Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4597

4597 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّكُونِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الصَّيْرَفِيِّ، عَنْ أَبِي قَبِيصَةَ عُمَرَ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ بِالرَّبَذَةِ وَهُوَ يَقُولُ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: «مَا لَكُمَا تَحِنَّانِ حَنِينَ الْجَارِيَةِ، وَاللَّهِ لَقَدْ ضَرَبْتُ هَذَا الْأَمْرَ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، فَمَا وَجَدْتُ بُدًّا مِنْ قِتَالِ الْقَوْمِ، أَوِ الْكُفْرِ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4597 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روئی کے بوسیدہ گالوں کے پالان میں دیکھا وہ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے : تمہیں کیا ؟ تم لڑکیوں کی طرح کیوں رو رہے ہو؟ خدا کی قسم میں نے اس معاملہ میں بہت غور و فکر کیا ہے ۔ میرے سامنے دو ہی راستے ہیں (1) اس قوم سے جہاد کروں۔ (2) محمد ﷺ پر نازل شدہ (دین ) کا انکار کردوں۔

رَأَيْتُ عَلِيًّا عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ بِالرَّبَذَةِ وَهُوَ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي قَبِيصَةَ عُمَرَ بْنِ قَبِيصَةَ، ← أَبِي الصَّيْرَفِيِّ، ← شَرِيکٍ ← يحيى بن عبد الحميد ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّكُونِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4597

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4598

4598 - فَحَدَّثَنَا بِصِحَّةِ حَالِهِ فِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمَ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ، بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَصْتُ أَنْ أَتَسَمَّتُ بِسَمْتِكَ، وَأَقْتَدِي بِكَ فِي أَمْرِ فُرْقَةِ النَّاسِ، وَأَعْتَزِلُ الشَّرَّ مَا اسْتَطَعْتُ، وَإِنِّي أَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مُحْكَمَةً قَدْ أَخَذَتْ بِقَلْبِي فَأَخْبِرْنِي عَنْهَا، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [الحجرات: 9] أَخْبِرْنِي عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا لَكَ وَلِذَلِكَ؟ انْصَرِفْ عَنِّي، فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنّا سَوَادُهُ، وَأَقْبَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ: «مَا وَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ شَيْءٍ فِي أَمْرِ هَذِهِ الْآيَةِ مَا وَجَدْتُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أُقَاتِلْ هَذِهِ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ كَمَا أَمَرَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» هَذَا بَابٌ كَبِيرٌ قَدْ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ جَمَاعَةٌ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ، وَإِنَّمَا قَدَّمْتُ حَدِيثَ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَاقْتَصَرْتُ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4598 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک آدمی آیا اور بولا: اے ابو عبدالرحمٰن ! خدا کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ لوگوں میں اس تفرقہ کے وقت میں تمہاری اقتداء کروں اور تمہارے راستے کو اپناؤں ۔ اور حتیٰ المقدور میں شر سے بچ کر رہوں اور میں نے قرآن کریم کی ایک محکم آیت میں پڑھا ہے اور اس کو اپنے دل سے اپنایا ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ میری راہنمائی فرمائیں، آپ کا اس آیت ، طیبہ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ٩﴾[الحجرات: 9]"اور اگر مسلمانوں کے دوگروہ آپس میں لڑیں تو ان کی صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کرادو اور عدل کرو بے شک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں" (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ مجھے اس آیت کے بارے میں بتائیے ! تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی ( اور فرمایا) تو یہاں سے پلٹ جا۔ تو وہ شخص واپس چلا گیا حتیٰ کہ وہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ۔ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہماری طرف متوجہ ہوکر بولے : اس آیت کے حوالے سے میں نے اپنی سمجھ کے مطابق جو فیصلہ کیا ہے ، وہ یہ ہے کہ میں اس باغی گروہ سے جہاد نہیں کروں گا جیسا کہ میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔یہ باب بہت وسیع ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے کبارتا بعین کی پوری ایک جماعت ہے۔ تاہم میں نے شعیب بن ابی حمزہ کی زہری سے روایت کردہ حدیث مقدم کی ہے اور صرف اسی پر اکتفا کیا ہے کیونکہ وہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ نوٹ حضرت اسامہ بن زید کے قتال میں شریک نہ ہونے کا ذکر ( درج ذیل ہے)

حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي ← بشر بن شعيب بن أبي حمزة القرشي ← أحمد بن مهدي بن رستم ← بِصِحَّةِ حَالِهِ فِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4598

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4599

4599 - فَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ الرَّازِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَاسْتَبَقْنَا أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى الْعَدُوِّ، فَحَمَلْتُ عَلَى رَجُلٍ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ كَبَّرَ، فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ، وَرَأَيْتُ أَنَّهُ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ لِيُحْرِزَ دَمَهُ، فَلَمَّا رَجَعْنَا سَبَقَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا فَارِسَ خَيْرٍ مِنْ فَارِسِكُمْ، إِنَّا اسْتَلْحَقْنَا رَجُلًا فَسَبَقَنِي إِلَيْهِ، فَكَبَّرَ، فَلَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ قَتَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُسَامَةُ، مَا صَنَعْتَ الْيَوْمَ؟» فَقُلْتُ: حَمَلْتُ عَلَى رَجُلٍ، فَكَبَّرَ فَرَأَيْتُ أَنَّهُ، إِنَّمَا فَعَلَ لِيُحْرِزَ دَمَهُ فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ بَعْدَ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ فَقُلْتُ مَا قَالَ» ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ لِي يَوْمَئِذٍ، فَلَا أُقَاتِلُ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ مِمَّا نَهَانِي عَنْهُ، حَتَّى أَلْقَاهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:126]

حضرت ابوالشعثاء اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں : حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ ایک جنگ میں بھیجا ، تو میں اور ایک انصاری صحابی دوسرے لوگوں سے پہلے دشمن تک جاپہنچے ، میں نے ایک آدمی کا تعاقب کیا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے " اللہ اکبر" کا نعرہ بلند کیا ۔ لیکن میں نے اس کو نیزہ مار کر قتل کر ڈالا کیونکہ میرا خیال تھا کہ اس نے اپنی جان بچانے لے لئے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا۔ جب ہم اس جنگ سے واپس آئے تو وہ انصاری مجھ سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پہنچ گیا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ تمہارے شہسواروں سے بہتر کوئی شہسوار نہیں ہے ہم ایک آدمی کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے لیکن یہ اس کے پاس ہم سے پہلے پہنچ گئے، اس آدمی نے " اللہ اکبر " ( بھی) کہا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اسامہ ! تم نے آج یہ کیا کیا؟ میں نے کہا : میں نے ایک آدمی کو قابو میں کیا تو اس نے " اللہ اکبر " پکارا ۔ میں نے سوچا کہ یہ اپنی جان بچانے کے لئے " اللہ اکبر" کا نعرہ لگا رہا ہے ، اس لئے میں نے اس کو مار ڈالا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ( تم نے اس کو ) اللہ اکبر" کہنے کے باوجود (قتل کردیا) تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا؟ ۔لیکن میں نے جو عذر پیش کرنا تھا کردیا ۔ اس دن آپ مجھ سے مسلسل یہی فرماتے رہے ( کہ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھ لیا؟) اس لئے میں کسی ایسے آدمی سے نہیں لڑوں گا جو " اللہ اکبر" کہنے والا ہو۔ جس سے لڑنے سے حضور ﷺ نے مجھے منع کیا ہے۔ یہاں تک کہ میں آپ ﷺ سے جاملوں۔

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ فِي سَرِيَّةٍ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَاسْتَبَقْنَا ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَمِّہٖ ← أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← عمرو بن أبي قيس الرازي، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الدَّشْتَكِيُّ، ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4599

