Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
بلوغ المرام

Bulugh Al Maram

by Ibn Hajar Asqalani

1,359 Hadith32 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 323

وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: صلى معاذ باصحابه العشاء فطول عليهم فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏اتريد يا معاذ ان تكون فتانا؟ إذا اممت الناس فاقرا بالشمس وضحاها و: سبح اسم ربك الاعلى و: اقرا باسم ربك, والليل إذا يغشى. متفق عليه واللفظ لمسلم.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے مقتدیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی۔ انہوں نے قرآت لمبی کر دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تو نمازیوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ جب تو لوگوں کو امامت کرائے تو «والشمس وضحاها» اور «سبح اسم ربك الأعلى» (سورۃ «الشمس» و سورۃ «الأعلى») اور «اقرأ باسم ربك» (سورۃ «العلق») «والليل إذا يغشى» (سورۃ «الليل») پڑھا کرو“ بخاری و مسلم دونوں نے اسے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔

صلى معاذ باصحابه العشاء فطول عليهم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Hadith 323

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 324

وعن عائشة رضي الله عنها في قصة صلاة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالناس وهو مريض قالت: فجاء حتى جلس عن يسار ابي بكر فكان يصلي بالناس جالسا وابو بكر قائما يقتدي ابو بكر بصلاة النبي صلى الله عليه وآله وسلم ويقتدي الناس بصلاة ابي بكر. متفق عليه.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے ضمن میں فرماتی ہیں جو انہوں نے لوگوں کو اس حالت میں پڑھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھے بیٹھے نماز پڑھا رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔ (بخاری و مسلم)

آله وسلم ويقتدي الناس بصلاة ابي بكر. متفق عليه. ← ابو بكر قائما يقتدي ابو بكر بصلاة النبي صلى الله عليه ← يسار ابي بكر فكان يصلي بالناس جالسا ← فجاء حتى جلس

Hadith 324

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 325

وعن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا ام احدكم الناس فليخفف فإن فيهم الصغير والكبير والضعيف وذا الحاجة فإذا صلى وحده فليصل كيف شاء» . متفق عليه.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کے فرائض انجام دے تو اسے قرآت میں تخفیف کرنی چاہیئے۔ اس لئے کہ مقتدیوں میں بچے، بوڑھے، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں جب تنہا نماز پڑھے تو پھر جس طرح چاہے پڑھے۔“

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 325

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 326

وعن عمرو بن سلمة رضي الله عنه قال: قال ابي: جئتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وآله وسلم حقا فقال: «‏‏‏‏فإذا حضرت الصلاة فليؤذن احدكم وليؤمكم اكثركم قرآنا» . قال: فنظروا فلم يكن احد اكثر قرآنا مني،‏‏‏‏ فقدموني بين ايديهم،‏‏‏‏ وانا ابن ست او سبع سنين. رواه البخاري وابو داود والنسائي.

سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے والد نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے حق لے کر آ رہا ہوں ان کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے اور امامت ایسا شخص کرائے جو قرآن حمید کا زیادہ عالم ہو۔“ عمرو نے کہا میری قوم نے دیکھا میرے سوا کوئی دوسرا قرآن کا عالم نہیں ہے تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا۔ اس وقت میری عمر چھ سات برس کی تھی۔ (بخاری، ابوداؤد، نسائی)

فنظروا فلم يكن احد اكثر قرآنا مني،‏‏‏‏ فقدموني بين ايديهم،‏‏‏‏ ← «‏‏‏‏فإذا حضرت الصلاة فليؤذن احدكم وليؤمكم اكثركم قرآنا» ← ابي: جئتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وآله وسلم حقا ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ،

Hadith 326

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 327

وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يؤم القوم اقرؤهم لكتاب الله تعالى فإن كانوا في القراءة سواء فاعلمهم بالسنة فإن كانوا في السنة سواء فاقدمهم هجرة فإن كانوا في الهجرة سواء فاقدمهم سلما- وفي رواية: «‏‏‏‏سنا» ‏‏‏‏- ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه ولا يقعد في بيته على تكرمته إلا بإذنه» . رواه مسلم.

