Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُجَلِّلِ الْقُرَشِيَّةِ أُمِّ جَمِيلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6909

6909 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ بِالطَّابَرَانِ، وَأَبُو يَحْيَى الْخَتَنُ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى قَالَا: صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ، قَالَتْ: أَقْبَلْتُ بِكَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ بِلَيْلَةٍ أَو لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْحَطَبَ فَتَنَاوَلْتُ الْقِدْرَ فَانْكَفَأْتَ عَلَى ذِرَاعِكَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سُمِّيَ بِكَ فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيكَ وَجَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدِكَ وَيَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» قَالَتْ: فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرِئَتْ يَدُكَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6909 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن حاطب اپنی والدہ اُمّ جمیل کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتی ہیں )میں تجھے لے کر ہجرت کے لئے روانہ ہوئی ،جب مدینہ منورہ سے ایک رات یا دو راتوں کے فاصلہ پر تھی ،میں تیرےلئے کھانہ پکا رہی تھی کہ ایندھن ختم ہو گیا ،میں لکڑیاں جمع کرنے کے لئے نکلی تو مجھے ایک ہنڈیا ملی ،(میں وہ اپنے ساتھ اپنے خیمے میں لے آئی )وہ ہنڈیا تیری ٹانگ پر گری تھی (جس کی وجہ سے زخم ہو گیا تھا )میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں لے گئی ،میں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یہ محمد بن حاطب ہے ، یہ پہلا بچہ تھا جس کا یہ نا م رکھا گیا تھا ،حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے تیرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور برکت کی دعا فرمائی ،پھر تیرے منہ میں اپنا لعاب دہن مبارک ڈالا ،اور تیرے ہاتھ پر بھی لعاب دہن مبارک لگایا تھااورتیرے لئے یہ دعا بھی کی تھی ۔(ترجمہ)اے اللہ ،اے انسانوں کے پالنے والے ،شفاء عطا فرما،تو ہی شفا دینے والا ہے ،تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ہے الہیٰ ایسی شفاء عطا فرما کہ کوئی کمی باقی نہ رہے ۔آپ فرماتی ہیں :میں ابھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ سے اٹھی نہیں تھی کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے دم کی برکت سے )تیرا بازو ٹھیک ہو گیا تھا۔

أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ، ← جَدِّيَّ مُحَمَّدَ بْنَ حَاطِبٍ ← أَبِي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ بِالطَّابَرَانِ، وَأَبُو يَحْيَى الْخَتَنُ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Fatimah, the daughter of al-Majlal al-Qurrashiyyah, the mother of Jamil, may God be pleased with her · Hadith 6909

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ أَيْمَنَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَاضِنَتِهِ · حديث 6910

6910 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: «وَمِنْهُنَّ أُمُّ أَيْمَنَ مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَاضِنَتُهُ وَاسْمُهَا بَرَكَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَهَا خَمْسَةَ أَجْمَالٍ وَقِطْعَةَ غَنَمٍ فَأَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ أَيْمَنَ حِينَ تَزَوَّجَ خَدِيجَةَ فَتَزَوَّجَهَا عُبَيْدُ بْنُ يَزِيدَ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَوَلَدَتْ لَهُ أَيْمَنَ فَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ شَهِيدًا، وَكَانَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ لِخَدِيجَةَ فَوَهَبَتْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَوَّجَهُ أُمَّ أَيْمَنَ بَعْدَ النُّبُوَّةِ فَوَلَدَتْ لَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ»

محمد بن عمر کہتے ہیں :اور ام ایمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی باندی اور آ پ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی حاضنہ (بچے کی پرورش کرنے والی دایہ)ان کا نام "برکت "ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کو پانچ اونٹ اوربکریوں کا ایک ریوڑ عطا فرمایا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کیا تو ان کو آزاد کردیا تھا ،اُمّ ایمن نے عبید بن یزید (جن کا تعلق بنی حارث بن خزرج کے ساتھ تھا )کے ساتھ نکاح کیا ،ان کے ہاں ایک لڑکی ایمن پیدا ہوئی ،جنگ خیبر میں عبید بن یزید شہید ہو گئے ،حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حضرت خدیجہ کےغلام تھے،انہوں نے یہ غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو تحفے میں دے دیا تھا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کو آزاد کرکے اُمّ ایمن کےساتھ ان کا نکاح کردیا ،(ام ایمن کے ساتھ نکاح کا یہ واقع اعلان نبوت سے پہلے کا ہے )ام ایمن کے ہاں اس نکاح سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ayman's mother, the guardian of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, and her incubator · Hadith 6910

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ أَيْمَنَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَاضِنَتِهِ · حديث 6911

6911 - فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأُمِّ أَيْمَنَ: «يَا أُمَّهْ» وَكَانَ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا قَالَ: «هَذِهِ بَقِيَّةُ أَهْلِ بَيْتِي»

بنی سعد بن بکر کے ایک بزرگ بیان کرتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم حضرت اُمّ ایمن کو "یا امہ "کہہ کر پکارا کرتے تھے،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم جب بھی اُمّ ایمن کی طرف دیکھتے تو فرماتے :یہ میرے گھرانے کی بقیہ ہے :

«هَذِهِ بَقِيَّةُ أَهْلِ بَيْتِي» ← لِأُمِّ أَيْمَنَ: «يَا أُمَّهْ» وَكَانَ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← شَيْخٍ، مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ← فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ دِينَارٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ayman's mother, the guardian of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, and her incubator · Hadith 6911

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ أَيْمَنَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَاضِنَتِهِ · حديث 6912

6912 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَايِنِيُّ، ثَنَا شَبَابَةُ، ثَنَا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَيَّ فَخَّارَةٍ مِنْ جَانِبِ الْبَيْتِ فَبَالَ فِيهَا فَقُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا عَطْشَى فَشَرِبْتُ مِنْ فِي الْفَخَّارَةِ وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ قَوْمِي إِلَى تِلْكَ الْفَخَّارَةِ فَأَهْرِيقِي مَا فِيهَا» قُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ شَرِبْتُ مَا فِيهَا. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّكِ لَا يَفْجَعُ بَطْنُكِ بَعْدَهُ أَبَدًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6912 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت اُم ّ ایمن رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں:ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم رات کے وقت ،کمرے کے کونے میں رکھے ہوئے ایک پیالے میں پیشاب کیا ،رات میں میری آنکھ کھلی ،مجھے اس وقت پیاس لگ رہی تھی ،میں نے اس پیالے سے پی لیا ،مجھے ذرا بھی اندازہ نہ ہوا کہ میں نے پیشاب پی لیا ہے ،صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا:اے اُمّ ایمن !اٹھو اورفلاں پیالے میں جو کچھ ہے اس کو انڈیل دو ،میں نے کہا :اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میں نے اس کو پی لیا ہے ،راوی کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم مسکرائے ،حتی ٰ کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نےفرمایا :آ ج کے بعد تجھے پیٹ کی بیماری کھبی نہیں لگے گی۔

أُمِّ أَيْمَنَ ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، ← شَبَابَةُ ← عبد الله بن روح المدائني ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ayman's mother, the guardian of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, and her incubator · Hadith 6912

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ أَيْمَنَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَاضِنَتِهِ · حديث 6913

6913 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «تُوُفِّيَتْ أُمُّ أَيْمَنَ مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَاضِنَتُهُ فِي أَوَّلِ خِلَافَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

معصب بن عبداللہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی باندی اور حاضنہ (بچے کی پرورش کرنے والی دایہ)حضرت اُمّ ایمن رضی اللہ عنہ کا انتقال حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے اوائل میں ہوا۔

مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ayman's mother, the guardian of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, and her incubator · Hadith 6913

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ أَيْمَنَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَاضِنَتِهِ · حديث 6914

6914 - حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَيْحٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: خَاصَمَ ابْنُ أَبِي الْفُرَاتِ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ الْحَسَنَ بْنَ أُمَيَّةَ وَنَازَعَهُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي الْفُرَاتِ فِي كَلَامِهِ: يَا ابْنَ بَرَكَةَ تُرِيدُ أُمَّ أَيْمَنَ فَقَالَ الْحَسَنُ: اشْهَدُوا وَرَفَعَهُ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَاضِي الْمَدِينَةِ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ، لِابْنِ أَبِي الْفُرَاتِ: مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ لَهُ يَا ابْنَ بَرَكَةَ فَقَالَ: سَمَّيْتُهَا بِاسْمِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا أَرَدْتَ بِهَذَا التَّصْغِيرَ بِهَا وَحَالُهَا مِنَ الْإِسْلَامِ حَالُهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهَا: «يَا أُمَّهْ وَيَا أُمَّ أَيْمَنَ لَا أَقَالَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ أَقَلْتُكَ» فَضَرَبَهُ سَبْعِينَ سَوْطًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6914 - حذفه الذهبي من التلخيص

یحیٰ بن محمد بن صاعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ،محمد بن صاعد بیان کرتے ہیں کہ اسامہ بن زید کے غلام ابن ابی فرات کا حسن بن امیہ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا ،ابن ابی فرات نے اپنی گفتگو میں اُسے کہا :اے ابن برکتہ!تو ام ایمن کا ارادہ رکھتا ہے ؟حسن نے اس بات پر گواہ قائم کئے اور اس کا معاملہ ابو بکر بن عمرو بن حزم کے پاس لے گئے ،یہ ان دنوں مدینہ منورہ کے قاضی تھے ،وہاں جا کر حسن نے پورا قصہ سنایا ۔ابو بکر نے ابن فرات سے کہا :تو نے اس کو "یا ابن برکتہ"کہا ،اس سے تیری کیا مراد تھی ؟انہوں نے کہا :میں نے اس کا اصل نام لیا تھا ،ابو بکر نے کہا :تو نے تصغیر کےاس لفظ کے ساتھ ان کا نام لیا ہے ،حالانکہ وہ مسلمان ہیں ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ان کو "یا امہ "اور یا ام ایمن "کہا کرتے تھے،اگر میں تیرے قتل کی سزا سنادوں تو اللہ تعالیٰ اس پر میری پکڑ نہیں فرمائے گا ۔پھر ان کو ستر کوڑوں کی سزا دی گئی۔

أَبِي ← يحيى بن محمد بن صاعد ← أحمد بن محمد بن رميح

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Ayman's mother, the guardian of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, and her incubator · Hadith 6914

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أَرْوَى بِنْتِ كَرِيزٍ الْقُرَشِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6915

6915 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: «أَسْلَمَتْ أَرْوَى بِنْتُ كَرِيزِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَهَاجَرَتْ إِلَى الْمَدِينَةِ وَمَاتَتْ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

معصب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں کہ ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس اسلام لائیں ،اور مدینہ منورہ کی جانب ہجرت بھی کی ،حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کا انتقال ہوا۔

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The narration of the daughter of Kraiz al-Qurayshiya, may God be pleased with them · Hadith 6915

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6916

6916 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: «وَأَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أُمُّهَا قُتَيْلَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ أَسْعَدَ بْنِ جَابِرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَهِيَ أُخْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، أَسْلَمَتْ قَدِيمًا بِمَكَّةَ وَبَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَبْدَ اللَّهِ وَعُرْوَةَ وَعَاصِمًا وَالْمُهَاجِرَ وَخَدِيجَةَ الْكُبْرَى وَأُمَّ الْحَسَنِ وَعَائِشَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ سَبْعَةً»

محمد بن عمر فرماتے ہیں :اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام "قتیلہ بنت عبدالعزیٰ بن اسعد بن جابر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئ"ہے ۔آ پ حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی حقیقی بہن ہیں ،مکہ میں بہت پہلے پہل اسلام لے آئی تھیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بیعت بھی کی،زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح ہوا ،ان کے ہاں "عبداللہ ،عروہ اور عاصم ،مہاجر ،خدیجتہ الکبریٰ ،ام حسن ،اور عائشہ بنت زبیر "سات بچے پیدا ہوئے۔

مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the names of the daughter of Abi, the first-born of al-Siddiq, may God be pleased with them · Hadith 6916

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6917

6917 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثَنَا دَاودُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا اتَّخَذَتْ خِنْجَرًا فِي زَمَنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فِي الْفِتْنَةِ فَوَضَعَتْهُ تَحْتَ مِرْفَقِهَا فَقِيلَ لَهَا: مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: «إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ لِصٌّ بَعَجْتُ بَطْنَهُ» وَكَانَتْ عَمْيَاءَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6917 - حذفه الذهبي من التلخيص

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے فتنہ کے زمانہ انہوں نے ایک خنجر بنوا رکر رکھا ہوا تھا ،میں نے وہ خنجر ان کی کہنی کے نیچے رکھ دیا ،ان سے کسی نے پوچھا :آپ اس خنجر کا کیا کریں گی؟انہوں نے جواب دیا :اس لئے کہ اگر میرے پاس کوئی چور وغیرہ آجائے تو میں اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی ۔آپ آنکھوں سے معذور تھیں۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the names of the daughter of Abi, the first-born of al-Siddiq, may God be pleased with them · Hadith 6917

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6918

6918 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «مَاتَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ قَتْلِ ابْنِهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِلَيَالٍ، وَكَانَ قَتْلُهُ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ جُمَادَى الْأُولَى سَنَةَ ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ»

معصب بن عبداللہ فرماتے ہیں:حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر کے قتل کے چند دن بعد انتقال کر گئیں ،ان کے بیٹے کا قتل سن 73ہجری میں 17جمادی الاولیٰ کو منگل کے دن ہوا۔

مصعب بن عبد الله ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the names of the daughter of Abi, the first-born of al-Siddiq, may God be pleased with them · Hadith 6918

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6919

6919 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: " وَضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ زَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ عَبْدَ اللَّهِ وَكَرِيمَةَ، وَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ الْجَمَلِ مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ قَتِيلًا فَقَالَ: بِئْسَ ابْنُ الْأُخْتِ "

معصب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں :ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے مقداد بن عمرو بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے کیا ،ان ک ہاں عبداللہ اور کریمہ پیدا ہوئے ،اور عبداللہ جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے،ان کی نعش مبارک پڑی ہوئی تھی ،حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس سے گزرےتو فرمایا :میرا بھانجا کتنا برا ہے ۔

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Dabaa Bint Al-Zubayr, may God be pleased with them · Hadith 6919

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6920

6920 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحَكَمِ، عَنْ أُخْتِهَا ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، «أَنَّهَا دَفَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمًا فَنَهَسَ مِنْهُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6920 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ضباعہ بنت زبیر کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو گوشت بھیجا ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے وہ گوشت کھایا ،بعد میں بغیر وضو دہرائے نماز پڑھی ۔

جدته أم الحكم ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أحمد بن مهدي بن رستم الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Dabaa Bint Al-Zubayr, may God be pleased with them · Hadith 6920

chevron_left Previous
1…707172…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section