Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 1

1 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَيْسَرَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1 - لم يتكلم عليه المؤلف وهو صحيح

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: تم میں سے کامل ترین مومن وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَيْسَرَةَ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 1

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 2

2 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ، فَقَدِ اسْتَشْهَدَ بِأَحَادِيثَ لِلْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَدِ احْتَجَّ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ «وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.» وَأَنَا أَخْشَى أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ، عَنْ عَائِشَةَ "

حضرت ابوسلمہ ؓ ، حضرت ابو ہریرہ ؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :تم میں سب سے زیادہ کامل ایمان اس شخص کا ہے، جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔ یہ حدیث صحیح ہے البتہ اسے ’’صحیحین‘‘ میں نقل نہیں کیا گیا۔ تاہم یہ امام مسلم بن حجاج ؒکی شرط کے مطابق “صحیح”ہے کیونکہ امام مسلم ؒنے قعقاع کی ابوصالح کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہؓ سے نقل کردہ روایات کو اورمحمد بن عمرونامی راوی کی روایات کو شاہد کے طور پرنقل کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے محمد بن عجلان نامی راوی سے بھی احادیث روایت کی ہیں۔یہی روایت محمد بن سیرین ؒ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہؓ سے اور شعیب بن حجاب کے حوالے سے ،حضرت انس ؓ سے روایت کی گئی ہے۔ اسے ابن علیہ نے خالد الحذاء کے حوالے سے ،ابوقلابہ کے حوالے سے سیدہ عائشہؓ سے نقل کیا ہے۔( امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:) مجھے اندیشہ ہے کہ ابوقلابہ نے یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ سے نہیں سنی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 2

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 3

3 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ أَبُو بَلْجٍ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدْ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ، فَلْيُحِبِ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِأَبِي بَلْجٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا يُحْفَظُ لَهُ عِلَّةٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3 - لا يحتج به يعني بأبي بلج

حضرت ابو ہریرؓہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد: جوشخص ایمان کی حلاوت محسوس کرنا چاہے اس کو چاہئے کہ لوگوں سے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت کرے۔ : اس حدیث کو"صحیحین "میں نقل نہیں کیا گیا حالانکہ امام بخاری ؒکی اور امام مسلمؒ) دونوں نے (اس کے راوی ) عمرو بن میمون کی حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت کردہ احادیث نقل کی ہیں اور امام مسلم ؒنے ابوبلج(جو کہ مذکورہ حدیث کے راوی ہیں) سے روایات نقل کی ہیں ۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ أَبُو بَلْجٍ ← شُعْبَةُ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أحمد بن يعقوب الثقفي ← أَبِي بَلْجٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 3

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 4

4 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَوْمًا فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ: يُبْكِينِي حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْيَسِيرُ مِنَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَمَنْ عَادَى أَوْلِيَاءَ اللَّهِ فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ، الَّذِينَ إِنْ غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا، وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُعْرَفُوا، قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى، يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الصَّحَابَةِ، وَاتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِحَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ وَهَذَا إِسْنَادٌ مِصْرِيٌّ صَحِيحٌ وَلَا يَحْفَظُ لَهُ عِلَّةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4 - صحيح ولا علة له

