Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1215

1215 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْعُمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَرَجَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَسْتَسْقِي، فَإِذَا هُوَ بِنَمْلَةٍ رَافِعَةٍ بَعْضَ قَوَائِمِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: ارْجِعُوا فَقَدِ اسْتُجِيبَ لَكُمْ مِنْ أَجْلِ شَأْنِ النَّمْلَةِ" هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاه

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کی طلب میں گھر سے نکلے تو انہوں نے ایک چیوٹی کو دیکھا جو اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھی (گویا وہ بھی بارش مانگ رہی تھی ) اللہ تعالی نے ان سے فرمایا : لوٹ جاؤ کیونکہ اس چیونٹی کی وجہ سے تمہاری دعا قبول کر لی گئی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاریرحمۃ اللہ علیہ ا ور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← لِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنِ بْنِ الْحَكَمِ، ← عبد العزيز بن أبي سلمة العمري ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1215

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1216

1216 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمَنْصُورِ، فِي دَارِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ الْمَنْصُورِ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ لِيَتَحَوَّلَ الْقَحْطُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز استقاء ادا کی اور اپنی چادر کو پلٹا یا تا کہ قحط پلٹ جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاریرحمۃ اللہ علیہ ا ور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَمِّي إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← محمد بن يوسف بن عيسى بن الطباع

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1216

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1217

1217 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: أَرْسَلَنِي مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ سُنَّةِ الِاسْتِسْقَاءِ فَقَالَ: «سُنَّةُ الِاسْتِسْقَاءِ سُنَّةُ الصَّلَاةِ فِي الْعِيدَيْنِ، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَبَ رِدَاءَهُ فَجَعَلَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ، وَيَسَارَهُ عَلَى يَمِينِهِ، فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي الْأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَقَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَقَرَأَ فِي الثَّانِيَةِ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَكَبَّرَ فِيهَا خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت طلحہ بن یحیی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے مروان نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے نماز استسقاء کا طریقہ پوچھوں تو آپ نے فرمایا: نماز استسقاء کا طریقہ وہی ہے جو عیدین کی نمازوں کا ہے تاہم (اتنا فرق ہے کہ نماز استسقاء میں )رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر کو پلٹ کر دائیں جانب کو بائیں جانب اور بائیں جانب کو دائیں طرف کر دیا ۔ پھر دو رکعتیں پڑھیں ، پہلی سات تکبیریں کہیں اور " سبح اسم ربک الا علی " پڑھی اور دوسری رکعت میں "ھل اتاک حدیث الغاشیۃ " پڑھی اور اس میں پانچ تکبیریں کہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ا ور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سنة الاستسقاء، فقال: سنة الاستسقاء سنة الصلاة في العيدين، إلا ← أَرْسَلَنِي مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← أَبِيهِ ← محمد بن عبد العزيز بن عبد الملك، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← هشام بن علي السدوسي، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1217

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1218

1218 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ الْوَلِيدَ أَرْسَلَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ يَوْمَ اسْتَسْقَى بِالنَّاسِ، فَقَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَخَشِّعًا، مُتَذَلَّلًا، مُتَبَذِّلًا، فَصَنَعَ فِيهِ كَمَا يَصْنَعُ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى» هَذَا حَدِيثٌ رُوَاتُهُ مِصْرِيُّونَ وَمَدَنِيُّونَ، وَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْهُمْ مَنْسُوبًا إِلَى نَوْعٍ مِنَ الْجَرْحِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ

اسحاق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ولید نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا اور کہا : اے میرے بھتیجے ! جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز استسقاء پڑھائی تو کس طریقے سے پڑھائی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ پرانے کپڑے پہن کر تشریف لائے اور جس طرح عید الفطر اور عید الاضحی کی نماز پڑھائی جاتی ہے اسی طرح پڑھائی ۔ اس حدیث کے راوی مصری اور مدنی ہیں اور مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے کسی کو کسی قسم کی جرح کی طرف منسوب کیاگیا ہو لیکین شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا اور اس حدیث کو سفیان ثوری رضی اللہ عنہ نے ہشام بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔

أَبِيهِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ← أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1218

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1219

1219 - وَأَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَبَذِّلًا، مُتَخَشِّعًا، مُتَضَرِّعًا، مُتَرَسِّلًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ»

حضڑت ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ باین نقل کرتے ہیں کہ مجھے ایک امیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس نماز استسقاء کا طریقہ پوچھنے کے لئے بھیجا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے خود مجھ سے کیوں نہیں پوچھ لیا ؟ (پھر انہوں نے فرمایا )نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرانے کپڑے پہن کر عاجزی انکساری کرتے ہوئے ، گڑ گڑاتے ہوئے تشریف لائے اور عید کی نماز کی طرح دو رکعتیں پڑھائیں لیکن خطبہ نہیں دیا ۔

الصَّلَاةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ ← أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُهُ ← أَبِيهِ ← هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ، بِبَغْدَادَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1219

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1220

1220 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ» وَقَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِثَابِتٍ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، قُلْتُ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَقَدْ خَرَّجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شُعْبَةَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں ہاتھ بلند نہیں کیا کرتے تھے ۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے ثابت سے پوچھا : کیا تم نے یہ بات انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! میں نے کہا: کیا تو نے یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث یحیی بن ابی بکیر کے واسطے سے شعبہ سے روایت کی ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1220

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1221

1221 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: «اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ بِأَسْفَلِهَا فَيَجْعَلَهُ أَعْلَاهَا، فَلَمَّا ثَقُلَتْ عَلَيْهِ قَلَبَهَا عَلَى عَاتِقِهِ» قَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ "

حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز استسقاء پڑھائی ، اس وقت آپ پر کالی چادر تھی آپ نے ارادہ کیا کہ اس کی نچلی جانب سے پکڑ کر اوپر کرلیں ۔ لیکن جب آپ کو یہ بھاری لگی تو آپ نے اس کو اپنے کندھے پر پلٹ دیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسےان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے عباد بن تمیم کی حدیث نقل کی ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1221

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1222

1222 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَوَاكِي، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا، مَرِيئًا مَرِيعًا، عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ، فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگ روتے ہوئے آئے ( اور قحط کی شکایت کرنے لگے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا ما نگی " اے اللہ ! ہمیں رچتی جچتی فائدہ مند ، فوری بارش عطا فرما (یہ دعا مانگتے ہی) ان پر بارش برسنے لگ گئی " یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أَتَتِ النَّبِيَّ بَوَاكِي ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يَزِيدَ الْفَقِيرِ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1222

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1223

1223 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ«رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ يَسْتَسْقِي مُقَنَّعًا بِكَفَّيْهِ يَدْعُو هَكَذَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَعُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ لَهُ صُحْبَةٌ وَبِصِحَّةِ ذَلِكَ»

آبی اللحم کے غلام عمیر کہتے ہیں : کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھریلے میدان میں اس طرح دونوں ہاتھ کو بلند کر کے بارش کی دعا مانگتے دیکھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ا ور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور ابو اللحم کے غلام عمیر صحابی رسول میں اور انکے صحابی رسول ہونے پر درج ذیل حدیث دلیل ہے ۔

يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1223

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1224

1224 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدَ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: «شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي، فَكَلَّمُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَأَخْبَرُوهُ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي فَقُلِّدْتُ السَّيْفَ، فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا، وَحَبْسِ بَعْضِهِ»

آبی اللحم کے غلام عمیر بیان کرتے ہیں : میں اپنے آقا کے ہمراہ غزوہ خیبر میں شریک ہوا ۔ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے متعلق بتایا کہ میں غلام ہوں ۔ آُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر مجھے تلوار پہنا دی گئی ، میں اس کو اٹھا لیا ، پھر آپ نے مجھے گھریلو سامان کی چند چیزیں عطا فرمائیں ۔ میں نے آپ کو وہ تعویزات پیش کئے جو میں مجنون لوگوں کو دیا کرتا تھا ۔ تو حضور رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کچھ پھینک دئیے اور کچھ اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا ۔

عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← قُتَيْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1224

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1225

1225 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ، وَاسْتِئْخَارِ الْمَطَرِ عَنْ أَوَانِ زَمَانِهِ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدَعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ» ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلْ عَلَى النَّاسِ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابًا فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، فَقَالَ: «أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگا میں بارشیں بند ہونے کی شکایتیں کیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر بچھانے کا حکم دیا ، عید گاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے منبر بچھایا گیا اور لوگوں کو ایک دن مقرر کر دیا ۔ جس دن سب لوگ جمع ہو ں گے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب دھوپ خوب چمک پڑی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور منبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیٹھ گئے پھر تکبیرکہی ، اور اللہ تعالی کی حمد بیان کی ۔ پھر فرمایا : تم نے اپنے علاقے کی خشک سالی اور وقت پر باشیں نہ ہونے کی شکا یت کی ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے تمہیں حکم دیا کہ تم اس سے دعا مانگو اور تم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا کو قبول کرے ۔ پھر آپ نے پڑھا " الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین ، لا الہ الااللہ یفعل ما یرید ، اللھم انت لا الہ الا انت الغنی ونحن الفقراء، انزل علینا الغیث ، واجعل ما انزلت لنا قوۃ و بلاغا الی حین "" تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے، وہ رحیم ہے، قیامت کے دن کا مالک ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے ، اے اللہ ! تو ہی ہے ، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، تو بے نیاز ہے ، ہم محتاج ہیں ۔ ہم پر بارش نازل فرما اور جو نازل کرے ، اس کو ہمارے لئے قوت بنا اور ایک وقت تک کفایت کا ذریعہ بنا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، اتنے بلند کئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیچے اترے پھر دو رکعتیں ادا کیں ۔ اللہ تعالی نے باد ل بھیجے ( اور دیکھتے ہی دیکھتے ) اللہ کے حکم سے گرج اور چمک کے ہمراہ بارش برسنے لگ گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی مسجد میں ہی تھے کہ ندی نالے بہنے شروع ہو گئے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اپنے گھروں کی طرف بھاگتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکر دئیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانت مبارک ظاہر ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ← خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1225

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الِاسْتِسْقَاءِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1226

1226 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُصَيْنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَى مُضَرَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ، وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا سَرِيعًا غَدَقًا طَبَقًاً عَاجِلًا، غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ» ، فَمَا كَانَتْ إِلَّا جُمُعَةٌ أَوْ نَحْوَهَا حَتَّى سُقُوا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ إِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ» بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ الثِّقَةُ الثَّبْتُ «قَدْ رَوَاهُ، عَنْ شُعْبَةَ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ» وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ، وَمُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ صَحَابِيٌّ مَشْهُورٌ "

شرحبیل بن سمط کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے کعب بن مرہ یا (شاید یہ کہا ) مرہ بن کعب سے کہا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس کو آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہو ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبیلہ مضر کے لئے بدعا کرتے سنا ، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا : اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ تعالی نے آپ کو ( ایک خاص عزت اور مرتبہ ) عطا فرمایا ہے اور آپ مستحاب الدعوات ہیں اور اپکی قوم ہلاک ہو رہی ہے ، آپ ان کے لئے دعا کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا مانگی "اللھم اسقنا غیثا مغیثا مریا سریعا ،غد قا عاجلا غیر رائث ، نافعا غیر ضار " "آپ لہ اس دعا کے بعد ایک جمعہ یا اس کے قریب کچھ دن گزرے تھے کہ بارش ہو گئی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح الاسناد ہے ۔ بھز بن اسد عمی ثقہ ہیں ، قابل اعتماد ہیں انہوں نے یہ حدیث اپنی سند کے ہمراہ شعبہ کے ذریعے مرہ بن کعب سے روایت کی ہے ۔ اور اس میں شک والے الفاظ نہیں ہیں ۔حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ بھی مشہور صحابی ہیں ۔

رَسُولَ اللَّهِ دَعَا عَلَى مُضَرَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← حَدِيثًا ← لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ أَوْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ: ← شُرَحْبِيلَ بْنِ السَّمْطِ أَنَّهُ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُصَيْنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Ascension Book › Insurance section · Hadith 1226

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section