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کا امام ایسا آدمی ہو جسے قرآن حمید کا علم زیادہ ہو۔ اگر اس وصف میں لوگ مساوی ہوں پھر وہ امام بنے جسے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا علم زیادہ ہو اور اگر سنت کے علم میں بھی لوگ مساوی ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے ہجرت پہلے کی۔ اگر اس وصف میں سب برابر ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے پہلے اسلام قبول کیا ہو اور ایک روایت میں «سلما» (اسلام) کی بجائے «سنا» (عمر) کا لفظ بھی ہے (یعنی اگر مذکورہ بالا اوصاف میں سبھی برابر ہوں تو پھر ان میں جس کی عمر زیادہ ہو اسے امام بنایا جائے) کوئی آدمی کسی آدمی کے دائرہ اقتدار میں امامت نہ کرائے اور نہ گھر میں اس کی مخصوص نشست (بستر) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔“ (مسلم)

ابْنِ مَسْعُودٍ،

Hadith 327

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 328

ولابن ماجه من حديث جابر رضي الله عنه: «‏‏‏‏ولا تؤمن امراة رجلا ولا اعرابي مهاجرا ولا فاجر مؤمنا» . وإسناده واه.

ابن ماجہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”کوئی عورت کسی مرد کی امام نہ بنے اور نہ کوئی بدوی دیہاتی کسی مہاجر کی امامت کرائے اور نہ کوئی فاجر کسی مومن کا امام بنے۔“ اس روایت کی سند «واه» ضعیف ہے۔

Hadith 328

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 329

وعن انس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «رصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالاعناق» ‏‏‏‏ رواه ابو داود والنسائي وصححه ابن حبان.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”اپنی صفوں کو مضبوطی سے ملاؤ اور ان کے درمیان فاصلہ کم رکھو اور اپنی گردنوں کو ایک محاذ پر رکھو (برابر برابر رکھو)۔“ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← أَنَسٍ،

Hadith 329

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 330

وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏خير صفوف الرجال اولها وشرها آخرها وخير صفوف النساء آخرها وشرها اولها» .‏‏‏‏ رواه مسلم.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں کی بہترین اور سب سے زیادہ خیر و بھلائی والی صف، ان کی پہلی صف ہے اور بدترین اور بری صف ان کی آخری صف ہے اور خواتین کی بہترین اور خیر و بھلائی ان کی آخری صف ہے اور بدترین اور بری صف ان کی پہلی صف ہے۔“ (مسلم)

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 330

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 331

وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: صليت مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ذات ليلة فقمت عن يساره فاخذ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم براسي من ورائي فجعلني عن يمينه. متفق عليه.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ (بخاری و مسلم)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 331

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 332

وعن انس رضي الله عنه قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقمت ويتيم خلفه وام سليم خلفنا. متفق عليه واللفظ للبخاري.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ میں اور یتیم دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے (تنہا) نماز ادا کی۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔

أَنَسٍ،

Hadith 332

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 333

وعن ابي بكرة رضي الله عنه انتهى إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم وهو راكع فركع قبل ان يصل إلى الصف فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏زادك الله حرصا ولا تعد» .‏‏‏‏ رواه البخاري زاد ابو داود فيه: فركع دون الصف ثم مشى إلى الصف.

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عین اس وقت پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فرما رہے تھے۔ پس انھوں نے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ تیری حرص و طمع میں اضافہ فرمائے! آئندہ ایسا مت کرنا۔“ (بخاری) ابوداؤد نے اتنا اضافہ کیا نقل کیا ہے کہ انھوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع کیا اور رکوع کی حالت میں ہی چل کر صف میں شامل ہو گئے۔

Hadith 333

بلوغ المرام · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 334

وعن وابصة بن معبد الجهني رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم راى رجلا يصلي خلف الصف وحده فامره ان يعيد الصلاة. رواه احمد وابو داود والترمذي وحسنه وصححه ابن حبان. وله عن طلق بن علي رضي الله عنه: «‏‏‏‏لا صلاة لمنفرد خلف الصف» ‏‏‏‏ وزاد الطبراني في حديث وابصة رضي الله عنه:«‏‏‏‏الا دخلت معهم او اجتررت رجلا؟» .

سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایسے آدمی پر پڑی جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دوبارہ پڑھنے حکم دیا۔ احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ اور طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی اور طبرانی نے وابصہ کی حدیث میں اتنا اضافہ بھی نقل کیا ہے کہ ”تو ان کے ساتھ ہی داخل کیوں نہ ہو گیا یا تو پہلی صف میں سے کسی نمازی کو پیچھے کھینچ لیتا۔“

وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ،

Hadith 334

chevron_left Previous
1234…114
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    0. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    0. Chapter
3. The funeral book
    0. Chapter
4. The Book of Zakat
    0. Chapter
5. The Book of Fasting
    0. Chapter
6. Hajj book
    0. Chapter
7. Sales book
    0. Chapter
8. The Book of Marriage
    0. Chapter
9. Criminal Book
    0. Chapter
10. The Book of Frontiers
    0. Chapter
11. The Book of Jihad
    0. Chapter
12. Food Book
    0. Chapter