Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4334

4334 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةُ قَطُّ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَعِنْدِي تَضْحَكُ ظَهْرَ الْبَطْنِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّيُوفِ إِذْ يَقُولُ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا: أَيْنَ فُلَانَةُ؟ فَقَالَتْ: أَنَا وَاللَّهِ، قُلْتُ: فَوَيْلَكِ مَا لَكَ؟ فَقَالَتْ: أُقْتَلُ وَاللَّهِ، قُلْتُ: وَلِمَ، قَالَتْ: لِحَدَثٍ أَحْدَثْتُهُ، فَانْطَلَقَ بِهَا، فَضَرَبَ عُنُقَهَا، فَمَا أَنْسَى عَجَبًا مِنْهَا طِيبَةَ نَفْسِهَا، وَكَثْرَةَ ضَحِكِهَا، وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4334 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوقریظہ کی کسی عورت کوقتل نہیں کیا۔سوائے ایک عورت کے۔ خدا کی قسم !وہ بہت زیادہ ہنس رہی تھی اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے کہ ایک غیبی آواز نے اس کا نام لے کر پکارا:فلانہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں ہوں خدا کی قسم! میں نے کہا : تیرے لئے ہلاکت ہو۔ تجھے کیاہوا ہے؟ (تو نے اپنے آپ کو خودہی ظاہر کیوں کر دیا؟) اس نے کہا: مجھے قتل کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا : وہ کیوں؟ اس نے کہا : ایک نئے کام کی وجہ سے جو میں نے سرانجام دیا ہے ۔ پھر اس کو لے جا کرقتل کر دیا گیا۔ میں آج تک اس تعجب کی وجہ سے اس کو بھلانہیں سکی کہ باوجود یکہ وہ جانتی تھی کہ اس کوقتل کر دیا جائے گا پھر بھی وہ بہت خوش تھی اور خوب ہنس رہی تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4334

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4335

4335 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ أَبُو عَامِرٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَمَّرَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ إِنَاءٍ، أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَّسْنَا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ، قَالَ: فَوَرَدْنَا الْمَاءَ فَقَتَلْنَا بِهِ مَنْ قَتَلْنَا، قَالَ: فَانْصَرَفَ عُنُقٌ مِنَ النَّاسِ وَفِيهِمُ الذَّرَارِيُّ وَالنِّسَاءُ قَدْ كَادُوا يَسْبِقُونَ إِلَى الْجَبَلِ، فَطَرَحْنَا سَهْمًا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ، فَلَمَّا رَأَوُا السَّهْمَ وَقَفُوا، فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ، مَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ، قَالَ: فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابْنَتَهَا، قَالَ: فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّوقِ، فَقَالَ: «يَا سَلَمَةُ، لِلَّهِ أَبُوكَ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ» فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، وَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، فَفَادَى بِهَا أُسَارَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ «قَدْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ بِغَيْرِ هَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4335 - خرجه مسلم بفظ آخر

حضرت الیاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقر رفر مادیا۔ ہم نے بنی فزارہ کے چند لوگوں سے جہاد کیا ، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حکم پر ہم نے وہیں پڑاؤ ڈالا ،اورنماز فجر پڑھنے کے بعد ہم نے چاروں جانب سے ان پر حملہ کر دیا۔ پھر پانی پر آٹھہرے اور جتنے لوگوں کوقتل کیا ، کر دیا۔ کچھ لوگ وہاں سے پہاڑ کی جانب نکل گئے ۔ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں ۔ ہم نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر برسائے ، جب انہوں نے تیر دیکھے تو وہیں رک گئے پھر میں ان کے پاس گیا اور ان سب کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا،ان میں بنی فزارہ کی ایک خاتون بھی تھی ۔اس پر چمڑے کی پرانی پوستین تھی ، اس کے ہمراہ اس کی ایک بیٹی بھی تھی ۔ جو کہ عرب کی حسین ترین لڑکی تھی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ لڑ کی مجھے دے دی ، پھر میں مدینہ میں آ گیا ۔ بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوگئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوسلمہ! اللہ آپ پر رحم فرمائے ، یہ عورت مجھے تحفہ دے دو ، میں نے کہا: خدا کی قسم ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس کا کوئی کپڑا نہیں اتارا، میں نے یہ آپ کو دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مکہ میں بھیج دیا تو مشرکین کی قید میں جومسلمان تھے اس کو ان کے بد لے میں دے دیا۔ امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل کیا ہے لیکن یہ سند بیان نہیں کی ۔

أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْبَا أَبُو عَامِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4335

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4336

4336 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ: «لَا تُوقِدُوا نَارًا بِلَيْلٍ» فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ: «أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا، أَمَا أَنَّهُ لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدِّكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4336 - صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حد یبہ میں تھے، تو آپ نے فرمایا: رات کے وقت آگ مت جلانا۔اور جب معاہدہ ہو چکا تو فرمایا: اب آگ بھی جلا سکتے ہواور( جو کچھ پکانا چاہو) پا سکتے ہو لیکن اس بات کا خیال رکھنا کہ تمہارے بعد کوئی قوم تمہارے صاع اور تمہارے مد کو جان نہ سکے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أبي أن أبا سعيد الخدري ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ یَحْیَی الْاَسْلَمِیُّ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4336

