بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 347
وعن انس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظهر إلى وقت العصر ثم نزل فجمع بينهما فإن زاغت الشمس قبل ان يرتحل صلى الظهر ثم ركب. متفق عليه. وفي رواية الحاكم في الاربعين بإسناد الصحيح:" صلى الظهر والعصر ثم ركب". ولابي نعيم في مستخرج مسلم: كان إذا كان في سفر فزالت الشمس صلى الظهر والعصر جميعا ثم ارتحل.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب زوال آفتاب سے پہلے سفر کا آغاز فرماتے تو ظہر کی نماز کو عصر کی نماز تک مؤخر کر لیتے تھے۔ پھر سواری سے نیچے تشریف لاتے اور ظہر و عصر دونوں نمازوں کو اکٹھا ادا فرماتے اور جب آفتاب آغاز سفر سے پہلے زوال پذیر ہو جاتا تو پھر نماز ظہر ادا فرما کر سوار ہو کر سفر پر روانہ ہوتے۔ (بخاری و مسلم) اور حاکم کی اربعین میں سند صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نمازیں پڑھیں پھر سواری پر سوار ہوئے۔ ابونعیم کی ”مستخرج“ میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ہوتے اور آفتاب زوال پذیر ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر دونوں اکٹھی ادا فرما کر وہاں سے کوچ کرتے۔
أَنَسٍ،
Hadith 347
