Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4585

4585 - شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حَبَّةَ بْنِ جُوَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «عَبَدْتُ اللَّهَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ سِنِينَ قَبْلَ أَنْ يَعْبُدَهُ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4585 - وهذا باطل

حضرت حبہ بن جوین سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس امت کے کسی بھی فرد کے عبادت الٰہی شروع کرنے سے پہلے ، سات برس تک صرف رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ عبادت کرتا رہا ہوں ۔

عَلِيٍّ، ← حَبَّةَ بْنِ جُوَيْنٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الأَجْلَحِ، ← شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4585

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4586

4586 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبُو ذَرٍّ وَنُعَيْمُ ابْنُ عَمِّ أَبِي ذَرٍّ، وَأَنَا مَعَهُمْ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجَبَلِ مُكْتَتِمٌ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا مُحَمَّدُ، آتَيْنَاكَ نَسْمَعُ مَا تَقُولُ، وَإِلَى مَا تَدْعُو، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ» فَآمَنَ بِهِ أَبُو ذَرٍّ وَصَاحِبُهُ وَآمَنْتُ بِهِ، وَكَانَ عَلِيٌّ فِي حَاجَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَهُ فِيهَا. وَأُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4586 - صحيح

حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں " حضرت ابوذر اور ان کا چچا زاد بھائی نعیم اور میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلے ۔ آپ ﷺ اس وقت پہاڑ میں چھپے ہوئے تھے۔ حضرت ابوذر نے کہا : اے محمد ﷺ ! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ ہم سن سکیں کہ آپ کیا کہتے ہیں اور کس چیز کی طرف بلاتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں کہتا ہوں " اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں " تو ہم تینوں آپ پر ایمان لے آئے۔اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے کسی کام کے لئے گئے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے ان کو کہیں بھیجا تھا ، رسول اللہ ﷺ پر پیر کے دن وحی نازل ہوئی اور منگل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبُو ذَرٍّ: يَا مُحَمَّدُ، آتَيْنَاكَ نَسْمَعُ مَا تَقُولُ، وَإِلَى مَا تَدْعُو، ← مَعَهُمْ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ بِالْجَبَلِ مُكْتَتِمٌ، ← انْطَلَقَ أَبُو ذَرٍّ وَنُعَيْمُ ابْنُ عَمِّ أَبِي ذَرٍّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4586

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4587

4587 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَيْهَسٍ الْمُلَائِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «نُبِّئَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4587 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کو پیر کے دن نبوت دی گئی (یعنی آپ کی بعثت ہوئی) ظاہری طور پر۔ (ورنہ آپ تو اس وقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام ابھی پانی اور مٹی کی کشمکش میں تھے) اور حضرت علی رضی اللہ عنہ منگل کے دن اسلام لائے۔

أَنَسٍ، ← مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، ← علي بن عابس ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَيْهَسٍ الْمُلَائِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4587

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4588

4588 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ، صَاحِبُ الْمُصَلَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْقَاسِمُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: «قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، لِسَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، سَنَةَ أَرْبَعِينَ، وَكَانَتْ خِلَافَتُهُ خَمْسَ سِنِينَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، قَتَلَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ الْمُرَادِيُّ وَهُوَ يَوْمَ قُتِلَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً، أَوْ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4588 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سن 40 ہجری 17 رمضان المبارک جمعۃ المبارک کے دن شہید کیا گیا۔ آپ کی مدت خلافت 4 سال اور 9 ماہ تھی، عبدالرحمٰن بن ملجم المرادی نے آپ کو شہید کیا۔ اور شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک 63 یا 64 برس تھی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ، صَاحِبُ الْمُصَلَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْمَرْثَدِيُّ، ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4588

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4589

4589 - سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي شَيْبَةَ، يَقُولُ: «وَلِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ خَمْسَ سِنِينَ، وَقُتِلَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ مِنْ مُهَاجِرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً، قُتِلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، لِلْحَادِي وَالْعِشْرِينَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَمَاتَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَدُفِنَ بِالْكُوفَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4589 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت ابو بکر بن ابی شیبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پانچ سال تک خلیفہ رہےاور چالیسویں سن ہجری میں شہید ہوئے، شہادت کے وقت ان کی عمر 63 برس تھی، آپ کو 21 ویں رمضان ، جمعہ کے دن زخمی کیا گیا اور ہفتہ کے دن آپ کا انتقال ہو گیا، آپ کو کوفہ میں دفن کیا گیا۔

أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي شَيْبَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبَا إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيَّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4589

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4590

4590 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا سِنَانٍ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ عَادَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي شَكْوَى لَهُ أَشْكَاهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَكْوَاكَ هَذِهِ، فَقَالَ: لَكِنِّي وَاللَّهِ مَا تَخَوَّفْتُ عَلَى نَفْسِي مِنْهُ، لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، يَقُولُ: «إِنَّكَ سَتُضْرَبُ ضَرْبَةً هَا هُنَا وَضَرْبَةً هَا هُنَا - وَأَشَارَ إِلَى صُدْغَيْهِ - فَيَسِيلُ دَمُهَا حَتَّى تَخْتَضِبَ لِحْيَتُكَ، وَيَكُونُ صَاحِبُهَا أَشْقَاهَا، كَمَا كَانَ عَاقِرُ النَّاقَةِ أَشْقَى ثَمُودَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4590 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ابو سنان الدؤلی کا بیان ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ زخمی تھے تو یہ ان کی عیادت کے لئے گئے ( ابو سنان کہتے ہیں ) میں نے عرض کی: اے امیر المومنین ! آپ کی اس زخمی حالت پر ہمیں تو بہت تشویش ہو رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لیکن خدا کی قسم ! مجھے اپنے اوپر کوئی تشویش نہیں ہے کیونکہ صادق و مصدوق رسول اللہ ﷺ نے مجھے بتادیا تھا کہ تمہیںاس اس مقام پر زخم آئیں گے ( یہ کہتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کنپٹیوں کی جانب اشارہ کیا) پھر وہاں سے خون بہے گا حتی کہ تیری داڑھی رنگین ہو جائے گی۔ اور مجھے شہید کرنے والا اس امت کا سب سے بڑا بد بخت ہوگا جیسا کہ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا قوم ثمود کا سب سے بڑا بد بخت تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کےمعیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

رَسُولُ اللَّهِ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ← لكني والله ما تخوفت على نفسي منه لأني ← فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَكْوَاكَ هَذِهِ، ← أَنَّهُ عَادَ عَلِيًّا فِي شَكْوَى لَهُ أَشْكَاهَا، ← زيد بن أسلم أن أبا سنان الدؤلي ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4590

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4591

4591 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الرَّسَّامِ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ دِمَشْقَ وَأَنَا أُرِيدُ الْغَزْوَ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ لِأُسْلِمَ عَلَيْهِ، فَوَجَدْتُهُ فِي قُبَّةٍ عَلَى فَرْشٍ بِقُرْبِ الْقَائِمِ، وَتَحْتَهُ سِمَاطَانِ، فَسَلَّمْتُ، ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ شِهَابٍ، أَتَعْلَمُ مَا كَانَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ صَبَاحَ قُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، فَقُمْتُ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ حَتَّى أَتَيْتُ خَلْفَ الْقُبَّةِ، فَحَوَّلَ إِلَيَّ وَجْهَهُ، فَأَحْنَا عَلَيَّ فَقَالَ: مَا كَانَ؟ فَقُلْتُ: «لَمْ يُرْفَعْ حَجَرٌ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهُ دَمٌ» ، فَقَالَ: «لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ يَعْلَمُ هَذَا غَيْرِي وَغَيْرُكَ لَا يَسْمَعَنَّ مِنْكَ أَحَدٌ» ، فَمَا حَدَّثْتُ بِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4591 - والخبر مرسل

ابن شہاب کہتے ہیں : میں جہاد کے ارادے سے دمشق آیا ، تو میں عبدالملک کے پاس سلام کرنے کے لئے آیا ، وہ اس وقت مینار کے قریب فرش پر بنے ہوئے ایک قبہ میں موجود تھا اور اس کے نیچے لوگوں کی دوقطاریں تھیں۔میں سلام کرکےبیٹھ گیا ۔ اس نے مجھے کہا : اے ابن شہاب : کیا تم جانتے ہو کہ جس دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اس دن بیت المقدس کی صورت حال کیا تھی؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ اس نےمجھے اپنے پاس آنے کو کہا: تو میں لوگوں کے پیچھے سے گزرتا ہوا وقبہ کی پچھلی جانب آگیا ، اس نے اپنا چہرہ میری طرف کیا اور بہت شفقت کے ساتھ کہنے لگا: کیا صورت حال تھی؟ میں نے کہا : بیت المقدس کی جو بھی اینٹ اٹھا کر دیکھا جاتا اس کے نیچے خون ہی خون ہوتا۔ اس نے کہا: ( اس وقت دنیا میں) تیرے اور میرے علاوہ اور کوئی شخص ایسا نہیں بچا جس کو اس بات کا علم ہو،(لیکن اب) تم یہ بات کسی کو بھی بیان مت کرنا۔ چنانچہ عبدالملک کی وفات تک میں نے یہ بات کسی کو نہ بتائی۔

