Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4561

4561 - الشَّيْبَانِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ كَثِيرًا أَبَا النَّضْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يَقُولُ: انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ مَا فَعَلَ قَوْمُكَ؟ قَالَ: عَنْ أَيِّ حَالِهِمْ تَسْأَلُ؟ قَالَ: مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، فَسَمَّيْتُ لَهُ رَجُلًا مِمَّنْ خَرَجَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، وَاسْتَبْدَلَ الْإِمَارَةَ، لَقِيَ اللَّهَ وَلَا حُجَّةَ لَهُ عِنْدَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4561 - حذفه الذهبي من التلخيص

حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں : جن راتوں میں لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دیوار پھاند کر اندر گئے تھے، میں اس موقع پر مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ، انہوں نے مجھ سے کہا: اے بیٹے ! تمہاری قوم نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے پوچھا : آپ ان کے کس حال کے بارے میں دریافت فرمارہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ان میں سے کس شخص نے بغاوت کی ہے؟ میں نے خروج کرنے والوں کا نام بتایا تو آپ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص جماعت سے جدا ہوا اور امارت کو بدلنا چاہے ، وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے کوئی حجت نہ ہوگی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، فَسَمَّيْتُ لَهُ رَجُلًا مِمَّنْ خَرَجَ، ← أَيِّ حَالِهِمْ تَسْأَلُ؟ ← يَا بُنَيَّ مَا فَعَلَ قَوْمُكَ؟ ← انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← كَثِيرًا أَبَا النَّضْرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حامد بن أبي حامد المقري ← الشَّيْبَانِيِّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4561

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4562

4562 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ الصُّنَابِحِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، سَمِعْتُ مَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ يَذْكُرُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «مَا يَسُرُّنِي إِنْ أَخَذْتُ سَيْفِي فِي قَتْلِ عُثْمَانَ، وَإِنَّ لِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4562 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے لیے تلوار اٹھانے کے صلہ میں اگر مجھے دنیا و مافیھا بھی ملیں ، تب بھی میں یہ کام نہ کروں۔

مَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ يَذْكُرُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ الصُّنَابِحِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4562

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4563

4563 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْخَوَرْنَقِ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ، وَعِنْدَهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَأَبُوكَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ: عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرَرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4563 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ہارون بن عنترہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خورنق میں دیکھا ، وہ اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، اور ان کے پاس حضرت ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ موجود تھے، آپ نے فرمایا : میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان لوگوں میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ٤٧﴾[الحجر: 47]"اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے" (ترجمہ کنزالایمان،امام احمد رضارحمۃاللہ علیہ)

وَأَبُوكَ مِنَ الَّذِينَ ← إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ ← رَأَيْتُ عَلِيًّا بِالْخَوَرْنَقِ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ، وَعِنْدَهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبِيهِ ← هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ← یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْقُمِّیُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4563

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4564

4564 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، بِالسَّاوَةِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَغْرَاءَ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ بَشَّارٍ يَذْكُرُ، عَنْ شُيُوخِهِ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَّهْتُ رَسُولًا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ أَخِي عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، يُخْبِرُهُ بِقَتْلِ عُثْمَانَ وَوَجَّهْتُ إِلَيْهِ بِقَمِيصِهِ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ، وَأَثْوَابُهُ مُضَرَّجَاتٌ بِدَمِهِ، فَلَمَّا وَرَدَ عَلَيْهِ الرَّسُولُ، خَرَجَ إِلَى النَّاسِ، وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَأَخْبَرَهُمْ بِقَتْلِهِ، وَنَشَرَ قَمِيصَهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَبَكَى وَبَكَى النَّاسُ مَعَهُ، وَأَنْشَأَ يَقُولُ: « [البحر الطويل] أَتَانِيَ أَمَرٌ فِيهِ لِلنَّاسِ غُمَّةٌ ... وَفِيهِ بُكَاءٌ لِلْعُيُونِ طَوِيلُ وَفِيهِ مَتَاعٌ لِلْحَيَاةِ بِذِلَّةٍ ... وَفِيهِ اجْتِدَاعٌ لِلْأُنُوفِ أَصِيلُ مُصَابُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، وَهَذِهِ ... يُعَادُ لَهَا شُمُّ الْجِبَالِ تَزُولُ تَدَاعَتْ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ عُصْبَةٌ ... فَرِيقَانِ مِنْهُمْ قَاتِلٌ وَخَذُولُ سَأَبْكِي أَبَا عَمْرٍو بِكُلِّ مُهَنَّدٍ ... وَبِيضٍ لَهَا فِي الدَّارِعِينَ هَلِيلُ وَلَا نَوْمَ حَتَّى يُسْجَنَ الْقَوْمُ بِالْقَنَا ... وَيَشْفَى مِنَ الْقَوْمِ الْغُوَاةِ غَلِيلُ وَلَسْتُ مُقِيمًا مَا حَيِيتُ بِبَلْدَةٍ ... أَجُرُّ بِهَا ذَيْلًا، وَأَنْتَ قَتِيلُ» قَالَ: فَخَرَجَ بِمَنْ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا قَرُبَ مِنْ مَكَّةَ سَقَطَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَمَاتَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4564 - حذفه الذهبي من التلخيص

محمد بن اسحاق بن بشار اپنے شیوخ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں : حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان ، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کے بھائی عبداللہ ابن ربیعہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچانے کے لئے، ان کی جانب ایک قاصد بھیجا اور ان کو وہ قمیض بھی بھیجی ، جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا اور آپ کے کپڑے خون سے لت پت تھے۔ جب قاصد ان کے پاس پہنچا تو وہ لوگوں کی طرف نکل آئے اور منبر پر چڑھ کر لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سنائی اور ان کی قمیض منبر پر پھیلا دی اور رونے لگ گئے اور آپ کے ساتھ تمام لوگوں میں آہ و بکا شروع ہوگئی اور آپ نے درج ذیل اشعار کہے : میرے پاس ایسی خبر آئی ہے جو لوگوں کے لئے غم و حزن کا باعث ہے اور جس میں طویل رونا دھونا شامل ہے۔ اس میں زندگی کا سامان ہے ذلت کے ساتھ اور ناک کا کٹنا اور غالب رائے والے شریف النسل لوگ ہیں۔ امیر المومنین کا قتل ، یہ ایک ایسا حادثہ ہے جس پر پہاڑوں کی بلندیا ں بھی لرزہ اندام ہیں۔ مدینہ میں ان پر ایک جماعت نے قاتلانہ حملہ کیا ہے، اس جماعت میں دو طرح کے لوگ ہیں ، کچھ قاتل اور کچھ ذلیل ۔ میں ابو عمر و پر روؤں گا ہر چمکدار ، اور ایسی تیز تلوار کے ساتھ جس سے بہت کم زرہ پوش بچ سکتے ہیں۔اور اس وقت تک آرام نہیں کروں گا جب تک باغیوں کو گرفتار نہ کرلیا جائے اور سرکش قوم سے ، ان کے قصاص کے طلبگاروں کی آرزو پوری ہو۔میں زندگی بھر اس شہر میں نہیں رہونگا ، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں وہاں پر رہوں جہاں تمہیں شہید کیا گیا ہے۔ یہ کہہ کر آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوگئے جب آپ مکہ کے قریب پہنچے تو اپنی سواری سے گر گئے اور فوت ہوگئے ۔

شيوخه ← مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ بَشَّارٍ يَذْكُرُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4564

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4565

4565 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي الْأَحْوَصِ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْ مَرَاثِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحْسَنَ مِنْ قَوْلِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ: « [البحر الطويل] فَكَفَّ يَدَيْهِ ثُمَّ أَغْلَقَ بَابَهُ ... وَأَيْقَنَ أَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِغَافِلٍ، وَقَالَ لِأَهْلِ الدَّارِ لَا تَقْتُلُوهُمْ ... عَفَا اللَّهُ عَنْ كُلِّ امْرِئٍ لَمْ يُقَاتِلْ، فَكَيْفَ رَأَيْتَ اللَّهَ صَبَّ عَلَيْهِمُ ... الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ بَعْدَ التَّوَاصُلِ، وَكَيْفَ رَأَيْتَ الْخَيْرَ أَدْبَرَ بَعْدَهُ ... عَنِ النَّاسِ إِدْبَارَ الرِّيَاحِ الْحَوَافِلِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4565 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

شعبی کہتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مرثیہ میں ، میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے اشعار سے زیادہ بہتر کچھ نہیں سنا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو روکا پھر اپنے دروازے کو بند کیا اور ان کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ غافل نہیں ہے۔ اور اہل دار سے فرمایا : تم ان کو قتل مت کرو، اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو معاف فرما دیتا ہے جو قتال نہ کرے۔ پس کیسا ہے تو نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نےدوستی کے بعد ان میں عداوت اور بغض ڈال دیا۔اور کیسا ہے تو نے دیکھا کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس طرح دور کردیا جیسے تیز آندھیاں دور کردیتی ہیں۔

مَا ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، ← محمد بن إسحاق البلخي، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي الْأَحْوَصِ الثَّقَفِيُّ، ← أبو بكر بن أبي دارم

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4565

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4566

4566 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُسْتَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ عُثْمَانَ: " مَا كَانَ عَلَى فَصِّ خَاتَمِهِ؟ قَالَ: لَقَدْ كَانَ عَلَى فَصِّ خَاتَمِهِ مِنْ صِدْقِ نِيَّتِهِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي سَعِيدًا، وَأَمِتْنِي شَهِيدًا، فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَاشَ سَعِيدًا، وَمَاتَ شَهِيدًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4566 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی کے نگینے پر کیا تحریر تھا؟ آپ نے فرمایا : ان کی انگوٹھی کے نگینے پر ان کی نیت کی سچائی تھی، وہ یہ تھی، اے اللہ ! مجھے سعادت مند زندہ رکھ اور مجھے شہادت کی موت عطا فرما" خدا کی قسم ! انہوں نے سعادت مندی کی زندگی گزاری اور شہادت کی موت پائی ۔

عُثْمَانَ: مَا كَانَ عَلَى فَصِّ خَاتَمِهِ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سُئِلَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ← محمد بن عبد الله بن رسته الأصبهاني ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4566

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4567

4567 - حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحَارِثِيِّ قَالَ: جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَعُودُهُ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «اسْكُنُوا أَوِ اسْكُتُوا فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ» ، فَقَالَ زَيْدٌ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، أَنْتَ قَتَلْتَ عُثْمَانَ؟ فَأَطْرَقَ عَلِيٌّ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا قَتَلْتُهُ، وَلَا أَمَرْتُ بِقَتْلِهِ» قَالَ هَارُونُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أُخْرِجَ مِنْ دَارِ عُثْمَانَ جَرِيحًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4567 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حصین حارثی فرماتے ہیں: حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ،حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ، کی عیادت کے لئے ان کے پاس آئے ، اس وقت ان کے پاس اور لوگ بھی موجود تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خاموش ہوجاؤ، خدا کی قسم ! تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے ، میں تمہیں اس کا جواب دوں گا ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک لمحے کے لئے سرجھکایا پھر بولے : اس ذات کی قسم ! جس نےدانہ پھاڑا اور روح کو پیدا کیا، میں نے ان کو شہید نہیں کیااور نہ ہی ان کے شہید کرنے کا حکم دیا تھا۔حضرت قتادہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر سے زخمی حالت میں لایا گیا تھا۔

قَتَادَةَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← هَارُونُ: ← «وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا قَتَلْتُهُ، وَلَا أَمَرْتُ بِقَتْلِهِ» ← زَيْدٌ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، أَنْتَ قَتَلْتَ عُثْمَانَ؟ فَأَطْرَقَ عَلِيٌّ سَاعَةً، ثُمَّ ← شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ» ← عَلِيٌّ: «اسْكُنُوا أَوِ اسْكُتُوا فَوَاللَّهِ لَا تَسْأَلُونِي ← جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ يَعُودُهُ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، ← حُصَيْنٍ الْحَارِثِيِّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبِي ← أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مهران،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4567

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4568

4568 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحِ الْمَدَايِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا كِنَانَةُ الْعَدَوِيُّ قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ حَاصَرَ عُثْمَانَ» ، قَالَ: قُلْتُ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَتَلَهُ؟ قَالَ: " لَا، قَتَلَهُ جَبَلَةُ بْنُ الْأَيْهَمِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، قَالَ: وَقِيلَ: قَتَلَهُ كَبِيرَةُ السَّكُونِيُّ، فَقُتِلَ فِي الْوَقْتِ، وَقِيلَ: قَتَلَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرٍ التُّجِيبِيُّ، وَلَعَلَّهُمُ اشْتَرَكُوا فِي قَتْلِهِ لَعَنَهُمُ اللَّهُ"، وَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ: [البحر الطويل] أَلَا إِنَّ خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ نَبِيِّهِمْ ... قَتِيلُ التُّجِيبِيِّ الَّذِي جَاءَ مِنْ مِصْرِ « يَعْنِي بِالتَّجِيبِيِّ قَاتِلَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4568 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

کنانہ عدوی کہتے ہیں: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرنےوالوں میں ، میں بھی شامل تھا ۔ میں نے کہا: محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں ، بلکہ ان کو مصر کے ایک جبلہ بن ایہم نامی آدمی نے شہید کیا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کو " کبیرہ السکونی " نے شہید کیا تھا، لیکن اس وقت وہ خود بھی مارا گیاتھا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کنانہ بن تجیبی نے شہید کیا تھا۔ اور ہو سکتا ہے آپ کی شہادت میں یہ سب لوگ شریک ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کی ان پر لعنت ہو۔ ولید بن عقبہ نے کہا: خبر دار ان کے نبی کے بعد تمام مخلوقات میں سب سے افضل آدمی ، اس تجیبی کے ہاتھوں شہید ہوا جو مصر سے آیا تھا۔

قِيلَ: قَتَلَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرٍ التُّجِيبِيُّ، وَلَعَلَّهُمُ اشْتَرَكُوا فِي قَتْلِهِ لَعَنَهُمُ اللَّهُ"، ← وَقِيلَ: قَتَلَهُ كَبِيرَةُ السَّكُونِيُّ، فَقُتِلَ فِي الْوَقْتِ، ← لَا، قَتَلَهُ جَبَلَةُ بْنُ الْأَيْهَمِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، ← قُلْتُ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَتَلَهُ؟ ← «كُنْتُ فِيمَنْ حَاصَرَ عُثْمَانَ» ← كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عبد الله بن روح المدائني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4568

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4569

4569 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَيْدَانَ عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَطَبَ إِلَى عُمَرَ ابْنَتَهُ، فَرَدَّهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَنْ رَاحَ إِلَيْهِ عُمَرُ قَالَ: «يَا عُمَرُ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَتَنٍ خَيْرٍ لَكَ مِنْ عُثْمَانَ، وَأَدُلُّ عُثْمَانَ عَلَى خَيْرٍ لَهُ مِنْكَ؟» قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ، وَأُزَوِّجُ عُثْمَانَ ابْنَتِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ربعی بن حراش روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کی صاحبزادی کے لئے پیغام نکاح بھیجا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا۔ یہ بات نبی اکرم ﷺ تک پہنچی ۔ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ ، حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے عمر ! میں تمہیں عثمان رضی اللہ عنہ سے بہتر داماد نہ بتاؤں جو اس کے حق میں تم سب سے زیادہ بہتر ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں یارسول اللہ ﷺ ۔ آپ نے فرمایا تم اپنی صاحبزادی بیٹی کا نکاح مجھ سے کردو، میں اپنی صاحبزادی عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیتا ہوں۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو سَيْدَانَ عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4569

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4570

4570 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عِيسَى بْنُ الْمُسَيِّبِ الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " اشْتَرَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْجَنَّةَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ: بَيْعَ الْحَقِّ حَيْثُ حَفَرَ بِئْرَ مَعُونَةَ، وَحَيْثُ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4570 - عيسى بن المسيب ضعفه أبو داود وغيره

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دو مرتبہ نبی اکرم ﷺ سے جنت خریدی ۔معنہ کھدوا کر۔ جیش العسرہ کی تیاری کروا کر۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← عِيسَى بْنُ الْمُسَيِّبِ الْبَجَلِيُّ، ← بكر بن بكار ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ الأَصْبَهَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4570

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4571

4571 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَرَادَ عَلِيٌّ أَنْ يَسِيرَ إِلَى الشَّامِ إِلَى صِفِّينَ وَاجْتَمَعَتِ النَّخَعِ حَتَّى دَخَلُوا عَلَى الْأَشْتَرِ بَيْتَهُ، فَقَالَ: «هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلَّا نَخَعِيٌّ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ عَمَدَتْ إِلَى خَيْرِ أَهْلِهَا فَقَتَلُوهُ - يَعْنِي عُثْمَانَ -، وَإِنَّا قَاتَلْنَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ بِبَيْعَةٍ تَأَوَّلْنَا عَنْهُ، وَإِنَّكُمْ تَسِيرُونَ إِلَى قَوْمٍ لَيْسَ لَنَا عَلَيْهِمْ بَيْعَةٌ فَلْيَنْظُرْ كُلُّ امْرِئٍ أَيْنَ يَضَعُ سَيْفَهُ» هَذَا حَدِيثٌ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ سَنَدٌ فَإِنَّهٌ مُعَقَّدٌ. صَحِيحُ الْإِسْنَادِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4571 - على شرط مسلم

حضرت عمر بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شام کی جانب صفین جانے کا ارادہ کیا تو قبیلہ نخع کے کچھ لوگ جمع ہو کر اشترکی عیادت کرنے اس کے گھر گئے، اشتر نے پوچھا : گھر میں قبیلہ نخع سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ تو کوئی شخص نہیں ہے؟ لوگوں نے جواب دیا : نہیں ۔ تب اشتر نے کہا: ان لوگوں نے اس امت کے سب سے نیک انسان (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ) کو شہید کر ڈالا ہے ، ہم نے اہل بصرہ کے ساتھ معاہدہ ہونے ک باوجود قتال کیا کہ معاہدہ کی وجہ سے تو کوئی تاویل بھی ممکن تھی ۔ جبکہ تم لوگ ایسی قوم کے پاس جارہے ہو کہ ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے، اس لئے تم میں ہر شخص اس بات پر غور کرلے کہ وہ اپنی تلوار کہاں رکھے گا۔ اس حدیث کی اگرچہ سند نہیں ہے لیکن یہ معقد اس مقام پر صحیح الاسناد ہے۔

أَرَادَ عَلِيٌّ ← عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِيهِ ← الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4571

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4572

4572 - سَمِعْتُ الْقَاضِيَ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ الْجَرَّاحِيَّ، وَأَبَا الْحُسَيْنِ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظِ، يَقُولَانِ: سَمِعْنَا أَبَا حَامِدٍ مُحَمَّدَ بْنَ هَارُونَ الْحَضْرَمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَنْصُورٍ الطُّوسِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: «مَا جَاءَ لِأَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْفَضَائِلِ مَا جَاءَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: «اسْمُ أَبِي طَالِبٍ عَبْدُ مَنَافٍ» - قَالَ الْحَاكِمُ: «وَهَكَذَا ذَكَرَهُ زِيَادُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَخْبَارُ بِأَنَّ أَبَا طَالِبٍ كُنْيَتُهُ اسْمُهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ» - سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: " أُمُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: فَاطِمَةُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی کے فضائل میں اتنی احادیث وارد نہیں ہوئی جتنی احادیث حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہیں۔ یحییٰ بن معین بیان کرتے ہیں کہ ابواب طالب کا نام " عبد مناف " تھا۔ امام حاکم کہتے ہیں : زیاد بن محمد اسحاق نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے اور اس بارے میں روایا ت حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ ابوطالب ان کی کنیت تھی اور ان کی کنیت ہی ان کا نام تھا ۔ واللہ اعلم۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں : حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ بنت اسد بن ہاشم تھیں ۔

أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ← أَبَا حَامِدٍ مُحَمَّدَ بْنَ هَارُونَ الْحَضْرَمِيَّ ← أَبَا الْحُسَيْنِ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظِ ،يَقُولَانِ: ← الْقَاضِيَ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ الْجَرَّاحِيَّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4572

chevron_left Previous
1…728729730…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section