المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4323
4323 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَلَقِيَ الْمُشْرِكِينَ بِعُسْفَانَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَرَأَوْهُ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ هُوَ وَأَصْحَابُهُ» ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: كَانَ هَذِهِ فِرْصَةً لَكُمْ لَوْ أَغَرْتُمْ عَلَيْهِمْ، مَا عَلِمُوا بِكُمْ حَتَّى تُوَاقِعُوهُمْ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: فَإِنَّ لَهُمْ صَلَاةً أُخْرَى هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ فَاسْتَعِدِّوا حَتَّى تُغِيرُوا عَلَيْهِمْ فِيهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: 102] إِلَى آخِرِ الْآيَةَ، وَأَعْلَمَهُ مَا ائْتَمَرَ بِهِ الْمُشْرِكُونَ، «فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، وَكَانُوا قِبَالَتَهُ فِي الْقِبْلَةِ جَعَلَ الْمُسْلِمِينَ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبِّرُوا مَعَهُ» ، - فَذَكَرَ صَلَاةَ الْخَوْفِ - وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ الْمُشْرِكُونَ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ وَيَقُومُ بَعْضُهُمْ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا: لَقَدْ أُخْبِرُوا بِمَا أَرَدْنَاهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4323 - على شرط البخاري
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ کے سلسلہ میں روانہ ہوئے تو ( مقام) عسفان پر مشرکوں کا سامنا ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر ادافرمائی تو ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو رکوع اورسجو دکر تے ہوئے دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے یہ موقع تمہارے لئے بہت اچھا تھا اگر اسی موقع پر ان پرحملہ کردیا جا تا تو ان کو کچھ پتہ نہ چلتا اورتم ان پر جاچڑ ھتے ۔ان میں سے ایک آدمی بولا : ابھی ان کی ایک اور نماز باقی ہے اور وہ نماز تو ان کو اپنے اہل وعیال اور مال ومتاع سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔ تو تم تیار رہو، یہ جیسے ہی نماز شروع کر میں تم ان پر حملہ کر دو ۔ ادھر اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمادی:’’ واذا كنت فيهم فاقمت لهم الصلاة‘‘( النساء:۱۰۲) یعنی اللہ تعالی نے صلاۃ الخوف کا حکم نازل فرمادیا ۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز شروع کی وہ لوگ قبلہ کی جانب ہی تھے تو مسلمانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوصفیں بنالیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تکبیر کہی۔ پھر صلاۃ الخوف کا ذکر کر نے کے بعد آخر میں کہا: جب مشرکین نے ان کو دیکھا کہ ان میں سے کچھ لوگ سجد ہ کر رہے ہیں اور باقی ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو بولے: ان کو ہمارے ارادوں کی خبر دے دی گئی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4323
