Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4573

4573 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: " كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ أَوَّلَ هَاشِمِيَّةٍ وُلِدَتْ مِنْ هَاشِمِيٍّ، وَكَانَتْ بِمَحَلٍّ عَظِيمٍ مِنَ الْأَعْيَانِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُوُفِّيَتْ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَانَ اسْمُ عَلِيٍّ أَسَدًا وَلِذَلِكَ يَقُولُ: [البحر الرجز] أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ"

مصعب بن عبداللہ الزبیری فرماتے ہیں : فاطمہ بنت اسد بن ہاشم وہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جو کسی ہاشمی کے ہاں پیدا ہوئی ہیں ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کےعہد مبارک میں عظیم الشان سرکاری محل میں رہا کرتی تھیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی حیاۃ طیبہ میں ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام " اسد " تھا ۔ اسی لئے آپ نے کہا تھا۔ میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے "حیدر" رکھا ہے۔

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4573

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4574

4574 - حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَدَّادُ الصُّوفِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ الْبَاهِلِيُّ، ثنا أَبِي، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَمَرَّ بِنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَلَمْ أَرَ هَاشِمِيًّا قَطُّ كَانَ أَعْبُدَ لِلَّهِ مِنْهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْنَا، فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَخْبِرْنَا عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ أُمِّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نَعَمْ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: لَمَّا مَاتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ كَفَّنَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَمِيصِهِ وَصَلَّى عَلَيْهَا، وَكَبَّرَ عَلَيْهَا سَبْعِينَ تَكْبِيرَةً، وَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا فَجَعَلَ يَوْمِي فِي نَوَاحِي الْقَبْرِ، كَأَنَّهُ يُوَسِّعُهُ وَيُسَوِّي عَلَيْهَا وَخَرَجَ مِنْ قَبْرِهَا وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، وَحَثَا فِي قَبْرِهَا فَلَمَّا ذَهَبَ، قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ عَلَى هَذِهِ الْمَرْأَةِ شَيْئًا لَمْ تَفْعَلْهُ عَلَى أَحَدٍ، فَقَالَ: «يَا عُمَرُ، إِنَّ هَذِهِ الْمَرْأَةَ كَانَتْ أُمِّي الَّتِي وَلَدَتْنِي، إِنَّ أَبَا طَالِبٍ كَانَ يَصْنَعُ الصَّنِيعَ، وَتَكُونُ لَهُ الْمَأْدُبَةُ، وَكَانَ يَجْمَعُنَا عَلَى طَعَامِهِ، فَكَانَتْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ تُفَضِّلُ مِنْهُ كُلِّهِ نَصِيبًا فَأَعُودُ فِيهِ، وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْبَرَنِي عَنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُصَلُّونَ عَلَيْهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4574 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت زبیر بن سعید القرشی فرماتے ہیں : ہم لوگ حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ہمارے پاس سے حضرت علی بن حسین گزرے ، میں نے اس سے پہلے کبھی کسی ہاشمی کو نہ دیکھا تھا جو ان سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار ہو، حضرت سعید المسیب رضی اللہ عنہ ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے، ہم نے ان کو سلام کیا، انہوں نے ہمیں سلام کا جواب دیا۔ حضرت سعید نے ان سے کہا : اے ابو محمد ! آپ ہمیں فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ، حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ کے بارے میں کچھ بتائیں۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میرے والد محترم نے مجھے بتایا کہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب فاطمہ بنت اسد بن ہاشم کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنی قمیض میں کفن دیا اور ان کا جنازہ پڑھایا اور 70 تکبیریں پڑھی۔ اور بذات خود ان کی قبر میں اترے اور قبر میں اردگرد اس طرح اشارے فرمارہے تھے گویا کہ اس کو کھلا کر رہے ہوں ، پھر جب آپ قبر سے باہر نکلے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ پھر آپ نے ان کی قبر پر مٹی ڈالی ، جب آپ وہاں سے تشریف لے آئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ جتنی شفقت آپ نے اس خاتون پر فرمائی ہے ، میں نے کسی اور پر آپ کو ایسے شفقت فرماتے نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عمر ! یہ عورت میری ماں کی طرح تھی جس نے مجھے جنم دیا ہے، بے شک ابو طالب کام کاج کیا کرتے تھے اور ان کا دستر خوان ہوتا تھا، یہ عورت اس میں سے بچا کر میرے لئے رکھ لیا کرتی تھی اور دوبارہ مجھے دیا کرتی تھی۔ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جنتی کردیا ہےاور مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتوں کو ان کے لئے دعائے مغفرت کے لئے مقرر فرمایا ہے۔

الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ، ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ الْبَاهِلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ← بُكَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَدَّادُ الصُّوفِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4574

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4575

4575 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: قَالَ مُعَاوِيَةُ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَسُبَّ ابْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: فَقَالَ: لَا أَسُبُّ مَا ذَكَرْتُ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، قَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا هُنَّ يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: لَا أَسُبُّهُ مَا ذَكَرْتُ حِينَ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَأَخَذَ عَلِيًّا وَابْنَيْهِ وَفَاطِمَةَ فَأَدْخَلَهُمْ تَحْتَ ثَوْبِهِ، ثُمَّ قَالَ: «رَبِّ، إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» وَلَا أَسُبُّهُ مَا ذَكَرْتُ حِينَ خَلَّفَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: خَلَّفْتَنِي مَعَ الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ، قَالَ: «أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي» وَلَا أَسُبُّهُ مَا ذَكَرْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ» فَتَطَاوَلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيٌّ؟» قَالُوا: هُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ: «ادْعُوهُ» فَدَعَوْهُ فَبَصَقَ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَا وَاللَّهِ مَا ذَكَرَهُ مُعَاوِيَةَ بِحَرْفٍ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ الْمُؤَاخَاةِ وَحَدِيثِ الرَّايَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4575 - على شرط مسلم فقط

حضرت عامر بن سعد فرماتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا : تم علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں ان کو سوچ کر میں آپ کی سب و شتم سے رکا رہتا ہوں۔ اور ان باتوں میں سے کوئی ایک ہی مجھے مل جائے تو میرے نزدیک یہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو اسحاق ! وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ ابو اسحاق نے کہا: میں آپ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ ( ایک مرتبہ ) جب حضور ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے حضرت علی ، ان کے دونوں صاحبزادوں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر اپنی چادر میں داخل فرمایا اور کہا: اے میرے رب ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو غزوہ تبوک میں شرکت کرنے سے منع فرمادیا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ بولے ( یا رسول اللہ ﷺ ) آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری نسبت میرے ساتھ ویسی ہی ہو جیسی نسبت ہاروں علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی؟ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔اور میں آپ کو گالی نہیں دیتا کیونکہ مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر کے دن فرمایا تھا: میں جھنڈا کل اس شخص کو دونگا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ تو ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہاتھ لمبے کرنے لگے ، آپ ﷺ نے فرمایا : علی کہاں ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو بلاؤ ، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو بلایا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے چہرے پر اپنا لعاب دہن لگایا پھر ان کو جھنڈا عطا فرمایاتو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی ( حضرت عامر بن سعد ) فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! اس کے بعد مدینہ سے نکل جانے تک حضرت معاویہ نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے مواخاۃ والی حدیث اور جھنڈے والی حدیث نقل فرمائی ہے۔

قَّاصٍ مَا يَمْنَعُكَ ← مُعَاوِيَةُ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← بُکَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4575

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4576

4576 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَالَوَيْهِ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَزَّارُ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، وَثَنَا أَبُو نَصْرِ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ سَالِمٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ قَالَ: ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَنَزَلَ غَدِيرَ خُمٍّ أَمَرَ بِدَوْحَاتٍ فَقُمْنَ، فَقَالَ: " كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ، إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى، وَعِتْرَتِي، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا، فَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَوْلَايَ، وَأَنَا مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ» ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا وَلِيُّهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِطُولِهِ، شَاهِدُهُ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَيْضًا صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4576 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع سے واپس لوٹے اور "غدیر خم" کے مقام پر ٹھہرے تو آپ نے بڑے بڑے درختوں کے پاس رک جانے کا حکم دیا تو سب لوگ وہاں رک گئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا : گویا کہ مجھے بلایا گیا ہے اور میں نے یہ بلاوا قبول کرلیا ہے ۔ میں تم میں دوچیزیں چھوڑکر جارہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ۔ کتاب اللہ اور اپنی آل ۔ اب تم خود سوچ لو کہ ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے کیونکہ یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے حتیٰ کہ یہ دونوں اکٹھے حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے ۔ پھر آپ نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ میرا مولیٰ ہے اور میں ہر مومن کا مولیٰ ہوں ۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھا م کر فرمایا : جس کا میں " مولیٰ" ہوں ، یہ ( علی ) اس کا "ولی" ( مددگار ) ہے ۔ اے اللہ ! تو اس سے محبت کر جو اس ( علی ) سے محبت کرے اور تو اس سے دشمنی کر جو اس ( علی ) سے دشمنی کرے ۔ پھر اس کےبعد طویل حدیث بیان فرمائی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس تفصیل کے ہمراہ اس کو نقل نہیں کیا۔ حضرت سلمہ بن کہیل کی حضرت ابوالطفیل کے حوالے سے روایت کردہ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے اور یہ بھی شیخین رحمۃاللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← خَلَفُ بْنُ سَالِمٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ← صالح بن محمد الحافظ البغدادي ← أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَزَّارُ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4576

