Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلٍ أُخْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6897

6897 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا أَبُو عُمَرَ أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عُثْمَانَ أَبِي الْعَلَاءِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ لَقِيَ عُمَرَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ وَهُوَ مُتَقَلِّدٌ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ: إِلَى أَيْنَ تَعَمَدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ مُحَمَّدًا. قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى الْعَجَبِ يَا عُمَرُ، إِنَّ خَتَنَكَ سَعِيدًا وَأُخْتَكَ قَدْ صَبَوْا وَتَرَكَا دِينَهُمَا الَّذِي هُمَا عَلَيْهِ. قَالَ: فَمَشَى عُمَرُ إِلَيْهِمْ ذَامِرًا حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ الْبَابِ قَالَ: وَكَانَ عِنْدَهُمَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: خَبَّابٌ يُقْرِئُهُمَا سُورَةَ طَهْ، فَلَمَّا سَمِعَ خَبَّابٌ بِحِسِّ عُمَرَ دَخَلَ تَحْتَ سَرِيرٍ لَهُمَا، فَدَخَلَ عُمَرُ فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْهَيْنَمَةُ الَّتِي رَأَيْتُهَا عِنْدَكُمَا؟ قَالَا: مَا عَدَا حَدِيثًا تَحَدَّثْنَاهُ بَيْنَنَا، قَالَ: لَعَلَّكُمَا صَبَوْتُمَا وَتَرَكْتُمَا دِينَكُمَا الَّذِي أَنْتُمَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ خَتَنُهُ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ: يَا عُمَرُ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْحَقُّ فِي غَيْرِ دِينِكَ، فَأَقْبَلَ عَلَى خَتَنِهِ فَوَطِئَهُ وَطْئًا شَدِيدًا قَالَ: فَدَفَعَتْهُ أُخْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا، فَضَرَبَ وَجْهَهَا فَأَدْمَى وَجْهَهَا، فَقَالَتْ وَهِيَ غَضْبَى: يَا عُمَرُ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْحَقُّ فِي غَيْرِ دِينِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَلَمَّا يَئِسَ عُمَرُ، قَالَ: أَعْطُونِي هَذَا الْكِتَابَ الَّذِي عِنْدَكُمْ فَأَقْرَأَهُ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ: إِنَّكَ رِجْسٌ وَلَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ، قُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ " الْحَدِيثَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6897 - قد سقط منه

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :بنی زہرہ کا ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے ان سے ملا حضرت عمر تلوار لٹکائے جارہے تھے،اُس نے پوچھا :کہاں جارہے ہو؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو قتل کرنے جارہا ہوں ،اُس نے کہا :اے عمر !کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب بات نہ بتاؤں؟تمھار ا بہنوئی سعید اور تمھاری بہن اپنے آباء کےدین کو چھوڑ کر صابی ہو چکے ہیں ۔راوی کہتے ہیں :حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُسی وقت شدید غصے کے عالم میں چلتے ہوئے بہن کے گھر آئے ،جب وہ ان کے دروازے کےقریب پہنچے ،ان لوگوں کے پاس خباب نامی ایک شخص ہوتا تھا ،وہ ان دونوں کو سورۃ طہ کی تعلیم دے رہا تھا ،جب خباب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ سنی ،تو اُن کی چارپائی کے نیچے چھپ گئے ،حضرت عمررضی اللہ عنہ اندر آئے اور کہنے لگے:یہ جو تم آہستہ آواز میں پڑھ رہے تھے جو ابھی میں نے تمھارے پاس دیکھا ،یہ کیا ہے ؟ان کے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا :اے عمر !تمہار ا کیا خیا ل ہے ،اگر حق تیرے دین کے علاوہ کسی اور دین میں ہو،حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت زید رضی اللہ عن کو مارنا شروع کردیا،حضرت عمر کی بہن نے اپنے شوہر کا دفاع کرتے ہوئے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑنا چاہا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے چہرے پر تھپڑ رسید کردیا ،ان کے چہرے پر تھپڑ کا نشان چپ گیا ،ان کی بہن نے جلال میں آکر کہا :اے عمر !اگر سچائی تمھارے دین خلاف میں ہو تو تمھارا کیا خیال ہے ؟میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمدصلی اللہ علیہ و الہ و سلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔(حضرت انس رضی اللہ عنہ )فرماتے ہیں:جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مایوس ہو گئے ،تو فرمایا :تم وہ تحریر مجھے دو جو تمھارے پاس ہے ،میں اس کو پڑھنا چاہتا ہوں ،ان کی بہن نے کہا :تم پلید ہو ،اور اس تحریر کو صرف پاک شخص چھو سکتا ہے ،اٹھو غسل کر و یا (کم از کم )وضو کرلو،(اس کے بعد مفصل حدیث بیان کی )۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عُثْمَانَ أَبِي الْعَلَاءِ الْبَصْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو عُمَرَ أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Fatimah bint al-Khattab Ibn Nufail, Umar’s sister, may God be pleased with them · Hadith 6897

