Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1228

1228 - أَخْبَرَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو شُعَيْبِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «بَيْنَمَا أَرْمِي أَسْهُمًا إِذِ انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا، وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ، وَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيَدْعُو حَتَّى انْجَلَتْ، وَقَرَأَ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَتَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ میں تیر اندازی کر رہا تھا کہ سورج گرہن ہو گیا ، میں نے تیروں کو پھنکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا آیا : جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پنے ہاتھوں کو بلند کئے کھڑے ہوئے ، اللہ تعالی کی حمد اور تسبیح و تکبیر پڑھ رہے تھے ۔ اور دعا مانگ رہے تھے ، گرہن ختم ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عمل جاری رکھا پھر دو رکعتیں پڑھیں ، ان میں دو سورتوں کی تلاوت کی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ← سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، ← ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَائِنِيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَدَمِيُّ بِمَكَّةَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1228

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1229

1229 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبَّاسٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ لَا يَسْجُدُ» وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ غَرِيبٌ صَحِيحٌ «فَقَدِ احْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِمُؤَمَّلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، فَأَمَّا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کی تو بہت لمبا قیام کیا ( اتنا لمبا قیام کیا ) یوں لگ رہا تھا کہ آپ رکوع نہیں کریں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو وہ بھی اتنا طویل تھا ، لگ رہا تھا کہ رکوع سے سر نہیں اٹھائیں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا : تو اتنا لمبا قیام کیا ، لگ رہا تھا کہ سجدہ نہیں کریں گے ۔ (اسکے بعد ) عبداللہ بن عمرو نے باقی حدیث ذکر کی ۔ ثوری کی یعلی بن عطاء سے روایت کردہ حدیث غریب ہے ،صحیح ہے ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے مومل بن اسماعیل کی روایت نقل کی ہے ۔ لیکن یہ حدیث نقل نہیں کی اور عطاء بن سائب کی روایات شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے نقل نہیں کی ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← حُمَيْدُ بْنُ عَبَّاسٍ الرَّمْلِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1229

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1230

1230 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا زُهَيْرٌ، وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ قَالَ سَمُرَةُ: بَيْنَمَا أَنَا يَوْمًا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى قَدْرِ رُمْحَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الْأُفُقِ اسْوَدَّتْ حَتَّى آضَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ: أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا، فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا هُوَ بَارِزٌ، " فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ. قَالَ: فَتَقَدَّمَ وَصَلَّى بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتَهُ، ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتَهُ، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتَهُ، قَالَ: ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسِ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ، فَأُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنٍ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَدْ بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي» . قَالَ: فَقَامَ النَّاسُ فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ سَكَتُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ، وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ، وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، وإِنَّهُمْ كَذَبُوا وَلَكِنَّ آيَاتٍ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يَفْتِنُ بِهَا عِبَادَهُ لَيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ: مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يَحْيَى لِشَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَإِنَّهُ مَتَى خَرَجَ، فَإِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ فَلَيْسَ يَنْفَعُهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلٍ سَلَفَ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ فَلَيْسَ يُعَاقَبُ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ، وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يَحْصُرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَيَتَزْلَزَلُونَ زِلْزَالًا شَدِيدًا، فَيُصْبِحُ فِيهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَهْزِمُهُ اللَّهُ وَجُنُودَهُ حَتَّى إِنَّ أَجْدَمَ الْحَائِطِ، وَأَصْلَ الشَّجَرِ لَيُنَادِي بِالْمُؤْمِنِ هَذَا كَافِرٌ يَسْتَتِرُ بِي فَتَعَالَ اقْتُلْهُ ". قَالَ: " فَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَرَوْنَ أُمُورًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ تَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ: هَلْ كَانَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا، وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاسِيهَا، ثُمَّ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ "، وَأَشَارَ بِيَدِهِ، قَالَ: ثُمَّ شَهِدَ خُطْبَةً أُخْرَى قَالَ: فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ مَا قَدَّمَهَا وَلَا أَخَّرَهَا. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ثعلبہ بن عباد عبدی رضی اللہ عنہ کا تعالق کا بصرہ سے ہے ، وہ فرماتے ہیں : ایک دن حضرت سمرہ ببن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنے خطبہ میں درجہ ذیل واقعہ سنایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک مرتبہ میں اور ایک انصاری لڑکا نشانہ بازی کر رہے تھے ،جب سورج لوگوں کی نگاہوں میں آسمان میں دو یا تین نیزوں کی مقدار میں رہ گیا تو کالا ہو گیا اور اتنا اندھیرا ہو گیا ، لگتا تھا کہ رات ہو گئی ، تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : میرے ساتھ مسجد میں چلو ، خدا کی قسم ! ہم اس سورج کی حالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کریں گے ، تو مسجد میں آ گئے ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میدان کی طرف نکل چکےتھے ، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ہو لئے ۔ حضرت سمرہ کہتے ہیں :آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور ہمیں نماز پڑھائی ، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ اس سے پہلے کبھی کسی نماز میں اتنا لمبا قیام نہیں کیا تھا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز ہمیں سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ حضرت سمرہ کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا اور دوسری رکعت کے قعدے میں تھے کہ سورج روشن ہو گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا ، اللہ تعالی کی حمد وثنا ء کی اور یہ گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو: میں انسان ہوں اور اللہ کا رسول ہوں ، میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے اللہ تعالی کے احکام تم تک پہنچانے میں کوتاہی کی ہے تو مجھے بتاؤ تا کہ میں اللہ کے احکام اس طرح پہنچاؤں جس طرح پہنچانے کا حق ہے ۔ اور اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے اللہ کے احکام پہنچا دئیے ہیں(سمرہ ) کہتے ہیں : لوگ کھڑے ہو کر کہنے لگے : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے احکام پہنچا دئیے ہیں اور اپنی امت کو نصحیت دی ہے اور اپنی ذمہ داری ادا کی ہے ۔(سمرہ) کہتے ہیں: پھر سب لوگ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالی کی حمدو ثنا ء کے بعد فرمایا کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سورج اور چاند کا گرہن اور ان ستاروں کا پنے مقامسے ہٹنا ، بڑے بڑے لوگوں کے مرنے کی وجہ سے ہوتا ہے ، یہ جھوٹ بولتے ہیں ( جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ) یہ اللہ کی ایک نشانی ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالی اپنے بندوں کو آزماتا ہے کہ ان میں سے کون کون توبہ کرتا ہے ۔ خدا کی قسم ! میں اس نماز کے دوران وہ تمام حالات دیکھ لئے ہیں جو تم پر دنیا اور آخرت میں آنیوالے ہیں ،خدا کی قسم ! قیامت سے پہلے تیس جھوٹے لوگ آئیں گے ، ان میں سے سب سے آخری کا دجال ہو گا ، اس کی بائیں آنکھ ، ابو یحیی کی طرح ضائع ہوگی( ابو یحیی بوڑھے انصاری آدمی تھے) جب وہ ظاہر ہو گا تو وہ اپنے آپ کو خدا سمجھے گا ، اس پر جو ایمان لائے گا ، اسکو سچا سمجھے گا اور اس کی اتباع کریگا ، اس کے پچھلے تمام نیک عمل ضائع ہو جائیں گے اور اس کا انکار کریگا اور اس کو جھٹلائے گا تو اس کے گزشتہ اعمال میں سے کسی کی وجہ سے بھی اس کو سزا نہ دی جائے گی اور ساری زمین پھرے گا سوائے حرم اور بیت المقدس کے ۔ تمام مومنین بیت المقدس میں محصور ہو جائیں گے پھر شیدید زلزلے آئیں گے پھر ان میں عیسی بن مریم تشریف لائیں گے ، تو اللہ تعالی دجال اور اس کے لشکر کو شکست دے گا ، یہاں تک کہ دیواریں اور درخت بھی مومنوں کو پکار کر کہیں گے کہ یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے ،آؤ ، اس کت قتل کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر تم کچھ ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم بہت بڑا سمجھ رہے ہو گے تم ایک دوسرے سے پوچھو گے : کیا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے کوئی بات نہیں بتائی ؟ پھر پہاڑ اپنی جگہوں سے سرک جائیں گے پھر اس کے بعد قیامت آ جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ بھی کیا ۔ حضرت ثعلبہ فرماتے ہیں : میں سمرہ کےدوسرے خطبہ میں حاضرہوا تو انہوں نے یہ حدیث ذکر کی اور اس میں کوئی لفظ آگے پیچھے نہیں تھا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

ثَعْلَبَةُ بْنُ عِبَادٍ الْعَبْدِيُّ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1230

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1231

1231 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَقُومُوا إِلَى الصَّلَاةِ وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ، وَادْعُوا وَتَصَدَّقُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت (عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اس دن سورج کو گرہن لگا ، لوگ سمجھے کہ شاید ان کی وفات کیوجہ سے سورج گرہن ہوا ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشادفرمایا : اے لوگو! چاند اور سورج اللہ کی نشانیاں ہیں ، ان کو کسی کی موت اور حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ، جب تم گرہن دیکھو تو نماز پڑھو ، اللہ کا ذکر کرو ، دعائیں مانگو اور صدقہ کرو ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1231

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1232

1232 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَاقَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ "

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ گزشتہ حدیث کی ایک شاہد حدیث موجود ہےجو کہ امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے ۔ (شاہد حدیث درج ذیل پے )

أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1232

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1233

1233 - أَخْبَرْنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، وَمُحَمَّدٌ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَتَاقَةٍ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ»

حضرت عبدالعزیز بن محمد رضی اللہ عنہ اپنی سند کے ہمراہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرو ۔

«أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِعَتَاقَةٍ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ» ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، وَمُحَمَّدٌ الشَّعْرَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1233

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1234

1234 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدْلُ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، قَالَا: ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ - وَقَالَ فِيهِ: «فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا، وَتَصَدَّقُوا، وَأَعْتِقُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ "

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا ، پھر اس کے بعد پوری حدیث ہے اور اس کے اندر یہ ارشاد بھی موجود ہے ۔" جب تم سورج گرہن دیکھو تو اللہ سے دعائیں مانگو ، نماز پڑھو ، صدقہ کرو ، اور غلام آزاد کرو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔

الْحَدِيثَ. ← خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدْلُ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1234

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1235

1235 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ أَبُو يَحْيَى الْخَفَّافُ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِهِ، وَيُحْدِثُ اللَّهُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ، فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ، أَوْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ "

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتےہیں : (ایک مرتبہ) سورج گرہن ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا ، پھرفرمایا : چاند اور سورج کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ تو اللہ تعالی اپنی تخلیق میں سے کسی کو روشن کرتا ہے تو ہ اس کے سامنے عاجزی کرتی ہے ، اس لئے جب ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی گرہن لگے تو نماز میں مشغول ہو جاؤ یہاں تک سورج روشن ہو جائے یا اللہ تعالی کا کوئی اور امر ظاہر ہو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ بیان نہیں کیا ۔

النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ، فَصَلَّى النَّبِيُّ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ، ثُمَّ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ← زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ أَبُو يَحْيَى الْخَفَّافُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1235

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1236

1236 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ أُصَدِّقُ يُرِيدُ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثُ رَكَعَاتٍ، فَرَكَعَ الثَّالِثَةَ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَنَّ رِجَالًا يَوْمَئِذٍ لَيُغْشَى عَلَيْهِمْ مِمَّا قَامَ بِهِمْ حَتَّى أَنَّ سِجَالَ الْمَاءِ لَتُصَبُّ عَلَيْهِمْ يَقُولُ: إِذَا رَكَعَ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حَتَّى تَجَلَّتِ الشَّمْسُ "، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا كَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ "

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانےمیں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت لمبا قیام کیا ، تمام لوگ بھی ساتھ قیام کر رہے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا ، پھر کھڑے ہوئے ، پھر رکوع کیا ، پھر کھڑے ہوئے ، پھر رکوع کیا ، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہر رکعت میں تین رکوع کیے ، پھر تیسری مرتبہ رکوع کیا ،پھر سجدہ کیا ، اس دن جو لوگ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ، ان میں سے کئی لوگوں پر غشی طاری ہو گئی اور ان پر ڈول بھر بھر پانی بہایا گیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو "اللہ اکبر " کہتے اور جب رکوع سے اٹھاتے تو " سمع اللہ لمن حمدہ " کہتے ۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلسل نماز جاری رکھی )یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : چاند اور سورج کو کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ، یہ تو اللہ کی نشانیاں ہیں ۔ اللہ تعالی ان کے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے ۔ اس لئے ان کو گرہن لگے تو نماز میں مشغول ہو جاؤ ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسےان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ، امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے یہی حدیث معاذ بن ہشام پھر ان کے والد پھر قتادہ پھر عطاء اور پھر عبیدہ بن عمیر سے روایت کی ہےتاہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں ۔

من أصدق يريد عائشة ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1236

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1237

1237 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي بِبُخَارَى، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: «انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ سُورَةً مِنَ الطِّوَالِ، وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ، فَقَرَأَ مِنَ الطِّوَالِ، ثُمَّ رَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى تَجَلَّى كُسُوفُهَا» الشَّيْخَانِ قَدْ هَجَرَا أَبَا جَعْفَرٍ الرَّازِيَّ، وَلَمْ يُخَرِّجَا عَنْهُ وَحَالُهُ عِنْدَ سَائِرِ الْأَئِمَّةِ أَحْسَنُ الْحَالِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ فِيهِ أَلْفَاظٌ ورُوَاتُهُ صَادِقُونَ "

حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز کسوف پڑھائی اور طوال میں سے ایک سورۃ پڑھی اور پانچ مرتبہ رکوع کیا اور دو سجدے کئے پھر دوسریرکعت میں کھڑے ہوئے اور طوال میں سے ایک سورۃ پڑھی پھر پانچ مرتبہ رکوع کیا اور دو سجدے کئے پھر قبلہ رو ہو کر بیٹھے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ گرہن ختم ہو گیا ۔۔۔۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے ابو جعفر راضی کی روایت نقل نہیں کیں حالنکہ تمام آئمہ ان کے بارے میں اچھے خیالات رکھتے ہیں ۔ اور اس حدیث میں کچھ مزید الفاظ بھی ہیں ۔ اور اس کے تمام راوی صادق ہیں ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أَبِيهِ ← أَبِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1237

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1238

1238 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَانْجَلَتْ، فَقَالَ: «إِنَّمَا هَذِهِ الْآيَاتُ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا - يَعْنِي - فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا عَلَّلَاهُ بِحَدِيثِ رَيْحَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَبِيصَةَ، وَحَدِيثٍ يَرْوِيهِ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ لَا يُعَلِّلُهُ حَدِيثُ رَيْحَانَ، وَعَبَّادٍ "

حضرت قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا ، آپ گھبرائے ہوئے اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے ،میں اس دن مدینہ میں آپ کے ہمراہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےدو رکعتیں پڑھائیں ، ان میں بہت لمبا قیام کیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو ئے اور گرہن ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں نا کے ذریعے اللہ تعالی خوف دلاتا ہے ۔ جب تم ان کو دیکھو تو اس طرح نماز پڑھو جیسے تم نے ابھی ابھی فرضی نماز پڑھی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔اور جہاں تک میرا خیال ہے شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو ریحان بن سعید کی اس حدیث کی وجہ سے معلل قرار دیا ہے ۔ جس کی سند عباد بن منصور پھر ایوب پھر ابو قلابہ پھر ہلال بن عامر سے ہوتی ہوئی قبیصہ تک پہنچتی ہے اور وہ حدیث جس کو موسی بن اسماعیل نے وہیب سے روایت کیا ہے اس کو ریحان اور عباد کی حدیث معلل نہیں کرتی ۔

قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1238

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْكُسُوفِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1239

1239 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ اللَّيْثِ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، قَالَ: فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ، فَرَأَيْتُ أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِلَفْظٍ آخَرَ»

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور لوگوں کو نماز کسوف پڑھائی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کا اندازہ لگایا ، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ بقرہ پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لمبی قرات کی ، میرے اندازے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( اس رکعت میں ) سورۃ آل عمران کی تلاوت کی تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا

فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ ← كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← سليمان بن يسار، كل قد ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← عَمِّي، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ← الحسن بن أحمد بن الليث الرازي، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Eclipse Book › Insurance section · Hadith 1239

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section