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4600

4600 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4599 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی سابقہ حدیث منقول ہے۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَمِّہٖ ← أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَصْرٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4600

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4601

4601 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثنا مُسْلِمُ الْمُلَائِيُّ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنَّ عَلِيًّا يَقَعُ فِيكَ إِنَّكَ تَخَلَّفْتَ عَنْهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَرَأْيٌ رَأَيْتُهُ، وَأَخْطَأَ رَأْيِي، إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أُعْطِيَ ثَلَاثًا لِأَنْ أَكُونَ أُعْطِيتُ إِحْدَاهُنَّ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، لَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرٍ خُمٍّ بَعْدَ حَمْدِ اللَّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ: «هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ؟» قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» وَجِيءَ بِهِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَهُوَ أَرْمَدُ مَا يُبْصِرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرْمَدُ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَلَمْ يَرْمَدْ حَتَّى قُتِلَ، وَفُتِحَ عَلَيْهِ خَيْبَرُ وَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ الْعَبَّاسَ وَغَيْرَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ: تُخْرِجُنَا وَنَحْنُ عَصَبَتُكَ وَعُمُومَتُكَ وَتُسْكِنُ عَلِيًّا؟ فَقَالَ: «مَا أَنَا أَخْرَجْتُكُمْ وَأَسْكَنْتُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَخْرَجَكُمْ وَأَسْكَنَهُ» وَأَمَّا مَا ذُكِرَ مِنَ اعْتِزَالِ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ «فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَّهَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَأْخُذَ الْبَيْعَةَ لَهُ مُحَمَّدًا ابْنَهُ وَمُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ عَلَى الْكُوفَةِ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو مَسْعُودٍ، فَامْتَنَعَ أَبُو مُوسَى أَنْ يُبَايِعَ فَرَجَعَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَبَعَثَ الْحَسَنَ ابْنَهُ وَمَالِكَ الْأَشْتَرَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4601 - سكت الحاكم عن تصحيحه

حضرت خیثمہ بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں : حضرت سعدبن مالک رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ تمہارے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے کیونکہ تم نے ان کی بیعت نہیں کی۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! یہ صرف میری ( ذاتی ) رائے تھی، اور میری رائے غلط بھی ہو سکتی ہے ۔ تاہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تین ایسی فضیلتیں حاصل ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے ایک بھی حاصل ہو تو دنیاو مافیھا سے بہتر ہے ۔ (1) رسول اللہ ﷺ نے " غدیر خم" کےدن اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرنے کےبعد ان کے متعلق فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنوں کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا : اے اللہ جس کا میں مولیٰ ہوں ، علی ( بھی) اس کا مولیٰ ہے ۔ جو اس سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی کر اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی کر(2) آپ کو غزوہ خیبر کے موقع پر لایا گیا ، اس وقت آپ کی آنکھوں میں تکلیف تھی، آپ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میری آنکھوں میں تکلیف ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈال کر ان کے لئے دعا فرمائی ، اس کے بعد شہادت تک کبھی بھی آپ کو آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح فرمایا۔ (3) رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباصﷺ اور دیگر صحابہ کرایم رضی اللہ عنہم کو مسجد سے منتقل ہونے کا حکم دیا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی، آپ ﷺ ہمیں یہاں سے منتقل ہونے کا حکم دے رہے ہیں ، حالانکہ ہم آپ کے قریبی رشتہ دار اور تمہارے چچا ہیں ۔ اور آپ علی کو مسجد میں ٹھہرا رہے ہیں ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہ میں نے تمہیں منتقل کیا ہے اور نہ اس کو ٹھہرایا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مسجد سے منتقل کیا ہے اور اس کو ٹھہرایا ہے۔ ایک اور سند کے ساتھ حضرت محمد بن مسلمہ کا یہ بیان منقول ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ جب نمازیوں ( یعنی مسلمانوں ) کے درمیان اختلاف رونما ہو جائے تو پھر میں کیا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنی تلوار لے کر حرہ ( یعنی مدینہ منورہ کے نواح میں موجود پتھریلی زمین ) میں جانا اور اپنی تلوار اس پر مار کر ( توڑ دینا) ۔ پھر اپنے گھر آکر بیٹھ جانا یہاں تک کہ تمہیں ( طبعی ) موت آ جائے یا گناہ گار ہاتھ تم تک پہنچ جائے ( یعنی جنگجو لوگ تمہیں قتل کر دیں )

سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4601

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4602

4602 - فَحَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ مُجَالِدٍ، وَابْنِ عَيَّاشٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ، وَبُويِعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، خَطَبَ أَبُو مُوسَى وَهُوَ عَلَى الْكُوفَةِ، فَنَهَى النَّاسَ عَنِ الْقِتَالِ، وَالدُّخُولِ فِي الْفِتْنَةِ، فَعَزَلَهُ عَلِيٌّ عَنِ الْكُوفَةِ، مِنْ ذِي قَارٍ، وَبَعَثَ إِلَيْهِ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَعَزَلَاهُ، وَاسْتَعْمَلَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ، فَلَمْ يَزَلْ عَامِلًا حَتَّى قَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْبَصْرَةِ بَعْدَ أَشْهُرٍ فَعَزَلَهُ حَيْثُ قَدِمَ، فَلَمَّا سَارَ إِلَى صِفِّينَ اسْتَخْلَفَ عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ حَيْثُ قَدِمَ مِنْ صِفِّينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4602 - الهيثم بن عدي متروك

حضرت شعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی گئی ۔ تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کوفہ کے گورنر تھے، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں لوگوں کو قتال سے منع کیا اور فتنہ میں شریک ہونے سے روکا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوفہ سے " زی قار" سے معزول کردیا ۔ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا ، انہوں نے آکر حضرت موسیٰ کو معزول کر دیا اور قرظہ بن کعب کو گورنر بنا دیا پھر جب ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) چند ماہ بعد بصرہ سے واپس آئے تو ان کو بھی معزول کردیا پھر جب آپ صفین کی طرف روانہ ہوئے تو عقبہ عمرو کو عامل بنایا اور جب صفین سے واپس آئے تو حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو وہاں کا عامل مقرر فرمایا۔

الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدٍ، وَابْنِ عَيَّاشٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4602

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4603

4603 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: دَخَلَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ عَلَى عَمَّارٍ وَهُوَ يَسْتَنْفِرُ النَّاسَ، فَقَالَا لَهُ: «مَا رَأَيْنَا مِنْكَ أَمْرًا مُنْذُ أَسْلَمْتَ أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ» ، فَقَالَ عَمَّارٌ: مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا، عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ: فَكَسَاهُمَا عَمَّارٌ حُلَّةً حُلَّةً، وَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو وائل فرماتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اس وقت وہ لوگوں کو جنگ کے لئے جمع کر رہے تھے، انہوں نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: تم جب سے اسلام لائے تو اس وقت سے لے کر آج تک ہم نے تم میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل یہی دیکھا ہے کہ تم جنگ میں جلد بازی کررہے ہو، حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا : تم جب سے اسلام لائے ہو اس وقت سے لے کر آج تک میں نے تم میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل یہی دیکھا ہے کہ تم جنگ دیر کررہے ہو۔ پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک ایک جوڑا پیش کیا اور نماز جمعہ کے لئے چلے گئے۔

