المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 446
446 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْعَدْلُ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ فِيهِ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ الْخَطَايَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتِ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ، وَإِنَّمَا خَرَّجَا بَعْضَ هَذَا الْمَتْنِ مِنْ حَدِيثِ حُمْرَانَ، عَنْ عُثْمَانَ وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ غَيْرُ تَمَامٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ الصُّنَابِحِيُّ صَحَابِيٌّ مَشْهُورٌ وَمَالِكٌ الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ الْمَدَنِيِّينَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: يَرْوِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ وَيُقَالُ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ أَبِي بَكْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ، وَالصُّنَابِحِيُّ صَاحِبُ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ يُقَالُ لَهُ: الصُّنَابِحُ بْنُ الْأَعْسَرِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 446 - لا (يعني غير صحيح)
حضرت عبداللہ اصنابحی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب بندہ وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ دھل جاتے ہیں ، جب ناک میں پانی چڑھاتا ہے تو ناک کے گناہ مٹ جاتے ہیں ، پھر جب چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں ،حتیٰ کے آنکھوں کی پلکیں تک گناہوں سے پاک ہو جاتی ہیں ، جب ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ مٹ جاتے ہیں حتیٰ کہ ناخنوں کےنیچے سے بھی گناہ دھل جاتے ہیں ، جب سر کا مسح کرتا ہے پورے سر کے گناہ ختم ہو جاتےہیں حتیٰ کہ کانوں کے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔ جب پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ دھل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے پاؤں کے ناخنوں کے نیچے والے گناہ بھی دھل جاتے ہیں ۔ پھر جب وہ مسجد کی طرف چل کر جاتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے تو اس کو زیادہ ثواب ملتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس میں کوئی علت بھی نہیں ہے ۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے متن کا کچھ حصہ حمران ، عثمان اور ابو صالح کی سند سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمٰن بن عسیلہ رضی اللہ عنہ کے ساتھی ہیں ، ان کو ابو عبداللہ الصنابحی رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے اور یہ صنابحی قیس بن ابو حازم ہیں ، ان کو الصنابح بن الاعسر بھی کہا جاتا ہے۔
عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← القعنبي فيما قرئ على مالك ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْعَدْلُ، ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 446
