: يا رسول الله انشدك الله إلا قضيت لي بكتاب الله فقال الآخر وهو افقه منه: نعم فاقض بيننا بكتاب الله واذن لي فقال: «‏‏‏‏قل» ‏‏‏‏ قال: إن ابني كان عسيفا على هذا فزنى بامراته وإني اخبرت ان على ابني الرجم فافتديت منه بمائة شاة ووليدة فسالت اهل العلم فاخبروني انما على ابني: جلد مائة وتغريب عام وان على امراة هذا الرجم،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله: الوليدة والغنم رد عليك وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام،‏‏‏‏ واغد يا انيس إلى امراة هذا؛ فإن اعترفت فارجمها» .‏‏‏‏ متفق عليه وهذا اللفظ لمسلم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ آپ کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ فرمائیں اور دوسرا جو اس کے مقابل میں زیادہ سمجھدار اور دانا تھا، نے بھی کہا کہ ہمارے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے کچھ عرض کرنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بیان کرو۔ “ وہ بولا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدوری پر کام کرتا تھا اس کی اہلیہ سے زنا کا مرتکب ہو گیا اور مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہے تو میں نے اس کے فدیے میں (بدلے میں) ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دے کر اس کی جان چھڑائی۔ اس کے بعد میں نے اہل علم حضرات سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور اس عورت کو سزائے رجم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم دونوں کے درمیان کتاب اللہ کے عین مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ لونڈی اور بکریاں تمہیں واپس لوٹائی جائیں گی اور تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور سال بھر کی جلا وطنی ہے۔ اے انیس! تم اس آدمی کی اہلیہ کے پاس جاؤ (اور اس سے پوچھو) اگر وہ اس کا اعتراف کر لے تو اسے سنگسار کر دو۔ “ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

Hadith 1034

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1035

وعن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏خذوا عني خذوا عني فقد جعل الله لهن سبيلا: البكر بالبكر جلد مائة ونفي سنة والثيب بالثيب جلد مائة والرجم» ‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” (احکام شریعت) مجھ سے حاصل کر لو۔ (احکام معاشرت) مجھ سے حاصل کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کیلئے راستہ واضح کر دیا ہے۔ کنوارہ لڑکا، کنواری لڑکی سے زنا کرے تو اس کی سزا سو کوڑے اور ایک سال بھر کی جلا وطنی اور اگر شادی شدہ عورت کے ساتھ شادی شدہ زنا کرے تو اس کی سزا سو کوڑے اور رجم۔ “ (مسلم)

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ

Hadith 1035

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1036

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: اتى رجل من المسلمين رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وهو في المسجد فناداه فقال: يا رسول الله! إني زنيت،‏‏‏‏ فاعرض عنه،‏‏‏‏ فتنحى تلقاء وجهه فقال: يا رسول الله! إني زنيت،‏‏‏‏ فاعرض عنه حتى ثنى ذلك عليه اربع مرات فلما شهد على نفسه اربع شهادات دعاه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏ابك جنون؟» ‏‏‏‏ قال: لا قال: «‏‏‏‏فهل احصنت؟» ‏‏‏‏ قال: نعم فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اذهبوا فارجموه» .‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ بلند آواز سے کہنے لگا اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ وہ دوسری طرف سے گھوم کر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا رخ انور پھیر لیا۔ اس طرح اس شخص نے چار مرتبہ بار سامنے آ کر اقرار کیا۔ اس طرح جب اس نے اپنے آپ پرچار مرتبہ گواہیاں دے دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا ” کیا تو پاگل ہے؟“ وہ بولا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ” کیا تو شادی شدہ ہے؟“ اس نے کہا، ہاں! (میں شادی شدہ ہوں) تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے لے جاؤ اور سنگسار کر دو۔“ (بخاری و مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 1036

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1037

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: لما اتى ماعز بن مالك إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال له:«‏‏‏‏لعلك قبلت او غمزت او نظرت» ‏‏‏‏ قال: لا يا رسول الله. رواه البخاري.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا ” شاید تو نے بوس و کنار کیا ہو یا چھیڑ چھاڑ کی ہو اور نظر بد ڈالی ہو۔“ اس نے کہا نہیں اے اللہ کے رسول! (بخاری)