أَبِي وَائِلٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4603

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4604

4604 - فَحَدَّثْنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ إِذَا اخْتَلَفَ الْمُصَلُّونَ؟ قَالَ: «تَخْرُجُ بِسَيْفِكَ إِلَى الْحَرَّةِ فَتَضْرِبُهَا بِهِ، ثُمَّ تَدْخُلُ بَيْتَكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ، أَوْ يَدٌ خَاطِئَةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4604 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! جب نماز پڑھنے والوں میں اختلاف واقع ہو تو اس وقت میں کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنی تلوار لے جا کر سیاہ پتھروں والی زمین میں مارنا ( یعنی اپنی تلوار وہاں پھنک دینا ) پھر اپنے گھر آجانا ، یہا ں تک کہ تجھ پر قضاء کا ہاتھ آ پہنچے یا کسی خطا کرنے والے کا ہاتھ آپہنچے ۔

قُلْتُ ← مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ لَبِيدٍ، ← أَبِيهِ ← سالم بن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← يحيى بن عبد الحميد ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← فَحَدَّثْنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4604

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4605

4605 - وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، مِنْ وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ الْأَشْهَلِيِّ، أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفًا مِنْ نَجْرَانَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ أَعْطَاهُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، وَقَالَ: «جَاهِدْ بِهَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ النَّاسِ فَاضْرِبْ بِهِ الْحَجَرَ، ثُمَّ ادْخُلْ بَيْتَكَ، وَكُنَّ حِلْسًا مُلْقًى حَتَّى تَقْتُلَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ، أَوْ تَأْتِيَكَ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ» قَالَ الْحَاكِمُ: «فَبِهَذِهِ الْأَسْبَابِ وَمَا جَانَسَهَا كَانَ اعْتِزَالُ مَنِ اعْتَزَلَ عَنِ الْقِتَالِ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقِتَالِ مَنْ قَاتَلَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4605 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت سعد بن زید سعد الاشہلی نے نجران سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک تلوار ہدیہ بھیجی ۔ جب یہ تلوار حضور ﷺ کے پاس پہنچی تو آپ نے یہ تلوار محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو عطا کی اور فرمایا : اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو لیکن جب لوگوں کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو اس کو پتھروں پر مار کر اپنے گھر میں جا کر بیٹھ جانا حتیٰ کہ تجھے کوئی خطا کرنے والا ہاتھ قتل کر دے یا تجھے قضائے الٰہی سے موت آجائے۔ امام حاکم فرماتے ہیں : یہی اور اس سے ملتی جلتی کچھ دیگر وجوہات تھیں جن کی بناء پر کچھ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قتال میں شریک ہوگئے اور کچھ لوگ آپ کے ہمراہ قتال سے کنارہ کش رہے۔

سَعْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ الْأَشْهَلِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← إبراهيم بن جعفر الأنصاري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4605

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4606

4606 - فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو مُوسَى يَعْنِي إِسْرَائِيلَ بْنَ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: " جَاءَ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ إِلَى الْبَصْرَةِ فَقَالَ لَهُمُ النَّاسُ: مَا جَاءَكُمْ؟ قَالُوا: نَطْلُبُ دَمَ عُثْمَانَ قَالَ الْحَسَنُ: أَيَا سُبْحَانَ اللَّهِ، أَفَمَا كَانَ لِلْقَوْمِ عُقُولٌ فَيَقُولُونَ: وَاللَّهِ مَا قَتَلَ عُثْمَانَ غَيْرُكُمْ؟ قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ عَلِيٌّ إِلَى الْكُوفَةِ، وَمَا كَانَ لِلْقَوْمِ عُقُولٌ فَيَقُولُونَ: أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا ضَمَنَّاكَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4606 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بصرہ میں آئے ، لوگوں نے ان سے آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا : ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص چاہتے ہیں ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: واہ ! سبحان اللہ ، اس قوم کے عقلمند لوگ تو کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل تو تم خود ہو، پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو وہاں کے ذمہ دار لوگوں نے کہا: ہم آپ کو اپنا کفیل نہیں بنا سکتے۔

الْحَسَنِ، ← أَبُو مُوسَى يَعْنِي إِسْرَائِيلَ بْنَ مُوسَى ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4606

