Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 111

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏التيمم ضربتان: ضربة للوجه وضربة لليدين إلى المرفقين» .‏‏‏‏ رواه الدارقطني وصحح الائمة وقفه.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”تیمم دو ضربوں سے (مکمل) ہوتا ہے، ایک ضرب چہرے کے لیے اور ایک دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک۔“ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ائمہ نے اس کے موقوف کو صحیح کہا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 111

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 112

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله: «‏‏‏‏الصعيد وضوء المسلم وإن لم يجد الماء عشر سنين. فإذا وجد الماء فليتق الله وليمسه بشرته» .‏‏‏‏ رواه البزار وصححه ابن القطان لكن صوب الدارقطني إرساله،‏‏‏‏ وللترمذي عن ابي ذر نحوه وصححه والحاکم ايضا.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مٹی مومن مسلمان کا وضو ہے خواہ دس برس تک اسے پانی نہ ملے۔ مگر جب پانی دستیاب ہو جائے تو پھر اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور اسے اپنے جسم پر پانی پہنچانا چاہیئے۔“ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور ابن قطان نے صحیح قرار دیا ہے، تاہم دارقطنی نے اس کے مرسل ہونے کو درست اور قرین صواب کہا ہے۔ ترمذی میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور حاکم نے بھی صحیح کہا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 112

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 113

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: خرج رجلان في سفر فحضرت الصلاة وليس معهما ماء فتيمما صعيدا طيبا فصليا ثم وجدا الماء في الوقت،‏‏‏‏ فاعاد احدهما الصلاة والوضوء،‏‏‏‏ ولم يعد الآخر،‏‏‏‏ ثم اتيا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فذكرا ذلك له،‏‏‏‏ فقال للذي لم يعد: «‏‏‏‏اصبت السنة واجزاتك صلاتك» ‏‏‏‏ وقال للآخر:«‏‏‏‏لك الاجر مرتين» . رواه ابو داود والنسائي.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے۔ نماز کا وقت آ گیا، مگر ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ پھر پانی بھی دستیاب ہو گیا اور ابھی نماز ادا کرنے کا وقت باقی تھا۔ ان میں سے ایک صاحب نے وضو کیا اور دوبارہ نماز ادا کی، مگر دوسرے صاحب نے نہ تو وضو کیا اور نہ ہی نماز دہرائی۔ سفر سے واپسی پر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جس نے دوبارہ نماز نہیں پڑھی تھی فرمایا ”تو نے سنت کے مطابق عمل کیا اور تیری نماز کافی ہو گئی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سے فرمایا ”تجھے دو گنا اجر ملے گا۔“ (ابوداؤد و نسائی)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 113

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 114

وعن ابن عباس رضي الله عنهما في قوله عز وجل «وإن كنتم مرضى او على سفر» قال:"إذا كانت بالرجل الجراحة في سبيل الله والقروح،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيجنب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فيخاف ان يموت إن اغتسل: تيمم". رواه الدارقطني موقوفا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ورفعه البزار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وصححه ابن خزيمة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والحاكم.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وإن كنتم مرضى أو على سفر» کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب کسی شخص کو راہ خدا میں زخم اور گھاؤ لگے اور اسی حالت میں اسے جنابت لاحق ہو جائے اور غسل کرنے کی صورت میں مر جانے کا اندیشہ ہو تو وہ تیمم کر لے۔ اس روایت کو دارقطنی نے موقوف، بزار نے مرفوع اور ابن خزیمہ اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 114

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 115

وعن علي رضي الله عنه قال: انكسرت إحدى زندي،‏‏‏‏ فسالت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فامرني ان امسح على الجبائر. رواه ابن ماجه بسند واه جدا.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا گٹ ٹوٹ گیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھا (کہ اب میں کیا کروں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”پٹیوں پر مسح کر لیا کرو۔“ اسے ابن ماجہ نے نہایت ہی کمزور و ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔

عَلِيٍّ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 115

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 116

وعن جابر رضي الله عنه في الرجل الذي شج فاغتسل فمات: «‏‏‏‏إنما كان يكفيه ان يتيمم ويعصب على جرحه خرقة ثم يمسح عليها ويغسل سائر جسده» .‏‏‏‏ رواه ابو داود بسند ضعيف وفيه اختلاف على روايه.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس شخص کے بارے میں جس کے سر پر زخم آیا تھا اور اسی حالت میں اس نے غسل کر لیا اور وفات پا گیا، کہ اسے تو تیمم کر لینا ہی کافی تھا۔ اپنے زخم پر پٹی باندھ کر مسح کرتا اور باقی بدن کو دھو لیتا۔ اس روایت کو ضعیف سند کے ساتھ ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راویوں میں بھی اختلاف ہے۔

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 116

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 117

وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: من السنة ان لا يصلي الرجل بالتيمم إلا صلاة واحدة،‏‏‏‏ ثم يتيمم للصلاة الاخرى. رواه الدارقطني بإسناد ضعيف جدا.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ تیمم کرنے والا شخص تیمم سے ایک ہی نماز پڑھے اور دوسری نماز کیلئے ازسرنو (دوبارہ سے) تیمم کرے۔ اس کو دارقطنی نے بہت ہی ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔

ابن عباس رضي الله تعالى عنهما

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 117

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 118

عن عائشة رضي الله عنها: ان فاطمة بنت ابي حبيش كانت تستحاض فقال لها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«‏‏‏‏إن دم الحيض دم اسود يعرف فإذا كان ذلك فامسكي عن الصلاة فإذا كان الآخر فتوضئي وصلي» .‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم واستنكره ابو حاتم.وفي حديث اسماء بنت عميس عند ابي داود:«‏‏‏‏ولتجلس في مركن فإذا رات صفرة فوق الماء فلتغتسل للظهر والعصر،‏‏‏‏ غسلا واحدا،‏‏‏‏ وتغتسل للمغرب والعشاء غسلا واحدا وتغتسل للفجر غسلا واحدا وتتوضا فيما بين ذلك» .‏‏‏‏

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا استحاضہ کی دائمی مریضہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ ”حیض کے خون (کی رنگت) سیاہ ہوتی ہے، آسانی سے پہچان ہو سکتی ہے۔ جن ایام میں یہ خون آ رہا ہو تو ان ایام میں نماز چھوڑ دو اور جب کوئی دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔“ ابوداؤد اور نسائی نے اسے روایت کیا ہے ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم کے نزدیک یہ منکر ہے ابوداؤد میں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی مروی حدیث میں ہے کہ ایک ٹب میں بیٹھ جائے اور جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر دونوں نمازوں کیلئے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب اور عشاء کی نماز کیلئے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کیلئے الگ سے ایک غسل کر لے اور ان کے درمیان میں وضو کر لے۔

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 118

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 119

وعن حمنة بنت جحش قالت: كنت استحاض حيضة كثيرة شديدة فاتيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم استفتيه فقال: «‏‏‏‏إنما هي ركضة من الشيطان فتحيضي ستة ايام او سبعة ايام ثم اغتسلي فإذا استنقات فصلي اربعة وعشرين او ثلاثة وعشرين وصومي وصلي فإن ذلك يجزئك وكذلك فافعلي كما تحيض النساء فإن قويت على ان تؤخري الظهر وتعجلي العصر ثم تغتسلي حين تطهرين وتصلي الظهر والعصر جميعا ثم تؤخرين المغرب والعشاء ثم تغتسلين وتجمعين بين الصلاتين فافعلي. وتغتسلين مع الصبح وتصلين» . قال:«‏‏‏‏وهو اعجب الامرين إلي» .‏‏‏‏ رواه الخمسة إلا النسائي وصححه الترمذي وحسنه البخاري.

سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سخت قسم کے عارضہ استحاضہ میں مبتلا رہتی تھی۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں استفسار کیلئے حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ تو شیطان کی چوک (مار) ہے۔ لہٰذا تو چھ یا سات روز ایام شمار کر کے پھر نہا لے، جب تو اچھی طرح پاک و صاف ہو جائے تو پھر چوبیس یا تئیس روز نماز پڑھ اور روزہ بھی رکھ۔ یقینًا یہ تیرے لئے کافی ہے پس ہر ماہ اسی طرح کر لیا کر جیسا کہ حیض والی خواتین کرتی ہیں۔ پھر اگر تم میں ظہر کو ذرا مؤخر کرنے اور عصر کو ذرا مقدم کرنے کی ہمت و طاقت ہے تو پھر غسل کر لے جب پاک و صاف ہو جائے تو ظہر اور عصر دونوں کو اکٹھا ملا کر پڑھ لے۔ پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو ذرا مقدم کر کے غسل کر لے اور جمع صلاتین کر لے۔ تو ایسا کر لے (یعنی ایسا کرنے کی اجازت ہے) اور صبح کی نماز کیلئے الگ غسل کر لے اور نماز پڑھ لے“ پھر فرمایا ”دونوں باتوں میں سے مجھے یہ زیادہ پسند اور محبوب ہے۔“ اس کو نسائی کے علاوہ باقی چاروں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے حسن کہا ہے۔

حَمْنةَ بنت جحش

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 119

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 120

وعن عائشة رضي الله عنها ان ام حبيبة بنت جحش شكت إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الدم فقال:«‏‏‏‏امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلي» فكانت تغتسل لكل صلاة. رواه مسلم.وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏وتوضئي لكل صلاة» .‏‏‏‏ وهي لابي داود وغيره من وجه آخر.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دم استحاضہ کا شکوہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تمہارے ماہواری کے ایام جس قدر پہلے سے متعین ہیں اتنے ایام میں (نماز ‘ روزہ) چھوڑ دے۔ اس کے بعد نہا دھو کر نماز ادا کرو۔“ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اس کے بعد ہر نماز کیلئے تازہ غسل کیا کرتی تھیں۔ (مسلم) اور بخاری کی روایت میں ہے کہ ”پھر ہر نماز کیلئے ازسرنو (دوبارہ سے) وضو کر لیا کرو۔“ ابوداؤد وغیرہ محدثین نے اس حدیث کو دوسرے طریقے سے روایت کیا ہے۔

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 120

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 121

وعن ام عطية رضي الله عنها قالت: كنا لا نعد الكدرة والصفرة بعد الطهر شيئا. رواه البخاري وابو داود واللفظ له.

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم (ایام ماہواری کے اختتام پر) نہا دھو کر پاک و صاف ہونے کے بعد گدلے اور زرد رنگ کی چیز کو (اس چیز کے خارج ہونے کو) کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں (یعنی ایسے مادہ کے خروج کو حیض تصور نہیں کرتی تھیں۔) (بخاری، ابوداؤد) متن حدیث کے الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔

ابو داود واللفظ له. ← كنا لا نعد الكدرة والصفرة بعد الطهر شيئا. رواه البخاري ← أُمِّ عَطِيَّةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 121

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 122

وعن انس رضي الله عنه ان اليهود كانوا إذا حاضت المراة فيهم لم يؤاكلوها فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اصنعوا كل شيء إلا النكاح» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں کے ہاں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ اس عورت کے ساتھ کھانا پینا ترک کر دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(اے مسلمانوں)! تم ہمبستری کے علاوہ ہر قسم کا فعل عورت کے ساتھ کر سکتے ہو۔“ (مسلم)

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 122

chevron_left Previous
1…585960…114
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter