Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1530

1530 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَخَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَحَضَرَتْ أُمَّ سَعْدٍ الْوَفَاةُ فَقِيلَ لَهَا: أَوْصِي قَالَتْ: فِيمَا أُوصِي؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ ذُكِرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا، الْحَائِطُ قَدْ سَمَّاهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ»

سعید بن عمر وبن شرجیل بن سعد بن عباداپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں تھے کہ اُمّ سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آ گیا ، ان سے کہا گیا کہ تم کوئی وصیت کرد ۔انہوں نے جواب دیا: میں کس چیز کی وصیت کروں؟ مال تو سارے کا سارا سعد کا ہے ۔ پھر وہ سعد کے واپس آنے سے پہلے ہی انتقال کر گئیں ۔ جب سعد واپس آئے تو ان کو یہ بات بنائی گئی تو انہوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اگر میں ان کی طرف سے کوئی صدقہ کروں تو ان کو کوئی فائدہ ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، سعد نے کہاں فلاں فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار پر صحیح حد یث اس کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَبَّادٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أبو بكر بن أبي نصر المروزي، ← مَالِكٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَخَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1530

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1531

1531 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا، وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا

حضرت (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان کی والدہ فوت ہوگئی ہیں ، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کوکوئی فائدہ پہنچے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔اس نے کہا: میرا ایک باغ ہےمیں آپ کو گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے وہ ان کی طرف سے صدقہ کر دیا۔

فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا، وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا ← نَعَمْ ← لِرَسُولِ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Zakat Book › Insurance section · Hadith 1531

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1532

1532 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجِنَانِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَنَادَى مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش شیاطین اور جنات کو باندھ دیا جا تا ہے ۔ دوزخ کے دروازوں کو بند کر دیا جا تا ہے پھران میں سے کوئی کھولا نہیں جا تا۔اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جا تا ہے اور ان میں سے کسی کو بند نہیں کیا جا تا ۔ اور ایک نداء دینے والا یوں نداء دیتا ہے’’اے بھلائی سے بھاگنے والے! متوجہ ہواوراے برائی سے بھاگنے والے! تو رُکا رہ ، اوراللہ کے لئے ان کو جہنم سے رہا کر دیا جا تا ہے‘ ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نہیں کیا

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1532

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1533

1533 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيِّ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ الْهِلَالِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ هَذَا الَّذِي كَانَ شُعْبَةُ إِذَا حَدَّثَ عَنْهُ يَقُولُ: حَدَّثَنِي سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ، وَأَبُو نَصْرٍ الْهِلَالِيُّ هُوَ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ رَاوِيًا عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَدِ وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ "

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کسی عمل کی رہنمائی کر یں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایاروزے رکھا کرو کیونکہ ( اور کوئی عبادت اس کے) برابرنہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا اور محمد بن ابو یعقوب وہ راوی ہیں کہ حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ جب ان سے حدیث بیان کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں: ” مجھے یہ حدیث نبی تیمیم کے سردار نے بیان ہے‘‘ ۔اورابونصر ہلالی جو ہیں یہ حمید بن ہلال عدوی ہیں ۔ اور یہ حدیث شعبہ سے روایت کر نے والاعبدالصمد کے علاوہ اور کوئی راوی مجھے معلوم نہیں اور وہ ثقہ ہیں ، مامون ہیں۔

قُلْتُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← اَبَا نَصْرٍ الْھِلَالِیَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيِّ، وَأَنَا أَسْمَعُ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1533

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1534

1534 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِبَّانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنَّ يَعْمَلَ بِهِنَّ، وَيَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، وَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ بِهِنَّ، فَأَتَاهُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَكَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ تَعْمَلَ بِهِنَّ، وَتَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، فَإِمَّا أَنْ تُخْبِرَهُمْ، وَإِمَّا أَنْ أُخْبِرَهُمْ، قَالَ: يَا أَخِي لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخَافُ إِنْ سَبَقْتَنِي بِهِنَّ أَنْ يُخْسَفَ بِي وَأُعَذَّبَ. قَالَ: فَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ، وَقَعَدُوا عَلَى الشُّرُفَاتِ ثُمَّ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ أَعْمَلَ بِهِنَّ، وآمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ: أُولَاهُنَّ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، فَإِنَّ مَثَلَ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ، أَوْ وَرِقٍ، ثُمَّ أَسْكَنَهُ دَارًا، فَقَالَ: اعْمَلْ، وَارْفَعْ، إِلَيَّ فَجَعَلَ يَعْمَلُ وَيَرْفَعُ إِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ، فَأَيُّكُمْ يَرْضَى أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ كَذَلِكَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ فَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَلْتَفِتُوا، فَإِنَّ اللَّهَ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ إِلَى وَجْهِ عَبْدِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، وَأَمَرَكُمْ بِالصِّيَامِ وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ فِي عِصَابَةٍ مَعَهُ صُرَّةُ مِسْكٍ، كُلُّهُمْ يُحِبُّ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَ الصِّيَامِ كَرِيحِ الْمِسْكِ، وَأَمَرَكُمْ بِالصَّدَقَةِ وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ، فَأَوْثَقُوا يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ وَقَرَّبُوهُ لِيَضْرِبُوا عُنُقَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ: هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْدِيَ نَفْسِي مِنْكُمْ، وَجَعَلَ يُعْطِي الْقَلِيلَ، وَالْكَثِيرَ حَتَّى فَدَى نَفْسَهُ، وَأَمَرَكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ كَثِيرًا، وَمَثَلُ ذِكْرِ اللَّهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ حَتَّى أَتَى حِصْنًا حَصِينًا، فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ فِيهِ، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ لَا يَنْجُو مِنَ الشَّيْطَانِ إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ أَمَرَنِي اللَّهُ بِهِنَّ: الْجَمَاعَةُ، وَالسَّمْعُ، وَالطَّاعَةُ، وَالْهِجْرَةُ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، أَوْ مِنْ رَأْسِهِ إِلَّا أَنْ يُرَاجِعَ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى جَاهِلِيَّةً فَهُوَ مِنْ جُثَاءِ جَهَنَّمَ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، قَالَ: «وَإِنَّ صَامَ وَصَلَّى، وَيُدْعَى بِدَعْوَى اللَّهِ الَّتِي سَمَّاكُمْ بِهَا الْمُؤْمِنِينَ، الْمُسْلِمِينَ عِبَادَ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی نے یحیٰ بن زکر یا علیہ السلام کی طرف ۵کلمات وحی کئے تا کہ ان پرعمل کیا جائے اور بنی اسرائیل کو اس پرعمل کر نے کا حکم دے ۔لیکن انہوں نے ان پرعمل کر نے میں سستی کی ۔ان کے پاس حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لائے اور کہا: اللہ تعالی نے تمہیں پانچ کلمات پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا اور بنی اسرائیل کوبھی ان پر عمل کر نے کا حکم دیا ۔ اب یا تو آپ ان کوخبر دے دیں یا میں دیتا ہوں ۔ حضرت یحیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: اے بھائی! ایامت کرو کیونکہ اگر آپ ان میں مجھ سے سبقت لے گئے تو مجھے خوف ہے کہ مجھے عذاب دیا جائے گا ۔ ( رسول اللہ ﷺ ) نے فرمایا: پھر حضرت یحیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ ساری مسجد بھرگئی اور لوگ میناروں پر چڑھ گئے ، پھر انہوں نے بنی اسرائیل کوخطبہ دیا اورفرمایا: اللہ تعالی نے میری طرف پانچ کلمات وحی کئے ہیں تا کہ میں ان پر عمل کروں اوربنی اسرائیل کوان پر عمل کر نے کاحکم دوں ۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور جوشخص اللہ کے ساتھ کسی کوشر یک ٹھہرا تا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے خالص سونے اور چاندی کے مال سے غلام خریدا: پھر اس کو ایک گھر میں ٹھہرایا اور کہا: تم عمل کر کے میرے قریب آتے رہولیکن و شخص اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور کے لئے عمل کرے اور اس کے قریب ہوتا ر ہے ۔ تو تم میں سے کون شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا اورتمہیں رزق دیا ، اس لئے تم اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ ۔ اور جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتو ادھر ادھر متوجہ نہ ہو۔ اللہ تعالی اپنے بندے کی طرف اس وقت تک متوجہ رہتا ہے، جب تک آ دمی خودا پنی تو جہ نہ ہٹائےاوراللہ تعالی نے تجھے روزے کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال اس جیسی ہے کہ کوئی شخص لوگوں کی ایک جماعت میں ہو، اس کے پاس مشک کی ایک تھیلی ہواور سب لوگ اس کی خوشبو حاصل کر نے کی آرزور کھتے ہوں اور روزے کی خوشبومشک کی خوشبوجیسی ہے ۔ اور اس نے تمہیں صدقہ کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ کسی شخص کو دشمن پکڑ لیں اوراس کے ہاتھ گردن پہ باند ھ دیں اور بالکل اس کی گردن مارنے ہی لگے ہوں کہ وہ کہنے لگ جائے کیا تمہارے پاس یہ گنجائش ہے کہ میں تمہیں جان کا کوئی فد یہ دے دوں پھر وہ چھوٹی بڑی سب چیز یں دینا شروع کر دے یہاں تک کہ اس کی جان کا فد یہ ہو جائے ۔ اور اللہ نے تمہیں حکم دیا کہ اس کا کثرت سے ذکر کرو۔ اور اللہ کے ذکر کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کسی شخص کو اس کا دشمن ڈھونڈ تے ہوئے اس کے قدموں کے نشانات پر بہت تیزی سے آرہاہو یہاں تک کہ وہ ایک مضبوط قلعے میں پہنچ جائے اورا پنی جان بچائے ۔اسی طرح بندہ اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی شیطان سے بچ سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور میں بھی تمہیں ۵ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ تعالی نے بھی حکم دیا ہے: ( ۱ ) جماعت ( ۲ )غور سے سننا( ۳ ) فرمانبرداری( ۴ ) ہجرت ( ۵ ) جہاد فی سبیل اللہ ۔

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ القَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1534

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1535

1535 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ دَعْوَةً، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي» إِسْحَاقُ هَذَا إِنْ كَانَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى زَائِدَةَ فَقَدْ خَرَّجَ عَنْهُ مُسْلِمٌ، وَإِنْ كَانَ ابْنَ أَبِي فَرْوَةَ فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: روزہ دار کی افطاری کی دعا یہ ہے: اللهم إني أسألك برحمتك التي وسعت كل شيء أن تغفر لي ذنوبی ”اے اللہ ! میں تجھ سے تیری اس رحمت کے واسطے سے سوال کر تا ہوں جو ہر شے تک وسیع ہے کہ تو میرے گناہوں کو معاف کر دے ‘‘ یہ اسحاق اگر عبداللہ کے بیٹھے زائد ہ کے غلام ہیں تو امام مسلم رحمتہ اللہ نے ان کی روایات نقل کی ہیں اوراگر یہ ابوفروہ کے بیٹے ہیں تو امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے ان کی روایات نقل نہیں کیں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1535

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1536

1536 - أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطِيبُ بِمَرْوَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الْمُقَنَّعُ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَيَقْطَعُ مَا زَادَ عَلَى الْكَفِّ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «ذَهَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَقَدِ احْتَجَّا بِالْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ وَمَرْوَانَ بْنِ الْمُقَنَّعِ "

مروان بن سالم المقنع فرماتے ہیں : میں نے (حضرت عبداللہ )ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، وہ اپنی داڑھی کومٹھی میں لیتے اور جو ہتھیلی سے زیادہ ہوتی اس کو کاٹ دیا کر تے تھے اورفرماتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کے وقت یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ذهب الظمأ، وابتلت العروق، وثبت الأجر إن شاء الله ’’پیاس ختم ہوگئی ، رگیں تر ہوگئیں اورا جر ثابت ہو گیا ۔ان شاءاللہ تعالی‘‘یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے،امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں نے حسین بن واقد اور مروان بن المقنع کی روایات نقل کی ہیں ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا أَفْطَرَ ← رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَيَقْطَعُ مَا زَادَ عَلَى الْكَفِّ ← مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الْمُقَنَّعُ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← إبراهيم بن هلال ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطِيبُ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1536

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1537

1537 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ مِثْلُ الصَّائِمِ الصَّابِرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت معن بن محمد الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: کھا کر شکر ادا کر نے والا صا بر روزدار کی طرح ( ثواب پا تا) ہے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَمِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ ← إسماعيل بن نجيد بن أحمد بن يوسف السلمي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1537

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1538

1538 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُنَّا فِي رَمَضَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ، وَافْتَدَى بِطَعَامِ مِسْكِينٍ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: 185] الْآيَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ»

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں سے جس کا دل چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جس کا دل چاہتا روزہ نہ رکھتا اور ایک مسکین کا کھانا صدقہ کر دیتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوگئی فمن شهد منكم الشهر فليصمه تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضر ور اس کے روزے رکھے ۔( کنز الایمان امام احمد رضا ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیا کے مطابق صحیح ہے ۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1538

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1539

1539 - أَخْبَرَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، ثنا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ الْأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَشْهُرَ لَا تَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِهِمَا، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ عَابِدٌ مُجْتَهِدٌ شَرِيفُ الْبَيْتِ "

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالٰی نے چاند کو اوقات جاننے کا ذریعہ بنایا ہے ۔ اس لیے اسی کو دیکھ کر روزہ رکھواور اسی کو دیکھ کر روزے ختم کرواوراگرمطلع ابرآلود ہوتو اس کی مقدار پوری کرو اور یہ بات یا در کھو کہ مہینہ 30 سے زیادہ دنوں کانہیں ہوتا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا اورعبد العزیز بن ابی روادعبادت گزار ،مجتھد اور شریف گھرانے کے آدمی ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أحمد بن ملاعب بن حيان ← مكرم بن أحمد القاضي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1539

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1540

1540 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ صَامَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَقَدْ حَدَّثَ ابْنُ وَهْبٍ وَغَيْرُهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اُمّ المومنین سیّد ہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں رسول اللہ سلم سب سے زیادہ ماہ شعبان کا اہتمام کیا کرتے تھے پھر ماہ رمضان کا چاند دیکھ کر روز در کھتے تھے اور اگر مطلع ابر آلود ہوتا تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزہ رکھنا شروع کرتے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہ کیا۔اور ابن وہب اور دیگر محد ثین رحمتہ اللہ نے معاویہ بن صالح سے احادیث روایت کی ہیں ۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1540

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1541

1541 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي رَأَيْتُهُ «فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِالصِّيَامِ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت (عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگ چاند دیکھا کر تے تھے اور پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاتے کہ میں نے چاند دیکھا ہے ۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خودبھی روز ہ ر کھتے اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیتے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

تَراءَى الناسُ الهلالَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1541

chevron_left Previous
1234…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section