Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 335

وعن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا سمعتم الإقامة فامشوا إلى الصلاة وعليكم السكينة والوقار ولا تسرعوا فما ادركتم فصلوا وما فاتكم فاتموا» .‏‏‏‏ متفق عليه واللفظ للبخاري.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم نماز کی اقامت سنو تو نماز کی طرف اطمینان و سکون اور وقار کے ساتھ چل کر آؤ۔ جلدی اور عجلت مت کرو۔ جتنی نماز جماعت کے ساتھ پا لو اتنی پڑھ لو اور جو باقی رہ جائے اسے (بعد میں) پورا کر لو۔“ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 335

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 336

وعن ابي بن كعب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏صلاة الرجل مع الرجل ازكى من صلاته وحده وصلاته مع الرجلين ازكى من صلاته مع الرجل وما كان اكثر فهو احب إلى الله عز وجل» .‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي وصححه ابن حبان.

سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے کہیں زیادہ پاکیزہ ہے اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور جو نماز زیادہ لوگوں کے ساتھ ہو، وہ اللہ عزوجل کو زیادہ پسند ہے۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ

Hadith 336

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 337

وعن ام ورقة رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم امرها ان تؤم اهل دارها. رواه ابو داود وصححه ابن خزيمة.

سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے گھر والوں کی امامت کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔

أُمِّ وَرَقَةَ،

Hadith 337

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 338

وعن انس رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم استخلف ابن ام مكتوم يؤم الناس وهو اعمى. رواه احمد وابو داود. ونحوه لابن حبان عن عائشة رضي الله عنها.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا۔ وہ لوگوں کی امامت کراتے تھے جب کہ وہ نابینا تھے۔ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے بھی اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے۔

أَنَسٍ،

Hadith 338

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 339

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏صلوا على من قال لا إله إلا الله وصلوا خلف من قال لا إله إلا الله» .‏‏‏‏ رواه الدارقطني بإسناد ضعيف.

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے «لا إله إلا الله» زبان سے کہا اس کی نماز جنازہ پڑھو اور جو «لا إله إلا الله» کہے اس کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیا کرو۔“ اسے دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Hadith 339

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 340

وعن علي رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا اتى احدكم الصلاة والإمام على حال فليصنع كما يصنع الإمام» .‏‏‏‏ رواه الترمذي بإسناد ضعيف.

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لئے آئے تو امام کو جس حالت میں پائے اسی میں امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔“ ترمذی نے اسے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

عَلِيٍّ،

Hadith 340

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 341

عن عائشة رضي الله عنها قالت: اول ما فرضت الصلاة ركعتين فاقرت صلاة السفر واتمت صلاة الحضر. متفق عليه وللبخاري:" ثم هاجر ففرضت اربعا واقرت صلاة السفر على الاول." زاد احمد:" إلا المغرب فإنها وتر النهار وإلا الصبح فإنها تطول فيها القراءة".

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابتداء میں دو رکعت فرض کی گئی تھیں (سفر و حضر میں جتنی نماز فرض کی گئی وہ دو رکعت تھی) پھر سفر کی نماز کو برقرار رکھا گیا (یعنی دو رکعات) اور حضر کی نماز کو پورا کر دیا گیا (یعنی چار رکعات) (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو چار رکعت فرض کر دی گئیں اور سفر کی نماز پہلی حالت پر برقرار رکھی گئی۔ احمد نے اتنا اضافہ کیا ہے سوائے نماز مغرب کے کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں اور بجز صبح کی نماز کیونکہ اس نماز میں قرآت لمبی کی جاتی ہے۔

عَائِشَةَ

Hadith 341

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 342

وعن عائشة رضي الله عنها: ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يقصر في السفر ويتم ويصوم ويفطر. رواه الدارقطني ورواته ثقات إلا انه معلول والمحفوظ عن عائشة من فعلها وقالت:" إنه لا يشق علي." اخرجه البيهقي.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں قصر اور اتمام دونوں پر عمل فرماتے تھے نیز روزہ رکھتے بھی تھے اور افطار بھی کر لیتے تھے۔ (دارقطنی) اس کے راوی ثقہ ہیں، مگر حدیث معلول ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذاتی فعل کی صورت میں محفوظ ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ”روزہ مجھ پر گراں نہیں۔“ بیہقی نے اس کی تخریج کی ہے۔

عَائِشَةَ

Hadith 342

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 343

وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن الله يحب ان تؤتى رخصه كما يكره ان تؤتى معصيته» ‏‏‏‏ رواه احمد وصححه ابن خزيمة وابن حبان وفي رواية:«‏‏‏‏كما يحب ان تؤتى عزائمه» .

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ کو یہ اسی طرح پسند ہے کہ جن کاموں میں اس نے رخصت عنایت فرمائی ہے، ان میں رخصت پر عمل کیا جائے، جس طرح اسے یہ ناپسند ہے کہ معصیت والے کاموں کو کیا جائے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ”جیسا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ اس کے تاکیدی احکام (فرائض) کو ادا کیا جائے۔“

ابْنِ عُمَرَ

Hadith 343

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 344

وعن انس رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا خرج مسيرة ثلاثة اميال او فراسخ صلى ركعتين. رواه مسلم.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر، سفر کے لئے تشریف لے جاتے تو دو رکعتیں (نماز قصر) ادا فرماتے تھے۔ (مسلم)

أَنَسٍ،

Hadith 344

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 345

وعنه رضي الله عنه قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من المدينة إلى مكة،‏‏‏‏ فكان يصلي ركعتين ركعتين حتى رجعنا إلى المدينة. متفق عليه واللفظ للبخاري.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل کر مدینہ سے مکہ تک کا سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپسی تک دو، دو رکعتیں ہی ادا فرماتے رہے۔ (بخاری و مسلم) البتہ متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔

وعنه

Hadith 345

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 346

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: اقام النبي صلى الله عليه وآله وسلم تسعة عشر يقصر. وفي لفظ:" بمكة تسعة عشر يوما". رواه البخاري. وفي رواية لابي داود:" سبع عشرة". وفي اخرى:" خمس عشرة". وله عن عمران بن حصين رضي الله عنهما:" ثماني عشرة". وله عن جابر رضي الله عنه:" اقام بتبوك عشرين يوما يقصر الصلاة." ورواته ثقات إلا انه اختلف في وصله.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس روز قیام فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصر ہی فرماتے رہے اور ایک روایت میں ہے کہ مکہ میں انیس روز قیام فرمایا۔ (بخاری) اور ابوداؤد کی روایت میں سترہ روز ہے اور ایک دوسری روایت میں پندرہ روز ہے۔ اور ابوداؤد میں ہی عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدت قیام اٹھارہ دن تھی اور انہیں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور نماز قصر ادا کرتے رہے، اس روایت کے راوی ثقہ ہیں، مگر اس کے موصول ہونے میں اختلاف ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 346

chevron_left Previous
1234…114
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter