Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1117

1117 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْدَانَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي أَبِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ النَّجَّارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَمْرٌ حَسَنٌ، «عَمِلَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مِنْ بَعْدِهِ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَوَاهِدُ، فَمِنْهَا مَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1117 - على شرطهما

عبدالرحمٰن ابن ابی عمرۃ البخاری نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے وتر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواباً کہا: یہ اچھا عمل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسلمانوں کا اس پر عمل رہا ہے لیکن یہ واجب نہیں ہے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ گزشتہ حدیث کی شاہد احادیث بھی موجود ہیں، ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔ شاہد(1)۔

الْوَتْرِ ← عبد الرحمن بن أبي عمرة النجاري أنه سأل عبادة بن الصامت ← أَبِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عبد الحميد بن جعفر بن عبد الله بن الحكم، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْدَانَ، ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً

Hadith 1117

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1118

1118 - أَخْبَرْنَاهُ مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَالْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ ثُمَّ، قَالَ: «يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ، يُحِبُّ الْوِتْرَ» وَمِنَ الشَّوَاهِدِ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَا "

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وتر فرضی نمازوں کی طرح "فرض"تو نہیں ہے البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر پڑھے ہیں پھر فرمایا: اے اہل قرآن ! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (تنہا) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ شاہد (2)۔

عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، ← الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ،

Hadith 1118

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1119

1119 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَلَكُمْ تَطَوُّعٌ: النَّحْرُ، وَالْوِتْرُ، وَرَكْعَتَا الْفَجْرِ " قَالَ الْحَاكِمُ: " الْأَصْلُ فِي هَذَا حَدِيثُ الْإِيمَانِ وَسُؤَالُ الْأَعْرَابِيِّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ» ، وَحَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ، وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِهَا فِي الصَّحِيحِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1119 - ما تكلم الحاكم عليه وهو غريب منكر

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جو مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لئے "نفل" ہیں (یعنی فرض نہیں ہیں) (1) قربانی (2) وتر (3)فجر کی دو رکعتیں (یعنی فجر کی سنتیں) امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں (ان تینوں کے فرض نہ ہونے کے سلسلے میں) دلیل (ایک تو) "حدیث ایمان" ہے اور (دوسری دلیل) ایک دیہاتی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانچ نمازوں کے متعلق سوال کرنا ہے(جس کے جواب میں) اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کوئی چیز فرض ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: نہیں۔ الا یہ کہ تم اپنی مرضی سے کچھ عمل کرو اور (تیسرے ) سعید ابن یسار کی حدیث، جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سواری پر وتر پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے یہ احادیث اپنی صحیح میں نقل کی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أحمد بن يونس الضبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 1119

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1120

1120 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «مَتَى تُوتِرُ؟» قَالَ: أُوتِرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ، وَقَالَ لِعُمَرَ: «مَتَى تُوتِرُ؟» قَالَ: أَنَامُ ثُمَّ أُوتِرُ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «أَخَذْتَ بِالْجَزْمِ» أَوْ بِالْوَثِيقَةِ، وَقَالَ لِعُمَرَ: «أَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1120 - على شرط مسلم

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : تم "وتر" کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے جواباً عرض کیا: سونے سے پہلے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا:تم وتر کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: پہلے سوتا ہوں (سو کر اٹھنے کے بعد) پھر وتر پڑھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو نے یقین اور اعتماد پر عمل کیا ہے(یہاں راوی کو شک ہے کہ آپ نے "جزم" کا لفظ بولا یا "وثیقہ"کا) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم نے قوت کو اپنایا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ سند صحیح کے ہمراہ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے)۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Hadith 1120

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1121

1121 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «مَتَى تُوتِرُ؟» قَالَ: أُوتِرُ ثُمَّ أَنَامُ. قَالَ: «بِالْجَزْمِ أَخَذْتَ» ، وَسَأَلَ عُمَرَ فَقَالَ: «مَتَى تُوتِرُ؟» قَالَ: أَنَامُ، ثُمَّ أَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَأُوتِرُ قَالَ: «فِعْلَ الْقَوِيِّ فَعَلْتَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1121 - صحيح

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر سے فرمایا : تم کس وقت وتر پڑھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں پہلے وتر پڑھتا ہوں پھر سوتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یقین کو اپنایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : تم وتر کس وقت پڑھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں پہلے سو جاتا ہوں پھر رات کے وقت اٹھ کر وتر پڑھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: تم نے طاقتور آدمی جیسا عمل کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 1121

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1122

1122 - أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: «أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ» تَابَعَهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر سے پہلے وتر پڑھ لو۔ معمر بن راشد کی متابعت: اس حدیث کو یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں معمر بن راشد نے علی بن مبارک کی متابعت کی ہے۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْوِتْرِ، فَقَالَ: «أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ» تَابَعَهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، ← أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ ← أَبُو نَضْرَةَ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ -بِبَغْدَادَ-،

Hadith 1122

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1123

1123 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1123 - على شرط مسلم

حضرت معمر کی سند کہ ہمراہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے : فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ ایک صحیح حدیث ، مذکورہ حدیث کے لئے شاہد موجود ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 1123

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1124

1124 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَادِرُوا بِالْوِتْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1124 - صحيح

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صبح صادق سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← هَارُونُ بن معروف ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Hadith 1124

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1125

1125 - أَخْبَرَنِي عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْكِسَائِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، وَلَمْ يُوتِرْ فَلَا وِتْرَ لَهُ» وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1125 - على شرط مسلم

حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے صبح صادق کو پالیا لیکن اس وقت تک وتر نہ پڑھے تو اس کے وتر (ادا) نہیں ( بلکہ اب قضا ہو چکے ہیں)۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ صحیح سند کے ہمراہ سابقہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے)۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْكِسَائِيُّ ← عبدان بن يزيد الدقاق بهمدان

Hadith 1125

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1126

1126 - أَخْبَرَنِيهِ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى اللَّيْلَ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَهَبَ كُلُّ صَلَاةِ اللَّيْلِ، وَالْوِتْرُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1126 - صحيح

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے : جو شخص را ت کے وقت نما ز(نوافل وغیرہ) پڑھے اس کو چاہئے کہ وتر سب سے آخر میں پڑھے کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے ارو جب فجر کا وقت شروع ہو جائے تو رات کی تمام نمازوں اور وتروں کا وقت ختم ہو جاتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر سے پہلے وتر پڑھ لو۔

نَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أَخْبَرَنِيهِ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ،

Hadith 1126

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1127

1127 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ، فَلْيُصَلِّهِ إِذَا أَصْبَحَ أَوْ ذَكَرَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1127 - على شرطهما

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو وتر پڑھے بغیر سو جائے یا (وتر پڑھنا) بھول جائے ، جب صبح کو اٹھے یا جب اس کو یاد آئے، اس وقت وتر پڑھ لے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Hadith 1127

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1128

1128 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلَاثٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَبَكْرُ بْنُ وَائِلٍ عَلَى رَفْعِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1128 - على شرطهما

حضرت ابو ایوب فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "وتر حق ہے، جو چاہے پانچ وتر پڑھ لے، جو چاہے تین وتر پڑھ لے اور جو چاہے ایک پڑھ لے"۔ یہ حدیث شیخین کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو زہری سے روایت کرنے میں محمد بن ولید الزبیدی، سفیان بن عینیہ، سفیان بن حسین، معمر بن راشد، محمد بن اسحاق اور بکر بن وائل نے مرفوع کرنے میں اوزاعی کی متابعت کی ہے۔ زیبدی کی روایت کردہ حدیث:۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 1128

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section