لَا۔ ← له:«‏‏‏‏لعلك قبلت او غمزت او نظرت» ← لما اتى ماعز بن مالك إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← وعن ابن عباس

Hadith 1037

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1038

وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه انه خطب فقال: إن الله بعث محمدا بالحق وانزل عليه الكتاب فكان فيما انزل الله عليه آية الرجم قراناها ووعيناها وعقلناها فرجم رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ورجمنا بعده فاخشى إن طال بالناس زمان ان يقول قائل: ما نجد الرجم في كتاب الله فيضلوا بترك فريضة انزلها الله وإن الرجم حق في كتاب الله على من زنى إذا احصن من الرجال والنساء إذا قامت البينة او كان الحبل او الاعتراف. متفق عليه.

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے خطاب فرمایا اور کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت دے کر مبعوث فرمایا اور ان پر کتاب نازل فرمائی۔ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا اس میں رجم کی آیت بھی نازل فرمائی تھی۔ ہم نے خود اسے پڑھا ہے اور اسے یاد بھی رکھا ہے اور اسے خوب سمجھا اور دل و دماغ میں محفوظ بھی رکھا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کہنے والے کہیں گے کہ کتاب اللہ میں ہم رجم کی سزا کا ذکر نہیں پاتے۔ اس طرح وہ ایسے فرض کے تارک ہو کر جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا، گمراہ ہو جائیں گے۔ حالانکہ رجم کی سزا کتاب میں حق ہے اس شخص کیلئے جس نے زنا کیا ہو۔ اس حالت میں جبکہ وہ شادی شدہ ہو، وہ خواہ مرد ہوں یا عورتیں جبکہ دلیل قائم ہو جائے یا حمل ہو یا خود اقرار کرے۔ (بخاری)

عمر بن الخطاب انه خطب

Hadith 1038

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1039

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏إذا زنت امة احدكم فتبين زناها فليجلدها الحد ولا يثرب عليها ثم إن زنت فليجلدها الحد ولا يثرب عليها ثم إن زنت الثالثة فتبين زناها فليبعها ولو بحبل من شعر» .‏‏‏‏ متفق عليه وهذا لفظ مسلم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے کہ ” جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کی مرتکب ہو اور اس کا زنا نمایاں و ظاہر ہو جائے تو اسے چاہیے کہ اس لونڈی پر حد لگائے اور ملامت نہ کرے۔ (اس کے بعد) پھر اگر لونڈی زنا کا ارتکاب کرے تو اسے چاہیے کہ اس لونڈی پر حد لگائے اور ملامت نہ کرے۔ (اس کے بعد) پھر اگر وہ لونڈی تیسری مرتبہ زنا کرے اور اس کا زنا ظاہر و نمایاں ہو جائے تو اسے فروخت کر دے خواہ بالوں سے بٹی ہوئی ایک رسی کے عوض میں ہی کیوں نہ ہو۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔

رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 1039

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1040

وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اقيموا الحدود على ما ملكت ايمانكم» .‏‏‏‏ رواه ابو داود وهو في مسلم موقوف.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اپنے قبضہ میں لونڈی غلام پر حدیں قائم کرو۔ “ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور مسلم میں یہ روایت موقوف ہے۔

