المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 718
718 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ ابْنُ أَخِي رِشْدِينَ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، قَالَا: أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّيَ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُهُمَا ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ تُوُفِّيَ فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضِيلَةَ الْأَوَّلِ عَلَى الْآخَرِ، فَقَالَ: «أَلَمْ يَكُنِ الْآخَرُ يُصَلِّي؟» قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَانَ لَا بَأْسَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا يُدْرِيكُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَوَاتُهُ، إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ بِبَابِ رَجُلٍ غَمْرٍ عَذْبٍ يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَاذَا تَرَوْنَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟، لَا تَدْرُونَ مَاذَا بَلَغَتْ بِهِ صَلَاتُهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، فَإِنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَا مَخْرَمَةَ بْنَ بُكَيْرٍ وَالْعِلَّةُ فِيهِ أَنَّ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ذَكَرُوا أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ لِصِغَرِ سِنِّهِ، وَأَثْبَتَ بَعْضُهُمْ سَمَاعَهُ مِنْهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 718 - صحيح
حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی اصحاب رسول سے یہ بات سنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں دو بھائی ہوتے تھے ، ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا۔ ان میں سے جو افضل تھا وہ مر گیا اور اس کے چالیس دن بعد دوسرا فوت ہو گیا ، صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پہلے کی دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : کیو وہ دوسرا نماز نہیں پڑھتا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لیکن اس کو کبھی آزمائش نہیں آئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : تمہیں کیا معلوم ؟ اس کی نمازوں نے اس کو کہاں تک پہنچا دیا ، نماز کی مثال تو ایسی ہے جیسے کسی شخص کے دروازے کے قریب نہر بہتی ہو جو کہ صاف ستھرے پانی سے بھری ہو اور وہ بندہ روازنہ پانچ مرتبہ اس میں نہاتا ہو، تو تمہارا کیا خیال ہے اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہ جائے گی ؟ تم نہیں جانتے کہ اس کی نمازوں نے اسے کہاں تک پہنچا دیا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے روایت نہیں کیا ۔ دراصل امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے مخرمہ بن بکیر کی روایات نقل نہیں کیں اور اس میں علت یہ ہے کہ اہل مصر کی ایک جماعت ہےجنہوں نے یہ بات کہی ہے کہ کیونکہ " مخرمہ " بہت چھوٹے تھے ، اس لئے انہوں نے اپنے والد سے حدیث کا سماع نہیں کیا جبکہ بعض محدثین رحمتہ اللہ علیہ نے مخرمہ کا ان کے والد سے سماع ثابت کیا ہے ۔
أَبُو الرَّبِيعِ ابْنُ أَخِي رِشْدِينَ، وَأَبُو الطَّاهِرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Chapter on the virtue of the five daily prayers · Hadith 718
