Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1026

1026 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ اسْتَشْهَدَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَا «سَيِّدُ الْأَيَّامِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1026 - واستشهد مسلم بابن أبي الزناد

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن ، دنوں کا سردار ہے۔ اسی میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن ان کو جنت سے نکالا گیا اور قیامت بھی جمعہ کےدن قائم ہو گی۔ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبدالرحمان بن ابوزناد کی روایات بطور شاہد نقل کی ہیں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے سید الایام کے الفاظ نقل نہیں کئے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1026

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1027

1027 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو مَعْبَدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ الْأَيَّامَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى هَيْأَتِهَا، وَيَبْعَثُ الْجُمُعَةَ زَهْرَاءَ مُنِيرَةً، أَهْلُهَا يَحُفُّونَ بِهَا كَالْعَرُوسِ تُهْدَى إِلَى كَرِيمِهَا تُضِيءُ لَهُمْ، يَمْشُونَ فِي ضَوْئِهَا، أَلْوَانُهُمْ كَالثَّلْجِ بَيَاضًا، وَرِيحُهُمْ يَسْطَعُ كَالْمِسْكِ، يَخُوضُونَ فِي جِبَالِ الْكَافُورِ، يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الثَّقَلَانِ لَا يُطْرِقُونَ تَعَجُّبًا حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، لَا يُخَالِطُهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الْمُؤَذِّنُونَ الْمُحْتَسِبُونَ» هَذَا حَدِيثٌ شَاذُّ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ «فَإِنَّ أَبَا مُعَيْدٍ مِنْ ثِقَاتِ الشَّامِيِّينَ الَّذِينَ يُجْمَعُ حَدِيثُهُمْ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ مِنْ أَعْيَانِ أَهْلِ الشَّامِ غَيْرَ أَنَّ الشَّيْخَانِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ عَنْهُمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1027 - خبر شاذ صحيح السند

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دنوں کو شکلوں میں اٹھائے گا اور جمعہ کے دن کو ایک چمکدار سیارے کی طرح اٹھائے گا، جس کے سامنے دوسرے ماند پڑجائیں گے جیسا کہ دلہن اپنے شوہر کی طرف روانہ ہوتی ہے توان کے لئے روشنی کی جاتی ہے اور اس کی روشنی میں سب لوگ چلتے ہیں ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے، ان کی خوشبو مشک کی طرح پھیلے گی،کافور کے پہاڑوں میں وہ چلیں گے، تمام جن و انس ان کی طرف دیکھیں گے ۔ یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ان کے ساتھ اور کوئی شریک نہیں ہو گا، سوائے ان لوگوں کے جو ثواب کی نیت سے اذانیں دیتے رہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ، اس لئے ابو سعید ثقہ شامی راویوں میں سے ہیں جن کی احادیث کو جمع کی جاتا ہے اور ہشیم بن حمید اہل شام میں سےہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان دنوں کی روایات نقل نہیں کیں۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← طَاوْسٍ ← أَبُو مَعْبَدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1027

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1028

1028 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ الزَّهْرَانِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ، وَكَانَ قَرْثَعٌ مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا سَلْمَانُ، مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «يَا سَلْمَانُ، يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ جَمَّعَ أَبُوكَ أَوْ أَبُوكُمْ، وَأَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَيَقْعُدُ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَاحْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ غَيْرَ قَرْثَعٍ، سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْقَارِئَ، يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَ مَسَانِيدَ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ فَإِنَّهُ مِنْ زُهَّادِ التَّابِعِينَ، فَلَمْ يُسْنِدْ تَمَامَ الْعَشَرَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1028 - صحيح

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے سلمان ! جمعہ کا دن کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سلمان ! جمعہ کا دن وہ ہے جس میں تیرا باپ یا(شاید یہ کہا) تمہارا باپ پیدا ہوا اور میں تجھے جمعہ کے دن کی فضیلت بتاتا ہوں، جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے جس طرح اس کا حکم دیا گیا پھر وہ اپنے گھر سے نکلے یہاں تک جمعہ پڑھنے آئے تو وہ بیٹھا رہے اور خاموش رہے یہاں تک کہ نماز مکمل ہو جائے تو یہ عمل اس کے ان گناہوں کا کفارہ بن جائے گا جو اس نے گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک کئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس کے تما م راویوں کی روایات نقل کی ہیں۔ سوائے قرثع کے ۔ میں نے ابو علی قاری کو یہ کہتے سنا ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ قرثع ضبی کی مسانید جمع کروں کیونکہ یہ عبادت گزار تابعین میں سے تھے لیکن ان کی مسندات دس تک بھی پوری نہ ہو سکیں۔

سَلْمَانَ ← قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ، وَكَانَ قَرْثَعٌ مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ الزَّهْرَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1028

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1029

1029 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ» . قَالُوا: وَكَيْفَ صَلَاتُنَا تُعْرَضُ عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1029 - على شرط البخاري

حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتےہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فضیلت والے دنوں میں سے جمعہ کا دن بھی ہے کہ اسی میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی ، اسی میں آپ کی روح قبض ہوئی، اسی دن قیامت آئے گی، اسی دن اٹھایا جائے گا، اس لئے جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، اس لئے تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، صحابہ نے عرض کی جب آپ وفات پا جائیں گے تو پھر ہمارا درود آپ پر کس طرح پیش کیا جائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1029

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1030

1030 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبَرْتِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ يُصْبَحُ حَتَّى الشَّمْسَ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَّامٍ، فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: «قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ؟» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ فَأَخْبَرَنِي بِهَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: «هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ» . فَقُلْتُ: كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي» وَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلَّى فِيهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى أَحْرُفٍ مِنْ أَوَّلِهِ «فِي حَدِيثِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ «، وَقَدْ تَابَعَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ يَزِيدَ بْنَ الْهَادِ عَلَى رِوَايَتِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ بِالزِّيَادَاتِ فِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1030 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہترین دن جمعہ ہے، اسی میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن آپ کو زمین پر اتارا گیا، اسی دن آپ کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن آپ کی وفات ہوئی اور اسی میں قیامت ہو گی اور ہر جانور جمعہ کے دن صبح سے لےکر شام تک قیامت سے گھبرا کر چیخیں مارتا ہے، سوائے انسان اور جنات کے اور اس دن ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ اگر بندہ نماز کی حالت میں اس کو پالے تو جو چیز اللہ سے مانگے گا، اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمائے گا۔ کعب کہتے ہیں : کیا یہ ساعت ہر سال میں ایک مرتبہ آتی ہے میں نے کہا: بلکہ ہر جمعہ میں آتی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: اس پر کعب نے تو رات پڑھی اور کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا: ابو ہریرہ کہتے ہیں: پھر میری ملاقات عبداللہ بن سلام سے ہوئی تو میں نے ان کو کعب کے ساتھ اپنی مجلس کا ذکر کیا عبداللہ بن سلام نے کہا: میں جانتا ہوں کہ وہ کون سی ساعت ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: میں ے ان سے کہا: کہ وہ ساعت مجھے بھی بتا ئیے۔ تو عبداللہ بن سلام نے کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے، میں نے کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت کیسے ہو سکتی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جو بندہ حالت نماز اس ساعت کو پائے" جبکہ اس وقت میں تو نماز پڑھی ہی نہیں جاتی، عبداللہ بن سلام نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں فرمایا: کہ جو آدمی نماز کے انتظار مین بیٹھا ہو تو وہ نماز ہی میں ہے یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اس نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اعرج کی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے اس روایت (بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے) کے ابتدائی الفاظ نقل کئے ہیں اور محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے یہ حدیث روایت کرنے میں محمد بن اسحاق نے یزید بن الہاد کی متابعت کی ہے اور کچھ الفاظ کا اضافہ بھی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1030

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1031

1031 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جِئْتُ الطُّورَ فَلَقِيتُ هُنَاكَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَحَدَّثْتُهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ عَنِ التَّوْرَاةِ، فَمَا اخْتَلَفَا حَتَّى مَرَرْتُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ: قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» قَالَ كَعْبٌ: تِلْكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ؟ فَقُلْتُ: مَا كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ فَتَلَا ثُمَّ، قَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ، ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ، «فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں طور پر گیا وہاں پر میری ملاقات کعب الاحبار سے ہوئی۔ میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سنائی اور وہ مجھے تو رات کی باتیں سناتا رہا اور ہمارے درمیان کسی بات پر اختلاف بھی نہ ہوا یہاں تک کہ جمعہ کا دن آ گیا۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں: میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر جمعہ میں ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ اگر بندہ مومن اس کو حالت نماز میں گزارے تو وہ اللہ جو مانگے گا، اللہ تعالیٰ عطا کرے گا۔ کعب نے کہا: یہ ساعت ہر سال میں ایک مرتبہ آتی ہے، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح فرمایا، اس نے دوبارہ تو رات کی تلاوت کی پھر کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ کہا(واقعی یہ ساعت) ہر جمعہ میں ہوتی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور ان کو کعب کے ساتھ اپنی مجلس کے بارے میں بتایا: پھر اس کے آگے مالک کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

قُلْتُ ← التَّوْرَاةِ، فَمَا اخْتَلَفَا حَتَّى مَرَرْتُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ ← رَسُولِ اللَّهِ وَحَدَّثَ ← جِئْتُ الطُّورَ، فَلَقِيتُ هُنَاكَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَحَدَّثْتُهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1031

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1032

1032 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْجُلَاحَ بْنَ كَثِيرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «يَوْمُ الْجُمُعَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَاعَةً، وَلَا يُوجَدُ عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ السَّاعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِالْجُلَاحِ بْنِ كَثِيرٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1032 - على شرط مسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن بارہ ساعتیں ایسی آتی ہیں جس کو کوئی مسلمان بندہ پالے تو اللہ سے جو مانگے کا ، اللہ تعالیٰ عطا کرے گا (ان ساعتوں میں سے) آخری ساعت کو عصر کے بعد تلاش کرو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نےجلاح بن کثیر کی روایات نقل کی ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْجُلَاحَ بْنَ كَثِيرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو النضر محمد بن محمد الفقيه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1032

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1033

1033 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ السَّاعَةِ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْهَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أَعْلَمُهَا، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ» ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ «وَهَذَا شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ لِحَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1033 - صحيح

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: خدا کی قسم! اگر میرا کبھی ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنا ہوا تو میں ان سے اس ساعت کے بارے میں ضرور پوچھوں گا۔ ہو سکتا ہے ان کو اس ساعت کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔ (ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں) پھر میں ان کے پاس گیا تو ان سے کہا: اے ابو سعید! ابو ہریرہ نے ہمیں اس ساعت کے بارے میں حدیث بیان کی ہے جو جمعہ کے دن کے بارے میں ہے، کیا آپ کے پاس اس سلسلے میں کوئی معلومات ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہم نے اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جواب دیا۔ میں اس ساعت کو جانتا تھا لیکن پھر مجھے یہ بھلا دی گئی، جس طرح کہ لیلۃالقدر مجھے بھلا دی گئی ہے پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور عبداللہ بن سلام کے پاس گیاپھر اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ اور یہ حدیث شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق ہے جو کہ یزید بن ہاد اور محمد بن اسحاق کی حدیث کی شاہد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

هَذِهِ السَّاعَةِ لَعَلَّهُ ← قُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← محمد بن عبد الله بن أبي داود المنادي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1033

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1034

1034 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:، حَدَّثَنِي عَبِيدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمِعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1034 - على شرط مسلم

حضرت ابو جعد ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔ آپ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1034

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1035

1035 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ الْجُعْفِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرَّجْ لِخِلَافٍ فِيهِ لِسَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَأَيُّوبَ بْنِ الْعَلَاءِ فَإِنَّهُمَا قَالَا: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1035 - صحيح

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے بلا عذر جمعہ چھوڑا ، وہ ایک دینار صدقہ کرے اگر اتنا نہ ہو تو آدھا دینار۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اس کو نقل نہیں کیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سند میں سعید بن بشیر اور ایوب بن العلاء کا اختلاف ہے انہوں نے اس کی سند قتادہ کے بعد صرف قدامہ بن وبرہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا کر اس کو مرسلاً روایت کیا ہے۔(جیسا کہ درج ذیل ہے)۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ الْجُعْفِيِّ، ← قَتَادَةَ ← يزيد بن هارون أنبأ همام بن يحيى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1035

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1036

1036 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو هِشَامٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ، أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ، أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ، أَوْ نِصْفِ صَاعٍ» هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْعَنْبَرِيِّ، وَلَمْ يَزِدْنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ فِيهِ عَلَى الْإِرْسَالِ "

سعید بن بشیر اور ایوب بن العلاء کی مرسل سند کے ساتھ قدامہ بن وبرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بلا عذر ایک جمعہ چھوڑ دے وہ ایک یا آدھا درہم صدقہ کرے یا یاک یا آدھا صاع گندم صدقہ کرے۔ یہ عنبری کی حدیث کے الفاظ ہیں اور شیخ ابو بکر نے اس میں ارسال پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔

قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ ← قَتَادَةَ ← أَيُّوبَ بْنِ الْعَلَاءِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← أبو هشام محمد بن يزيد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← قَتَادَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← أَبُو الْجُمَاهِرِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1036

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجُمُعَةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1037

1037 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَخَلَّادِ بْنِ الْعَلَاءِ إِيَّاهُ فِيهِ، فَقَالَ: هَمَّامٌ عِنْدَنَا أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ بْنِ الْعَلَاءِ

امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں) ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ کہتے ہیں: کہ ہمیں عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ میں نے یہ بات اپنے والد سے سنی ہے ، جب ان سے ہمام کی قتادہ سے اور خلاد بن العلاء ی، ان سے روایت کے سلسلے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہمارے نزدیک ایوب بن العلاء کی بہ نسبت ہمام زیادہ حافظ ہیں۔

هَمَّامٌ عِنْدَنَا أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ بْنِ الْعَلَاءِ ← قَتَادَةَ، وَخَلَّادِ بْنِ الْعَلَاءِ إِيَّاهُ فِيهِ، ← حديث همام، ← أَبِي وَسُئِلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Friday Book › Insurance section · Hadith 1037

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section