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَيْلٍ أُخْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6898

6898 - أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، ثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمَّا فَتَحَتْ لِي أُخْتِي، قُلْتُ: يَا عَدُوَّةَ نَفْسِهَا أَصَبَوْتِ؟ قَالَتْ وَرَفَعَ شَيْئًا فَقَالَتْ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا كُنْتَ صَانِعًا فَاصْنَعْهُ فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ. قَالَ: فَدَخَلْتُ فَجَلَسْتُ عَلَى السَّرِيرِ فَإِذَا بِصَحِيفَةٍ وَسَطَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّحِيفَةُ هَاهُنَا؟ فَقَالَتْ: دَعْنَا عَنْكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أَنْتَ لَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَلَا تَطْهُرُ وَهَذَا لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6898 - قد سقط منه وهو واه منقطع

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب میری بہن نے دروازہ کھولا تو میں نے(اندر آکر ان سے )کہا :اے اپنی جان کی دشمن !کیا تم نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے؟پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر تشدد کرنا شروع کردیا ،پھر ان کی بہن نے کہا :اے ابن خطاب !تم جتنا ظلم کرسکتے ہو کر لو ،میں تو مسلمان ہو چکی ہوں ،حضرت عمر فرماتے ہیں :میں اندر آیا اور چارپائی پر بیٹھ گیا ،میں نے کمرے میں ایک صحیفہ دیکھا ،میں نے پوچھا :یہ صحیفہ کیا ہے ؟ان کی بہن نہ کہا :اے ابن الخطاب !اس کا خیا ل چھوڑدو ،تم جنابت کا غسل نہیں کرتے ہو اور نہ ہی طہارت حاصل کرتے ہو،اور اس پاک صحیفے کو صرف پاک شخص ہی چھو سکتا ہے۔

عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، ← محمد بن أحمد بن برد الأنطاكي ← عبد الرحمن بن حمدان الجلاب

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Fatimah bint al-Khattab Ibn Nufail, Umar’s sister, may God be pleased with them · Hadith 6898

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أَسْمَاءَ بِنْتِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ وَهِيَ ابْنَةُ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 6899

6899 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبَاحَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَسْمَاءُ بِنْتُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي وَلَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6899 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع

حضرت اسما ء بنت سعید بن زید بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمایا :جس کا وضو نہیں ،اس کی نماز نہیں ہوتی ،جس نے بسم اللہ نہ پڑھی ،اس کا وضو (کامل نہیں ہے ۔،اس شخص کا اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں ہے جس کا مجھ پر ایمان نہیں ہے اور جو انصار سے محبت نہیں کرتا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَسْمَاءُ بِنْتُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهَا ← رباح بن عبد الرحمن بن أبي سفيان ← أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبِي ← عبيد الله بن سعيد بن كثير بن عفير ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the names of the daughter of Sa`id ibn Zayd ibn Amr ibn Nufail, who is the daughter of Fatimah, the daughter of al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 6899

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ نُبَيْهٍ بِنْتِ الْحَجَّاجِ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6900

6900 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخُو عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ بِالشَّامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ نُبَيْهٍ بِنْتُ الْحَجَّاجِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو امْرَأَةً تُهْدِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُلَطِّفُهُ، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا زَائِرًا، فَقَالَ: «كَيْفَ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ؟» قَالَتْ: بِخَيْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «وَكَيْفَ عَبْدُ اللَّهِ؟» قَالَتْ: بِخَيْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَعَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا. قَالَ: «كَيْفَ» قَالَتْ: حَرَّمَ النَّوْمَ فَلَا يَنَامُ، وَلَا يُفْطِرُ، وَحَرَّمَ اللَّحْمَ فَلَا يَطْعَمُ اللَّحْمَ، وَلَا يُؤَدِّي إِلَى أَهْلِهِ حَقَّهُمْ. قَالَ: «أَيْنَ هُوَ؟» قَالَتْ: خَرَجَ آنِفًا يُوشِكُ أَنْ يَرْجِعَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِذَا جَاءَكِ فَاحْبِسِيهِ عَلَيَّ» فَلَمْ يَلْبَثْ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا»

عمر بن شعیب اپنے والد سے ،و ہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اُمّ نبیہ بنت حجاج اُمّ عبداللہ بن عمرو ایسی ایک خاتون تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں تحائف بھیجا کرتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کےساتھ بہت اچھا سلوک کرتی تھیں ،ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ان کے پاس ملاقات کے لئے تشریف لائے،آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کا حال دریافت فرمایا،انہوں نے کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پر قربان ہو جائیں ،میں ٹھیک ہوں ،آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے پوچھا :عبداللہ کا کیا حال ہے ؟انہوں نے کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم وہ بھی ٹھیک ہے ،(عبداللہ ،دنیا سے بالکل الگ تھلگ ہو چکا تھا)آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے نیند کو اپنے اوپر حرام کیا ہوا ہے ،وہ سوتا ہی نہیں ہے ،نہ ہی وہ روزے میں ناغہ کرتا ہے ،وہ گوشت نہیں کھاتا ،اپنے گھر والوں کے حقوق پورے نہیں کرتا ۔حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے پوچھا :وہ کہاں ہے ؟انہوں نے بتایا کہ ابھی ابھی باہرکہیں نکلے ہیں ،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم و ہ واپس آنے ہی والے ہوں گے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :جب وہ آجائے توا س کو میرے پاس بھیج دینا ،لیکن ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ عبداللہ بھی آگئے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے اس کو فرمایا:تیری اپنی جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ شُعَيْبٍ أَخُو عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجُمَحِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the mother of the Prophet, the daughter of the pilgrims, the mother of Abdullah ibn Omar, may God be pleased with them · Hadith 6900

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ · حديث 6901

6901 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: «وَمِنْ نِسَاءِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ وُدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ، وَكَانَتْ مِمَّنْ هَاجَرَتْ مَعَ زَوْجِهَا أَبِي حُذَيْفَةَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَوَلَدَتْ لَهُ بِالْحَبَشَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ»

معصب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں:عامر بن لوئ کی عورتوں میں سے "سہلہ بنت سہیل بنت سہیل بن عمرو بن عبد شمس بن عبدو د بن نصر بن مالک بن حسل "انہوں نے اپنے شوہر ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی ،حبشہ میں ان کے محمد بن ابی حذیفہ پیدا ہوئے تھے۔

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Sahlah bint Suhail, the wife of Abu Hudhaifa ibn Utbah · Hadith 6901

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ · حديث 6902

6902 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَهْلَةَ، امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَدُخُولَهُ عَلَيْهَا، فَزَعَمَتْ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُرْضِعَهُ» فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ بَعْدَمَا شَهِدَ بَدْرًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6902 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ حضرت سہلہ سے مروی ہے،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ ابو حذیفہ کےغلام سالم کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ ان کے پاس آتے جاتے ہیں ،وہ سمجھتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کو کہا تھا کہ وہ سالم کو دودھ پلادے ،تو انہوں نے سالم کو دودھ پلایا تھا حالانکہ وہ (بڑی عمر کے )آدمی تھے۔(یہ واقع جنگ بدر کے بعد کا ہے )۔

عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Sahlah bint Suhail, the wife of Abu Hudhaifa ibn Utbah · Hadith 6902

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ · حديث 6903

6903 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلَةَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ حَتَّى تَذْهَبَ غَيْرَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ فَأَرْضَعَتْهُ وَهُوَ رَجُلٌ» قَالَ رَبِيعَةُ: وَكَانَ رُخْصَةً لِسَالِمٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6903 - صحيح

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ابو حذیفہ کی زوجہ سہلہ کو کہا تھا کہ تم ابو حذیفہ کے غلام سالم کو اپنا دودھ پلادو(اور اس کو اپنا رضاعی بیٹا بنا لو)تاکہ ابو حذیفہ کی غیرت کو نقصان نہ ہو ،چناچہ سہلہ نے سالم کو دودھ پلایا اور اس وقت سالم (بڑی عمر کے )آدمی تھے ۔حضرت ربیعہ فرماتے ہیں :یہ فقط حضرت سالم کے لئے رخصت تھی ،(کسی اور کے لئے یہ عمل جائز نہیں ہے )۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Sahlah bint Suhail, the wife of Abu Hudhaifa ibn Utbah · Hadith 6903

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ وَاسْمُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6904

6904 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: «وَمِنْ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أُمُّ حَبِيبَةَ، وَاسْمُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ، أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ»

معصب بن عبداللہ زبیری فرماتے ہیں :قریش کی خواتین میں سے "ام حبیبہ "بھی ہیں ،ان کا نام حمنہ بنت حجش ہے ،آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی زوجہ محترمہ اُمّ المومنین حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔آپ بنی عبد شمش کے حلیف اسد بن خزیمہ میں سے ہیں۔

مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Habiba's mother and her name is Hamna, a daughter of a colt, may God be pleased with her · Hadith 6904

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ وَاسْمُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6905

6905 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي الْمَسْجِدِ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ: «مَا هَذَا الْحَبْلُ؟» فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُصَلِّي فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِالْحَبَلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَقْعُدْ» وَحَدَّثَنِي عَلِيٌّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، بِمِثْلِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6905 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبد الرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و الہ و سلم مسجد میں دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندی ہوئی دیکھی اور پوچھا :یہ کیا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو بتایا گیا کہ حمنہ بنت حجش نماز پڑھتی ہے،جب وہ تھک جاتی ہے تو اس رسی کے ساتھ لٹک جاتی ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :جتنی ہمت ہو اتنی نماز پڑھو اور جب تھک جاؤ تو بیٹھ جاؤ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Habiba's mother and her name is Hamna, a daughter of a colt, may God be pleased with her · Hadith 6905

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ وَاسْمُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6906

6906 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ، وَعَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ، بِهَمْدَانَ قَالَا: ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَرْوِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهَا قِيلَ لَهَا: قُتِلَ أَخُوكِ. قَالَتْ: رَحِمَهُ اللَّهُ، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَقِيلَ لَهَا: قُتِلَ خَالُكِ حَمْزَةُ. فَقَالَتْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَقِيلَ لَهَا: قُتِلَ زَوْجُكِ، قَالَتْ: وَاحُزْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلزَّوْجِ مِنَ الْمَرْأَةِ لِشُعْبَةً مَا هِيَ لِشَيْءٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6906 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ ان کو بتایا گیا کہ تمھارا بھائ شہید ہو گیا ،انہوں نے کہا :اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کرے انا للہ وانا الیہ راجعون ،پھر ان کو بتایا گیا کہ تمھارے ماموں حضرت حمزہ شہید ہو گئے ، انہوں نے کہا انا للہ وانا الیہ راجعون،ان کو بتایا گیا کہ تمھار شوہر شہید ہو گیا ہے ،انہوں نے کہا :واحزناہ،(ہائے افسوس)رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :عورت کے دل میں شوہر کے بارے میں ایسی محبت ہوتی ہے جو کسی دوسرے کے لئے ہو ہی نہیں سکتی۔

وَاحُزْنَاهُ، ← إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَقِيلَ لَهَا: قُتِلَ زَوْجُكِ، ← لِلَّهِ ← إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَقِيلَ لَهَا: قُتِلَ خَالُكِ حَمْزَةُ. ← لِلَّهِ ← حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ،أَنَّهَا قِيلَ لَهَا: قُتِلَ أَخُوكِ ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن محمد بن عبد الله بن جحش ← أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَرْوِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ وَعَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ بِهَمْدَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Habiba's mother and her name is Hamna, a daughter of a colt, may God be pleased with her · Hadith 6906

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ أُمِّ حَبِيبَةَ وَاسْمُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 6907

6907 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ وَهِيَ امْرَأَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَهِيَ أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَتْهُ أَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ لَكِنْ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي» فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ حَتَّى تَعْلُوَ الْمَاءَ حُمْرَةُ الدَّمِ ثُمَّ تَقُومُ فَتُصَلِّي

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :اُمّ حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں ،یہ اُم ّ المومنین حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں آئیں اور عرض کی کہ ان کو گزشتہ سات سالوں سے مسلسل حیض آرہاہے ،ان کے لئے نماز کا کیا حکم ہے ؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ بیماری کی وجہ سے خون آرہا ہے ،تم (ہر نماز کے وقت کے لئے )غسل کرکے نماز ادا کر لیا کرو۔اس کے بعد وہ ایک ٹب میں نہایا کرتی تھیں،جب خون کی رنگت پر پانی غالب ہو جاتا تو ٹب سے باہر آجاتیں اور نماز پڑھ لیتی تھیں۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِيهِ ← عمر بن عثمان التيمي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّبَّاسُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Habiba's mother and her name is Hamna, a daughter of a colt, may God be pleased with her · Hadith 6907

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ · حديث 6908

6908 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَافِظُ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ خَالَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، أَتَتْ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، لَمْ أُصَلِّ مُنْذُ نَحْوٍ مِنْ سَنَتَيْنِ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَيَّامَ قُرُوئِهَا ثُمَّ تَتَوَضَّأْ لِكُلِّ صَلَاةٍ فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6908 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں :ان کی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس آئیں اور عرض کی :مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں دوزخی نہ ہو جاؤں ،میں تقریباًدو سالوں سے نماز نہیں پڑھ سکی ،انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :ہر مہینے میں اپنے حیض کے دنوں کے برابر نماز کا ناغہ کر لیا کرو اور باقی دنوں میں ہر نماز (کے وقت )کے لئے تازہ وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرو،یہ (حیض نہیں ہے بلکہ یہ )بیماری کی وجہ سے خون آتا ہے ۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ خَالَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، أَتَتْ عَائِشَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Fatima bint Abi Habash · Hadith 6908

chevron_left Previous
1…697071…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section