Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4323

4323 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَلَقِيَ الْمُشْرِكِينَ بِعُسْفَانَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَرَأَوْهُ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ هُوَ وَأَصْحَابُهُ» ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: كَانَ هَذِهِ فِرْصَةً لَكُمْ لَوْ أَغَرْتُمْ عَلَيْهِمْ، مَا عَلِمُوا بِكُمْ حَتَّى تُوَاقِعُوهُمْ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: فَإِنَّ لَهُمْ صَلَاةً أُخْرَى هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ فَاسْتَعِدِّوا حَتَّى تُغِيرُوا عَلَيْهِمْ فِيهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: 102] إِلَى آخِرِ الْآيَةَ، وَأَعْلَمَهُ مَا ائْتَمَرَ بِهِ الْمُشْرِكُونَ، «فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، وَكَانُوا قِبَالَتَهُ فِي الْقِبْلَةِ جَعَلَ الْمُسْلِمِينَ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبِّرُوا مَعَهُ» ، - فَذَكَرَ صَلَاةَ الْخَوْفِ - وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ الْمُشْرِكُونَ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ وَيَقُومُ بَعْضُهُمْ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا: لَقَدْ أُخْبِرُوا بِمَا أَرَدْنَاهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4323 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ کے سلسلہ میں روانہ ہوئے تو ( مقام) عسفان پر مشرکوں کا سامنا ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر ادافرمائی تو ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو رکوع اورسجو دکر تے ہوئے دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے یہ موقع تمہارے لئے بہت اچھا تھا اگر اسی موقع پر ان پرحملہ کردیا جا تا تو ان کو کچھ پتہ نہ چلتا اورتم ان پر جاچڑ ھتے ۔ان میں سے ایک آدمی بولا : ابھی ان کی ایک اور نماز باقی ہے اور وہ نماز تو ان کو اپنے اہل وعیال اور مال ومتاع سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔ تو تم تیار رہو، یہ جیسے ہی نماز شروع کر میں تم ان پر حملہ کر دو ۔ ادھر اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمادی:’’ واذا كنت فيهم فاقمت لهم الصلاة‘‘( النساء:۱۰۲) یعنی اللہ تعالی نے صلاۃ الخوف کا حکم نازل فرمادیا ۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز شروع کی وہ لوگ قبلہ کی جانب ہی تھے تو مسلمانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوصفیں بنالیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تکبیر کہی۔ پھر صلاۃ الخوف کا ذکر کر نے کے بعد آخر میں کہا: جب مشرکین نے ان کو دیکھا کہ ان میں سے کچھ لوگ سجد ہ کر رہے ہیں اور باقی ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو بولے: ان کو ہمارے ارادوں کی خبر دے دی گئی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4323

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4324

4324 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُوعَاصِمٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْمُقْرِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا، قَالَ: فَانْكَفَأْتُ إِلَى امْرَأَتِي فَقُلْتُ: أَنِّي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمَصًا شَدِيدًا، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، وَلَنَا بَهِيمَةٌ دَاجِنٌ، قَالَ: فَذَبَحَتْهَا وَطَحَنَتْ صَاعًا فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَاوَرْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ ذَبَحْنَا بَهِيمَةً لَنَا وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ عِنْدَنَا فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ، قَالَ: فَصَاحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ، إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُورًا فَحَيَّ هَلَّا بِكُمْ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَتَكُمْ حَتَّى أَجِيءَ» ، قَالَ: فَجِئْتُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَمَ النَّاسَ حَتَّى جِئْتُ امْرَأَتِي، فَأَخْرَجَتْ لَهُ عَجِينًا فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارِكْ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُو لِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ، وَأَفْرِغُوا مِنْ بُرْمَتِكُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهَا» وَهُمْ أَلْفٌ، فَأَقْسَمَ جَابِرٌ بِاللَّهِ تَعَالَى لَأَكَلُوا حَتَّى تَرَكُوا وَانْصَرَفُوا، وَإِنَّ بُرْمَتِنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ، وَإِنَّ عَجِينَتَنَا لَتُخْبَزُ كَمَا هِيَ «هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَمْرٍو فِي لَفْظِ أَبِي الْعَبَّاسِ اخْتِصَارٌ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4324 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب خندق کھودی جارہی تھی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوشد ید بھوک لگی ہوئی تھی ۔آپ فرماتے ہیں: میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس کو بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوشدید بھوک میں دیکھا ہے ۔اس نے چمڑ ے کا ایک برتن نکالا ،اس میں ایک صاع ( تقریبا۲ ۲۱۷ گرام ) جوموجود تھے اور ہماری ایک چھوٹی بکری تھی ، میں نے اس کو ذبح کیا اور جو پیس دیئے ، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اورعرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی ایک چھوٹی سی بکری ذبح کی ہے اور ایک صاع ( یہ پیانہ ہے جو دوسیر چودہ چھٹا تک اور چارتولہ کے برابر ہوتا ہے تقر یبا۲ ۲۱۷ گرام ) جو پیسے ہیں ، اور یہی ہمارے ہاں موجود تھا۔ آپ خو دتشریف لے آئیں اور اپنے ہمراہ چند لوگوں کو لے آئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند پکار کر کہا: اے اہل خندق ! بے شک جابر نے تمہارے لئے کھانا تیار کیا ہے ۔اس لئے تمام لوگ آ جاؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کرتے ہوئے فرمایا: میرے آنے سے پہلے نہ ہانڈی اتارنا اور نہ آٹا پکانا ، ( حضرت جابر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل دیئے اور بقیہ لوگ بھی آ گئے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ آٹا پیش کر دیا ، آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت فرما دی ، پھرفر مایا ،روٹیاں پکانے والی کو بلاؤ ، وہ تمہارے ساتھ روٹیاں پکوائے اور ہنڈیا میں سے سالن نکالتے رہو، اس کو نیچے مت اتارنا۔ اس دن صحابہ کرام پورے ایک ہزار تھے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں: تمام لوگ سیر ہوکر چلے گئے لیکن ہماری ہانڈی اسی طرح بھری ہوئی تھی اور آٹا بھی اسی طرح پکایا جارہا تھا ۔ یہ مذکورہ الفاظ حضرت ابوعمر و رضی اللہ عنہ کی روایت کے ہیں جبکہ ابوالعباس کے الفاظ اس سے مختصر ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین ب رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سعيد بن ميناء، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْمُقْرِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، ← أَبُوعَاصِمٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4324

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4325

4325 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّاسَ تَفَرَّقُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَاثِي مِنَ الْبَرْدِ، وَقَالَ: «يَا ابْنَ الْيَمَانِ، قُمْ فَانْطَلِقْ إِلَى عَسْكَرِ الْأَحْزَابِ فَانْظُرْ إِلَى حَالِهِمْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا قُمْتُ إِلَيْكَ إِلَّا حَيَاءً مِنْكَ مِنَ الْبَرْدِ، قَالَ: «فَابْرُزْ الْحَرَّةَ وَبَرْدَ الصُّبْحِ، انْطَلِقْ يَا ابْنَ الْيَمَانِ، وَلَا بَأْسَ عَلَيْكَ مِنْ حَرٍّ وَلَا بَرْدٍ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَيَّ» قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَسْكَرِهِمْ فَوَجَدْتُ أَبَا سُفْيَانَ يُوقِدُ النَّارَ فِي عُصْبَةٍ حَوْلَهُ قَدْ تَفَرَّقَ الْأَحْزَابُ عَنْهُ، قَالَ: حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ فِيهِمْ، قَالَ: فَحَسِبَ أَبُو سُفْيَانُ أَنَّهُ دَخَلَ فِيهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ، قَالَ: لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِيَدِ جَلِيسِهِ، قَالَ: فَضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى الَّذِي، عَنْ يَمِينِي وَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، ثُمَّ ضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى الَّذِي، عَنْ يَسَارِي فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَلَبِثْتُ فِيهِمْ هُنَيَّةً، ثُمَّ قُمْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَدِهِ أَنِ ادْنُ فَدَنَوْتُ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيَّ أَيْضًا أَنِ ادْنُ فَدَنَوْتُ حَتَّى أَسْبَلَ عَلَيَّ مِنَ الثَّوْبِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: «ابْنَ الْيَمَانِ اقْعُدْ، مَا الْخَبَرُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا عُصْبَةٌ تُوقِدُ النَّارَ قَدْ صَبَّ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الْبَرْدِ مِثْلَ الَّذِي صَبَّ عَلَيْنَا، وَلَكِنَّا نَرْجُو مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُو «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4325 - صحيح

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احزاب کی رات تمام لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے نکل گئے اور آپ کے پاس صرف ۱۲ آدمی رہ گئے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، میں اس وقت سردی کی وجہ سے دوزانو بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا اے ابن یمان ، احزاب کے مجمع کی طرف اور ان کی صورت حال معلوم کر کے آؤ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ کے استقبال کے لئے صرف سردی کی وجہ سے کھڑ انہیں ہوسکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گرمی سے نکل جاؤ اور صبح کو ٹھنڈا کر دو ۔اے ابن الیمان ! تم جاؤ ،اورتمہارے میرے پاس واپس آنے تک نہ تمہیں گرمی کچھ کہے گی اور نہ سردی سے تمہیں کوئی نقصان ہوگا ( حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: میں ان کے مجمع میں جا گھسا۔ اس وقت ابوسفیان کے اردگر د کچھ نو جوان بیٹھے ہوئے تھے اور وہ آگ جلا رہا تھا ، باقی فوجیں وہاں سے متفرق ہوچکی تھیں ۔ میں ان کے اندر جا کر بیٹھ گیا۔ابوسفیان کو کھٹکا ہوا کہ ان میں کوئی غیر آدمی آیا ہے، اس نے کہا: ہر آدمی اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ لے ( حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ )فرماتے ہیں میں نے اپنے دائیں والے کوٹٹول کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور پھر بائیں جانب ٹٹول کر اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا پھر میں کچھ دیر وہاں بیٹھار ہا اور پھر وہاں سے اٹھ کر آ گیا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے اپنے قریب ہونے کو کہا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا ۔ آپ نے پھر مز ید قریب ہو نے کا اشارہ کیا۔ میں مزید قریب ہو گیاحتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران نماز ہی وہ کپڑا میر ےاوپر بھی ڈال دیا جو آپ خوداوڑ ھے ہوئے تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے ابن یمان! بیٹھ جاؤ ، اور سناؤ ، کیا خبر لائے ہو؟ میں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگ ابوسفیان کو چھوڑ کر جاچکے ہیں اور اس کے پاس چندلوگ موجود ہیں ،وہ آگ جلائے بیٹھے ہیں ۔ اللہ نے ان پر بھی اتنی سخت سردی ڈالی ہے جتنی ہم پر ڈالی ہے ۔لیکن ( فرق یہ ہے کہ )ہمیں اللہ تعالی سے جو امید ہے، اس سے وہ لوگ محروم ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

«يَا ابْنَ الْيَمَانِ، قُمْ فَانْطَلِقْ إِلَى عَسْكَرِ الْأَحْزَابِ فَانْظُرْ إِلَى حَالِهِمْ» قُلْتُ: ← جَاثِي مِنَ الْبَرْدِ، ← حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّ النَّاسَ تَفَرَّقُوا ← بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ← مُوسَى بْنِ الْمُخْتَارِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← عيسى بن عبد الله الطيالسي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4325

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4326

4326 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُتِلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَطَلَبُوا أَنْ يُوَارُوهُ، «فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَعْطَوْهُ الدِّيَةَ» ، وَقُتِلَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ وُدٍّ قَتَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مُبَارَزَةً «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ، «وَلَهُ شَاهِدٌ عَجِيبٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4326 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ خندق کے دن ایک مشرک ماراگیا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس کو چھپادینا چاہا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اوراس کی دیت ادا کروائی ،اور بنی عامر بن لؤی قبیلہ کا عمرو بن عبدود مارا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جنگ میں طلب کر کے قتل کیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4326

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4327

4327 - حَدَّثَنَا لُؤْلُؤُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُقْتَدِرِيُّ، فِي قَصْرِ الْخَلِيفَةِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الطَّيِّبِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمِصْرِيُّ، بِدِمَشْقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَشَّابُ، بِتِنِّيسَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمُبَارَزَةُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لِعَمْرِو بْنِ عَبْدِ وُدٍّ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَفْضَلُ مِنْ أَعْمَالِ أُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4327 - قبح الله رافضيا افتراه

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہ نے ارشادفر مایا: جنگ خندق کے دن حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا عمرو بن عبدودکو جنگ کیلئے پکار نا قیامت تک میری امت کے تمام اعمال سے افضل ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَشَّابُ، بِتِنِّيسَ، ← أَبُو الطَّيِّبِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمِصْرِيُّ، بِدِمَشْقَ، ← لُؤْلُؤُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُقْتَدِرِيُّ، فِي قَصْرِ الْخَلِيفَةِ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4327

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4328

4328 - فَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: «قُتِلَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وُدٍّ قَتَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» إِسْنَادُ هَذَا الْمَغَازِي صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ "

ابن شہاب کہتے ہیں: خندق کے دن مشرکین میں سے عمرو بن عبدود قتل کیا گیا او راس کو حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ اس غزوہ کی سند شیخین رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق ہے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4328

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4329

4329 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وُدٍّ ثَالِثَ قُرَيْشٍ، وَكَانَ قَدْ قَاتَلَ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى أَثْبَتَتْهُ الْجِرَاحَةُ، وَلَمْ يَشْهَدْ أُحُدًا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ خَرَجَ مُعْلِمًا لَيَرَى مَشْهَدَهُ، فَلَمَّا وَقَفَ هُوَ وَخَيْلُهُ قَالَ لَهُ عَلِيُّ: يَا عَمْرُو قَدْ كُنْتَ تُعَاهِدُ اللَّهَ لِقُرَيْشٍ أَنْ لَا يَدْعُوَ رَجُلٌ إِلَى خَلَّتَيْنِ إِلَّا قَبِلْتَ مِنْهُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ عَمْرٌو: أَجَلْ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَإِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْإِسْلَامِ، فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَإِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى الْبَرَازِ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، لِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ أَقَتُلَكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَقَتُلَكَ، فَحَمِيَ عَمْرٌو فَاقْتَحَمَ عَنْ فَرَسِهِ فَعَقَرَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَجَاءَ إِلَى عَلِيٍّ، وَقَالَ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَامَ عَلِيٌّ وَهُوَ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: أَنَا لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وُدٍّ اجْلِسْ، فَنَادَى عَمْرٌو: أَلَا رَجُلٌ؟ «فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَمَشَى إِلَيْهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الكامل] لَا تَعْجَلَنَّ فَقَدْ أَتَاكَ ... مُجِيبٌ صَوْتَكَ غَيْرُ عَاجِزْ ذُو نُبْهَةٍ وَبَصِيرَةٍ ... وَالصِّدْقُ مَنْجَى كُلِّ فَائِزْ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُقِيمَ ... عَلَيْكَ نَائِحَةَ الْجَنَائِزْ مِنْ ضَرْبَةٍ نَجْلَاءَ ... يَبْقَى ذِكْرُهَا عِنْدَ الْهَزَاهِزْ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا عَلِيٌّ قَالَ: ابْنُ مَنْ؟ قَالَ: ابْنُ عَبْدِ مَنَافٍ أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: عِنْدَكَ يَا ابْنَ أَخِي مِنْ أَعْمَامِكَ مَنْ هُوَ أَسَنُّ مِنْكَ فَانْصَرِفْ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُهَرِيقَ دَمَكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَكِنِّي وَاللَّهِ مَا أَكْرَهُ أَنْ أُهَرِيقَ دَمَكَ، فَغَضِبَ، فَنَزَلَ فَسَلَّ سَيْفَهُ كَأَنَّهُ شُعْلَةُ نَارٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ نَحْو عَلِيٍّ مُغْضَبًا وَاسْتَقْبَلَهُ عَلِيٌّ بِدَرَقَتِهِ فَضَرَبَهُ عَمْرُو فِي الدَّرَقَةِ فَقَدَّهَا، وَأَثْبَتَ فِيهَا السَّيْفَ وَأَصَابَ رَأْسَهُ فَشَجَّهُ، وَضَرَبَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى حَبَلِ الْعَاتِقِ، فَسَقَطَ وَثَارَ الْعَجَاجُ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّكْبِيرَ، فَعَرَفَ أَنَّ عَلِيًّا قَتَلَهُ، فَثَمَّ يَقُولُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: أَعَلَيَّ يَقْتَحِمُ الْفَوَارِسُ هَكَذَا ... عَنِّي وَعَنْهُمْ أَخِّرُوا أَصْحَابِي الْيَوْمَ يَمْنَعُنِي الْفِرَارُ حَفِيظَتِي ... وَمُصَمِّمٌ فِي الرَّأْسِ لَيْسَ بِنَابِي إِلَّا ابْنَ عَبْدٍ حِينَ شَدَّ إِلَيْهِ ... وَحَلَفْتُ فَاسْتَمِعُوا مِنَ الْكِتَابِ إِنِّي لَأَصُدِّقُ مَنْ يُهَلِّلُ بِالتُّقَى ... رَجُلَانِ يَضْرِبَانِ كُلَّ ضَرَّابِ فَصَدَرْتُ حِينَ تَرَكْتُهُ مُتَجِدَّلًا ... كَالْجَذَعِ بَيْنَ دَكَادِكِ وَرَوَابِي وَعَفَفْتُ عَنْ أَثْوَابِهِ وَلَوْ أَنَّنِي ... كُنْتُ الْمُقْطِرَ يَزِنُ أَثْوَابِي عَبَدَ الْحِجَارَةَ مِنْ سَفَاهَةِ عَقْلِهِ ... وَعَبَدْتُ رَبَّ مُحَمَّدٍ بِصَوَابِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَجْهُهُ يَتَهَلَّلُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلَّا أَسْلَبْتَهُ دِرْعَهُ فَلَيْسَ لِلْعَرَبِ دِرْعًا خَيْرًا مِنْهَا، فَقَالَ: ضَرَبْتُهُ فَاتَّقَانِي بِسَوْءَتِهِ وَاسْتَحْيَيْتُ ابْنَ عَمِّي أَنِ اسْتَلَبَهُ وَخَرَجْتُ خَيْلُهُ مُنْهَزِمَةً حَتَّى أُقْحِمَتْ مِنَ الْخَنْدَقِ

ابن اسحاق کہتے ہیں: عمرو بن عبدودقر یش کا ثالث تھا ، اس نے بد ر کا معرکہ لڑاتھا اوراس میں زخمی بھی ہوا تھا پھر یہ ا حد میں نہیں آیا تھا ۔ جب خندق کا موقع آیا تو یہ اپنے جنگی جواہر دکھانے کے لئے اعلان کرتا ہوا نکلا ، جب وہ اپنے گھوڑے سمیت کھڑ اہوا،تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا:اے عمرو! تو نے قریش سے عہد کر رکھا ہے کہ کوئی آدمی بھی اس سے دو چیز یں مانگے گا تو تو اس کی ایک قبول کر لے گا،عمرو نے کہا: جی ہاں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے اللہ ، اس کے رسول اور اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔اس نے کہا: مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو پھر میں تجھے جنگ کی دعوت دیتا ہوں ۔اس نے کہا :اے میرے چچا کے بیٹے ! کیوں؟ خدا کی قسم ! میں تجھے قتل نہیں کر نا چاہتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن تجھے قتل کرنا مجھے بہت پسند ہے۔ ( یہ سن کر )وہ آگ بگولا ہوگیا ، وہ گھوڑے کو حقیر جانتے ہوئے اس سے نیچے اتر اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب بڑھنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ساتھ کون لڑے گا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ لو ہے کا لباس پہنے ہوئے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ میں لڑوں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمر و بن عبدود ہے تم بیٹھ جاؤ ۔عمر و نے پھر آواز دی: کیا کوئی مرنہیں ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ درج ذیل اشعار پڑھتے ہوئے اس کی جانب بڑھےتو جلد بازی نہ کر ، بے شک تیرا چیلنج قبول کر نے والا آ گیا ہے اور وہ عاجز نہیں ہے جو کہ دانائی ، بصیرت اور سچائی والا ہے ۔ بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ میں تجھ پر جنازوں پر رونے والیاں کھڑی کر دوں گا ۔ایسی چوڑی ضرب کے ساتھ جس کا ذکر جنگوں میں باقی رہے گا۔ عمرو بولا تم کون ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں علی ہوں ۔اس نے کہا: کس کا بیٹا ؟ آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:عبدمناف کی اولا د میں سے ۔ میں ابوطالب کا بیٹا ہوں ۔اس نے کہا: میرے چچا کے بیٹے تمہارے پاس تمہارے چچے موجود ہیں جوتم سے بڑے بھی ہیں۔ اس لئے تو واپس چلا جا، کیونکہ میں تیراخون بہانا اچھانہیں سمجھتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فر مایا لیکن خدا کی قسم تیراخون بہانا مجھے ہرگز نا پسند نہیں ہے ،( اس بات پر) اس کوشد یدغصہ آ گیا۔ اس نے تلوارلہرائی گویا کہ آگ کا شعلہ ہو پھر وہ بہت غصے کی حالت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب بڑھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال اس کے آگے کر دی ،عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو یہ تلوار کو چیرتی ہوئی آپ کے سر تک پہنچی جس سے آپ کے سر میں زخم ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے کند ھے کی رگ پر وار کیا ( جو کہ کاری ثابت ہوا) اور وہ گر گیا اور گر دوغبار پھیل گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کی آوازسنی تو سمجھ گئے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس کو مار ڈالا ہے ۔ اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے: اے علی !جنگجو ہمیں یوں حقیر جانتے ہیں اور میرے ان ساتھیوں کو جومیرے پیچھے ہیں۔ آج میرے جذ بہ حمیت نے مجھے فرار سے روکا اور میرے سر کا زخم میرے لئے کوئی بڑامسئلہ نہیں ہے ۔ مگر ابن عبد ودکو جب مارا گیا اور میں نے قسم کھائی تو تم غور سے کتاب سنو دوسخت لڑائی کر نے والوں میں سے میں اس کی تصدیق کرتا ہوں جومتقی ہو جب میں نے اس کوز مین پر ٹپکایا ہوا چھوڑ اتو وہ ایسا ہو گیا جیسے انسانی دھڑ سخت زمین اور محتاجی کے درمیان ہو۔ اور میں اس کے کپڑوں سے بچ کر ر ہا اگر میں ان کوا تار لیتا تو میرے کپڑوں کے برابر ہوتے ۔ وہ اپنی بے وقوفی کی وجہ سے پتھروں کی عبادت کرتا ہے اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برحق رب کی درست عبادت کرتا ہوں ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے، تو ان کا چہرہ چمک رہا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا:تم نے اس کی زرہ کیوں نہ اتار لی؟ کیونکہ اس کی زرہ سے اچھی زرہ پورے عرب میں نہیں ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس پر ضرب لگائی ، اس نے اپنالا شہ مجھ سے بچانے کی کوشش کی ۔تو مجھے اس بات سے حیاء آئی کہ میں اپنے چچا کے بیٹے کی زرہ اتاروں اور اس کا گھوڑ اواپس بھا گا تو خندق میں جا گرا۔

ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4329

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4330

4330 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ اللَّخْمِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَ: " لَمَّا قَتَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وَدٍّ أَنْشَأَتْ أُخْتُهُ عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ وَدٍّ تَرْثِيهِ فَقَالَتْ: [البحر البسيط] لَوْ كَانَ قَاتِلُ عَمْرٍو غَيْرَ قَاتِلِهِ ... بَكَيْتُهُ مَا أَقَامَ الرُّوحُ فِي جَسَدِي لَكِنَّ قَاتِلَهُ مَنْ لَا يُعَابُ بِهِ ... وَكَانَ يُدْعَى قَدِيمًا بَيْضَةَ الْبَلَدِ" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عاصم بن عمر بن قادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عبدودکوقتل کر دیا تو اس کی بہن عمرہ بنت عہد ود نے اس پر مرثیہ پڑھتے ہوئے یہ اشعار کہے: اگرعمر وکوعلی کے علاوہ کسی اور نے نقل کیا ہوتا تو میں ساری زندگی اس پرروتی لیکن اس کا قاتل وہ ہے جس پر کوئی عیب نہیں لگا یا جاسکتا اور وہ اول دن سے شہر کا باعزت آدمی شمار ہوتا ہے۔

عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِي ← المنذر بن محمد اللخمي ← أبو بكر بن دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4330

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4330.1

4330 - وَسَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيَّ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ آدَمَ يَقُولُ: " مَا شَبَّهْتُ قَتْلَ عَلِيٍّ عَمْرًا إِلَّا بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ} " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

بن آدم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عمرو کوقتل کرنے کو اللہ تعالی کے اس فرمان کے ساتھ بھی تشبیہ دی جاسکتی ہے:’’فهزموهم بإذن الله ونقل داود جالوت‘‘(البقرة: ۲۵۱)’’توانہوں نے ان کو بھگاد یا اللہ کے حکم سے اورقتل کیا داؤد نے جالوت کو‘‘ (ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا )

يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4330.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4331

4331 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: «وَقُتِلَ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وَدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ قَتَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» ، " قَدْ ذَكَرْتُ فِي مَقْتَلِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ وُدٍّ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْمُسْنَدَةِ وَمَعًا، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ مَا بَلَغَنِي لِيَتَقَرَّرَ عِنْدَ الْمُنْصِفِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وَدٍّ لَمْ يَقْتُلْهُ، وَلَمْ نَشْتَرِكْ فِي قَتْلِهِ غَيْرُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى هَذَا الِاسْتِقْصَاءِ فِيهِ قَوْلُ مَنْ قَالَ مِنَ الْخَوَارِجِ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ أَيْضًا ضَرَبَهُ ضَرْبَةً، وَأَخَذَ بَعْضَ السَّلْبِ، وَوَاللَّهِ مَا بَلَغَنَا هَذَا عَنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَكَيْفَ يَجُوزُ هَذَا وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «مَا بَلَغَنَا أَنِّي تَرَفَّعْتُ عَنْ سَلْبِ ابْنِ عَمِّي فَتَرَكْتُهُ» وَهَذَا جَوَابُهُ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَضْرَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ خندق کے دن بنی عامر بن لؤی پھر مالک بن حسل میں سے عمرو بن عبد ود بن نسر بن مالک بن حصل کوقتل کیا گیا ۔ اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا اور عمر و بن عبدود کے قتل کے متعلق میں نے مسند احادیث ذکر کردی ہیں ، ان تمام روایات سمیت جو حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت موسی بن عقبہ رضی اللہ عنہ ، اور محمد بن اسحاق بن یسار رضی اللہ عنہ ایسے اہل علم کے حوالے سے ہم تک پہنچی ہیں تا کہ مصنف کا نقطہ نظر واضح ہو جائے کہ عمرو بن عبدود کو صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہی قتل کیا تھا، اس کے قتل میں ہم کسی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شریک نہیں سمجھتے ۔ یہ وضاحت کرنے کی ضرورت خوارج کے اس قول کی وجہ سے پیش آئی ’’محمد بن مسلمہ نے بھی اس کو ایک ضرب ماری تھی اور اس کی سلب کا کچھ حصہ بھی اس کو ملا تھا‘‘ خدا کی قسم! صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور تابعین رضی اللہ عنہ میں سے کسی ایک کے حوالے سے بھی ہم تک یہ بات نہیں پہنچی ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خودفر ماتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا کے بیٹے کی سلب خود چھوڑی تھی اور یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات کے جواب میں کہی۔

ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4331

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4332

4332 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا فَسَلَّمَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ، وَنَحْنُ فِي الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا فَقُمْتُ فِي أَثَرِهِ، فَإِذَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، فَقَالَ: «هَذَا جِبْرِيلُ يَأْمُرُنِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ» ، فَقَالَ: «قَدْ وَضَعْتُمُ السِّلَاحَ لَكِنَّا لَمْ نَضَعْ قَدْ طَلَبْنَا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى بَلَغَنَا حَمْرَاءُ الْأَسَدُ» ، وَذَلِكَ حِينَ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تُصَلُّوا صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى تَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ» فَغَرَبَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَأْتُوهُمْ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرِدْ أَنْ يَدَعُوا الصَّلَاةَ فَصَلُّوا، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ: إِنَّا لَفِي عَزِيمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلَيْنَا مِنْ إِثْمٍ، فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَتَرَكَتْ طَائِفَةٌ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَلَمْ يَعِبِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِمَجَالِسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قُرَيْظَةَ، فَقَالَ: «هَلْ مَرَّ بِكُمْ مِنْ أَحَدٍ؟» قَالُوا: مَرَّ عَلَيْنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ تَحْتَهُ قَطِيفَةُ دِيبَاجٍ، قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ بِدِحْيَةَ وَلَكِنَّهُ جِبْرِيلُ أُرْسِلَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ لَيُزَلْزِلَهُمْ وَيَقْذِفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ» ، فَحَاصَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَسْتَتِرُوا بِالْحَجَفِ حَتَّى يُسْمِعَهُمْ كَلَامَهُ، فَنَادَاهُمْ: «يَا إِخْوَةَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ» قَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، لَمْ تَكُ فَحَّاشًا، فَحَاصَرَهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَكَانُوا حُلَفَاءَهُ فَحَكَمَ فِيهِمْ أَنْ يُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيَّهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ. فَإِنَّهُمَا قَدِ احْتَجَّا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ فِي الشَّوَاهِدِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4332 - على شرط البخاري ومسلم

ام المونین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے کہ ہمارے گھر والوں میں سے کسی نے سلام کیا ۔ ہم بھی اس وقت گھر ہی میں تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبر کر اٹھے، میں بھی آپ کے پیچھے آئی ،تو وہ حضرت دحیہ کلبی تھے ۔ آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور مجھے بنوقریظہ کی طرف روانگی کا حکم دے رہے ہیں ۔اور کہہ رہے ہیں کہ تم نے تو ہتھیا را تار دیئے ہیں لیکن ہم نے ابھی تک نہیں اتارے۔ ہم مشرکین کا پیچھا کرتے کرتے ’’جمراءالاسد‘‘ تک جا پہنچے ہیں ۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہ خندق سے واپس لوٹے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کراٹھے اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں تم پر یہ لا زم کرتاہوں کہ بنوقریظہ میں پہنچنے سے پہلے نمازمت پڑھنالیکن ان کے بنوقریظہ میں پہنچنے سے پہلے سورج غروب ہوگیا۔(سورج غروب ہونے سے پہلے) مسلمانوں کی ایک جماعت نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ نہیں تھا کہ تم نماز ہی چھوڑ دینا۔ اس لئے انہوں نے نماز پڑھ لی ۔ دوسری جماعت نے کہا: ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے پابند ہیں ۔ ہمیں اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ ایک جماعت نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے نماز پڑھ لی اور دوسری جماعت نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے نماز چھوڑ دی۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کسی کو بھی برا نہیں کہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نکلے ۔ آپ کا گز ران کے اور قریظہ کے بیچ میں کئی مجالس سے ہوا، آپ نے پوچھا: کیا یہاں سے کوئی گذرا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہاں سے دحیہ رضی اللہ عنہ سیاہی مائل سفید رنگ کے گھوڑے پر سوار ہوکر گزرے ہیں ،جن کے نیچے ریشم کی زین تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ دحیہ کلبی نہیں تھا بلکہ وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے،ان کو بنی قریظہ کی جانب بھیجا گیا ہے ۔تا کہ ان پر زلزلہ طاری کر یں اوران کے دلوں میں رعب ڈال دیں ۔ نبی اکرم رضی اللہ عنہ نے ان کا محاصرہ کرلیا اور اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اپنی ڈھالوں میں چھپے ر ہیں یہاں تک کہ ان کو ان کی آواز سنائی دے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے ان کو پکارا: اے خنزیروں اور بندروں کے بھائیو! انہوں نے جوابا کہا:اے ابوالقاسم ! آپ تو بے ہودہ بو لنے والے نہ تھے ۔ تو آپ نے ان کا محاصرہ کرلیا۔ حتی کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو نافذ فرمادیا۔ کیونکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان کے حلیف تھے ۔توان کے بارے میں فیصلہ یہ ہوا کہ ان کے جوانوں کو نقل کر دیا جائے اوران کی عورتوں اور بچوں کوقیدی بنالیا جائے ۔ یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْمُسَيَّبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4332

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4333

4333 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ قَالَ: «عُرِضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ، فَمَنْ كَانَ مِنَّا مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ، فَنَظَرُوا إِلَيَّ فَلَمْ تَكُنْ نَبَتَتْ عَانَتِي فَتُرِكْتُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ ". وَلَهُ طُرُقٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ مِنْهُمُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، وَزُهَيْرٌ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4333 - صحيح

حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریظہ ( کے محاصرہ ) کے ایام میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ہم میں جو بالغ ہوتایا جس کے موئے زیر ناف اگے ہوتے اس کوقتل کر دیا جا تا ۔انہوں نے مجھے بھی دیکھا تو میرے موئے زیر ناف نہیں اگے تھے اس لئے انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔عبدالملک بن عمیر سے اس کی متعد دسند یں ہیں ۔ان میں ثوری شعبہ اور ز ہیر بھی ہیں۔

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4333

chevron_left Previous
1…708709710…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section