قدمت دمشق ← ابْنِ شِهَابٍ، ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← حَفْصُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الرَّسَّامِ، ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ← أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4591

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4592

4592 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ: «اسْتُخْلِفَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَمْسَ وَثَلَاثِينَ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً وَأَشْهُرٍ، فَلَمَّا حَضَرَ الْمَوْسِمُ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَى الْمَوْسِمِ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، وَسَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ وَسَنَةَ ثَمَانٍ وَثَلَاثِينَ، وَحَضَرَ الْمَوْسِمَ، وَتَشَاغَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْقِتَالِ، فَاصْطَلَحَ النَّاسُ عَلَى شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ الْحَجَبِيِّ فَشَهِدَ بِالنَّاسِ، فَلَمَّا كَانَ سَنَةُ أَرْبَعِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، مِنْ سَنَةِ أَرْبَعِينَ، وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً» قَالَ الْحَاكِمُ: «فَنَظَرْنَا فَوَجَدْنَا لِهَذِهِ التَّوَارِيخِ بُرْهَانًا ظَاهِرًا بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4592 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت شر حبیل بن سعد القرشی فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو 35 سن ہجری میں خلیفہ بنایا گیا، اس وقت ان کی عمر شریف 38 سال اور کچھ ماہ تھی۔ جب 35 ہجری میں حج کا مہینہ آیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو حج پر بھیجا ، یونہی 37 اور38 سن ہجری میں بھی انہی کو بھیجا ۔ پھر حج کا موقع آگیا لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ جہاد میں مصروف تھے۔ پھر کچھ لوگوں نے حضرت شیبہ بن عثمان کے ساتھ صلح کی کوشش کیں ۔ آپ نے لوگوں کو اس بات پر گواہ بنایا ۔ پھر جب چالیسواں سن ہجری تھا تو اسی سال کےرمضان المبارک کی 17 تاریخ کو آپ کو شہید کردیا گیا اس وقت آپ کی عمر مبارک 63 برس تھی۔امام حاکم کہتے ہیں : ہم نے غور فکر کیا تو ہمیں ان تاریخوں کے واضح صحیح اسناد کے ہمراہ مل گئے۔

ثَلَاثِينَ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ ← «اسْتُخْلِفَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ خَمْسَ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ الْقُرَشِيِّ ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ ← عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَحْمَسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4592

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4593

4593 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ، وَإِنْ بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ فَسَبْعِينَ عَامًا» ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمَا بَقِيَ أَوْ بِمَا مَضَى؟ قَالَ: «بِمَا بَقِيَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسلام کی چکی 35 یا 36 سال تک گھومے گی ( یعنی یہ دین قائم و دائم رہے گا) ۔ پھر اگر یہ لوگ ہلاک ہوگئے تو ان کا حشر ہلاک شدگان والا ہوگا اور اگر ان کا دین باقی رہا تو ستر سال ( بلکہ اس کے بعد بھی ) رہے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ ﷺ ! یہ واقعہ بھی رونما ہونا ہے یا گزر چکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ابھی رونما ہونا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4593

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4594

4594 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ: إِمْلَاءً فِي شَعْبَانَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَأَرْبَعِ مِائَةٍ، قَالَ: " اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِي وَقْتِهِ، فَقِيلَ: أَنَّهُ بُويِعَ بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ مِنْ قَتْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقِيلَ بَعْدَ خَمْسٍ، وَقِيلَ بَعْدَ ثَلَاثٍ، وَقِيلَ بُويِعَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَقِيلَ بُويِعَ عُقَيْبَ قَتْلِ عُثْمَانَ فِي دَارِ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ مَبْذُولٍ، وَأَصَحُّ الرِّوَايَاتِ أَنَّهُ امْتَنَعَ عَنِ الْبَيْعَةِ إِلَى أَنْ دُفِنَ عُثْمَانُ، ثُمَّ بُويِعَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهِرًا، وَكَانَ أَوَّلُ مَنْ بَايَعَهُ طَلْحَةُ، فَقَالَ: هَذِهِ بَيْعَةُ تُنْكَثُ "