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4607

4607 - فَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيُّ: لَمَّا خَرَجَ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَائِشَةُ تَطْلُبُ دَمَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، كَانَتْ عَائِشَةُ خَطِيبَةَ الْقَوْمِ بِهَا وَهُمْ لَهَا تَبَعٌ فَعَرَضُوا مَنْ مَعَهُمْ بِذَاتِ عِرْقٍ فَاسْتَصْغَرُوا عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَأَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَرَدُّوهُمَا قَالَ: وَرَأَيْتُ طَلْحَةَ، وَأَحَبُّ الْمَجَالِسِ إِلَيْهِ أَخْلَاهَا، وَهُوَ ضَارِبٌ بِلِحْيَتِهِ عَلَى زَوْرِهِ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، إِنِّي أَرَاكَ وَأَحَبُّ الْمَجَالِسِ إِلَيْكَ أَخْلَاهَا، وَأَنْتَ ضَارِبٌ بِلِحْيَتِكَ عَلَى زَوْرِكَ إِنْ كُنْتَ تَكْرَهُ هَذَا الْأَمْرَ فَدَعْهُ فَلَيْسَ يُكْرِهُكَ عَلَيْهِ أَحَدٌ، قَالَ: «يَا عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، لَا تَلُمْنِي كُنَّا أَمْسِ يَدًا وَاحِدَةً عَلَى مَنْ سِوَانَا، فَأَصْبَحْنَا الْيَوْمَ جَبَلَيْنِ مِنْ حَدِيدٍ، يَزْحَفُ أَحَدُنَا إِلَى صَاحِبِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4607 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ بن وقاص لیثی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کی امیر تھیں اور یہ لوگ ان کے تابع تھے ۔ ذات عرق ( ایک مقام پر پہنچ کر ) جب لشکر کا معائنہ کیا گیا تو حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کو کمسن قرار دے کر واپس بھیج دیا گیا ۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کی سب سے پسندیدہ مجل سے نکال دیا گیا ۔ حالانکہ ( وہ اتنی عمر کے تھے کہ ) ان کی داڑھی سینہ تک پہنچی ہوئی تھی۔ میں نے ان سے کہا : اے ابو محمد ! میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں تمہاری سب سے پسندیدہ مجلس سے نکال دیا گیا ہے حالانکہ تمہاری داڑھی شریف سینے تک پہنچ رہی ہے ۔ اگر تمہیں یہ معاملہ پسند نہیں ہے تو تم اس کو چھوڑ دو۔ تمہیں کوئی شخص اس پر مجبور تو نہیں کررہا۔ انہوں نے کہا : اے علقمہ بن وقاص ! تو مجھے ملامت کر ، ہم کل تک اپنے دشمنوں پر ایک بازو کی طرح تھے لیکن آج ہم لوہے کے دو پہاڑ بنے ہوئے خود ہی ایک دوسرے پر چڑھائی کررہے ہیں۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُصْعَبٍ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4607

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4608

4608 - فَحَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى، قَالَ: «مَنِ اسْتَخْلَفُوا؟» قَالُوا: ابْنَتَهُ، قَالَ: فَقَالَ: «لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً» قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَنِي اللَّهُ بِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4608 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کسریٰ کی ہلاکت کے موقع پر میں نے رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد سنا تھا جس نے مجھےبچا لیاہے( آپ نے فرمایا تھا) " من استخلفو" ( ان لوگوں نے کسریٰ کا خلیفہ کس کو بنایا ہے ؟) لوگوں نے بتایا : کسریٰ کی بیٹی کو ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے اپنے امور کسی عورت کے سپرد کردئیے ہوں ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں تو میں نے ان کو رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سنایا : تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس فرمان کی برکت سے بچا لیا۔

لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ امْرَأَةً ← ابْنَتَهُ. ← مَنْ اسْتَخْلَفُوا ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ لَمَّا هَلَکَ کِسْرَی ← عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4608

chevron_left Previous
1…731732733…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section