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4337

4337 - خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ اسْتَعْمَلَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ الْغِفَارِيَّ بِالْمَدِينَةِ» صَحِيحٌ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4337 - صحيح

حضرت ابو ہر یہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی جانب روانہ ہوئے تو مدینہ منورہ میں حضرت سباع بن عرفطہ الغفاری رضی اللہ عنہ کو عامل مقر رفرمایا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← خُثَيْمِ بْنِ عِرَاکٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4337

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4338

4338 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى بَعْضِ حُصُونِ خَيْبَرَ فَقَاتَلَ وَجُهِدَ وَلَمْ يَكُنْ فَتْحٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4338 - صحيح

حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خیبر کے قلعہ کی جانب بھیجا،آپ نے جنگ کی اور بہت جد و جہد کی مگر فتح نہ ہوسکی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا

سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَكْوَعِ ← بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4338

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4338.1

4338 - أَخْبَرَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَصْلِ الْآدَمِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، وَعِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: يَا أَبَا لَيْلَى أَمَا كُنْتَ مَعَنَا بِخَيْبَرَ؟ قَالَ: بَلَى وَاللَّهِ كُنْتُ مَعَكُمْ، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ إِلَى خَيْبَرَ فَسَارَ بِالنَّاسِ وَانْهَزَمَ حَتَّى رَجَعَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4338 - صحيح

حضرت ابولیلیٰ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابولیلیٰ کیا تو ہمارے ساتھ خیبر میں نہیں تھا ؟ انہوں نے جوابا کہا: کیوں نہیں؟ خدا کی قسم ! میں تمہارے ساتھ ہی تو تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا۔ ولوگوں کے ہمراہ دیوار پھلانگ گئے تھے مگر نا کام ہو کر واپس لوٹ آئے تھے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

بَلَى وَاللَّهِ كُنْتُ مَعَكُمْ، ← يَا أَبَا لَيْلَى أَمَا كُنْتَ مَعَنَا بِخَيْبَرَ؟ ← عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← أَبِي لَيْلَى ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← الْحَكَمِ وَعِيسَى ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَصْلِ الْآدَمِيُّ، بِمَكَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4338.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4339

4339 - حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَسَنِ الْهَاشِمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ مُسْلِمٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا أَخَذَتْهُ الشَّقِيقَةُ، فَيَلْبَثُ الْيَوْمَ وَالْيَوْمَيْنِ لَا يَخْرُجُ، فَلَمَّا نَزَلَ بِخَيْبَرَ أَخَذَتْهُ الشَّقِيقَةُ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَى النَّاسِ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَضَ فَقَاتَلَ قِتَالًا شَدِيدًا ثُمَّ رَجَعَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4339 - صحيح

حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی مرتبہ ( درد) شقیقہ کی شکایت ہو جاتی تھی تو آپ ایک دو دن آرام کرتے اور باہر نہ نکلتے ۔ جب آپ نے خیبر میں پڑاؤ ڈالا تو آپ کو وہی در دشقیقہ کی شکایت ہوگئی ۔ تو آپ لوگوں میں نہ نکلے۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاعلم پکڑا اور دشمن پر حملہ آور ہو گئے اور آپ نے بہت سخت جنگ کی اور پھر واپس لوٹ آئے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← المسيب بن مسلم الأزدي ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَسَنِ الْهَاشِمِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4339

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4340

4340 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «سَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا أَتَاهَا بَعَثَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَبَعَثَ مَعَهُ النَّاسَ إِلَى مَدِينَتِهِمْ أَوْ قَصْرِهِمْ، فَقَاتَلُوهُمْ فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ هَزَمُوا عُمَرَ وَأَصْحَابَهُ، فَجَاءُوا يُجَبِّنُونَهُ وَيُجَبِّنُهُمْ فَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» الْحَدِيثُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4340 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم رضی اللہ عنہ نے خیبر کی طرف روانگی کی ۔ جب وہاں پہنچ گئے تو آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے شہر یا ان کے محل کی طرف بھیجا اوران کے ہمراہ صحابہ رضی اللہ عنہ کوبھی بھیجا۔ انہوں نے جنگ کی ۔لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اوران کے ساتھیوں کو کا میابی حاصل نہ ہوسکی ، یہ لوگ ایک دوسرے کو بز دل قرار دیتے ہوئے لوٹ کر واپس آ گئے ۔(اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ) یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي مُوسَى الْحَنَفِيِّ، ← نعيم بن حكيم ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4340

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4341

4341 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، ثنا مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَانْطَلَقَ، فَرَجَعَ يُجَبِّنُ أَصْحَابَهُ وَيُجَبِّنُونُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4341 - القاسم بن أبي شيبة واه

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوعلم عطا فرمایا: آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گئے لیکن آپ لوٹ کرآئے اور آپ اپنے ساتھیوں کو اوران کے ساتھی آپ کو بز دل کہہ رہے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← يحيى بن يعلى ← القاسم بن أبي شيبة ← محمد بن عبد الله بن سليمان ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4341

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4342

4342 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، إِمْلَاءً، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنُ مَرْوَانَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السِّيُوطِيُّ، قَالَا: ثنا فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَجَبُنَ، فَجَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ، قُتِلَ مَحْمُودُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا تُبْتَلُونَ مَعَهُمْ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ، وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهُمْ بِيَدِكَ، وَإِنَّمَا تَقْتُلْهُمْ أَنْتَ، ثُمَّ الْزَمُوا الْأَرْضَ جُلُوسًا، فَإِذَا غَشُوكُمْ فَانْهَضُوا وَكَبِّرُوا " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَبْعَثَنَّ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبَّانِهِ، لَا يُوَلِّي الدُّبُرَ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ» فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ أَرْمَدُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِرْ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أُبْصِرُ مَوْضِعًا، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ، وَعَقَدَ لَهُ وَدَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَامَ أُقَاتِلُهُمْ؟ فَقَالَ: «عَلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ حَقَنُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهِمَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» ، قَالَ: فَلَقِيَهُمْ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ «قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ الرَّايَةِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4342 - أخرجا ذكر الراية منه

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو بھیجا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا ، محمد بن مسلمہ آئے ، اور بولے : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آج جیسادن کبھی نہیں دیکھا محمود بن مسلمہ شہید ہوگئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمن سے مڈ بھیڑ کی آرز ومت کیا کرو، بلکہ اللہ تعالی سے سلامتی مانگو، کیونکہ تم لوگ نہیں جانتے کہ تم پر کونسی آزمائش آنے والی ہے۔اور جب دشمن کا سامنا ہوتو یوں دعا مانگو اے اللہ ! تو ہی ہمارارب ہے اوران کا رب ہے، ہماری پیشانیاں اوران کی پیشانیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ۔ ان کو تو ہی قتل کرے گا ۔ پھرتم زمین کے ساتھ چپک کر بیٹھ جاؤ۔ جب وہ تمہارے اندرگھس آ ئیں تو نعرہ تکبیر بلند کر تے ہوئے اٹھ کھڑے ہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: میں کل ایسے آدمی کو بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کر تے ہیں ۔وہ پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگے گا ،اللہ تعالی اس کے ہاتھ پر فتح دے گا۔لوگ اس بات کو قابل فخر سمجھنے لگے ۔اس دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں آئی ہوئی تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوحملہ کرنے کا کہا: تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا ،ان کولشکر کی سرداری اورعلم عطا فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی ۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کس مطالبے پرجہاد کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( مطالبے) پر کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ۔اگر وہ یہ گواہی دے دیں توانہوں نے مجھ سے اپنے مال اوراپنی جانوں کو بچالیا سوائے ان دونوں (مال اور جان )کے اپنے حقوق کے ۔ اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے حملہ کیا اوراللہ تعالی نے ان کو فتح عطا فرما دی ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں نے علم والی حدیث نقل فرمائی ہے لیکن اس سند کے ہمراہ اس کونقل نہیں کیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← الخليل بن مرة ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنُ مَرْوَانَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السِّيُوطِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ إِمْلَاءً

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4342

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4343

4343 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: «شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ حِينَ بَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْ عَلِيٍّ، فَبَرَأَ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ» فَبَرَزَ مَرْحَبٌ وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الرجز] قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ: فَبَرَزَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الرجز] أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ ... كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوَفِّيكُمْ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ: فَضَرَبَ مَرْحَبًا فَفَلَقَ رَأْسَهُ فَقَتَلَهُ، وَكَانَ الْفَتْحُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4343 - على شرط مسلم

حضرت ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ خیبر میں شرکت کی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں ٹھیک ہوگئیں۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈ اعطا فرمایا ،مرحب نے یوں کہتے ہوئے مبازرت طلب کی : خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں ہتھیار بند ، تجر بہ کارلیڈ رہوں ، جب جنگ شروع ہو جائے تو یہ شعلہ زن ہوتا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یوں کہتے ہوئے اس کو جنگ کے لئے بلا یا میں وہ ہوں جس کا نام اس کی ماں نے حید رکھا ہے جیسا کہ جنگل کا شیر، رعب دار و جاہت والا ۔ میں تم میں وسیع پیانے پر تباہی پھیلا دوں گا۔پھر آپ نے مرحب پر ایک ضرب لگائی اوراس کا سر چیرکر رکھ دیا اور اس کوقتل کر دیا تو خیبر فتح ہو گیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

أَبِي ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4343

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4344

4344 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَإِنَّمَا أَخْرَجْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ لَأَخْبَارٍ وَاهِيَةٍ أَنَّ ذَا الْفَقَارَ مِنْ خَيْبَرَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4344 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار جنگ بدر کے موقع پر مال غنیمت میں سے لی تھی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔اور میں نے اس کو اس مقام پر اس لئے ذکر کیا ہے کہ کچھ ضعیف احادیث سے یہ ثابت ہے کہ ذوالفقار خیبر کے مال میں سے تھی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4344

chevron_left Previous
1…709710711…737
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section