امام حاکم ابو عبداللہ الحافظ نے سن 402 ہجری میں املاء کرواتے ہوئے فرمایا : آپ کی شہادت کے وقت میں اختلاف ہے ۔ بعض نے یہ کہا ہے: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چاردن بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی تھی۔ بعض نے کہا ہے کہ پانچ دن بعد بیعت کی گئی ۔ بعض نے کہا: 3 دن بعد، اور بعض نے کہا ہے کہ 25 ذوالحجہ بروز جمعۃالمبارک کو بیعت کی گئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوراً بعد عمر و بن محمد الانصاری ( جو کہ بنی عمرو بن مبذول کی اولادوں میں سے ایک ہے) کے گھر میں بیعت کی گئی ۔ جبکہ سب سے صحیح تر روایت یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین تک بیعت سے انکار کئے رکھا۔ ( پھر جب ان کی تدفین ہوگئی تو) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منبر رسول پر بیٹھ کر اعلانیہ بیعت لی۔ اور سب سے پہلے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیعت کی تھی۔ اور انہوں نے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا۔ یہ بیعت ہےجو توڑ دی جائے گی۔

هَذِهِ بَيْعَةُ تُنْكَثُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4594

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4595

4595 - فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ، ثنا وَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى النَّهْشَلِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ قَالَ: لَمَّا بُويِعَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ وَاقِفٌ بَيْنَ يَدَيِ الْمِنْبَرِ: « [البحر الطويل] إِذَا نَحْنُ بَايَعْنَا عَلِيًّا فَحَسْبُنَا ... أَبُو حَسَنٍ مِمَّا نَخَافُ مِنَ الْفِتَنْ وَجَدْنَاهُ أَوْلَى النَّاسِ بِالنَّاسِ أَنَّهُ ... أَطَبُّ قُرَيْشًا بِالْكِتَابِ وَبِالسُّنَنِ وَإِنَّ قُرَيْشًا مَا تَشُقُّ غُبَارَهُ ... إِذَا مَا جَرَى يَوْمًا عَلَى الضَّمْرِ الْبَدَنْ وَفِيهِ الَّذِي فِيهِمْ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ ... وَمَا فِيهِمْ كُلُّ الَّذِي فِيهِ مِنْ حَسَنْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4595 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت اسود بن یزید نخعی فرماتےہیں : جب رسول اللہ ﷺ کے منبر شریف پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی جارہی تھی تو حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ منبر کے سامنے کھڑے ہوئے درج ذیل اشعار پڑھ رہے تھے۔ (1) جب ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ہے تو ہمیں جن فتنوں کا خدشہ ہے ان کے لئے " ابوحسن " ہمارے لئے کافی ہیں (2) ہم نے ان کو لوگوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب پایا ہے اور یہ کتاب اللہ اور سنت رسول کے تمام قریش سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ (3) اور بے شک قریش کی غبار نہیں چھٹی جب کبھی وہ لاغر بدن پر چلتے ہیں اور اس میں وہ ہے جس میں تمام بھلائیاں موجود ہیں اور ان میں ایسا کوئی نہیں ہے جس میں تھوڑی بھلائیاں ہوں۔

لَمَّا بُويِعَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← وَضَّاحُ بْنُ يَحْيَى النَّهْشَلِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4595

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4596

4596 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَتْ بَيْعَةُ عَلِيٍّ إِلَى حُذَيْفَةَ قَالَ: «لَا أُبَايِعُ بَعْدَهُ إِلَّا أَصْعَرَ أَوْ أَبْتَرَ» قَالَ الْحَاكِمُ: «هَذِهِ الْأَخْبَارُ الْوَارِدَةُ فِي بَيْعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ مُجْمَعٌ عَلَيْهَا، فَأَمَّا قَوْلُ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَأَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، وَمُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَعَدُوا عَنْ بَيْعَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا قَوْلُ مَنْ يَجْحَدُ حَقِيقَةَ تِلْكَ الْأَحْوَالِ فَاسْمَعِ الْآنَ حَقِيقَتَهَا»

حضرت ابو راشد فرماتے ہیں : جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کا معاملہ حضرت حذیفہ تک پہنچا تو انہوں نے کہا: میں ان کے بعد کسی ٹیڑھے منہ والے یا ناقص شخص کی بیعت نہیں کروں گا۔امام حاکم کہتے ہیں : یہ وہ اخبار ہیں جو امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی بیعت کے حوالے سے منقول ہیں ۔ یہ تمام کی تمام صحیح ہیں اور ان پر اجماع ہے ۔ اور جہاں تک تعلق ہے بعض لوگوں کے اس مؤقف کا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ، ابو مسعود انصاری ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت موسیٰ اشعری ، حضرت محمد بن مسلمہ انصاری ، اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے سے انکار کردیا تھا تو یہ بات حقیقت حال کو ٹھکرانے کے مترادف ہے۔ آئیے ہم آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کرتے ہیں ۔

أَبِي رَاشِدٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← العلاء بن صالح ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4596

chevron_left Previous
1…730731732…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section