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4577

4577 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَدَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، قَالَا: أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ وَاثِلَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ عِنْدَ شَجَرَاتٍ خَمْسِ دَوْحَاتٍ عِظَامٍ، فَكَنَسَ النَّاسُ مَا تَحْتَ الشَّجَرَاتِ، ثُمَّ رَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً فَصَلَّى، ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَرَ وَوَعَظَ، فَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ: ثُمَّ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا إِنِ اتَّبَعْتُمُوهُمَا، وَهُمَا: كِتَابُ اللَّهِ، وَأَهْلُ بَيْتِي عِتْرَتِي " ثُمَّ قَالَ: «أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» وَحَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4577 - لم يخرجا لمحمد بن سلمة بن كهيل وقد وهاه السعدي

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان پانچ بڑے بڑے درختوں کے قریب ٹھہرے ، لوگوں نے درختوں کے نیچے صفائی وغیرہ کرلی پھر رسول اللہ ﷺ عشاء کے وقت تشریف لائے ، نماز پڑھائی پھر فرمایا : اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں اگر تم نے ان کی اتباع کر لی تو تم کبھی بھٹکو گے نہیں ۔ (1) کتاب اللہ ۔ (2) میری آل ۔ پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں ۔ آپ نے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے ۔ لوگوں نے کہا : جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا میں "مولیٰ" ہو تو علی بھی اس کا "مولیٰ" ہے۔ اور برید ہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کےمعیار کے مطابق صحیح ہے ( جو کہ درج ذیل ہے۔)

ابْنِ وَاثِلَةَ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← حسان بن إبراهيم الكرماني ← الأزرق بن علي ← أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَدَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4577

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4578

4578 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ الْغِفَارِيُّ، وَأَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالُوا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ عَلِيًّا فَتَنَقَّصْتُهُ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ، فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ، أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4578 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یمن کی جانب ایک غزوہ میں شریک تھا۔میں نے آپ کی جانب سے کچھ بد سلوکی محسوس کی ۔ جب میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی ۔ تومیں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو رہا تھا۔ آپ نےفرمایا : اے بریدہ ! کیا میں مومنوں کی جانوں پر ان سے بھی زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں؟ میں نے کہا : یارسول اللہ ﷺ کیوں نہیں؟ تو آپ نے فرمایا : جس کا میں " مولیٰ " ہوں ، علی بھی اس کا " مولیٰ" ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کےمعیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَكَمِ ← ابن أبي غنية ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← محمد بن علي الشيباني، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4578

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4579

4579 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَمَضَى عَلِيٌّ فِي السَّرِيَّةِ فَأَصَابَ جَارِيَةً، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِينَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، قَالَ عِمْرَانُ: وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ بَدَءُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ وَسَلَّمُوا عَلَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَى رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِي، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: «مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ، إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ وَوَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4579 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عمران بن حصین ﷺ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر فرمایا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ لشکر لے کر روانہ ہوگیے۔ ( اس کے دوران) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی سے خلوت کی ۔ آپ کے ساتھیوں کو آپ کا یہ عمل نا گوار گزرا۔ تو رسول اللہ ﷺ کے چار صحابہ کرام نے آپ میں یہ طے کر لیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچیں گے تو ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کریں گے ۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ عادت تھی کہ جب بھی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دیتے ۔ آپ ﷺ کی زیارت کرکے ، آپ کو سلام کر کے پھر اپنے گھروں میں جاتے۔ جب یہ لشکر واپس آیا تو ( حسب عادت) یہ لوگ بھی سلام کے لئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے ۔ تو ان چاروں میں سے ایک صحابی اٹھ کر کھڑے ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی ۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس پر توجہ نہ فرمائی ۔ پھر دوسرے صحابی نے بھی کھڑے ہو کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے اس پر بھی کوئی توجہ نہ دی ۔ پھر تیسرے نے بھی کھڑے ہوکر ان کی طرح شکایت کی۔ آپ ﷺ نے ان کو بھی کوئی جواب نہ دیا۔ ( حتیٰ کہ ) چوتھے صحابی نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وہ شکایت پیش کردی ۔ تو رسول اللہ ﷺ اس کی جانب متوجہ ہوئے، اس وقت آپ کےچہرہ اطہر پر ناراضگی کے آثار بالکل واضح تھے۔ آپ نے فرمایا : تم علی کے بارے میں چاہتے کیا ہو؟ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور ( علی ) ہرمومن کا ولی ہے۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4579

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4580

4580 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، «أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4580 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن اسحاق سے مروی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ دس سال کی عمر میں اسلام لائے۔

يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4580

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4581

4581 - أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو الْحُسَيْنِ الْحَافِظُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «أَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ عَشْرٍ أَوِ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً» هَذَا الْإِسْنَادُ أَوْلَى مِنَ الْأَوَّلِ، وَإِنَّمَا قَدَّمْتُ ذَلِكَ لِأَنِّي عَلَوْتُ فِيهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4581 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

قتادہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ " حضرت علی رضی اللہ عنہ دس یا سولہ سال کی عمر میں اسلام لائے۔ یہ اسناد ، پہلی اسناد کی بہ نسبت اولیٰ ہے ، تاہم اس کو پہلے ذکر کیا ہے کیونکہ وہ میری سند عالی ہے۔

الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو الْحُسَيْنِ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4581

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4582

4582 - حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الزَّاهِدُ صَاحِبُ ثَعْلَبَ إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لِعَلِيٍّ أَرْبَعُ خِصَالٍ لَيْسَتْ لِأَحَدٍ: هُوَ أَوَّلُ عَرَبِيٍّ وَأَعْجَمِيٍّ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ لِوَاؤُهُ مَعَهُ فِي كُلِّ زَحْفٍ، وَالَّذِي صَبَرَ مَعَهُ يَوْمَ الْمِهْرَاسِ، وَهُوَ الَّذِي غَسَّلَهُ وَأَدْخَلَهُ قَبْرَهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4582 - فيه زكريا بن يحيى الوقار وهو متهم

حضرتے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ میں چار خصوصیات ہیں جو کسی دوسرے میں نہیں پائی جاتیں ۔(1) تمام عرب و عجم میں یہ شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سب سے پہلے نماز پڑھی۔(2) ہر جنگ میں جھنڈا( لواء) انہی کے پاس رہا۔(3) مہر اس کے دن انہوں نے ہی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ صبر کیا۔(4) یہی وہ شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا اور لحد میں اتارا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الزَّاهِدُ صَاحِبُ ثَعْلَبَ إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4582

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4583

4583 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ الرَّايَةَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنگ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا عطا فرمایا تھا، اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر 20 سال تھی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کےمعیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← محمد بن المغيرة السكري ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4583

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4584

4584 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعُمَرِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخُو رَسُولِهِ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَاذِبٌ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ قَبْلَ أَنْ يَعْبُدَهُ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4584 - حديث باطل فتدبره

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور ان کے چچا زاد بھائی نعیم روانہ ہوئے میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہم نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں نکلے تھے ۔ آپ ایک پہاڑ میں روپوش تھے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ( آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ) عرض کی: اے محمد ﷺ ! ہم آپ کا فرمان اور آپ کی دعوت سننے کے لیے آئے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اس بات کا قائل ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی آپ پر ایمان لے آئے۔ میں بھی آپ پر ایمان لے آیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت نبی اکرم ﷺ کے کسی کام سے گئے ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ہی انہیں بھیجا تھا۔ نبی اکرم ﷺ پر پیر کے دن وحی نازل ہوئی تھی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے منگل کے دن نماز ادا کی تھی( یعنی انہوں نے منگل کے دن اسلام قبول کیا تھا)۔ اس روایت کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

«إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخُو رَسُولِهِ، ← عَلِيٍّ، ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيِّ، ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعُمَرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4584

chevron_left Previous
1…729730731…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section