عَلِيٍّ،

Hadith 1040

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1041

وعن عمران بن حصين رضي الله عنهما ان امراة من جهينة اتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم وهي حبلى من الزنا فقالت: يا نبي الله اصبت حدا فاقمه علي فدعا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وليها فقال: «احسن إليها فإذا وضعت فاتني بها» ‏‏‏‏ ففعل فامر بها فشكت عليها ثيابها ثم امر بها فرجمت ثم صلى عليها فقال عمر: اتصلي عليها يا نبي الله وقد زنت؟ فقال: «‏‏‏‏لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من اهل المدينة لوسعتهم وهل وجدت افضل من ان جادت بنفسها لله» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جہنی قبیلہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور وہ اس وقت زنا (کے فعل حرام) سے حاملہ تھی۔ اس نے کہ اے اللہ کے نبی! میں حد کی مستحق ہوں لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حد کو مجھ پر نافذ فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی و سرپرست کو بلوایا اور اسے تلقین فرمائی کہ ” اس کے ساتھ حسن سلوک کرو جب وہ وضع حمل سے فارغ ہو تو اسے میرے پاس لے آؤ۔ “ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق عمل کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا۔ چنانچہ اس کے کپڑے مضبوطی سے باندھ دیئے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے سنگسار کر دیا گیا پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے اے اللہ کے نبی! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں حالانکہ یہ تو زنا کی مرتکب ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی توبہ اہل مدینہ کے ستر آدمیوں پر تقسیم کر دی جائے تو وہ سب پر وسیع ہو جائے گی۔ کیا تو نے اس سے بہتر آدمی دیکھا یا پایا ہے۔ جس نے اللہ کے لیے اپنی جان کو اللہ کے سپرد کر دیا ہو۔“ (مسلم)

Hadith 1041

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1042

وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: رجم النبي صلى الله عليه وآله وسلم رجلا من اسلم ورجلا من اليهود وامراة. رواه مسلم. وقصة رجم اليهوديين في الصحيحين من حديث ابن عمر.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلم قبیلہ کے ایک آدمی کو رجم کیا اور ایک یہودی مرد اور ایک عورت کو بھی۔ (مسلم) یہودی مرد و عورت کی سزائے رجم کا واقعہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیحین میں منقول ہے۔

رجم النبي صلى الله عليه ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Hadith 1042

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1043

وعن سعيد بن سعد بن عبادة رضي الله عنهما قال كان بين ابياتنا رويجل ضعيف فخبث بامة من إمائهم فذكر ذلك سعيد لرسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏اضربوه حده» ‏‏‏‏ فقالوا: يا سول الله! إنه اضعف من ذلك قال: «‏‏‏‏خذوا عثكالا فيه مائة شمراخ ثم اضربوه ضربة واحدة» .‏‏‏‏ ففعلوا رواه احمد والنسائي وابن ماجه وإسناده حسن لكن اختلف في وصله وإرساله.

سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے گھروں میں ایک چھوٹا سا کمزور و نحیف آدمی رہتا تھا۔ وہ ہماری لونڈیوں میں سے ایک لونڈی کے ساتھ جرم زنا میں ملوث ہو گیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے حد لگاؤ۔“ تو سب لوگ بول اٹھے، اے اللہ کے رسول! وہ تو نہایت ہی کمزور و لاغر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کھجور کے درخت کی ایک ایسی ٹہنی لو جس میں سو شاخیں ہوں۔ پھر اسے ایک ہی دفعہ اس مرد پر مار دو۔“ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اسے احمد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے لیکن اس کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے۔

يا سول الله! إنه اضعف من ذلك ← «‏‏‏‏اضربوه حده» ← ذلك سعيد لرسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ← كان بين ابياتنا رويجل ضعيف فخبث بامة من إمائهم ← سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ

Hadith 1043

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1044

وعن ابن عباس رضي الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به ومن وجدتموه وقع على بهيمة فاقتلوه واقتلوا البهيمة» .‏‏‏‏ رواه احمد والاربعة ورجاله موثقون إلا ان فيه اختلافا.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ” جس شخص کو تم پاؤ کہ وہ قوم لوط کے فعل کا مرتکب ہو تو فاعل اور مفہول دونوں کو قتل کر دو۔ اور جس کسی کو پاؤ کہ وہ جانوروں کے ساتھ بدفعلی کا مرتکب ہوا تو اس مرد اور جانور دونوں کو مار ڈالو۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے۔ اس کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے۔ مگر اس میں اختلاف ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 1044

بلوغ المرام · كتاب الحدود ‹ باب · حديث 1045

وعن ابن عمر رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم ضرب وغرب وان ابا بكر ضرب وغرب وان عمر ضرب وغرب. رواه الترمذي ورجاله ثقات إلا انه اختلف في وقفه ورفعه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زانی کو مارا بھی اور جلا وطن بھی کیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مارا بھی اور جلا وطن بھی کیا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں مگر اس کے موقوف اور مرفوع ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Hadith 1045

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter