Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1080

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من مات ولم يغز ولم يحدث نفسه به مات على شعبة من نفاق» ‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص ایسی حالت میں مر گیا کہ اس نے نہ کبھی جہاد میں حصہ لیا اور نہ کبھی اس کے دل میں یہ خیال آیا اور نہ اس کی خواہش و تمنا پیدا ہوئی تو اس کی موت نفاق کے شعبہ پر ہوئی۔“ (مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 1080

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1081

وعن انس رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «جاهدوا المشركين باموالكم وانفسكم والسنتكم» رواه احمد والنسائي وصححه الحاكم.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مشرکین سے اپنے مالوں، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں سے جہاد کرو۔“ اسے احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔

أَنَسٍ،

Hadith 1081

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1082

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قلت: يا رسول الله على النساء جهاد؟ قال: «‏‏‏‏نعم جهاد لا قتال فيه: الحج والعمرة» ‏‏‏‏ رواه ابن ماجه واصله في البخاري.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا خواتین پر بھی جہاد ہے؟ فرمایا ” ہاں! جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں۔ اور وہ ہے حج اور عمرہ۔“ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔

قُلْتُ ← وعن عائشة

Hadith 1082

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1083

وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يستاذنه في الجهاد فقال: «‏‏‏‏احي والداك؟» ‏‏‏‏ قال: نعم قال: «ففيهما فجاهد» .‏‏‏‏متفق عليه. ولاحمد وابي داود من حديث ابي سعيد نحوه وزاد:«‏‏‏‏ارجع فاستاذنهما فإن اذنا لك وإلا فبرهما» .

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تیرے والدین بقید حیات ہیں؟ “ وہ بولا ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پس ان دونوں (کی خدمت) میں جدوجہد کرو۔ “ (بخاری و مسلم) مسند احمد اور ابوداؤد میں ابوسعید کی روایت بھی اسی طرح منقول ہے۔ اس میں اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” واپس چلے جاؤ ان سے اجازت طلب کرو۔ پھر اگر وہ دونوں تجھے اجازت دے دیں تو درست ورنہ ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرو۔ “

نَعَمْ ← أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟ ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يستاذنه في الجهاد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ

Hadith 1083

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1084

وعن جرير البجلي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏انا بريء من كل مسلم يقيم بين المشركين» ‏‏‏‏ رواه الثلاثة وإسناده صحيح ورجح البخاري إرساله.

سیدنا جریر بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین میں قیام پذیر ہو۔ “ اسے تینوں نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے مگر بخاری نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔

جرير البجلي

Hadith 1084

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1085

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا هجرة بعد الفتح ولكن جهاد ونية» ‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” فتح (مکہ) کے بعد ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ “ (بخاری و مسلم)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 1085

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1086

وعن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله» ‏‏‏‏ متفق عليه.

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص اس نیت سے لڑا کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو تو وہ اللہ کی راہ میں لڑنے والا ہے۔“ (بخاری ومسلم)

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ

Hadith 1086

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1087

وعن عبد الله بن السعدي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا تنقطع الهجرة ما قوتل العدو» .‏‏‏‏ رواه النسائي وصححه ابن حبان.

سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تک دشمنوں سے جنگ جاری رہے گی ہجرت بھی جاری رہے گی۔“ اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ

Hadith 1087

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1088

وعن نافع رضي الله عنه قال: اغار رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على بني المصطلق وهم غارون فقتل مقاتلتهم وسبى ذراريهم. حدثني بذلك عبد الله بن عمر. متفق عليه.

سیدنا نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا تو اس وقت یہ لوگ بےخبر و غافل تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لڑائی کرنے والوں کو قتل کیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ یہ مجھ سے عبداللہ بن عمر نے بیان کیا۔ (بخاری و مسلم)

نَافِعٍ

Hadith 1088

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1089

وعن سليمان بن بريدة عن ابيه رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا امر اميرا على جيش او سرية اوصاه في خاصته بتقوى الله وبمن معه من المسلمين خيرا ثم قال: «‏‏‏‏اغزوا باسم الله في سبيل الله قاتلوا من كفر بالله اغزوا ولا تغلوا ولا تغدوا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا وإذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى ثلاث خصال فايتهن اجابوك إليها فاقبل منهم وكف عنهم: ادعهم إلى الإسلام فإن اجابوك فاقبل منهم ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين فإن ابوا فاخبرهم انهم يكونون كاعراب المسلمين ولا يكون لهم في الغنيمة والفيء شيء إلا ان يجاهدوا مع المسلمين فإن هم ابوا فاسالهم الجزية فإن هم اجابوك فاقبل منهم فإن هم ابوا فاستعن بالله وقاتلهم وإذا حاصرت اهل حصن فارادوك ان تجعل لهم ذمة الله وذمة نبيه فلا تفعل ولكن اجعل لهم ذمتك فإنكم إن تخفروا ذمتكم اهون من ان تخفروا ذمة الله وإن ارادوك ان تنزلهم على حكم الله فلاتفعل بل على حكمك فإنك لا تدري اتصيب فيهم حكم الله ام لا؟» ‏‏‏‏ اخرجه مسلم.

سیدنا سلیمان بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر فرماتے تو اسے بالخصوص خدا خوفی اور اپنے مسلمانوں ساتھیوں کے ساتھ بھلائی اور خیر کی نصیحت فرماتے۔ اس کے بعد فرماتے ” اللہ کے نام کے ساتھ اس کے راستہ میں جہاد کرو ان لوگوں سے جو خدا کے منکر و کافر ہیں۔ لڑائی کرو، خیانت نہ کرنا، دھوکہ نہ دینا اور مثلہ نہ کرنا، بچوں کو قتل نہ کرنا۔ مشرک دشمن سے جب ملاقات ہو تو ان کو لڑائی سے پہلے تین چیزوں کی دعوت پیش کرو۔ ان میں سے جسے وہ قبول کر لیں اسے قبول کر لو اور ان سے لڑائی نہ کرو۔ پہلے ان کو اسلام کی دعوت پیش کرو۔ پس اگر وہ اس کو تسلیم کر لیں تو اسے قبول کر لو۔ پھر ان کو دعوت دو کہ وہ اپنے گھربار چھوڑ کر (دارالسلام) مہاجرین کے ملک کی طرف ہجرت کر کے آ جائیں۔ اگر وہ انکار کریں تو ان کو خبردار کر دو کہ ان کے حقوق بدوی مسلمانوں کے برابر ہوں گے اور ان کے لیے مال غنیمت اور اموال فے میں سے کچھ بھی نہیں ہو گا۔ الایہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد میں شریک ہوں۔ اگر اس سے انکار کریں تو ان سے جزیہ لو۔ اگر وہ تسلیم کر لیں تو اسے بھی قبول کر لو اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے لڑائی شروع کر دو اور جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کر لو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ و عہد لینا چاہیں تو انہیں یہ ذمہ نہ دو بلکہ تم اپنا عہد و ذمہ ان کو دے دو۔ (اس کے خلاف نہ کرنا) اس لئے کہ اگر تم اپنے عہد و ذمہ کو توڑتے ہو تو یہ اللہ کی پناہ کو توڑنے سے بہت خفیف و ہلکا ہے اور جب یہ چاہیں کہ تو ان کو اللہ کے حکم و فیصلہ پر اتارے تو ایسا نہ کرنا بلکہ اپنے حکم و فیصلہ پر اتارنا کیونکہ تجھے علم نہیں کہ تو اللہ کے فیصلہ پر پہنچ بھی سکے گا یا نہیں۔ (مسلم)

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ

Hadith 1089

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1090

وعن كعب بن مالك رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا اراد غزوة ورى بغيرها. متفق عليه.

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ پر جانا چاہتے تو توریہ (غیر سے چھپانے) سے کام لیتے۔ (بخاری و مسلم)

كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ،

Hadith 1090

بلوغ المرام · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ باب · حديث 1091

وعن معقل ان النعمان بن مقرن رضي الله عنه قال: شهدت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا لم يقاتل اول النهار اخر القتال حتى تزول الشمس وتهب الرياح وينزل النصر. رواه احمد والثلاثة وصححه الحاكم واصله في البخاري.

سیدنا معقل سے روایت ہے کہ سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائیوں میں شریک ہوتا رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کے آغاز میں لڑائی شروع نہ کرتے تو پھر زوال آفتاب کے بعد لڑائی شروع کرتے۔ موافق ہوائیں چلتی تھیں اور مدد کرتی تھیں۔ اسے احمد اور تینوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔

معقل ان النعمان بن مقرن

Hadith 1091

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter