Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4311

4311 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ الطَّلْحِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ ارْتَجَزَتْ بِهَذَا الشِّعْرِ: [البحر الرجز] نَحْنُ حُمَاةُ غَالِبٍ وَمَالِكِ ... نَذُبُّ عَنْ رَسُولِنَا الْمُبَارَكِ، نَضْرِبُ عَنْهُ الْيَوْمَ فِي الْمَعَارِكِ ... ضَرْبَ صِفَاحِ الْكَوْمِ فِي الْمَبَارِكِ . فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ لِحَسَّانَ: «قُلْ فِي طَلْحَةَ» ، فَأَنْشَأَ حَسَّانُ وَقَالَ: [البحر الطويل] طَلْحَةُ يَوْمَ الشِّعْبِ آسَى مُحَمَّدًا ... عَلَى سَالِكٍ ضَاقَتْ عَلَيْهِ وَشَقَّتِ يَقِيهِ بِكَفَّيْهِ الرَّمَّاحَ وَأَسْلَمَتْ ... أَشْاجَعُهُ تَحْتَ السُّيُوفِ فَشُلَّتِ وَكَانَ إِمَامَ النَّاسِ إِلَّا مُحَمَّدًا ... أَقَامَ رَحَى الْإِسْلَامِ حَتَّى اسْتَقَلَّتِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4311 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت طلحہ بن عبید اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جنگ احد کے دن میں نے یہ رجز یہ اشعار پڑھے تھے:ہم غالب اور مالک کے حمایتی ہیں ، ہم اپنے برکت والے رسول کا دفاع کر تے ہیں ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے دن واپس آئے تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فر مایا:طلحہ رضی اللہ عنہ کی تعریف میں کچھ کہو ، تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے درج ذیل اشعار پڑھے طلحہ نے شعب کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمدردی کی ، ایک ایسے موقع پر جب ان پر تنگی ہوچکی تھی اور پھٹ چکی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ نیزوں سے بچاتے رہے اوران کی انگلیاں شل ہوگئیں ، اوران کے بہادرتلواروں کے نیچے بھی محفوظ رہے ۔ وہ لوگوں کے امام ہیں سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ،انہوں نے اسلام کے گھمسان کے معرکے میں آخر تک ثابت قدمی کا ثبوت دیا۔

أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ الطَّلْحِيُّ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4311

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4312

4312 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَهَبَ لِيَنْهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ظَاهَرَ بَيْنَ دِرْعَيْنِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهَا، فَجَلَسَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ تَحْتَهُ، فَنَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَوَى عَلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْجَبَ طَلْحَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4312 - على شرط مسلم

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ حملہ کرنے کے لئے چنان کی طرف بڑھے ، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزر ہیں پہن رکھی تھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چٹان کی طرف نہ چڑھ سکے ۔ تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیٹھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر چڑھ کر چٹان پر چڑھ گئے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا :طلحہ رضی اللہ عنہ نے واجب کر لی (یعنی طلحہ رضی اللہ عنہ جنتی ہو گیا ) یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

جَدِّهِ الزُّبَيْرِ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4312

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4313

4313 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، «أَنَّ طَلْحَةَ رَجَعَ بِسَبْعٍ وَثَلَاثِينَ أَوْ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ بَيْنَ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ، تَرَصَّعَ جَبِينُهُ، وَقُطِعَتْ سَبَّابَتُهُ، وَشُلَّتِ الْإِصْبَعُ الَّتِي تَلِيهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4313 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت موسی بن طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ان کے بدن پر تلوار، نیز ہ اور تیروں کے ۳۵ یا ۳۷ زخم موجود تھے ،ان کی پیشانی زخمی تھی ،شہادت کی انگلی کٹ چکی تھی اور اس کے ساتھ والی انگلیاں شل ہوچکی تھیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← محمد بن يعقوب الحافظ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4313

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4314

4314 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهَا سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا جَالَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْجَوْلَةَ يَوْمَ أُحُدٍ، تَنَحَّيْتُ فَقُلْتُ: أَذُودُ عَنْ نَفْسِي، فإِمَّا أَنْ أسْتَشْهِدَ، وَإِمَّا أَنْ أَنْجُوَ حَتَّى أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذَا بِرَجُلٍ مُخَمِّرٍ وَجْهُهُ مَا أَدْرِي مَنْ هُوَ فَأَقْبَلَ الْمُشْرِكُونَ حَتَّى قُلْتُ: قَدْ رَكِبُوهُ، مَلَأَ يَدَهُ مِنَ الْحَصَى، ثُمَّ رَمَى بِهِ فِي وُجُوهِهِمْ فَنَكَبُوا عَلَى أَعْقَابِهِمُ الْقَهْقَرَى، حَتَّى يَأْتُوا الْجَبَلَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، وَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، فَبَيْنَا أَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ الْمِقْدَادَ عَنْهُ إِذْ قَالَ الْمِقْدَادُ: يَا سَعْدُ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ، فَقُلْتُ: وَأَيْنَ هُوَ؟ فَأَشَارَ لِي الْمِقْدَادُ إِلَيْهِ، فَقُمْتُ، وَلَكَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنِي شَيْءٌ مِنَ الْأَذَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ كُنْتَ لِيَوْمٍ يَا سَعْدُ؟» فَقُلْتُ: حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَأَجْلَسَنِي أَمَامَهُ، فَجَعَلْتُ أَرْمِي، وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ سَهْمَكَ فَارْمِ بِهِ عَدُوَّكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ، اللَّهُمَّ سَدِّدْ لِسَعْدٍ رَمَيْتَهُ، إِيهًا سَعْدُ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» فَمَا مِنْ سَهْمٍ أَرْمِي بِهِ إِلَّا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ سَدِّدْ رَمَيْتَهُ، وَأَجِبْ دَعْوَتَهُ، إِيهًا سَعْدُ» حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ مِنْ كِنَانَتِي، نَثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي كِنَانَتِهِ، فَنَبَلَنِي سَهْمًا نَضِيًّا، قَالَ: وَهُوَ الَّذِي قَدْ رَيَّشَ، وَكَانَ أَشَدَّ مِنْ غَيْرِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ: «إِنَّ السِّهَامَ الَّتِي رَمَى بِهَا سَعْدٌ يَوْمَئِذٍ كَانَتْ أَلْفَ سَهْمٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4314 - على شرط مسلم

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے منتشر ہوگئے تو میں ایک طرف ہٹ گیا اور میں نے سوچا کہ میں اپنا دفاع خودکر تے ہوئے ( آگے بڑھوں )حتی کہ یا تو میں شہید ہو جاؤں یا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاؤں ۔( میں نے آگے بڑھنا شروع کر دیا) اس دوران میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے ۔ادھرمشرکوں نے پیش قدمی شروع کر دی حتی کہ میں نے سوچا کہ وہ اس آدمی پر حملہ کر دیں گے ۔اس نے اپنے ہاتھ میں کنکریاں لیں اوران (مشرکین) کے چہروں پر پھینک دیں ،تو وہ انہیں قدموں پر پیچھے ہٹ گئے حتی کہ وہ یہاں تک پہنچ گئے ۔اس نے کئی مرتبہ اسی طرح کیا ، مجھے ابھی تک بھی پتہ نہ تھا کہ یہ کون ہے، اس وقت میرے اوراس کے درمیان حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ موجود تھے ، میں مقداد سے اس کے بارے میں پوچھنا ہی چاہتا تھا کہ مقدادخود ہی بول پڑے اے اسود! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ تو مقداد نے مجھے اشارے سے بتادیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ گیالیکن مجھے کسی قسم کا کوئی زخم نہیں آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد ! آج تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں آپ دیکھ رہے تھے ۔ آپ نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، میں نے تیراندازی شروع کر دی اور ساتھ ہی یہ د عابھی مانگ رہا تھا’’اے اللہ ! یہ تیرا تیر ہے، تو یہ اپنے دشمن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کو مار‘‘۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کہتے تھے’’اے اللہ! سعد کی دعا قبول فرما، اے اللہ ! سعد کا نشانہ ٹھیک لگا‘‘۔ اے سعد ! بالکل ٹھیک ( کر رہے ہو) تجھ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ، میں جب بھی تیر پھینکتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے’’ اے اللہ ! اس کا نشانہ ٹھیک لگا،اس کی دعا قبول فرما۔ سعد بالکل ٹھیک ( کر رہے ہو )حتی کہ میر اترکش خالی ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میراترکش جھاڑ کر ایک نضیب مجھے تھما دیا( راوی )کہتے ہیں :نضیب اس تیر کو کہتے ہیں جو پَر کے بغیر ہو ۔ تاہم یہ دوسروں کی بہ نسبت زیادہ سخت ہو تا ہے ۔ زہری کہتے ہیں : اس دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے پورے ایک ہزار تیر برسائے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

نَفْسِي، فإِمَّا ← «لَمَّا جَالَ النَّاسُ ← أَبِيهَا سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← عائشة بنت سعد ← عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْحَاقُ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4314

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4315

4315 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " لَمَّا جَالَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَصُرْتُ بِهِ مِنْ بَعْدُ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ قَدِ اعْتَنَقَنِي مِنْ خَلْفِي مِثْلِ الطَّيْرِ، يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَرْفَعُهُ مَرَّةً وَيَضَعُهُ أُخْرَى، فَقُلْتُ: أَمَّا إِذَا أَخْطَأَنِي لَأَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَجِيءُ طَلْحَةُ فَذَاكَ أَنَا وَأَمُرُّ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ، فَإِذَا طَلْحَةُ يَرْفَعُهُ مَرَّةً وَيَضَعُهُ أُخْرَى، وَإِذَا بِطَلْحَةَ سِتٌّ وَسِتُّونَ جِرَاحَةً، وَقَدْ قَطَعَتْ إِحْدَاهُنَّ أَكْحَلَهُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ضُرِبَ عَلَى وَجْنَتَيْهِ، فَلَزِقَتْ حَلَقَتَانِ مِنْ حِلَقِ الْمِغْفَرِ فِي وَجْنَتَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى أَبُو عُبَيْدَةَ مَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاشَدَنِي اللَّهَ لَمَا أَنْ خَلَّيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَزَعَ إِحْدَاهُمَا بِثَنَيِّتِهِ فَمَدَّهَا فَنَدَرَتْ وَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْأُخْرَى فَنَاشَدَنِي اللَّهَ لَمَا أَنْ خَلَّيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَزَهَا بِالثَّنِيَّةِ الْأُخْرَى، فَمَدَّهَا، فَنَدَرَتْ وَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَثْرَمَ الثَّنَايَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4315 - ابن إسحاق متروك

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ احد کے دن جب لوگ تتر بتر ہو گئے تو سب سے پہلے میں آپ کے پاس پہنچا۔ تو میں نے دور سے دیکھا کہ ایک آدی میرے پیچھے سے پرندے کی لپکتا آرہا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آرہا تھا یہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے ۔ پھر میں نے ایک اور آدمی کو دیکھا وہ کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کواٹھالیتا اور بھی چھوڑ دیتا تھا، میں نے سوچا کہ مجھے موقع ملاتو میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوں گا اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچوں گا۔ یہ سوچتے ہوئے ہم ان کے قریب پہنچے تو وہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تھے جوحضور م صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اٹھا لیتے تھے اور کبھی چھوڑ دیتے تھے ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو۶۶ زخم آ چکے تھے اوران کے بازو کی ایک رگ بھی کٹ چکی تھی ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے رخسار ے زخمی تھے اور خود کی دوکڑیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسارمبارک میں پیوست ہو چکی تھیں ، جب حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھی تو انہوں نے مجھے اللہ کی قسم دے کر کہا کہ میں اس کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان سے ہٹ جاؤں، پھر انہوں نے اپنے دانتوں سے پکڑ کر ایک کڑی کو کھینچا، کڑی تو نکل گئی لیکن ساتھ ساتھ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا ایک دانت بھی ٹوٹ گیا ، پھر انہوں نے دوسری کڑی دیکھی تو پھر مجھے قسم دے کر کہا کہ میں اس کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان سے ہٹ جاؤں ۔انہوں نے دوسرے دانت کے ساتھ دوسری کڑی کو کھینچا( اب کی باربھی کڑی) نکل گئی اور ان کا دوسرادانت بھی ٹوٹ گیا ۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ’’اثرم الثنا یا‘‘ تھے ( اثرم الثنا یا اس آدمی کو کہتے ہیں جس کے سامنے والے دونوں دانت جڑ سے ٹوٹے ہوئے ہوں ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الرَّازِيُّ، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4315

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4316

4316 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنْظُرُ إِلَى هِنْدِ بِنْتِ عُتْبَةَ وَصَوَاحِبَهَا مُشَمِّرَاتٍ هَوَارِبَ مَا دُونَ أَخْذِهِنَّ قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ، إِذْ مَالَتِ الرُّمَاةُ إِلَى الْعَسْكَرِ، حَتَّى كَشَفَنَا الْقَوْمُ عَنْهُ يُرِيدُونَ النَّهْبَ، وَخَلَّوْا ظَهْرَنَا لِلْخَيْلِ، فَأُتِيِنَا مِنْ أَدْبَارِنَا، وَصَرَخَ صَارِخٌ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدًا قُتِلَ فَانْكَفَأْنَا، وَانْكَفَأَ الْقَوْمُ بَعْدَ أَنْ أَصَبْنَا اللِّوَاءَ حَتَّى مَا يَدْنُو مِنْهُ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4316 - على شرط مسلم

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم ! میں نے ہند بنت عتبہ اوراس کی ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ تھوڑی یا زیادہ کوئی بھی چیز لئے بغیر تیزی سے دوڑ تی جارہی تھیں اور تیرانداز میدان جنگ میں آ گئے حتی کہ ہم نے قوم کو وہاں سے بھگا دیا ، یہ لوگ مال غنیمت لوٹنے کا ارادہ رکھتے تھے اور انہوں نے ہماری پشت گھڑ سواروں کیلئے خالی چھوڑ دی تو ہماری پشت کی جانب سے ہم پر حملہ ہو گیا۔ادھر ایک آدی نے چیخ کر کہا: خبردار !محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو شہید کر دیا گیا ہے ۔ ( یہ خبرسن کر ) ہم منتشر ہو گئے اورقوم بھی منتشر ہوگئی ۔حالانکہ اس سے پہلے ہم علم تک پہنچ چکے تھے ۔اس کے بعد پوری قوم میں سے کوئی بھی علم کے قریب نہ پہنچ سکا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

جَدِّهِ، أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4316

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4317

4317 - حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنَّ عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ كَانَ لَهُ رَبًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَمْنَعُهُ ذَلِكَ الرَّبُّ مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى يَأْخُذَهُ، فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ بِأُحُدٍ فَقَالَ: أَيْنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ؟ فَقِيلَ بِأُحُدٍ فَقَالَ: أَيْنَ بَنُو أَخِيهِ؟ قِيلَ: بِأُحُدٍ، فَسَأَلَ عَنْ قَوْمِهِ، قَالُوا: بِأُحُدٍ فَأَخَذَ سَيْفَهُ وَرُمْحَهُ، وَلَبِسَ لَامَّتَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى أُحُدٍ فَلَمَّا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا: إِلَيْكَ عَنَّا يَا عَمْرُو، قَالَ: إِنِّي قَدْ آمَنْتُ، فَحَمَلَ فَقَاتَلَ، فَحُمِلَ إِلَى أَهْلِهِ جَرِيحًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَالَ لَهُ: جِئْتَ غَضَبًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ أَمْ حَمِيَّةً لِقَوْمِكَ؟ قَالَ: بَلْ جِئْتُ غَضَبًا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ "، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فَدَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَا صَلَّى لِلَّهِ صَلَاةً» عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4317 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عمرو بن قیس کا ایک آ قا تھا جو کہ ان کوقبول اسلام سے منع کیا کر تا تھا۔ ایک دن وہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ احد میں تھے ۔اس نے پوچھا: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ اس کو جواب دیا گیا کہ وہ احد میں ہے ۔ اس نے پوچھا: اس کے بھتیجے کہاں ہیں؟ جواب ملا : احد میں ہیں ۔ پھر اس نے اپنی قوم کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ وہ سب بھی احد میں گئے ہوئےہیں ۔اس نے اپنی تلوار اور نیز ہ پکڑا، زرہ پہنی اوراحد کی جانب چل پڑا۔ جب مسلمانوں نے اس کو دیکھا تو بولے:اے عمر وتو کیسے آ رہا ہے؟ اس نے بتایا کہ میں ایمان لا چکا ہوں ، پھر اس نے جنگ میں شرکت کی اور زخمی حالت میں اس کو اس کے گھر پہنچایا گیا ۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور بولے تم اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر غصہ لے کر آئے تھے یا اپنی قوم کی غیرت اورحمیت کی وجہ سے آئے تھے؟ اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر غصہ کی وجہ سے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ جنت میں گیا حالانکہ اس نے کوئی نما زبھی نہیں پڑھی تھی۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4317

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4318

4318 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ أَصْحَابَ أُحُدٍ يَقُولُ: «أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِي بِحِضْنِ الْجَبَلِ» يَقُولُ: «قُتِلْتُ مَعَهُمْ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب احد کا ذکر کر تے تو فرماتے : خدا کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ کاش میں بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے دامن میں ہی رہ گیا ہوتا یعنی ان کے ساتھ شہید ہو گیا ہوتا۔

«قُتِلْتُ مَعَهُمْ» ← «أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِي بِحِضْنِ الْجَبَلِ» ← أَصْحَابَ أُحُدٍ ← رَسُولَ اللَّهِ إِذَا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4318

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4319

4319 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَزُورُ قَبْرَ عَمِّهَا حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي الْأَيَّامِ فَتُصَلِّي وَتَبْكِي عِنْدَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4319 - سليمان بن داود مدني تكلم فيه

امام جعفر صادق اپنے والد (امام باقر ) کے حوالے سے ‘ان کے والد (امام زین العابدین) کا یہ بیان نقل کر تے ہیں ان کے والد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ عمو ماًنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کے لئے جایا کرتی تھیں اوران کی قبر کے پاس نماز بھی پڑھتی تھیں اور بہت رویا کرتی تھیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ، أَنَّ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4319

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4320

4320 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ بِأُحُدٍ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ وَنَبِيَّكَ يَشْهَدُ أَنَّ هَؤُلَاءِ شُهَدَاءُ، وَأَنَّهُ مَنْ زَارَهُمْ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ رَدُّوا عَلَيْهِ» قَالَ الْعَطَّافُ: وَحَدَّثَتْنِي خَالَتِي، أَنَّهَا زَارَتْ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، قَالَتْ: " وَلَيْسَ مَعِي إِلَّا غُلَامَانِ يَحْفَظَانِ عَلَيَّ الدَّابَّةَ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَسَمِعْتُ رَدَّ السَّلَامِ، قَالُوا: وَاللَّهِ إِنَّا نَعْرِفُكُمْ كَمَا يَعْرِفُ بَعْضُنَا بَعْضًا، قَالَتْ: فَاقْشَعْرَرْتُ، فَقُلْتُ: يَا غُلَامُ ادْنُ بَغْلَتِي فَرَكِبْتُ «هَذَا إِسْنَادٌ مَدَنِيٌّ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4320 - مرسل

حضرت عبداللہ بن ابی فروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد میں شہداء کی قبور کی زیارت کی اور کہا: اے اللہ بے شک تیرا بند ہ اور تیرا نبی یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ شہید ہیں اور بے شک قیامت تک جوآدمی بھی ان کی زیارت کرے اور ان کو سلام کرے تو یہ اس کا جواب دیں گے ۔ حضرت عطاف کہتے ہیں: میری خالہ نے مجھے بتایا کہ انہوں نے شہداء کی قبروں کی زیارت کی ، وہ کہتی ہیں اس دن میرے ساتھ دوغلاموں کے سوا اور کوئی نہ تھا، وہ بھی سواری کی حفاظت پر مامور تھے ، وہ کہتی ہیں میں نے شہدا ءکوسلام کیا تو میں نے سلام کا جواب سنا۔ جواب یہ آیا کہ خدا کی قسم!ہم تمہیں اسی طرح پہچانتے ہیں جیسے ہم ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں ۔ آپ فرماتی ہیں : (یہ آواز سن کر) میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ میں نے غلام سے کہا: میراخچر میرے قریب کرو ۔ تو میں اس پر سوار ہوگئی ۔ یہ اسناد مد نی ہے صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ← محمد بن المغيرة السكري ← أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4320

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4321

4321 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " يَا ابْنَ أُخْتِي أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ أَبَاكَ وَجَدَّكَ تَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَالزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَمِنَ الَّذِينَ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ} [آل عمران: 172] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4321 - صحيح

ام المونین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے میرے بھانجے ! خدا کی قسم ، بے شک تیرا والداور نانایعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے: ’’الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح ‘‘ (العمران: ۱۷۲) اور جواللہ ورسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا ۔ (ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا ) یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

اللَّهِ إِنَّ أَبَاكَ وَجَدَّكَ تَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَالزُّبَيْرَ لَمِنَ الَّذِينَ ← لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا ابْنَ أُخْتِي أَمَا ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ← أَبُو النَّضْرِ، ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4321

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4322

4322 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ عَارِمٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُرَّةً، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللَّهُ» قَالَ: فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «مَنْ يَمْنَعُكَ؟» قَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ، قَالَ: «تَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» قَالَ: أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ، وَلَا أَكُونُ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، قَالَ: فَخَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبِيلَهُ فَجَاءَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، وَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَطَائِفَةٌ تُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ، فَانْصَرَفُوا فَكَانُوا مَوْضِعَ أُولَئِكَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَلِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4322 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے جھنڈ سے بنے کچھاروں میں جنگ کی ، ان لوگوں نے مسلمانوں کو نا تجر بہ کار سمجھا ، ان میں غوث بن الحارث نامی ایک آدمی آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کھڑا ہو گیا اور تلوار سونت کر بولا : تجھے مجھ سے کون بچائےگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ :تو اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار پکڑ لی اورفر مایا: تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا: آپ اچھا پکڑ نے والے ہو جائیں ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اس نے کہا : میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ نہ تو میں خودآپ کے خلاف لڑوں گا اور نہ آپ کے کسی مخالف کی مددکروں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا۔ وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں اس شخص کے پاس سے آرہا ہوں جوتمام لوگوں سے اچھا ہے ۔ جب نماز کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ الخوف پڑھی ،صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ دو جماعتوں میں تقسیم ہو گئے تھے ۔ایک جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی اورایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے لگی ۔ ان لوگوں نے حضور علیہ السلام کے ساتھ دورکعتیں پڑھیں پھر یہ لوگ وہاں سے ہٹ گئے اور اس جماعت کی جگہ جا کر کھڑے ہو گئے جو دشمن کے سامنے تھی ، اوران لوگوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں ۔ تو صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ کی دو دورکعتیں ( جماعت کے ساتھ )ہوئیں تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھ چکےتھے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سليمان بن قيس ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أبو النعمان محمد بن الفضل عارم ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4322

chevron_left Previous
1…707708709…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section