حضرت زید بن اسلم بھی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ ایک دن مسجد نبوی میں آئے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ آپ ﷺکیمز ار اقدس کے پاس بیٹھے رورہے ہیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے معاذ! کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہﷺکی ایک حدیث سن رکھی ہے (اسے یاد کر کے)رو رہا ہوں (وہ حدیث یہ ہے) آپ نے فرمایا: ذرا سی ریا کاری بھی شرک ہے اور جس نے اللہ کے دوستوں سے دشمنی رکھی، اس نے اللہ تعالیٰ کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ اللہ تعالیٰ ان چھپے ہوئے ، پرہیز گار، نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے، اگر کسی محفل میں وہ نہ آئیں تو کوئی ان کی غیر موجودگی کومحسوس نہ کرے اور اگر کسی مجلس میں موجود ہوں تو ان کو کوئی پہچانتا نہ ہو، ان کے دل ہدایت کے روشن چراغ ہوتے ہیںوہ (عمومًا) گردوغبار والے اور تاریک مقامات پر ملتے ہیں۔ حدیث "صحیح" ہے لیکن "صحیحین "میں اسے نقل نہیں کیا گیا ۔ حالانکہ ( امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒ ) دونوں نے(اس حدیث کے راوی) "زید بن اسلم "کی وہ روایات نقل کی ہیں جن کی سندان کے والد سے ہوتی ہوئی متعددصحابہ کرام ؓ تک پہنچتی ہے اور دونوں نے (اسی حدیث کے راوی) لیث بن سعد کی عیاش بن صالح القتبانی کی روایات نقل کی ہیں ۔ یہ سند مصری ہے اورصحیح ہے، اس سند میں کوئی علت موجو دنہیں۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 4

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 5

5 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ الْخَلِقُ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ أَنْ يُجَدِّدَ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ» . " هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَرُوَاتُهُ مِصْرِيُّونَ ثِقَاتٌ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ بِالْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ الْمُقْرِئِ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ذِكْرُهُ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» الْحَدِيثَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5 - رواته ثقات

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللهﷺنے ارشادفرمایا :تمہارے اندر ایمان پرانے کپڑے کی طرح بوسیدہ ہوتا رہتا ہے، اس لئے الله تعالیٰ سے اپنے دلوں میں ایمان تازہ رہنے کی دعا کیا کرو۔: اس حدیث کو صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا جبکہ اس کے تمام راوی مصری ہیں اور ثقہ ہیں اور امام مسلم ؒ نے اپنی صحیح میں وہ حدیث شریف نقل کی ہے جس کی سند ابن ابی عمر، المقری، حیوة ، ابو ہانی ، ابوعبدالرحمٰن الحبلی اور عبداللہ بن عمرو کے ذریعے نبی اکرم ﷺتک پہنچتی ہے (حدیث یہ ہے) نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: الله تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے مخلوقات کی تقدیر یں لکھی ہیں(اور اس میں مذکورہ حدیث کے راوی ابو ہانی، ابوعبدالرحمٰن ، الحبلی اور عبد اللہ بن عمرو موجود ہیں)

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 5

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 6

6 - أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَذْنَبَ الْعَبْدُ نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، فَإِنْ تَابَ صُقِلَ مِنْهَا، فَإِنْ عَادَ زَادَتْ حَتَّى تَعْظُمَ فِي قَلْبِهِ، فَذَلِكَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ} [المطففين: 14] «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِأَحَادِيثِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے پھر اگر بندہ توبہ کر لے تو وہ مٹ جاتا ہے اور اگر بار بار گناہ کرے تو وہ سیاہ نقطہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ یہی وه "ران "ہے جس کا ذکر الله تعالیٰ نے کلا بل ران على قلوبهم (مطففین:۱۶)’’ کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پرزنگ چڑھادیا ہے" میں کیا ہے۔یہ حدیث صحیح ہے لیکن صحیحین میں اسے درج نہیں کیا گیا حالانکہ امام مسلمؒ نے قعقاع بن حکیم کی ابوصالح سے روایات نقل کی ہیں

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 6

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 7

7 - حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ السَّاعَةِ حَتَّى نَزَلَتْ: {فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا} [النازعات: 44] «.» هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَهُوَ مَحْفُوظٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا مَعًا، وَقَدِ احْتَجَّا مَعًا بِأَحَادِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺسے قیامت کے متعلق مسلسل سوالات کئے جاتے رہے یہاں تک کہ آیت فيم أنت من ذكراها إلى ريك منتهها (تمہیں اس کے بیان سے کیاتعلق تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے ) نازل ہوئی۔: اس حدیث کو صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا حالانکہ یہ حدیث امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ دونوں کے معیار کے مطابق محفوظ صحیح ہے اور دونوں نے ایسی احادیث نقل کی ہیں جن کی سند ابن عیینہ، زہری، عروہ سے ہوتی ہوئی حضرت عائشہؓ تک پہنچتی ہیں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 7

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 8

8 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ صَدَّقَهُ رَبُّهُ، قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَأَنَا وَحْدِي، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ صَدَّقَهُ رَبُّهُ قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا وَلَا شَرِيكَ لِي، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ أَلَا اللَّهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ: صَدَقَ عَبْدِي، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِحَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى الْحُجَّةِ بِأَحَادِيثِ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8 - أوقفه شعبة وغيره

حضرت ابو ہریرہؓ اور ابوسعیدؓ بیان کرتے ہیں: ان دونوں نے گواہی دیتے ہوئے یہ بات نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب بندہ کہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے" الله تعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے یوں فرماتا ہے "میرے بندے نے سچ کہا(واقعی) میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اکیلا ہوں"۔ جب بندہ کہے"اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہےمیرے بندے نے سچ کہا (واقعی) میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نہ ہی میرا کوئی شریک ہے"۔ جب بندہ کہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے حمد وثناء اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے ”میرے بندے نے سچ کہا(واقعی) میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں میری ہی حکومت ہے اور میرے لئے ہی حمد وثناء"۔ جب بندہ کہے"اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کے سوا کسی کی طاقت اور ہمت نہیں" اللہ تعالی ٰاس کی تصدیق کرتے ہوئے فرماتا ہے میرے بندے نے سچ کہا (واقعی ) میرے سوا کسی کی طاقت اور ہمت نہیں“۔ : یہ حدیث میں ہے لیکن صحیحین میں اس کو درج نہیں کیا گیا۔ حالانکہ(امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒ دونوں نے اپنی اپنی صحیح میں)ایسی روایات نقل کی ہیں جن کی سند "اسحاق‘‘ کے ذریعے "اغر" سے ہوتی ہوئی حضرت ابو ہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعیدؓ تک پہنچتی ہے۔ اور دونوں نے اسرائیل بن یونس کی ابواسحاق سے روایت کردہ احادیث بھی نقل کی ہیں

أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَغَرِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 8

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 9

9 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ الْحُبُلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا، كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ هَذَا، ثُمَّ يَقُولُ: أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: أَفَلَكَ عُذْرٌ؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً، وَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، فَيُخْرِجُ بِطَاقَةً فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ، وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ، وَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْءٌ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدِ احْتَجَّ بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَعَامِرِ بْنِ يَحْيَى مِصْرِيٍّ ثِقَةٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , إِمَامٌ، وَيُونُسُ الْمُؤَدِّبُ: ثِقَةٌ، مُتَّفَقٌّ عَلَى إِخْرَاجِهِ فِي الصَّحِيحَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 9 - هذا على شرط مسلم

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ میرے ایک امتی کو مخلوق کے سامنے پیش کرے گا، اس کے آگے نامہ اعمال کے ۹۹ رجسٹر رکھے جائیں گے (نبی پاک ﷺنے ہاتھ کے اشارے سمجھاتے ہوئے فرمایا) ہر رجسٹر اتنا بڑا ہو گا، پھر فرمائے گا : کیا تجھے ان میں سے کسی چیز کا انکار ہے؟ کیا میرے کراماًکا تبین نے تجھ پر ظلم تو نہیں کیا؟ وہ جواب دے گا: اے میرے رب نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا (ان سے متعلق) تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ و وہ جواب دے گا :یا اللہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہمارے پاس تیری ایک نیکی موجود ہے اور آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ ایک پرچہ نکالا جائے گا، جس میں لکھا ہوگا اشهد ان لا اله الا الله واشهدان محمدا عبده و رسوله . وہ کہے گا یا اللہ اتنے بھاری رجسٹروں کے مقابلے میں اس پرچے کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تجھ پرظلم نہیں ہوگا۔ (نبی ا کرم ﷺنے) فرمایا: پھر یہ سارے رجسٹر ( میزان کے ) ایک پلڑے میں اور وہ ایک پر چہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو سارے رجسٹر ہلکے ہو نگے اور وہ ایک پرچہ بھاری ہوگا کیونکہ اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہوسکتی۔ : یہ حدیث صحیح ہے لیکن صحیحین میں اسے نقل نہیں کیا گیا حالانکہ یہ حدیث امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ(انہوں نے اپنی صحیح میں ) ابوعبدالرحمٰن الحبلی کی حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت کردہ احادیث نقل کی ہیں (اور اس حدیث کے راوی ) عامر بن یحیحیٰ مصری ہیں، ثقہ ہیں اور لیث بن سعد امام ہیں اور یونس المؤدب ثقہ ہیں ، امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒدونوں نے ان کی روایات نقل کی ہیں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمَعَافِرِیِّ الْحُبُلِیِّ ← عَامِرُ بْنُ یَحْیَی ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 9

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 10

10 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَالنَّصَارَى مِثْلُ ذَلِكَ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً» هَذَا حَدِيثٌ كَثُرَ فِي الْأُصُولِ «وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ.» وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِالْفَضْلِ بْنِ مُوسَى وَهُوَ ثِقَةٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 10 - ما احتج مسلم بمحمد بن عمرو منفردا بل بانضمامه إلى غيره

حضرت ابو ہر یرہؓ فرماتے ہیں: رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا: یہودی ۷۱ فرقوں میں یا (شاید فرمایا )۷۲فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے، اسی طرح عیسائی بھی (۷۲یا ۷۳فرقوں میں بٹ گئے) اور میری امت ۷۳فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔:یہ حدیث کتب اصول میں کثرت سے موجود ہے اور حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓاور حضرت عوف بن مالک ؓ کے حوالے سے نبی پاک ﷺکا اسی سے ملتا جلتا فرمان منقول ہے۔ امام مسلم ؒنے محمد بن عمروکی ابوسلمہ ؓکے حوالے سے ابو ہریرہ ؓ سے روایات نقل کی ہیں جبکہ امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒ دونوں نے فضل بن موسیٰ کی روایات نقل کی ہیں اور یہ روای بھی ثقہ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 10

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 11

11 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ لَا تُعْرَفُ لَهُ عِلَّةٌ بِوَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ، فَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِالْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا جَمِيعًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 11 - صحيح ولا تعرف له علة

حضرت عبداللہ بن بریدہؓ اپنے والد کے حوالے سے رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ہمارے اور کفار کے درمیان نماز کا فرق ہے جس نے نماز کو ہلکا جانتے ہوئے ) چھوڑا، اس نے کفر کیا۔: اس حدیث کی سندصحیح ہے۔ ہمیں اس میں کسی بھی اعتبار سے علت معلوم نہیں ہوسکی جبکہ امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒ دونوں نے اپنی صحیح میں عبداللہ بن بریدہ ؓ کی ان کے والد کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم ؒنے(اس حدیث کے راوی)حسین بن واقد کی روایات بھی نقل کی ہیں اور دونوں نے (معنوی طور پر اس جیسی حد یثیں اگر چہ نقل کی ہیں لیکن ) بعینہ انہی لفظوں کے ہمراہ حدیث نقل نہیں کی۔اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو شیخین کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إبراهيم بن هلال ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 11

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 12

12 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرًا غَيْرَ الصَّلَاةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 12 - لم يتكلم عليه وإسناده صالح

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : اصحاب رسول نماز کے علاوہ کسی عمل کے ترک کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← قيس بن أنيف ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 12

chevron_left Previous
1234…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section