Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 99

وعن ابي هريرة رضي الله عنه- في قصة ثمامة بن اثال عندما اسلم- وامره النبي صلى الله عليه وآله وسلم ان يغتسل. رواه عبد الرزاق،‏‏‏‏ واصله متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے واقعہ کے متعلق مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غسل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ عبدالرزاق نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے۔

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 99

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 100

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم» .‏‏‏‏ اخرجه السبعة.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کے روز غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔“ اس کو ساتوں یعنی بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 100

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 101

وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من توضا يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل افضل» .‏‏‏‏ رواه الخمسة وحسنه الترمذي.

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کے روز جس نے وضو کیا اس نے اچھا اور بہتر کیا اور جس نے غسل کیا تو بہرحال افضل ہے اور بہترین ہے۔“ اس کو پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 101

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 102

وعن علي رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقرئنا القران ما لم يكن جنبا. رواه احمد والخمسة وهذا لفظ الترمذي وحسنه وصححه ابن حبان.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت کے علاوہ ہر حالت میں ہمیں قرآن مجید پڑھا دیا کرتے تھے۔“ اسے پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ ترمذی کے ہیں اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔

عَلِيٍّ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 102

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 103

وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا اتى احدكم اهله ثم اراد ان يعود فليتوضا بينهما وضوءا» .‏‏‏‏ رواه مسلم.زاد الحاكم: «‏‏‏‏فإنه انشط للعود» .‏‏‏‏

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس جائے (یعنی تعلق زن و شو قائم کرے، ہمبستری کرے) پھر دوبارہ لطف اندوز ہونے کا ارادہ ہو تو درمیان میں وضو کر لے۔“ (مسلم) اور حاکم نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ (یہ وضو) دوبارہ مباشرت کیلئے زیادہ باعث نشاط ہے یعنی فرحت بخش اور تازگی پیدا کرتا ہے اور سنن اربعہ یعنی ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے۔ یہ روایت معلول ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 103

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 104

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا اغتسل من الجنابة يبدا فيغسل يديه ثم يفرغ بيمينه على شماله فيغسل فرجه ثم يتوضا ثم ياخذ الماء فيدخل اصابعه في اصول الشعر،‏‏‏‏ ثم حفن على راسه ثلاث حفنات،‏‏‏‏ ثم افاض على سائر جسده ثم غسل رجليه. متفق عليه واللفظ لمسلم.ولهما من حديث ميمونة: ثم افرغ على فرجه وغسله بشماله،‏‏‏‏ ثم ضرب بها الارض.وفي رواية: فمسحها بالتراب. وفي آخره: ثم اتيته بالمنديل فرده،‏‏‏‏ وفيه: وجعل ينفض الماء بيده.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اس طرح آغاز کرتے۔ پہلے ہاتھ دھوتے پھر سیدھے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنا عضو مخصوص دھوتے۔ پھر وضو کرتے، پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کے بالوں کی تہہ (جڑوں) میں داخل کرتے۔ پھر تین چلو پانی کے بھر کر یکے بعد دیگرے سر پر ڈالتے۔ پھر باقی سارے وجود پر پانی بہاتے (سب سے آخر میں) پھر دونوں پاؤں دھوتے۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور بخاری و مسلم میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح ہے۔ ”پھر اپنے عضو مخصوص پر پانی ڈالتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اسے دھوتے اور ہاتھوں کو زمین پر مار کر مٹی سے ملتے اور (صاف کرتے)“ اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے ”پھر دونوں ہاتھ مٹی سے مل کر اچھی طرح صاف کرتے۔“ اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رومال (تولیہ) پیش کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لوٹا دیا اور بدن (پر جو پانی رہ گیا تھا) اسے اپنے ہاتھ سے جھاڑنا شروع کیا۔“

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 104

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 105

وعن ام سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: قلت: يا رسول الله! إني امراة اشد شعر راسي،‏‏‏‏ افانقضه لغسل الجنابة؟ وفي رواية: والحيضة؟ قال: «‏‏‏‏لا إنما يكفيك ان تحثي على راسك ثلاث حثيات» .‏‏‏‏ رواه مسلم

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے سر کے بال (یعنی مینڈھیوں کی شکل میں) باندھ لیتی ہوں۔ کیا غسل جنابت کے موقع پر ان کو کھولوں؟ اور ایک روایت میں حیض سے فارغ ہو کر غسل کے وقت کے الفاظ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں (کھولنے کے ضرورت نہیں) بس تیرے لئے یہی کافی ہے کہ تو اپنے سر پر تین چلو پانی بہا دیا کر۔“ (مسلم)

قُلْتُ ← وعن ام سلمة رضي الله تعالى عنها

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 105

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 106

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إني لا احل المسجد لحائض ولا جنب» .‏‏‏‏ رواه ابو داود. وصححه ابن خزيمة.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں حائضہ عورت اور حالت جنابت میں مبتلا مرد کیلئے مسجد میں داخلہ حلال نہیں کرتا (یعنی ان دونوں کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا)۔“ اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

عَائِشَةَ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 106

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 107

وعنها رضي الله عنها قالت: كنت اغتسل انا ورسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من إناء واحد تختلف ايدينا فيه من الجنابة. متفق عليه،‏‏‏‏ وزاد ابن حبان:" وتلتقي".

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔ اس برتن میں ہمارے ہاتھ یکے بعد دیگرے داخل ہوتے تھے۔ (بخاری و مسلم) اور ابن حبان نے اتنا اضافہ مزید نقل کیا ہے کہ بسا اوقات دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھو جاتے تھے۔

کُنْتُ أَغْتَسِلُ ← وعنها

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 107

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 108

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر» .‏‏‏‏ رواه ابو داود والترمذي وضعفاه. ولاحمد عن عائشة رضي الله عنها نحوه وفيه راو مجهول.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”ہر بال کی تہہ (نیچے) میں جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لئے بالوں کو (اچھی طرح) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح (مل کر) صاف کیا کرو۔“ ابوداؤد اور ترمذی دونوں نے اسے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی ضعیف بھی قرار دیا ہے۔ مسند احمد میں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس میں ایک راوی مجہول ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 108

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 109

عن جابربن عبد الله رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال:«‏‏‏‏اعطيت خمسا لم يعطهن احد قبلي: نصرت بالرعب مسيرة شهر وجعلت لي الارض مسجدا وطهورا فايما رجل ادركته الصلاة فليصل» .‏‏‏‏ وذكر الحديث وفي حديث حذيفة رضي الله عنه عند مسلم:«‏‏‏‏وجعلت تربتها لنا طهورا إذا لم نجد الماء» ‏‏‏‏ وعن علي عند احمد: «‏‏‏‏وجعل التراب لي طهورا» ‏‏‏‏

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی (نبی و رسول) کو بھی نہیں دی گئیں۔ میری ایک مہینہ کی مسافت سے (دشمن پر) رعب و دبدبے سے مدد دی گئی ہے۔ ساری زمین میرے لئے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے، اب جس آدمی کو (جہاں بھی) نماز کا وقت آ جائے اسے نماز پڑھ لینی چاہیئے۔“ اور آگے پوری حدیث ذکر کی۔ مسلم میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”جب ہمیں پانی دستیاب نہ ہو تو زمین کی مٹی ہمارے لئے حصول طہارت و پاکیزگی کیلئے پاک بنا دی گئی ہے۔“ مسند احمد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”مٹی میرے لئے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔“

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 109

بلوغ المرام · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 110

وعن عمار بن ياسر رضي الله عنهما قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في حاجة،‏‏‏‏ فاجنبت،‏‏‏‏ فلم اجد الماء،‏‏‏‏ فتمرغت في الصعيد،‏‏‏‏ كما تتمرغ الدابة،‏‏‏‏ ثم اتيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فذكرت له ذلك. فقال:«‏‏‏‏إنما يكفيك ان تقول بيديك هكذا» ‏‏‏‏،‏‏‏‏ ثم ضرب بيديه الارض ضربة واحدة ثم مسح الشمال على اليمين وظاهر كفيه ووجهه. متفق عليه واللفظ لمسلم. وفي رواية للبخاري: وضرب بكفيه الارض ونفخ فيهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه.

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ضرورت و حاجت کے سلسلے میں بھیجا۔ میں جنبی ہو گیا اور پانی مجھے دستیاب نہ ہو سکا تو میں مٹی میں اس طرح لوٹ پوٹ ہوا جس طرح چوپایہ لوٹ پوٹ ہوتا ہے۔ (ضرورت سے فارغ ہو کر) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تجھے اپنے ہاتھ سے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا پھر بائیں کو دائیں پر ملا اپنے ہاتھوں کی پشت اور چہرے پر۔ (بخاری اور مسلم) اور متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور پھونک مار کر گرد و غبار اڑا دیا پھر ان کو اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیا۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ

Bulugh Al Maram · The Book of Purity › Chapter · Hadith 110

chevron_left Previous
1…575859…114
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter